Wednesday, 2 December 2015

ووٹ اور جھگڑا

🍃ووٹ اور جھگڑا 🍃

سباب المسلم فسوق وقتالہ کفر.. مسلمان کو گالی دینا گناہ ہے اور اس کو قتل کرنا کفر ہے.
جب لڑائی جھگڑے کی شروعات ہوتی ہے تو گالی گلوچ سے اور ختم ہو تی ہے مارپیٹ پر اور یہی مارپیٹ کبھی کبھی جان لیوا بھی ثابت ہو جاتی ہے. اگر ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو گالی دیتا ہے تو گناہ کا مرتکب ہوتا ہے اور دل آزاری بھی کرتا ہے اور بندے کا دل دکھانا بہت بڑا گناہ ہے. جو سچا پکا مومن ہوتا ہے اس کے اندر یہ باتیں آجاتیں ہیں.

صل من قطعک.. جو تجھ سے توڑے اس سے جوڑ.

وعف عمن ظلمک.. جو تجھ پر ظلم کرے اسے معاف کر دے

واحسن من اساء الیک.. جو تیرے ساتھ برا سلوک کرے اس کے ساتھ اچھا سلوک کردے. مدنی کریم صلی اللہ علیہ و سلم ہر مومن کے اندر یہ صفات چاہتے تھے.

الیکشن کا دور چل رہا ہے بڑے افسوس کی بات یہ ہے کہ سننے میں آرہا ہے کہ کسی گاؤں میں جھگڑا ہو گیا اور کہیں مارپیٹ کی نوبت آگئی یہ حرکت اگر غیر مذہب کے لوگ کریں تو اتنا دکھ نہیں ہوگا جتنا دکھ مسلمان کو دیکھ کر ہورہا ہے. حقیقت میں جو مسلمان ہوگا وہ کبھی اپنی ذات اپنے عزو جاہ اپنے مرتبہ ومقام کے لئے لڑائی نہیں کریگا.

مسلمان تو وہ ہے جو کلمہ کی بلندی. حفاظت دین. اشاعت اسلام. اور باطل ٹوٹ جائے میرے نبی کا لایا ہوا دین زندگیوں میں آجائے اس پر لڑا ہے. ریاضۃ الصالحین میں ہے جہاد پر نصرت نہیں ہو گی اگر ہدایت مقصود نہ ہو. حضرات بات لمبی نہ ہو جائے اور مقصد فوت ہو جائے اسلئے میں اب اپنے گاؤں کی طرف تحریر کا رخ کر رہا ہوں. میرا گاؤں تاریخی گاؤں ہے جہاں سے علم کا دریا بہا ہے. تحریر مختصر ہو اسلئے میں دو مثالوں پر اکتفا کروں گا ایک جو اللہ کو پیارے ہو گئے جو ولیوں میں سے تھے جن کے عقیدت مندوں اور چاہنے والوں کا یہ عالم تھا کہ ان کی استعمال شدہ چیزیں تبرک کے طور پر آج بھی محفوظ کئے ہیں جو اللہ کو پیارے ہو گئے ان کا نام نامی اسم گرامی حضرت مولانا فاروق صاحب رحمۃاللہ علیہ ہے. اللہ اکبر. ایسی شخصیت کہ تقریبا تین سال قبل ناچیز وطن گیا تھا تو ایک راز کی بات معلوم ہوئی ہمارے نانا جناب حبیب اللہ صاحب انصاری مرحوم اللہ رب العزت ان جنت الفردوس عطا فرمائے انہوں نے ایک لنگی حضرت مولانا فاروق صاحب کی بڑی حفاظت سے رکھی تھی اور آج بھی موجود ہے ایک لنگی جس کی کوئی حیثیت نہیں ہے لیکن جب اس کی نسبت ولی کی طرف ہو جائے تو وہ بھی مکرم و معظم ہو جاتی ہے اسی لئے آج تک اس کو محفوظ کئے ہوئے ہیں

دوسری بات انہیں کی خاندان کے جو ہم سب کے سامنے موجود ہیں حضرت کا عصا لیکر اس آن بان شان سے چلتے نظر آتے ہیں جو ہمارے لئے عبرت ہے نشانی ہے. جس کو خدا ہدایت دے اسے کون گمراہ کر سکتا ہے کہاں وہ زندگی گزار رہے تھے اور آج الحمدللہ سنت شریعت کی پابندی عقل حیران ہو جاتی ہے اتنی اونچی پرواز. اوج ثریا پر جھلکتے ہوئے نظر آرہے ہیں. جسے دیکھنا ہو وہ جناب کلیم صاحب عرف گڈو بھائی کی زندگی کو دیکھے. مسلمان ایسا ہوتا ہے. لباس ایسا ہوتا ہے. نماز کی ایسے پابندی کرتا ہے. امت کے غم میں ایسے روتا ہے. سچ اور حق ہے انار کے درخت میں انار ہی پھل آتا ہے. یہ رہی مختصر سی بات جو حضرت والا کے تعلق سے.

