Wednesday, 29 June 2016

ہر قاسمی اہل حق نہیں ہوتا

ہوشیار!!!ہر قاسمی اہلِ حق نہیں ہوتا ...
                    ....... فضیل احمد ناصری ....

آج کل اپنی مادر علمی بالخصوص اپنی آخری مادرعلمی کی طرف انتساب ایک "علامت "بن کر رہ گیا ہے-کوئی مفتاح العلوم مئو کا فارغ التحصیل ہو تو مفتاحی، دارالعلوم ندوۃ العلما لکھنؤ کا ہو تو ندوی، جامعہ ہتورا باندہ کا ہو تو باندوی، اسی طرح دارالعلوم دیوبند کا ہو تو قاسمی لگاتا ہے-یہ نسبت اس بات کی واضح نشانی ہے کہ صاحبِ نسبت نے فلاں ادارے سے اپنے نصابِ عالمیت کی تکمیل کی ہے-یہ نسبت دورۂ حدیث سے فراغت حاصل کرنے والوں کے لیے خاص ہے-اس نسبت کا استعمال صرف وہی حضرات کر سکتے ہیں، جنہوں نے باقاعدہ داخلہ لے کر نصابِ عالمیت کی تکمیل کی ہو-جس شخص کا داخلہ نہیں ہوا، مگر اس نے نصاب کی تکمیل کی ہے تو قانوناً اور قاعدۃً اسے اس نسبت کی اجازت نہیں........اگر کوئی شخص شعبۂ سماعت سے فراغت پاکر ہی "ٹریڈمارک "استعمال کرتا ہے تووہ کذاب اور دجال ہے-........ بعض طلبہ شعبۂ حفظ اور شعبۂ تجوید پڑھ کر ہی نسبت گھسیٹ لاتے ہیں-یہ فراڈ اور جعل ہے-.........یہاں یہ عرض کردوں کہ اداروں یا شخصیات کی جانب انتساب کا رجحان ماضی بعید میں نہیں تھا-ہمارے سارے اکابر اپنے وطن کی طرف منسوب ہوا کرتے تھے -حکیم الامت مولانا اشرف علی اپنے وطن تھانہ بھون کی طرف، متکلم اسلام مولانا محمد قاسم صاحب اپنے گاؤں "نانوتہ " کی طرف، امام العصر علامہ محمد انورشاہ صاحب اپنی ریاست "کشمیر " کی طرف......... سارے ہی اکابر کا یہی حال تھا....... میں نے تحقیق کی تو واضح ہوا کہ حضرت کشمیری کے دور تک دارالعلوم کا کوئی فاضل "قاسمی "نہیں لکھتاتھا، حکیم الاسلام قاری محمد طیب صاحب سابق مہتمم دارالعلوم دیوبند "قاسمی "ضرور لکھتے تھے،  مگر اپنے دادا حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی کی طرف منسوب ہوکر......قاسمی لکھتے وقت ان کے ذہن میں ادارہ ہرگز نہیں تھا "پھر خدا معلوم کس طرح یہ سلسلہ چل پڑا؟؟؟ میں نے قدیم دارالعلوم میں تین سال پڑھا ہے، میری فراغت وہیں سے ہے -آغاز میں قاسمی لکھنے کا بڑا شوق تھا، خوب لکھا -رفتہ رفتہ اب یہ سودا اتر چکا ہے اور میں "ناصری "سے آگے کوئی نسبت نہیں لگاتا، الاماشاءاللہ....یہ نسبت میرے سترہویں دادا قطب الارشاد"مخدوم شاہ محمد ناصر رحمہ اللہ " کے اسم گرامی کی طرف ہے........خیر!!! چالیس سال پہلے تک "نسبت قاسمی "اتنی بھی عام نہیں تھی، چند لوگ ہی لکھا کرتے تھے-.........یہی حال مظاہری اور دیگر علمی نسبتوں کا بھی ہے......شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا کاندھلوی فاضلِ مظاہر تھے، مگر مظاہری نہیں لکھتے تھے.......نسبتیں لگانے کا رواج صرف ہندوستان میں ہے-باہر ایسا نہیں ہے........ہمارے فضلا پر انتساب کا جنون اس حد تک غالب ہے کہ اب تو صورت حال ہی بدل چکی ہے....جس ادارے میں "نسبتِ قاسمی " کی اجازت ہے، وہاں داخلہ پاتے ہی بعض طلبہ قاسمی لگانا شروع کردیتے ہیں، خواہ وہ اول دوم میں ہوں یا حفظ و تجوید میں .......حضرت مولانا محمد سالم قاسمی دامت برکاتہم کی سندِ مسلسلات پر ایک عزیز کے یہاں نظر پڑگئی، دیکھا تو ایک طالب علم کا نام مع قاسمی لکھا تھا-....مجھے شک ہوا کہ کہیں وہ طالب علم تو نہیں جو فلاں ادارے میں زیر تعلیم ہے؟ اچانک وہی طالب علم آگیا ......میں نے پوچھا: یہ سند تم نے حاصل کی ہے؟ شرما کر بولا: جی حضرت! ..... یہ دارالعلوم وقف کا طالب علم نہیں تھا اور مزے کی بات یہ کہ ابھی عربی دوم ہی پڑھ رہا تھا..........اب تو بعض لوگ اپنے بیٹے کا نام ہی "قاسمی "رکھ ڈالتے ہیں........بعض لوگ اپنے باپ یا دادا کی طرف منسوب ہو کر قاسمی لکھتے ہیں ........یہ درست نہیں ہے....... اس دور میں "قاسمی "کا مطلب "عالمیت کا نصاب مخصوص اداروں سے مکمل کرنے والا " ہے، لہذا غیر عالم کے لیے یہ نسبت درست نہیں.........پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک بیٹے کا نام "قاسم "تھا، اسی لیے آپ کی کنیت "ابوالقاسم "بھی تھی.... حضور علیہ السلام کے دور میں ایک شخص نے آواز لگائی: اے ابوالقاسم!  ......پیغمبر علیہ السلام متوجہ ہوے اور فرمایا: کیا بات ہے؟ .....وہ صاحب کہنے لگے کہ میں نے آپ کو نہیں، فلاں صاحب کو پکارا تھا.....آپ علیہ السلام نے منع فرمادیا "لاتکتنوا بکنیتی " میری کنیت استعمال نہ کیا کرو! .......یہ ممانعت اشتباہ کے پیش نظر تھی....... یہ بھی خیال رہے کہ اپنے باپ دادا کی طرف منسوب ہو کر بھی قاسمی لکھنا درست نہیں......اگر اپنے آبا کی طرف منسوب ہوکر لکھنے کی اجازت ہو تو تو امت کے ہر فرد کو "قاسمی "لکھنے کا استحقاق ہوگا، کیوں کہ حضور علیہ السلام کا ایک نام قاسم بھی ہے، حدیث رسول ہے: انما انا قاسم واللہ یعطی.........مگر اس کا کوئی بھی قائل نہیں.................افادے کے لیے یہ بھی عرض کردوں کہ مفتاحی "کی نسبت دو ادارے سے فارغ طلبہ لگاتے ہیں: مفتاح العلوم مئو اور مفتاح العلوم جلال آباد..... فلاحی کی نسبت کا استعمال دارالعلوم فلاحِ دارین ترکیسر گجرات والے کرتے ہیں اور جامعۃ الفلاح بلیریا گنج والے بھی....آخرالذکر اھل حق نہیں ہیں.....مظاہری کی نسبت جامعہ مظاہرعلوم قدیم و جدید کے فضلا لگاتے ہیں...اسی طرح مظاہرعلوم سیلم تملناڈ سے فارغ التحصیل بھی مظاہری لکھتے ہیں.....مدرسہ معہد ملت مالے گاؤں کی نسبت علمی "ملّی "ہے،  قاسمی کی نسبت کئی ادارے سے فارغ طلبہ لگاتے ہیں: دارالعلوم دیوبند، دارالعلوم وقف دیوبند، جامعہ قاسمیہ کھروڈ گجرات، مدرسہ شاہی مراد آباد اور جامع مسجد امروہہ...... یہ عجیب بات ہے کہ علیگ ایک ہی ہوتا ہے، ملّی بھی ایک ہی اور ندوی بھی ایک ہی، مگر قاسمی متعدد....... ایک پریشانی یہ بھی ہے کہ بعض لوگ باپ دادا کی طرف منسوب ہوکر بھی قاسمی لکھتے ہیں...... میں یہ تفصیل ایک پس منظر میں دے رہا ہوں..... واقعہ یہ ہے کہ پرسوں یعنی رمضان کی اکیسویں شب میں میرا موبائل بجا، ریسیو کیا تو انہوں نے اپنا نام "ناظم قاسمی "بتایا...... میں نے وجہِ تخاطب دریافت کی تو کہنے لگے کہ میں سلطان پور سے بول رہا ہوں اور مجھے مسئلہ معلوم کرنا ہے-میں نے کہا ضرور!!! انہوں نے پوچھا: "اگر کوئی خاتون بجاے انسان کسی جانور سے جنسی تعلق قائم کرے تو عورت پر غسل واجب ہوگا؟؟؟ میں نے کہا: جی ہوگا...... وہ صاحب شک کے ساتھ کہنے لگے کہ "فتاویٰ رشیدیہ "میں تو عدمِ وجوب کی بات ہے..... میں نے پوچھا "کس نے بتایا؟ "تو کہتے ہیں کہ میں نے خود پڑھا ہے.....مولانا گنگوہی نے ایسا لکھا ہے اور شاید وہ فتاویٰ رشیدیہ ہی تھی....اگر میں اپنی آنکھوں سے نہ دیکھتا تو یقین نہ کرتا......اس نے دوسرا سوال داغا: الافاضات الیومیہ جلدسوم میں مولانا تھانوی کا واقعہ انتہائی بھونڈے انداز میں نقل کیا گیا ہے......پھر انہوں نے پورا واقعہ سنایا جو مجھے بھی اچھا نہیں لگا......