Monday, 4 July 2016

سوال و جواب

📣کیا آپ ان سات سوالوں کے جواب جانتے ہیں؟📣

⭕ سوال نمبر : 1 جنت کہاں ہے؟
🔴 جواب: جنت ساتوں آسمانوں کے اوپر ساتوں آسمانوں سے جدا ہے، کیونکہ ساتوں آسمان قیامت کے وقت فنا اور ختم ہونے والے ہیں، جبکہ جنت کو فنا نہیں ہے، وہ ہمیشہ رہے گی، جنت کی چهت عرش رحمن ہے.

⭕ سوال نمبر 2: جہنم کہاں ہے؟
🔴 جواب: جہنم ساتوں زمین کے نیچے ایسی جگہ ہے جس کا نام "سجین" ہے. جہنم جنت کے بازو میں نہیں ہے جیسا کہ بعض لوگ سوچتے ہیں. جس زمین پر ہم رہتے ہیں یہ پہلی زمین ہے، اس کے علاوہ چهہ زمینیں اور ہیں جو ہماری زمین کے نیچے ہماری زمین سے علیحدہ اور جدا ہے.

⭕ سوال نمبر 3: سدر ة المنتهی کیا ہے؟
🔴 جواب: سدرة عربی میں بیری/اور بیری کے درخت کو کہتے ہیں، المنتہی یعنی آخری حد، یہ بیری کا درخت وہ آخری مقام ہے جو مخلوقات کی حد ہے اس سے آگے حضرت جبرئیل بهی نہیں جا پاتے ہیں.
سدرة المنتهی ایک عظیم الشان درخت ہے، اس کی جڑیں چهٹے آسمان میں اور اونچائیاں ساتویں آسمان سے بھی بلند ہیں، اس کے پتے ہاتهی کے کان جتنے اور پهل بڑے گهڑے جیسے ہیں، اس پر سنہری تتلیاں منڈلاتی ہیں ، یہ درخت جنت سے باہر ہے.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت جبریل علیہ السلام کو اسی درخت کے پاس ان کی اصل صورت میں دوسری مرتبہ دیکھا تها، جبکہ آپ صلى الله عليه وسلم نے انہیں پہلی مرتبہ اپنی اصل صورت میں مکہ مکرمہ میں مقام اجیاد پر دیکها تها.

⭕ سوال نمبر 4: حور عین کون ہیں؟
🔴 جواب: حور عین جنت میں مومنین کی بیویاں ہوں گی، یہ نہ انسان ہیں نہ جن ہیں اور نہ ہی فرشتہ ہیں، اللہ تعالیٰ نے انہیں مستقل پیدا کیا ہے، یہ اتنی خوبصورت ہیں کہ اگر دنیا میں ان میں سے کسی ایک کی محض جھلک دکھائی دے جائے تو مشرق اور مغرب کے درمیان روشنی ہو جائے.
حور عربی زبان کا لفظ ہے ، اور حوراء کی جمع ہے، اس کے معنی ایسی آنکھ جس کی پتلیاں نہایت سیاه ہوں اور اس کے اطراف نہایت سفید ہوں. اور عین عربی میں عیناء کی جمع ہے اس کے معنی ہیں بڑی بڑی آنکھوں والی.

⭕ سوال 5: ولدان مخلدون کون ہیں؟
🔴 جواب: یہ اہل جنت کے خادم ہیں، یہ بهی انسان یا جن یا فرشتے نہیں ہیں، انہیں اللہ تعالیٰ نے اہل جنت کی خدمت کے لئے مستقل پیدا کیا ہے، یہ ہمیشہ ایک ہی عمر کے یعنی بچے ہی رہیں گے، اس لیے انہیں "الولدان المخلدون" کہا جاتا ہے. سب سے کم درجہ کے جنتی کو دس ہزار ولدان مخلدون عطا ہوں گے.

⭕ سوال نمبر 6: اعراف کیا ہے؟
🔴 جواب: جنت کی چوڑی فصیل کو اعراف کہتے ہیں. اس پر وہ لوگ ہوں گے جن کے نیک اعمال اور برائیاں دونوں برابر ہوں گی، ایک لمبے عرصہ تک وہ اس پر رہیں گے اور اللہ سے امید رکهیں گے کہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی جنت میں داخل کردے. انہیں وہاں بهی کهانے پینے کے لیے دیا جائے گا، پهر اللہ تعالیٰ انہیں اپنے فضل سے جنت میں داخل کردےگا.

⭕ سوال نمبر 7: قیامت کے دن کی مقدار اور لمبائی کتنی ہے؟
🔴 جواب: پچاس ہزار سال كے برابر. جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے:تعرج الملئكة و الروح اليه في يوم كان مقداره خمسين الف سنة. حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ قیامت کے پچاس موقف ہیں، اور ہر موقف ایک ہزار سال کا ہو گا.
جب آیت" یوم تبدل الأرض غیر الأرض و السماوات" نازل ہوئی تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ جب یہ زمین و آسمان بدل دئیے جائیں گے تب ہم کہاں ہوں گے آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تب ہم پل صراط پر ہوں گے.
پل صراط پر سے جب گزر ہوگا اس وقت صرف تین جگہیں ہوں گی:

❗جہنم
❗جنت
❗پل صراط

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: سب سے پہلے میں اور میرے امتی پل صراط کو طے کریں گے.