میں نے کہا: جناب عالی! یہ قصہ حضرت تھانوی کا نہیں ہوگا.....سیاق و سباق دیکھیے! کسی اور کا قصہ حضرت نے بیان کیا ہوگا.....کہنے لگے:  یہ "سیاق وسباق "کیا بلا ہے؟ میں نے کہا  کہ قصے کا تعلق یا تو اگلی عبارات سے ہے یا پچھلی عبارات سے......کہنے لگے:  آگے پیچھے کسی بندے کا کوئی ذکر نہیں ہے-یہ قصہ تھانوی کا ہی ہے.....میں نے کہا کہ کتاب کا اسکرین شاٹ لے کر میرے پاس بھیجیے! جواب آیا کہ میرا موبائل سادہ ہے، میرے لیے یہ ممکن نہیں، پھر انہوں نے اپنا درد بیان کیا کہ مولانا! ہمارے علما کیا کیا لکھ ڈالتے ہیں؟ ہمارے لیے جواب دینا بھاری پڑجاتا ہے....میں نے اس کی تشویش دور کرنے کی کوشش کی، مگر اس نے فون کاٹ دیا....... میں سوچ میں پڑگیا کہ "قاسمی "اور ایسی بے تکی باتیں؟؟؟ ٹھیک ہے کہ ہرقاسمی باصلاحیت نہیں ہوتا، پر ایسا بدصلاحیت بھی تو نہیں ہوتا کہ "خیالِ شریف "میں کوئی معمولی بات بھی نہ گھس سکے .........پھر بیچ بیچ میں حضرت گنگوہی اور حضرت تھانوی سے متعلق اس کا طرزِ کلام انتہائی ناشائستہ بھی تھا.......ایک قاسمی کی زبان ایسی کیوں کر ہونے لگی؟؟؟ ضرور یہ کوئی فراڈی ہے اور شیر کی کھال میں کوئی گدھا آگیا ہے......میں نے فون ملایا اور پوچھا: جناب! کیانام بتایا آپ نے؟؟؟؟ کہنے لگا: ناظم قاسمی سلطانپوری.....میں نے دریافت کیا: آپ کہاں سے فارغ ہیں؟ کہنے لگا: میں ایک عام آدمی ہوں، کسی مدرسے سے پڑھا لکھا نہیں ہوں......میں نے پوچھا: پھر قاسمی کی وجہ؟؟؟؟ کہنے لگا: بس یوں ہی لگاتا ہوں-میں نے کہا: شاید آپ کے والد کا نام قاسم ہے....کہنے لگا: نہیں...تو پھر دادا کا نام قاسم ہوگا.....اس نے اس سے بھی انکار کردیا......کہنے لگا کہ ہمارے علاقے میں قاسمی لکھنے کا عام رجحان ہے، پڑھا بے پڑھا سب لگاتا ہے، اس لیے میں بھی لگاتا ہوں......میں نے کہا: جناب! یہ حرام ہے......اگر کسی کے والد کا نام "عابد " ہو اور "خالد " نامی کسی شخص کی طرف اپنا انتساب کرتے ہوے "خالدی "لکھے تو یہ "باپ بدلنا "ہوا.......یہ حرام عمل ہے-ایسے شخص پر اللہ، رسول، فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت برستی ہے -بخاری شریف میں ہے "من انتمیٰ الی غیر ابیہ فعلیہ لعنۃ اللہ والملائکۃ والناس اجمعین.........پھر میں نے زور دے کر کہا آپ "بریلوی "ہیں، آپ اہلِ حق ہرگز ہرگز نہیں...... اہلِ حق کی زبان ایسی نہیں ہوسکتی.............میرے ان توبیخی جملوں اور سوطی لفظوں کے بعد اس کی زبان لڑکھڑا گئی........وہ بول بھی نہیں پا رہا تھا .......اس نے کہا تھا کہ "انڈرائڈ موبائل "میرے پاس نہیں، جب میں نے چیک کیا تو اس کا جھوٹ یہاں بھی کھل کر آیا......میں یہ مضمون اسی "جعلی قاسمی "کے واٹس ایپ بکس میں لکھ رہا ہوں-........کہنے کا حاصل یہ کہ آج کل بھیڑ کی شکل میں بھیڑیے گھوم رہے ہیں.....کسی مضمون میں مصنف کے نام کے ساتھ "قاسمی " دیکھ کر ہرگز یقین نہ کریں کہ اصلی قاسمی کا قلم ہے، بلکہ تحقیق کرلیں کہ وہ کس بناپر قاسمی ہے اور اگر وہ فارغ التحصیل ہے بھی، تو کس ادارے سے اور اس کے اساتذہ کے نام کیا ہیں؟؟؟ بعض اہل باطل بھی یہ نسبت لگا رہے ہیں - بریلویوں کا ایک بڑا "سوامی " اسلم بھی قاسمی لکھتا تھا .....وہ مظفرپور بہار کا تھا اور بےحد بدزبان...بریلویوں کی طرف سے اسے "شیربہار "کا خطاب ملا تھا.......اللہ عزوجل تمام مسلمانوں کو "مکر و زور "سے محفوظ رکھے........

Tuesday, 28 June 2016

جمیعت علماء ہند کا بہترین کارنامہ

مالیگاؤں ۲۰۰۸ء بم دھماکہ معاملہ
مالیگاؤں بم دھماکوں کی کلیدی ملزمہ سادھوی پرگیا سنگھ کی درخواست ضمانت رد
جمعیۃ علماء کو بڑی کامیابی ، متاثرین کو انصاف دلانے تک قانونی چارہ جوئی کرنے کا عزم
ممبئی ۲۸؍ جون
مہاراشٹر کے پاورلوم شہر میں ہوئے بم دھماکوں کی کلیدی ملزمہ سادھوی پرگیا سنگھ ٹھاکر اور نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی NIA کو آج اس وقت ہزیمت اٹھانی پڑی جب ممبئی کی خصوص عدالت نے سادھوی کی درخواست ضمانت کو رد کردیا اور اس معاملے میں مداخل کار کا فرض ادا کرنے والی جمعیۃ علماء کے قانونی دلائل سے اتفاق کیا جس میں NIAکی جانب سے درخواست ضمانت کی مخالفت نہ کیئے جانے اور اسے کلین چٹ دیئے جانے پر سخت احتجاج کیا تھا ۔
آج خصوصی عدالت نے سادھوی کی درخواست ضمانت یہ کہکر مسترد کردی کہ ملزمہ کے خلاف پختہ ثبوت و شواہد موجود ہیں جس کے بعد ہندو تنظیموں سے تعلق رکھنے والے عدالت میں موجود تمام افراد کے چہرے لٹک گئے اور سادھوی کے وکلاء مشراء اور مگو مایوس ہوگئے ۔
کمرہ عدالت میں اخباری نمائندوں کو بھی داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی اور جب عدالت نے درخواست ضمانت مستر د کیئے جانے کا فیصلہ سنایا تو ایک دم سے عدالت میں موجود زیادہ تر افراد پر سکتہ طاری ہوگیا کیونکہ وہ پر امید تھے کہ استغاثہ کی جانب سے کلین چٹ ملنے کے بعد سادھوی کو سو فیصد ضمانت پر رہائی حاصل ہوگی۔
سادھوی کی درخواست ضمانت کی ایک جانب جہاں این آئی اے کے وکیل اویناس رسال نے کھلے لفظوں میں تائید کی تھی اور اسے کلین چٹ دیا تھا وہیں جمعیۃ علماء نے بروقت عدالت پہنچ کر اس کی بطور مداخلت کار مخالفت کی تھی جسے عدالت نے آج منظور کرلیا۔
خصوصی این آئی اے جج ایس ڈی ٹیکولے نے سادھوی کی درخواست ضمانت مستر دکرتے ہوئے اپنے ۴۰؍ صفحات پر مشتمل حکم نامہ میں کہا کہ سادھوی کے خلاف بادی النظر میں شواہد موجود ہیں اور گواہان نے بھی اس کے خلاف اپنا بیان درج کرایا ہے لہذا اس کی درخواست ضمانت کو منظور نہیں کیا جاسکتا ۔
واضح رہے کہ عدالتوں میں جاری روایت کے مطابق درخواست ضمانت کی سرکاری وکلاء مخالفت کرتے ہیں اور اس کے جواب میں عدالت میں بحث کرتے ہیں لیکن سادھوی کے معاملے میں توملک کے سب سے بڑے تفتیشی ادارے این آئی اے نے تمام روایتوں کو توڑ کر عدالت میں نہ ہی درخواست ضمانت پر کوئی بحث کی تھی اور نہ ہی کوئی اعتراض داخل کیا تھا البتہ عدالت سے یہ کہا تھاکہ وہ سادھوی پر عائد فرد جرم کی روشنی میں درخواست ضمانت پر اپنا فیصلہ صادر کرے ، ملحوظ رہے کہ تازہ فرد جرم میں این آئی اے نے سادھوی کوکلین چٹ دی ہے اور یہ بھی کہا ہیکہ سادھوی کے خلاف کوئی دہشت گردانہ معاملہ ہی نہیں بنتا ہے۔
خصوصی عدالت نے جمعیۃ علماء کی پیروی کرنے والے وکلاء عبدالوہاب خان اور شریف شیخ کے دلائل سے اتفاق کیا جس میں انہوں نے عدالت کو بتایا تھا کہ این آئی اے کو اس بات کا کوئی آئینی حق حاصل نہیں ہیکہ وہ سادھوی کو کلین چٹ دے کیونکہ این آئی اے نے اس معاملے کی از سر نوتفتیش نہیں کی تھی بلکہ سابقہ ایجنسیوں کی جانب سے کی جانے والی تفتیش کو ہی آگے بڑھایا تھا لہذا تفتیشی ایجنسی اس نتیجہ پر کیسے پہنچ سکتی ہے کہ ملزمہ کے خلاف مکوکا کے تحت کوئی ثبوت دستیا ب نہیں ہے ۔