⚡پل صراط کی تفصیل:-
قیامت میں جب موجودہ آسمان اور زمین بدل دئے جائیں گے اور پل صراط پر سے گزرنا ہوگا وہاں صرف دو مقامات ہوں گے جنت اور جہنم. جنت تک پہنچنے کے لیے لازما جہنم کے اوپر سے گزرنا ہوگا.
جہنم کے اوپر ایک پل نصب کیا جائے گا، اسی کا نام الصراط ہے، اس سے گزر کر جب اس کے پار پہنچیں گے وہاں جنت کا دروازہ ہوگا، وہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم موجود ہوں گے اور اہل جنت کا استقبال کریں گے.
یہ پل صراط درج ذیل صفات کا حامل ہو گا:

1- بال سے زیادہ باریک ہوگا.
2- تلوار سے زیادہ تیز ہو گا.
3- سخت اندھیرے میں ہوگا، اس کے نیچے گہرائیوں میں جہنم بهی نہایت تاریکی میں ہوگی. سخت بپهری ہوئی اور غضبناک ہوگی.
4- گناہ گار کے گناہ اس پر سے گزرتے وقت مجسم اس کی پیٹھ پر ہوں گے، اگر اس کے گناہ زیادہ ہوں گے تو اس کے بوجھ سے اس کی رفتار ہلکی ہو گی، اللہ تعالیٰ ہمیں اس صورت سے اپنی پناہ میں رکھے. اور جو شخص گناہوں سے ہلکا ہوگا تو اس کی رفتار پل صراط پر تیز ہوگی.
5- اس پل کے اوپر آنکڑے لگے ہوئے ہوں گے اور نیچے کانٹے لگے ہوں گے جو قدموں کو زخمی کرکے اسے متاثر کریں گے. لوگ اپنی بد اعمالیوں کے لحاظ سے اس سے متاثر ہوں گے.
6- جن لوگوں کی بے ایمانی اور بد اعمالیوں کی وجہ سے ان کے پیر پهسل کر وہ جہنم کے گڑهے میں گر رہے ہوں گے ان کی بلند چیخ پکار سے پل صراط پر دہشت طاری ہو گی.

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم پل صراط کی دوسری جانب جنت کے دروازے پر کھڑے ہوں گے، جب تم پل صراط پر پہلا قدم رکھ رہے ہوگے آپ صلی اللہ علیہ و سلم تمہارے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہوئے کہیں گے" یا رب سلم، یا رب سلم"
آپ بهی نبی صلی اللہ علیہ و سلم کے لیے درود پڑهئے: اللهم صل وسلم على الحبيب محمد.
لوگ اپنی آنکھوں سے اپنے سامنے بہت سوں کو پل صراط سے گرتا ہوا دیکھیں گے اور بہت سوں کو دیکھیں گے کہ وہ اس سے نجات پا گئے ہیں. بندہ اپنے والدین کو پل صراط پر دیکهے گا لیکن ان کی کوئی فکر نہیں کرےگا، وہاں تو بس ایک ہی فکر ہو گی کہ کسی طرح خود پار ہو جائے.
روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا قیامت کو یاد کر کے رونے لگیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے پوچھا: عائشہ کیا بات ہے؟ حضرت عائشہ نے فرمایا: مجهے قیامت یاد آگئی، یا رسول اللہ کیا ہم وہاں اپنے والدین کو یاد رکهیں گے؟ کیا وہاں ہم اپنے محبوب لوگوں کو یاد رکھیں گے؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: ہاں یاد رکھیں گے، لیکن وہاں تین مقامات ایسے ہوں گے جہاں کوئی یاد نہیں رہے گا.(1) جب کسی کے اعمال تولے جائیں گے(2) جب نامہ اعمال دیئے جائیں گے (3) جب پل صراط پر ہوں گے...

💢دوستوں! دنیاوی فتنوں کے مقابلے میں حق پر جمے رہو. دنیاوی فتنے تو سراب ہیں. ان کے مقابلہ میں ہمیں مجاہدہ کرنا چاہیے، اور ہر ایک کو دوسرے کی جنت حاصل کرنے پر مدد کرنا چاہئے جس کی وسعت آسمانوں اور زمین سے بهی بڑهی ہوئی ہے.
اس پیغام کو آگے بڑهاتے ہوئے صدقہ جاریہ کی نیت کرنا نہ بهولیں.
یا اللہ ہمیں ان خوش نصیبوں میں شامل فرما جو پل صراط کو آسانی سے پار کر لیں گے.
ائے پروردگار ہمارے لئے حسن خاتمہ کا فیصلہ فرما
آمین-

اس تفصیل کے بعد بھی کیا گمان ہے کہ وہاں کوئی رشتہ داریاں نبھائے گا، جس کے لئے تم یہاں اپنے اعمال برباد کر رہے ہو؟ مخلوق کے بجائے خالق کی فکر کرو. اپنے نفس کی فکر کرو کتنی عمر گزر چکی ہے اور کتنی باقی ہے کیا اب بهی لا پرواہی اور عیش کی گنجائش ہے؟
اس پیغام کو دوسروں تک بهی پہنچاو.
ائے اللہ اس تحریر کو میری جانب سے بهی اور جو بهی اس کو عام کرنے میں مدد کرے سب کے لئے اس کو صدقہ جاریہ بنائیے آمین.