عدالت نے اپنے فیصلہ میں این آئی اے کی سرزنش کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ این آئی اے نے سادھوی کے تعلق سے جو بیان دیا ہے وہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ان فیصلوں کے خلاف ہے جس میں سادھوی اور دیگر ملزمین پر مکوکا عائید کیئے جانے کو درست قرار دیا گیا ہے ۔
عدالت نے مزید کہا کہ این آئی اے نے سادھوی کو کلین چٹ دیکر یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہیکہ وہ عدالت عظمی سے بھی زیادہ بااختیار ادارہ ہے ۔
سادھوی کی اس درخواست ضمانت کے خلاف جمعیۃ علماء نے مالیگاؤں ۲۰۰۸ بم دھماکوں کے متاثر نثار احمد سید بلال کے توسط سے مداخلت کا رکی عرضداشت داخل کی تھی اور اس میں سپریم کورٹ اور دیگر عدالتوں کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت کو یہ بتایا تھا سادھوی کے خلاف مکوکا کے تحت معاملہ بنتا ہے اور سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ نے اسے برقرار رکھنے کا فیصلہ بھی کیا ہے نیز ان دھماکوں میں جو موٹر سائیکل استعمال ہوئی تھی وہ سادھوی کی ملکیت تھی اور ان دھماکوں کی سازش میں بھی وہ ملوث تھی ،دھماکوں سے قبل وہ دیگر ملزمین کے رابطہ میں تھی اور اس نے دھماکوں کی کئی سازشی میٹنگو ں میں بھی شرکت کی تھی ۔
خصوصی این آئی اے عدالت کے فیصلہ کو حق انصاف کی جیت قرار دیتے ہوئے جمعیۃ علماء کے قومی صدر مولانا سید ارشد مدنی نے عدالتی فیصلہ کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ مرکز اور ریاست میں بی جے پی حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد تفتیشی ایجنسیوں نے ہندوتوادی دہشت گردوں کے لیئے نر م گوشہ اختیار کرلیا تھا اور مالیگاؤں ۲۰۰۸ کے بم دھماکوں کے الزام سے سادھوی پرگیا سنگھ اور اس کے ساتھیوں کو کلین چٹ دے دی تھی مگر عدالت نے جمعیۃ علماء کی جانب سے پیش کی گئی مداخلت کار کی درخواست کو منظور کیا تھا جس میں درخواست ضمانت کی ثبوت وشواہد کے ساتھ سخت لفظوں میں مخالفت کی گئی تھی جس سے عدالت نے بھی اتفاق کیا۔
جمعیۃ علماء قانونی امدا د کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے کہا کہ اللہ کا شکر ہیکہ جمعیۃ نے بروقت عدالت پہنچ کر بھگواء دہشت گردوں کی درخواست ضمانت کی مخالفت کی تھی نیز اگر جمعیۃ اس معاملے میں مداخلت کار نہیں بنتی تو سادھوی کو بہ آسانی ضمانت حاصل ہوجاتی کیونکہ ملزمہ اور استغاثہ کے وکلاء ایک زبان بول رہے تھے اور سادھوی کے بے قصور ہونے کی دوہائی دے رہے تھے ۔
گلزار اعظمی نے کہا 26/11 ممبئی دہشت گردانہ حملہ میں شہید ہوئے پولس افسر ہیمنت کرکرے نے ان دھماکوں کی جو تحقیقات کی تھی اور دہشت گردی کے چہرے پر پڑے جس نقاب کو بے نقاب کیا تھا اس کی روشنی میں جمعیۃ علماء نے ایڈوکیٹ عبدالوہاب خان، ایڈوکیٹ شریف شیخ،ایڈوکیٹ افروز صدیقی، ایڈوکیٹ انصار تنبولی، متین شیخ، ایڈوکیٹ نیا ز احمد لودھی، ایڈوکیٹ شاہد ندیم انصاری، ایڈوکیٹ رازق شیخ ،ایڈوکیٹ ارشد صدیقی، ایڈوکیٹ افضل نواز ، ایڈوکیٹ چراغ شاہ، ایڈوکیٹ ابھیشک پانڈے ودیگر پر مشتمل ایک ٹیم تیار کی تھی جس نے سخت محنت کرکے ثبوت وشواہد اکھٹا کیئے اور ایسے قانونی دلائل عدالت میں پیش کیئے جس سے عدالت سادھوی کی درخواست ضمانت کو مسترد کرنے پر مجبور ہوگئی۔
ممبئی کی عدالتوں کے قانونی ماہرین نے بھی جمعیۃ کے وکلاء کی ستائش کی اور کہا کہ ایسے معاملات میں جہاں عرض گذار اور استغاثہ کا موقف ایک ہی ہو ایسے موقعہ پر عدالت کو مطمین کرپانا اور عرض گذار کے مخالف بحث کرنا ایک مشکل امر ہے نیز ایسے معاملات میں عدالت عام طور سے عرض گذار کی حمایت میں ہی فیصلہ صادر کرتی ہے جس کا مطلب یہ ہیکہ سادھوی کو با آسانی ضمانت حاصل ہوسکتی تھی لیکن جمعیۃ کے وکلاء کی مداخلت کی وجہ سے عدالت نے سادھوی کو ضمانت دینے سے انکار کیا ۔

Sunday, 26 June 2016

رمضان المبارک کا آخری عشرہ

*🌺علمائے حق علمائے دیوبند 🌺*

*رمضان کے آخری عشرہ کی قدر کیجئے!*
*مفتی محمد صادق حسین قاسمی*

رمضان المبارک کے بابرکت ایام بڑی تیزی کے ساتھ گذررہے ہیں ،نورانی ماحول کی ساعتیں ،عبادت و اطاعت کی گھڑیا ں ختم ہوتی جارہی ہیں ۔اور رمضان المبارک اپنے آخری عشرے میں داخل ہونے والا ہے ۔مسلمان ابتدائے رمضان ہی سے اپنی بساط بھر عبادتوں کی فکر کرتے ہیں ،تلاوتوں کا اہتمام کرتے ہیں اور رمضا ن کے بابرکت دنوں کو گذارتے ہیں ،محنت کرتے ہوئے اعمال کو انجام دینے کی کوشش میں لگے ہوئے ہوتے ہیں ۔رمضان المبارک کے تین دہوں کی تقسیم خود نبی کریم ﷺ نے فرمائی اور ایمان والوں کو ان عشروں کی قدر دانی کی تعلیم دی ۔آپ ﷺ نے فرمایا کہ : رمضان المبارک کا پہلا عشرہ رحمتوں کا ہے ،دوسرا عشرہ مغفرت کا ہے اور تیسرا عشرہ جہنم سے آزادی ہے ۔یوں تو پورے رمضان کا بھر پور اہتمام کرنا لازمی ہے ،کیوں کہ اس کا ہر لمحہ اور سیکنڈ الطاف و عنایات اور انوار و رحمتوں کا ہے ،دن و رات میں اللہ تعالی کی رحمتیں برستی رہتی ہیں اور بندگانِ خدا کو سیراب کرتے رہتی ہیں۔بڑا عجیب و غریب نظام ہے جو رمضان المبارک میں چلایا جاتا ہے اور خا ص کر جب رمضان المبارک کا آخری عشرہ شروع ہوتا ہے تو گویا تجلیات اور عنایات کا سیل رواں جاری ہوجاتا ہے اور بخشش و عطا ،عفو در گذرسے دن و رات منور ہوجاتے ہیں ۔آخری عشرے کے داخل ہوتے ہی نبی کریم ﷺ کے معمولات اور عبادات میں بھی غیر معمولی اضا فہ ہوجاتا ہے اور پورے اہتمام کے ساتھ آپ ﷺ آخری عشرہ میں عبادات انجام دیا کرتے ہیں ۔حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ: کان رسول اللہ ﷺ اذا دخل العشر شد میزرہ واحیی لیلہ وایقظ اھلہ ۔( بخاری:1894)کہ جب رمضان المبارک کا آخری عشرہ آتا تھا تو آپ ﷺ اپنے تہبند کو مضبوط باندھ لیتے تھے اور رات بھر عبادت کرتے تھے اور اپنے گھر والوں کو ( عبادت کے لئے ) جگاتے تھے ۔ایک حدیث میں بیان کیا گیا کہ :کان رسول اللہ ﷺ یجتھد فی العشر الاواخر مالا یجتھد فی غیرہ ۔( مسلم:2016)آپ ﷺ رمضان کے آخری دس دنوں میں جتنی محنت کرتے تھے اس کے علاوہ میں اتنی محنت نہیں کرتے تھے ۔رمضان المبارک کے آخری دس دنوں کو اچھے انداز میں گذارنے اور ان کی مکمل قدر دانی کرنے اور عبادتوں میں صرف کرنے کا طریقہ بھی آپ ﷺ نے بتایا کہ کیسے اس عشرے کو گذارا جائے ؟ضرورت ہے کہ آپ ﷺ کے بتا ئے ہوئے طریقہ کے مطابق گذارنے کی فکر کی جائے ۔