Sunday, 3 July 2016

عید الفطر

*عیدالفطر*

*خوشیوں بھرا، محبت بھرا ، انسانی مساوات اور معاشرتی ہم آہنگی کااسلامی تہوار*

مولانا محمد الیاس گھمن
امیر عالمی اتحاد اہل السنت والجماعت

دنیا کی ہر قوم اپنا ایک تہوار رکھتی ہے۔ان تہواروں میں اپنی خوشی کے ساتھ ساتھ اپنے جدا گانہ تشخص کا اظہار بھی ہوتا ہے۔عیسائیوں کا کرسمس ڈے، ہندؤوں کی ہولی اور دیوالی اور پارسیوں کے ہاں نوروز اور مہرجان کی عیدیں ان کے تہوار کی نمائندہ ہیں۔ لیکن مسلمانوں کی عید دیگر مذاہب و اقوام کے تہواروں سے بالکل مختلف حیثیت رکھتی ہے۔ وہاں عید کا دن نفسیات کی پابندی، عیش و عشرت کے اظہار اور فسق و فجور کے افعال میں گزرتا ہے، لیکن اہل اسلام کی عید صرف خوشی ہی نہیں بلکہ اللہ رب العزت کی عبادت، ذکر اور شکرمیں گزرتی ہے۔ یعنی یومِ عید خوشی و شادمانی کے ساتھ ساتھ عبادت کا دن بھی ہے۔

اہل اسلام کی عید اپنے اندر اطاعتِ خداوندی، اظہار شادمانی، اجتماعیت، تعاون و  رحمدلی کے احساسات، مال و دولت کی حرص سے اجتناب جیسے جذبات رکھتی ہے۔اس دن جو امور مشروع کیے گئے ہیں ان سے یہی ظاہر ہوتا ہے انسان غمی و مصیبت میں تو خدا کو یاد کرتا ہی ہے لیکن مسلمان اپنی خوشی کے لمحات میں بھی یاد الٰہی سے غافل نہیں رہتے۔

صحیح بخاری میں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن نماز عید سے قبل طاق عدد کھجوریں کھا کر عید گاہ تشریف لے جاتے تھے۔اس لیے عید گاہ جانے سے قبل کوئی میٹھی چیز کھا کر جانا مسنون ہے۔ گویا اس دن کمالِ اطاعت کا درس دیا جا رہا ہے کہ عید سے پہلے رمضانِ مقدس کے مہینے میں روزہ دار کا نہ کھانا بھی شریعت کے حکم کی تعمیل تھی اور آج کے دن نماز سے قبل کچھ کھا کر جانا، یہ بھی سنتِ نبویہ علی صاحبہا الصلوۃ و السلام کی تعمیل ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سے زیادہ اطاعت شعاری کیا ہو سکتی ہے؟ اس میں ایک پیغام یہ بھی ہے کہ مؤمن کا ہر عمل اللہ رب العزت کے احکامات اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ہونا چاہیے۔

صحیح بخاری میں اہل نصاب کو عید گاہ جانے سے قبل صدقئہ فطر کی ادائیگی کی ترغیب دی گئی ہے۔

گویا یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ عید کی خوشیوں میں اپنے فقراء و مساکین بھائیوں سے غافل نہ رہو ،بلکہ تعاون اور تراحم کے جذبات لے کر انہیں بھی اپنی خوشیوں میں شامل کرو۔یوں باہمی تعلقات کے جذبات پیدا ہو کر معاشرہ میں جو امیر و غریب کے درمیان  دوری ہے وہ ختم ہو۔ صدقہ فطر کی مشروعیت میں ایک اہم امر یہ بھی کارفرما ہے کی انسان کو مال کی حرص و ہوس سے بچنا چاہیے اور یہ ملحوظِ خاطر رکھنا چاہیے کہ دولت خدا تعالیٰ کا عطیہ ہے،میری اپنی کاوش و کوشش کا کمال نہیں۔ جہاں باری تعالیٰ چاہیں گے وہیں خرچ کروں گا۔

عید کے دن صاف ستھرے کپڑے پہننے میں اللہ تعالی کی نعمت کا اظہار ہوتا ہے۔ جامع الترمذی میں ہے کہ اللہ تعالیٰ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ بندے پر اس کی نعمت کا اثر نظر آئے۔

بندہ صاف ستھرا یا نیا لباس پہن کر اس نعمتِ مال کا اظہار و اقرار کرتا ہے۔ یہاں یہ بات ملحوظ رہنی چاہیے کہ حقیقی عید محض زیبائش و آرائش اور فاخرانہ لباس پہننے کا نام نہیں بلکہ عذاب آخرت سے بچ جانا ہی حقیقی عید ہے۔ شیخ بہاء الدین العاملی نے الکشکول میں ایک شعر لکھا ہے:

*لَیْسَ الْعِیْدُ لِمَنْ لَبِسَ الْفَاخِرَۃِ*
*اِنَّمَا الْعِیْدُ لِمَنْ اَمِنَ عَذَابَ الْآخِرَۃِ*

کہ عید اس کی نہیں جو فاخرہ لباس پہنے بلکہ جو آخرت کے عذاب سے بچ جائے، عید تو اس کی ہے۔

عید کے دن عید نماز کی ادائیگی کے لیے عید گاہ کی طرف جانااور تمام مسلمانوں کا ایک امام کی اقتداء میں نماز ادا کرنا اسلام کی شان و شوکت کا اظہار ہے، امتِ مسلمہ عملاً یہ ثابت کر رہی ہوتی ہے کہ مسلمانوں میں امیر غریب، محتاج و غنی، گورا کالا تمام برابر ہیں۔ کسی کو دوسرے پر مال وعہدہ کی وجہ سے برتری نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی نظر میں سب مساوی ہیں۔

نیز اس اجتماع میں آخرت کے دن کی یاد بھی ہوتی ہے۔ جب تمام انسان اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہوں گے، جہاں ہر قوم و قبیلہ کے لوگ جمع ہوں گے۔ تو یہ اجتماع جہاں خوشیوں کی ساعات مہیا کرتا ہے وہاں یادِ آخرت سے بھی غافل نہیں ہونے دیتا۔

نماز عید کی ادائیگی دراصل روزہ کی ادائیگی پر شکرانہ ہے۔ مسلمانوں نے رمضان مقدس میں روزہ رکھا، تراویح ونوافل ادا کیے۔ غیبت، چغلی، جھوٹ، بدکاری اور فحاشی جیسی برائیوں سے بچتے رہے۔ اعمال صالحہ کی برکات سے ان کی زندگی میں تبدیلی آئی کہ وہ گناہوں کو چھوڑ کرتقوی و پرہیزگاری کی زندگی بسر کرنے لگے۔اب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو کر اس بات کا اظہار کرتے ہیں کہ نیکیوں کی توفیق دینے والی ذات اللہ تعالیٰ کی ہے۔ فرمانِ قرآنی کے تحت اس دن نیکی کی توفیق پر جتنا شکر ادا کریں گے اتنی ہی توفیق زیادہ ملتی ہے۔

یہاں ایک بات کا خیال رکھنا از حد ضروری ہے کہ ’’عید کی تیاری‘‘ کے عنوان سے ہمارے معاشرے میں فضول خرچی اور اسراف کا جو رواج چل نکلا ہے شریعت اس سے منع کرتی ہے۔ اتنی بات تو ثابت ہے کہ جو عمدہ لباس میسر ہو پہنا جائے لیکن اگر کسی کی مالی حالت کمزور ہو تو خواہ مخواہ قرض اٹھا کر وقتی زیب و زینت کا سامان کرنا کسی طرح درست نہیں۔

عید سے دس بارہ دن قبل ہی دکھلاوے اور ریاکاری کی نیت سے زرق برق کے لباس، مرغن کھانوں اور گھروں کی آرائش پر جوبے جا اور بے مقصد روپیہ پیسہ اڑایا جاتا ہے شریعت کی نظر میں یہ فضول خرچی ہے۔ قرآن مقدس میں فضول خرچی کرنے والون کو شیطان کا بھائی کہا گیا ہے۔
نیز رمضان المقدس کا آخری عشرہ جسے ’’جہنم سے آزادی کا عشرہ‘‘ کہا گیا ہے ،کی ساری عبادات و ریاضات ’’عید کی تیاری‘‘ کی نظر ہو جاتی ہیں۔ جو راتیں گوشئہ تنہائی میں باری تعالیٰ سے عرض و مناجات میں گزرنی چاہییں وہ بازاروں میں گھومنے میں گزرتی ہیں۔

رمضان المقدس کی آخری راتیں آخرت کمانے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ مسند احمد میں حدیث مبارک موجود ہے:
*وَ یَغْفِرُ لَھُمْ فِیْ آخِرِ لَیْلَۃ*

کہ اللہ تعالی آخری رات روزہ داروں کی مغفرت فرماتے ہیں۔

انہی راتوں میں لیلۃ القدر بھی ہوتی ہے۔ لہذا ان مبارک ساعات کو فضول کاموں کی وجہ سے ضائع نہ کیا جائے بلکہ پورے اہتمام اور توجہ کے ساتھ عبادت میں مشغول رہا جائے اور عید کی حقیقی مسرتوں کو حاصل کرنے کے لیے شریعت مطہرہ کے بتائے گئے فرامین پر عمل کیا جائے۔