*تلاشِ شب قدر:*
شبِ قدر جیسی نہایت عظیم الشان اور قیمتی رات بھی اللہ تعالی نے رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں رکھی ہے ،جس کی عظمت و اہمیت کو اللہ تعالی نے خود قرآن کریم میں بیان فرمایا کہ یہ رات ایک ہزار راتوں سے افضل و بہتر ہے ۔یعنی اس رات کو عباد ت کرنے والے کو تراسیّ سال سے زائد عباد ت کرنے کا ثواب ملتا ہے ۔اس رات کو اللہ تعالی کی طرف سے خصوصی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے ،جبرئیل امین فرشتوں کی جماعت کے ساتھ زمین پر اترتے ہیں ،اور جتنے اللہ کے بندے مرد و عورت کھڑے ہوئے یا بیٹھے ہوئے اللہ تعالی کے ذکر و عبادت میں مشغول ہوتے ہیں سب کے لئے رحمت کی دعا کرتے ہیں ۔( بیہقی 3434)شب قدر بطور خاص امت محمدیہ کو ملی ہے اس سے قبل ایسی اجر و ثواب والی رات کسی کو عطا نہیں کی گئی ۔ایک حدیث میں آ پ ﷺ نے فرمایا کہ :بلاشبہ اللہ تعالی نے خاص میری امت کو شبِ قدر عطا فرمائی ہے اس امت سے پہلے کسی کو بھی نہیں عطا فرمائی ۔(الدر المنثور:15/540)اللہ تعالی نے کسی ایک متعین رات کے بجائے شب قدر کو آخری عشرے کی طاق راتو ں میں رکھ د یا تاکہ بندے پورے عشرے کا اہتمام کرکے اس رات کو تلاش کرنے میں اور اس کو پانے کی کوشش میں لگے رہیں ۔اسی لئے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ :شبِ قدر کو کو تلاش کرو رمضان کی آخری دس میں سے طاق راتوں میں۔(بخاری:1887)اس حساب سے آخری عشرے کی طاق راتیں *21،23،25،27،29* کی ہوں گی۔شبِ قدر جو نہایت عظمتوں والی اور رحمتوں والی رات ہے جس مین عبادت کرنے والے کو بے پناہ اجرو ثواب ملتا ہے ،اتنی عظیم رات ہونے کے باوجود اللہ تعالی نے اس کی تعیین کو اٹھا دیا اور کسی مخصوص رات میں عبادت کرنے کے بجائے پورے عشرے کو عبادتوں سے گذارنے اور تلاش شب قدر کی فکر میں لگے رہنے کا حکم دیا ،اس کی علماء نے بہت سی حکمتیں بیان کی ہیں ۔جن میں چند یہ ہیں: جتنی راتیں اس کی طلب اور جستجو میں خرچ ہوتی ہیں ان سب کا مستقل علیحدہ ثواب ملتا ہے ،اگر رات کو متعین کردیا جاتاتو بہت سے ناقص طبیعتیں دوسری راتوں کا اہتمام چھوڑدیتی اور کئی راتوں میں عبادت کے ثواب سے محروم ہوجاتی ،وغیرہ وغیرہ ۔( شبِ قدر :28)اس رات سے محروم رہنے والے کو نبی کریم ﷺ نے سارے خیر و بھلائی سے محروم رہنے والا قرار دیا ۔( ابن ماجہ:1634)ایک مکمل عشرہ اللہ تعالی نے عبادتوں کو انجام دینے اور جی لگا کر اعمال خیر کرنے کے لئے رکھا ،اب عشرۂ اخیرہ کا حقیقی تقا ضا یہی ہے کہ اس کو اس رات کے تلاش میں گذارا جائے ،اور امکان بھر عبادتوں میں لگے رہیں ۔شب قدر سے محروم رہ جانے والے کو نبی کریم ﷺ نے حقیقی محروم قرار دیا ہے ،شیخ الحدیث مولانا زکریاؒ لکھتے ہیں کہ:حقیقۃ اس کی محرومی میں کیا تامل ہے جو اس قدر بڑی نعمت کو ہاتھ سے کھودے ،ریلوے ملازم چند کوڑیوں کی خاطر رات رات بھر جاگتے ہیں اگر اسّی برس کی عبادت کی خاطر کوئی ایک مہینہ تک رات میں جاگ لے تو کیا دقت ہے اصل یہ ہے کہ دل میں تڑپ ہی نہیں اگر ذرا سا چسکہ پڑجائے تو پھر ایک رات کیا سینکڑوں راتیں جاگی جا سکتی ہیں ۔( فضائلِ رمضان:604