مصافحہ اور معانقہ

* ﻓﻘﯿﮧ ﺍﻟﻨﻔﺲ ،ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺭﺷﯿﺪ
ﺍﺣﻤﺪ ﮔﻨﮕﻮﮨﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ” ﻓﺘﺎﻭﯼ
ﺭﺷﯿﺪﯾﮧ “ﻣﯿﮟ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ :
”ﻋﯿﺪﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﻌﺎﻧﻘﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﺑﺪﻋﺖ ﮨﮯ“ ۔
‏( ﺹ 443: ،ﺳﻌﯿﺪ‏)
…* ﻣﻔﺘﯽ ﺍﻋﻈﻢ ﮨﻨﺪ،ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻣﻔﺘﯽ
ﮐﻔﺎﯾﺖ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﺎﺣﺐ ﺩﮨﻠﻮﯼ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ
ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ :
”ﻋﯿﺪﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﻣﻌﺎﻧﻘﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﯾﺎ ﻋﯿﺪ ﮐﯽ
ﺗﺨﺼﯿﺺ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﻣﺼﺎﻓﺤﮧ ﮐﺮﻧﺎ
ﺷﺮﻋﯽ ﻧﮩﯿﮟ، ﺑﻠﮑﮧ ﻣﺤﺾ ﺍﯾﮏ ﺭﺳﻢ ﮨﮯ“ ۔
‏( ﮐﻔﺎﯾﺖ ﺍﻟﻤﻔﺘﯽ : 3/302 ،ﺩﺍﺭﺍﻻﺷﺎﻋﺖ‏)
…* ﺣﮑﯿﻢ ﺍﻻﻣﺖ ،ﻣﺠﺪﺩ ﻣﻠﺖ،ﺣﻀﺮﺕ
ﻣﻮﻻﻧﺎ ﺍﺷﺮﻑ ﻋﻠﯽ ﺗﮭﺎﻧﻮ ﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﺭﺣﻤﮧ
ﺍﻟﻠﮧ ﺭﻗﻢ ﻃﺮﺍﺯ ﮨﯿﮟ :
”ﻗﺎﻋﺪﮦ ﮐﻠﯿﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻋﺒﺎﺩﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ
ﺷﺎﺭﻉ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺟﻮ ﮨﯿﺌﺖ ﻭ ﮐﯿﻔﯿﺖ
ﻣﻌﯿّﻦ ﻓﺮﻣﺎﺩﯼ ﮨﮯ،ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺗﻐﯿّﺮ ﻭﺗﺒﺪّﻝ
ﺟﺎﺋﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﺼﺎﻓﺤﮧ ﭼﻮﮞ ﮐﮧ ﺳﻨﺖ
ﮨﮯ، ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﻋﺒﺎﺩﺍﺕ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮨﮯ، ﺣﺴﺐِ
ﻗﺎﻋﺪﮦ ﻣﺬﮐﻮﺭﮦ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﺌﺖ ﻭ ﮐﯿﻔﯿﺖ ِ
ﻣﻨﻘﻮ ﻟﮧ ﺳﮯ ﺗﺠﺎﻭﺯ ﺟﺎﺋﺰ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﺎﺍﻭﺭ
ﺷﺎﺭﻉ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼ ﻡ ﺳﮯ ﺻﺮﻑ ﺍﻭﻝِ ﻟِﻘﺎﺀ
ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺑﺎﻻﺟﻤﺎﻉ ﯾﺎﻭﺩﺍﻉ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺑﮭﯽ
ﻋﻠﯽ ﺍﻻﺧﺘﻼﻑ ﻣﻨﻘﻮﻝ ﮨﮯ،ﭘﺲ ﺍﺏ ﺍﺱ ﮐﮯ
ﻟﯿﮯ ﺍﻥ ﺩﻭ ﻭﻗﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﺤﻞ
ﻭ ﻣﻮﻗﻊ ﺗﺠﻮﯾﺰ ﮐﺮﻧﺎ ﺗﻐﯿﯿﺮ ﻋﺒﺎﺩ ﺕ ﮐﺮﻧﺎ
ﮨﮯ، ﺟﻮﻣﻤﻨﻮﻉ ﮨﮯ ﻟﮩٰﺬﺍ ﻣﺼﺎﻓﺤﮧ ﺑﻌﺪ
ﻋﯿﺪﯾﻦ ﯾﺎ ﺑﻌﺪ ﻧﻤﺎﺯﭘﻨﺠﮕﺎﻧﮧ ﻣﮑﺮﻭﮦ ﻭ
ﺑﺪﻋﺖ ﮨﮯ،ﺷﺎﻣﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﺼﺮﯾﺢ
ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ “۔ ‏( ﺍﻣﺪﺍﺩ ﺍﻟﻔﺘﺎﻭﯼ : 1/557 ،ﻣﮑﺘﺒﮧ
ﺩﺍﺭﺍﻟﻌﻠﻮﻡ ،ﮐﺮﺍﭼﯽ‏)
…* ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻇﻔﺮ ﺍﺣﻤﺪ ﻋﺜﻤﺎﻧﯽ
ﺻﺎﺣﺐ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ :
”ﻋﯿﺪﯾﻦ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺼﺎﻓﺤﮧ ﮐﺎ ﺟﻮ
ﺭﻭﺍﺝ ﮨﮯ ﯾﮧ ﺑﺪﻋﺖ ﮨﮯ، ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺍﻭﻗﺎﺕ
ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ ﺷﺨﺺ ﺳﮯ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ
ﻧﺌﯽ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﺼﺎﻓﺤﮧ ﮐﺮ ﻟﮯ، ﻭﺭﻧﮧ
ﻧﮩﯿﮟ“ ۔ ‏( ﺍﻣﺪﺍﺩ ﺍﻻﺣﮑﺎﻡ : 1/188 ، ﻣﮑﺘﺒﮧ ﺩﺍﺭ
ﺍﻟﻌﻠﻮﻡ،ﮐﺮﺍﭼﯽ ‏)
…* ﻣﻔﺘﯽ ﺍﻋﻈﻢ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ،ﺣﻀﺮﺕ
ﻣﻮﻻﻧﺎ،ﻣﻔﺘﯽ ﻣﺤﻤﺪ ﺷﻔﯿﻊ ﺻﺎﺣﺐ ﺭﺣﻤﮧ
ﺍﻟﻠﮧ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ :
” ﯾﮧ ﺑﺪﻋﺖ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺷﻌﺎﺭِ ﺭﻭﺍﻓﺾ ﮨﮯ، ﺗﺮﮎ
ﮐﺮﻧﺎﭼﺎﮨﯿﮯ“ ۔ ‏( ﺍﻣﺪﺍﺩ
ﺍﻟﻤﻔﺘﯿﻦ،ﺹ 187: ،ﺩﺍﺭﺍﻻﺷﺎﻋﺖ‏)
…* ﺻﺪﺭ ﻣﻔﺘﯽ ﺩﺍﺭﺍﻟﻌﻠﻮﻡ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪ،ﺣﻀﺮﺕ
ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻣﻔﺘﯽ ﻋﺰﯾﺰ ﺍﻟﺮﺣﻤﺎﻥ ﺻﺎﺣﺐ ﺭﺣﻤﮧ
ﺍ ﻟﻠﮧ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ :
” ﻧﻤﺎﺯِ ﻋﯿﺪﯾﻦ ﯾﺎ ﺩﯾﮕﺮ ﻧﻤﺎﺯﻭﮞ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ
ﺗﺨﺼﯿﺺ ﻣﺼﺎﻓﺤﮧ ﮐﯽ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ
ﻭﻗﺖِ ﺧﺎﺹ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺳﻨﺖ ﺟﺎﻧﻨﺎ ﺍﻭﺭ
ﻣﻌﻤﻮﻝ ﺑﮧ ﭨﮭﮩﺮﺍﻧﺎ ﺑﻌﺾ ﻓﻘﮩﺎﺀ ﻧﮯ ﻣﻨﻊ
ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﺒﯿﯿﻦ ِﻣﺤﺎﺭﻡ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﻮ
ﺭﻭﺍﻓﺾ ﮐﮯ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺳﮯ ﻟﮑﮭﺎﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﮑﺮﻭﮦ
ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮨﮯ“ ۔‏( ﻋﺰﯾﺰ ﺍﻟﻔﺘﺎﻭﯼ،ﺹ 147: ،ﺩﺍﺭ
ﺍﻻﺷﺎﻋﺖ‏)
…* ﻓﻘﯿﮧ ﺍﻻﻣﺖ،ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﻻﻧﺎﻣﻔﺘﯽ
ﻣﺤﻤﻮﺩ ﺣﺴﻦ ﮔﻨﮕﻮﮨﯽ ﺻﺎﺣﺐ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ
ﺍﺱ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ :
” ﻋﯿﺪ ﮐﺎ ﻣﺼﺎﻓﺤﮧ ﻭ ﻣﻌﺎﻧﻘﮧ ﺑﺪﻋﺖ ﮨﮯ“ ۔
‏( ﻓﺘﺎﻭﯼ ﻣﺤﻤﻮﺩﯾﮧ : 8/464 ، ﺍﺩﺍﺭﮦ
ﺍﻟﻔﺎﺭﻭﻕ،ﮐﺮﺍﭼﯽ‏)
…* ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﻻﻧﺎ ،ﻣﻔﺘﯽ ﺳﯿﺪ ﻋﺒﺪ
ﺍﻟﺮﺣﯿﻢ ﻻﺟﭙﻮﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ
ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ :
” ﻋﯿﺪ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﻠﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺎﻧﻘﮧ ﻭ
ﻣﺼﺎﻓﺤﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻣﺮِ ﻣﺴﻨﻮﻥ ﻧﮩﯿﮟ
ﮨﮯ،ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﺧﺘﺮﺍﻋﺎﺕ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﻋﺎﺕ ﻣﯿﮟ
ﺳﮯ ﮨﮯ،ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﺟﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﮨﮯ
ﺍﺱ ﮐﺎ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻠﺘﺎ،ﻏﯿﺒﻮﺑﺖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ
ﻣﺼﺎﻓﺤﮧ ﺍﻭﺭ ﻃﻮﯾﻞ ﻏﯿﺒﻮﺑﺖ ﭘﺮ ﻣﻌﺎﻧﻘﮧ
ﺛﺎﺑﺖ ﮨﮯ،ﻣﮕﺮ ﻋﯿﺪ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻥ ﮐﺎ
ﺛﺒﻮﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ،ﯾﮩﺎﮞ ﯾﮧ ﺣﺎﻟﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ
ﺭﻓﻘﺎﺀ ﺟﻮ ﻧﻤﺎﺯ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﯾﮏ ﺑﻠﮑﮧ ﺑﺮﺍﺑﺮ
ﻣﯿﮟ ﮐﮭﮍﮮ ﺗﮭﮯ، ﺳﻼﻡ ﺍﻭﺭ ﺧﻄﺒﮧ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ
ﻣﻌﺎﻧﻖ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺍﻣﺮِ ﺩﯾﻨﯽ
ﺳﻤﺠﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ،ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﯾﮧ ﻏﻠﻂ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ“ ۔
‏( ﻓﺘﺎﻭﯼ
ﺭﺣﯿﻤﯿﮧ : 2/111 ، 112 ،ﺩﺍﺭﺍﻻﺷﺎﻋﺖ‏) ․
…* ﻣﻔﮑﺮ ِﺍﺳﻼﻡ ،ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﻻﻧﺎ،ﻣﻔﺘﯽ
ﻣﺤﻤﻮﺩ ﺻﺎﺣﺐ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﻗﻢ ﻃﺮﺍﺯ ﮨﯿﮟ :
” ﻭﺍﺿﺢ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺼﺎﻓﺤﮧ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺎﻧﻘﮧ
ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﻣﺴﻨﻮﻥ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ
ﻭﺩﺍﻉ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻓﯿﮧ ﮨﮯ،ﻟﮩﺬﺍ ﺑﻌﺪ
ﺍﺯ ﻧﻤﺎﺯ ﻋﯿﺪ ﻣﺴﻨﻮﻥ ﺗﻮ ﮨﺮ ﮔﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ،
ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺛﺒﻮﺕ ﺣﻀﻮﺭ ﭘﺎﮎ ﺻﻠﯽ