*ہمارا معاشرہ* :
آخری عشرہ کو بہت ہی اہتما م سے اور پوری لگن وجستجو کے ساتھ گذارنے کی ضرور ت ہے ،عبادتوں ،تلاوتوں ،ذکر اذکار ،دعا و مناجات میں بسر کرنا چاہئے ،یہ تو نیکیوں کے موسمِ بہار کا اختتامی دور ہوتا ہے ،جیسا کہ سیزن کے اختتام پر لوگ دن رات محنت کرتے ہیں ،پوری کوشش و فکر کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں ،ہر طرح کے آرام و راحت کو قربان کرکے مشقت اٹھاتے ہیں اور یہ سوچتے ہین کہ تھوڑی سی مشقت ہے پھر سال پورا آرام ہی آرام ہوگا ،،ٹھیک اسی طرح رمضان کا آخری عشرہ نیکیوں کے موسم کا اختتا می زمانہ ہوتا ہے ،جس میں نیکیوں کی مانگ بڑھ جاتی ہے اور اجر و ثواب ،عطا و بخشش ،عفو در گذر،جہنم سے خلاصی اور توجہات ربانی اور عنایاتِ الہی کی گرم بازی ہوتی ہے ،ایسے عظیم عشرہ کو ہم بڑی بے قدر اور لاپرواہی کے ساتھ ضائع کردیتے ہیں ۔اول تو بہت سے لوگ سہولتوں اور آسانیوں کے باجود بھی اعتکاف نہیں کرتے ،اور نہ اس کی اہمیت و ضرورت کو سمجھتے ہیں ،اور طاق راتوں کو بھی روایتیں اندازمیں چند بیانات یا تقاریر کے سننے تک محدود کرلیتے ہیں ۔اور بے شمار لوگ وہ ہیں جو آخری عشرے کو خریداری کا عشرہ بنائے ہوئے ہیں ،بازار آباد ہوجاتے ہین ،خرید و فروخت کی دھوم مچی ہو تی ہے ،بازار مسلمان مرد و خواتیں سے بھرے ہوتے ہیں اور ہر طرف ایسا لگتا ہے کہ گویا آخری عشرہ خریداری کے لئے آیا ہے۔مسلمان کاروباری کاروبار کی دھن میں اہم اہم عبادتوں تک چھوڑدیتے ہیں اور لوگ خریداری کی فکر میں اعمال سے غافل ہوجاتے ہیں۔کس قدر محرومی اور بد نصیبی کی بات ہے کہ جو رمضان ہمیں نیکیوں سے مالامال کرنے کے لئے آیا تھا اور جس کی ہر گھڑی اور ہر ساعت مین رحمتوں اور برکتوں کا نزول ہو تا ہے ،اللہ تعالی کی خصوصی توجہ بندوں کی طرف ہوتی ہے ،اور ہر نیک کام کے اجر و ثواب کو بڑھا کر دیا جاتا ہے ایسے مہینہ کو سستی و غفلت اور کاہلی میں گذاردیا جاتاہے اور بالخصوص جو عشرہ اپنے اختتام پر رحمتوں کو لٹانے اور عطا وبخشش سے سرفراز کرنے لئے آتا ہے ہم لوگ اس کو بازروں کی نذر اور غیر ضروری مشاغل اور لایعنی کاموں مین ضائع کردیتے ہیں۔
اس لئے ضرور ی ہے کہ رمضان المبارک کے باقی ایام کی قدر کی جائے اور عشرۂ اخیر ہ کو پورے اہتما م کے ساتھ گذارا جائے ،تلاوت قرآن ،ذکر و دعا کا التزام کیا جائے ،جو کچھ کمی گذشتہ دنوں میں ہوگئی اور جو لاپرواہی ابتدائی ایام میں ہوئی اس کی مکمل تلافی کے لئے آخری عشرہ کو پوری فکر اور تڑپ کے ساتھ بسر کیا جائے تو انشاء اللہ اللہ کی رحمتیں اور برکتیں ہمارے دامن میں بھی آئیں گی ،اور الطاف و عنایا ت
کے ہم بھی حق دار بنیں گے ،بخشے ہوئے بندوں اور نوازے گئے انسانوں میں ہم میں شامل ہوں گے۔

*🌺علمائے حق علمائے دیوبند 🌺*