ﺍﻟﻠﻪ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ، ﮨﺎﮞ ﺑﻌﺾ
ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﺪﻋﺖ ﻣﺒﺎﺣﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ
‏(ﺑﻌﺾ ‏) ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﺪﻋﺖ ﻣﮑﺮﻭﮨﮧ
ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺤﺌﯽ ﺻﺎﺣﺐ
ﻟﮑﮭﻨﻮﯼ ﺍﭘﻨﮯ ﻓﺘﺎﻭﯼ ﮐﯽ ﺟﻠﺪ 2/ ،ﺹ 45/
ﭘﺮ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ” ﻋﻠﯽ ﮐﻞ ﺗﻘﺪﯾﺮ ﺗﺮﮎ ﺍﺱ
ﮐﺎ ﺍﻭﻟﯽٰ ﮨﮯ “…۔ ‏( ﻓﺘﺎﻭﯼ ﻣﻔﺘﯽ
ﻣﺤﻤﻮﺩ : 2/513 ،ﺟﻤﻌﯿﺖ ﭘﺒﻠﯿﮑﯿﺸﻨﺰ‏)
…* ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻣﻔﺘﯽ ﻧﻈﺎﻡ ﺍﻟﺪﯾﻦ
ﺻﺎﺣﺐ ﺍﻋﻈﻤﯽ  ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ :
” ﻣﻄﻠﻘﺎً ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﺎﻻﻟﺘﺰﺍﻡ ﻣﺼﺎﻓﺤﮧ ﯾﺎ
ﻣﻌﺎﻧﻘﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻋﺎً ﺩﺭﺳﺖ ﻧﮩﯿﮟ ،ﺣﺘﯽٰ
ﺍﻻﻣﮑﺎﻥ ﺍﺱ ﻋﻤﻞ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ
ﮨﮯ،ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯽ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮐﺴﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ
ﺑﻌﺪ ﻓﻮﺭﺍً ﮨﻮ ﺭﮨﯽ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺻﻮﺭ ﺕ ﻣﯿﮟ
ﮔﻨﺠﺎﺋﺶ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺼﺎﻓﺤﮧ ﯾﺎ ﻣﻌﺎﻧﻘﮧ ﮐﯿﺎﺟﺎ
ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ “۔ ‏(ﻧﻈﺎﻡ ﺍﻟﻔﺘﺎﻭﯼ : 1/59 ،ﻣﮑﺘﺒﮧ
ﺭﺣﻤﺎﻧﯿﮧ‏)
…* ﻓﻘﯿﮧ ﺍﻟﻌﺼﺮ،ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻣﻔﺘﯽ
ﺭﺷﯿﺪ ﺍﺣﻤﺪ ﻟﺪﮬﯿﺎﻧﻮﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ
ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ :
” ﯾﮧ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭﮐﺮﻧﺎ ﺑﺪﻋﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﮑﺮﻭﮦ
ﮨﮯ …ﺑﺪﻋﺖ ﯾﺎ ﮐﺴﯽ ﮔﻨﺎﮦ ﮐﺎ ﺍﺭﺗﮑﺎﺏ ﮐﺴﯽ
ﻣﺼﻠﺤﺖ ﮐﮯ ﭘﯿﺶ ِ ﻧﻈﺮ ﮨﺮ ﮔﺰﺟﺎﺋﺰ ﻧﮩﯿﮟ
،ﺍﻟﺒﺘﮧ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﻨﻊ ﮐﺮﻧﺎﺍﺱ ﻭﻗﺖ
ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﺟﺐ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﯽ ﺍﻣﯿﺪ ﮨﻮ،ﻭﺭﻧﮧ
”ﻧﮩﯽ ﻋﻦ ﺍﻟﻤﻨﮑﺮ “ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ، ﻏﺮﺽ ﯾﮧ
ﮐﮧ ﺧﻮﺩ ﻧﻤﺎﺯِ ﻋﯿﺪ ﮐﮯ ﺑﻌﺪﮐﺴﯽ ﺳﮯ
ﻣﺼﺎﻓﺤﮧ ﯾﺎ ﻣﻌﺎﻧﻘﮧ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ،ﮨﺎﮞ! ﺍﮔﺮ ﮐﺴﯽ
ﺳﮯ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﮨﯽ ﺑﻌﺪ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﻮ ﺗﻮ
ﺍﺱ ﺳﮯ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ،ﻣﮕﺮ ﺗﺸﺒّﮧ ﺑﺎﻟﺒﺪﻋﺔ ﺍﻭﺭ
ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﺎﺋﯿﺪ ﮐﺎ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ
ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺟﺘﻨﺎﺏ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ“ ۔
‏(ﺍﺣﺴﻦ ﺍﻟﻔﺘﺎﻭﯼ : 1/354 ،ﺳﻌﯿﺪ ‏)
…* ﺣﮑﯿﻢ ﺍﻟﻌﺼﺮ،ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﻻﻧﺎ
ﻣﺤﻤﺪﯾﻮﺳﻒ ﻟﺪﮬﯿﺎﻧﻮﯼ ﺷﮩﯿﺪ ﺭﺣﻤﮧ ﺍﻟﻠﮧ
ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ :
” ﯾﮧ ﺳﻨﺖ ﻧﮩﯿﮟ،ﻣﺤﺾ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﺑﻨﺎﺋﯽ
ﮨﻮﺋﯽ ﺍﯾﮏ ﺭﺳﻢ ﮨﮯ،ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﯾﻦ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ
ﺳﻤﺠﮭﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﻮ ﻻﺋﻖ ﻣﻼﻣﺖ
ﺳﻤﺠﮭﻨﺎ ﺑﺪﻋﺖ ﮨﮯ“ ۔‏( ﺁﭖ ﮐﮯ ﻣﺴﺎﺋﻞ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ
ﮐﺎ ﺣﻞ : 2/573 ،ﻣﮑﺘﺒﮧ ﻟﺪﮬﯿﺎﻧﻮﯼ

Saturday, 2 July 2016

نصیحت کا طریقہ ایسا ہو

حساب۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سونے سے پہلے اس نے اپنے غنودگی میں لیٹے شوہر کو مخاطب کیا۔۔سنیں فجر میں اٹھائوں آپ کو؟اس نے نیند میں ڈوبی آنکھیں کھولیںاور تھوڑے کڑوے لہجے میں بولا۔۔تم کو کتنی۔دفعہ کہا ہے میں نیند سے نہیں اٹھ پاتا فجرمیں۔۔سارا دن کا تھکا۔ہارا ہوتا ہوںوہ اسے دیکھتے ہوئے بولی۔۔پر نماز تو فرض ہے ناں۔۔فجر ہی کیاآپ کوئی بھی نمازادا نہیں کرتے۔۔بس جمعہ یا عید۔۔اس کی بات سن کر وہ جھنجلا کر بستر پر بیٹھ گیا۔۔دیکھو تبسم تم نماز پڑھتی۔ہو میں کبھی نہیں ٹوکتا مگر یہ بار بار مجھے مت لیکچر دیا۔کرو۔۔سب نے اپنا اپنا حساب دینا ہے۔۔اب سونے دو مجھے اور لائٹ بند کر دو۔۔وہ پھر بستر پر لیٹ گیا۔۔اچھا سنیں۔۔اس کے پھر پکارنے۔پر اس کا۔ضبط جواب دے گیا۔۔تبسم ایک بار کہہ۔دیا تو کیوں وہ بحث کر رہی ہو بار بار۔۔وہ کچھ دیر کے توقف کے بعد بولی۔۔نماز کا نہیں کہہ رہی دوسری۔بات ہے۔۔کیا۔۔؟اسے سمجھ نہیں آرہی تھی وہ اب کیا پوچھنا چاہ رہی ہے۔۔مجھے کل پیسوں کی ضرورت ہے۔۔۔جو آپ نے دئیے سب ختم ہو گئےسب ختم ہو۔گئے؟؟اس کے لہجے میں بلا۔کی حیرت تھی۔۔خدا کی۔بندی ایسے کہاں خرچ کئیے پیسے؟ابھی آدھا مہینہ باقی۔ہے تنخواہ ملنے۔کو۔ اور تم نے مہینے بھر کا بجٹ ابھی سے ختم کر دیا؟میں آپ کو حساب نہیں دینا چاہتی۔۔ بس ہو گئے خرچ کل بندوبست کر دیجئے۔گا پیسوں کااس کی بات پر اس کے تن بدن میں آگ لگگئی۔۔کیوں حساب نہیں دینا چاہتیں۔۔پیسہ کیا درختوں پر لگا ہے جو توڑ لےبندہ۔۔ایسا تو آج تک تم نے نہیں کیا پھر اس بار۔۔کچھ بھی ہو مجھے ساراحساب چاہئیے ابھی ۔۔اس کا چہرہ بتا رہا تھا وہ سخت غصےمیںہے۔۔اس کی بات پر وہ مسکرا دی۔۔۔وہ حیرت سے اسے دیکھ رہا تھا۔۔تم۔ہنس رہی ہو۔۔مذاق ہے کیا یہ؟وہ بولی۔۔میں اس لئیے ہنس رہی ہوں کہ اللہ نے آپ کو اس گھر کا سربراہ بنا یا اور جب آپ کی سربراہی میں ،میں حساب نہ رکھ پائی تو آپ۔کو غصہ آ گیا۔۔۔اب سوچیں کل۔کو آپ سے بھی وہ رب محشر میں حساب مانگے گا تو کیسے دیں گے۔۔آپ کا میرا حساب تو چند ہزار رپوں کا ہے۔۔پر بندے اور رب کا تو پوری زندگی کی ایک ایک نعمت کاہے جس کی کوئی قیمتنہیں۔۔۔کوئی بدل نہیںوہ جیسےسن ہوا اسے سن رہا تھا۔۔۔وہ پھر بولی۔۔میں نے تو آپ کو مزے سے کہہ دیا میرے پاس حساب نہیں پر کیا آپ اس بڑے دن اس رب کے سامنے یہ کہہ سکیں گے؟جس دن بڑے بڑے بادشاہ اس کے سامنےکانپ رہے ہوں گے؟؟وہ چپ ہو چکا تھا نظریں جھکائے تصورمیں جیسےاس بڑے دن کے تصور سے کانپ رہا تھا۔۔آپ۔فکر نہ کریں ہر مہینے کی طرح اس بار بھی پورا ہو جائے گا کہیں خرچ نہیں ہوئے پیسے یہ تو بس اس لئیے کہا کہ۔۔۔اس نےبات ادھوری چھوڑ دی۔۔۔سو جائیں میں لائٹ بند کر دیتی ہوں۔وہ اٹھی تو وہ ایک دم بول پڑا۔۔تبسم۔۔جی؟تم اٹھو تو فجر کے لئےمجھے جگا دینا۔۔یہ کہہ کر اسنے کروٹ بدلی۔اور آنکھیں بندکر لیں۔۔اس کی بیوی نے اسے مسکرا کر دیکھا اور بتی گل کر دی۔۔فجرمیں ایک نئی روشنی پھوٹنے والی تھی
۔۔