دوسری ذات اقدس حضرت مولانا مزمل صاحب دامت برکاتہم کی ہے حضرت کے بارے میں میں کیا لکھوں جوگیشوری میں تقریبا ڈیڑھ سال کا وقت حضرت کی قربت میں گزرا ہے. باپ کے جیسا شفیق و مہربان پایا. سادگی ان کے گفتار سے کردار سے سورج کی طرح سے روشن ہے. ہر کسی کی عزت و احترام کرنا کوئی حضرت والا سے سیکھے. فارسی میں حضرت اپنا ایک مقام رکھتے ہیں. تواضع انکساری اللہ نے کوٹ کوٹ کر بھری ہے. اور گاؤں کے نوجوان بزرگ سبھی حضرت والا کو عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں. اور آپ پچیسوں سال سے مدرسہ دارالعلوم اسلامیہ گلشن نگر عربی وفارسی کی درس و تدریس کے فرائض انجام دے رہے ہیں.

حضرات. کرہی کی دو شخصیات کا میں نے ذکر کیا اللہ رب العزت ان مقدس ہستیوں کے صدقے جو آج ووٹ ہونے والا ہے اس میں خیرو عافیت کا معاملہ فرمائے اور ہر شرو فتن سے ہمارے گاؤں کرہی کی حفاظت فرمائے ہمیں چاہئے کہ ہم ہر طرح سے امن و امان کا ماحول بنائیں. جیسا کہ دوسرے گاؤں کی خبریں موصول ہوئی ہیں کہیں اس تاریخی گاؤں میں کوئی ایسا واقعہ رونما نہ ہو جائے اور ہم خدا کے یہاں پکڑ کا ذریعہ بن جائیں. ووٹ دینا ہمارا حق ہے بیشک ہم اوٹ دیں. لیکن ہمارے گاؤں کی آج بھی دوسرے گاؤں سے زیادہ عزت ہے. گاؤں کی عزت پر دھبہ نہ لگنے دیں.

ہم ہمارے گاؤں سے ہی پہچانے جاتے ہیں اگر ہمارے گاؤں میں بدامنی ہوگی لڑائی جھگڑا ہو گا اس سے ہم سب کی عزت خراب ہو گی اللہ رب العزت کی بارگاہ عالیہ میں حقیر فقیر کی دعا ہے کہ مولائے کریم اپنے پیارے حبیب کے صدقے ہمارے گاؤں کو امن کا گہوارہ بنا دے. آمین. اور اخیر میں یہی درخواست کروں گا کہ حضرات جن مقدس شخصیتوں کا میں نے ذکر کیا ہے چونکہ گاؤں کے ہی ہیں اسلئے ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی زندگی کو کچھ ان کے جیسا بنانے کی کوشش کریں. ایک دن ہم بھی اس دنیا سے کوچ کر جائیں گے کوئی ہمارا بھی نام ایسے ہی حسن و خوبی کے ساتھ لیگا. اور ہم سب کو ایک بنائے نیک بنائے اتفاق و اتحاد کی دولت سے مالا مال فرمائے آمین.

لکھنے میں جو کمی کوتاہی ہوگی اس کی معافی چاہتا ہوں.

احقر محمد شمیم مدرسہ دارالعلوم حسینیہ بوریولی ممبئی

Saturday, 28 November 2015

استاذ طالب علم کو کتنی مقدار سزا دے سکتے ہیں

استاذ, طالب علم کو کتنی مقدار سزا دے سکتے ہیں ؟؟
🌱
اتنی سزا دیجائے جو تحمل سے زائد نہ ہو اور تین ما سے زائد نہ ہو
دیوبند کا فتوی ملاحظہ ہو

طلبہ کو مارنے پیٹنے کے متعلق شرعی حدود کیا ہیں؟
والسلام
  Jun 12,2007  Answer: 671
(فتوى: 244/ل=244/ل)

بچوں کے اولیاء کی اجازت سے بضرورت تعلیم مارنا، سزا دینا شرعا درست ہے مگر بچوں کے تحمل سے زائد نہیں، ایک دفعہ میں تین ضربات سے زیادہ نہ مارے، لکڑی وغیرہ سے نہ مارے۔ قال في الدرالمختار: وإن وجب ضرب ابن عشر علیھا بید لا بخشبة قولہ (بید) أي ولایجاوز الثلاث، وکذلک المعلم لیس لہ أن یجاوزھا قال علیہ السلام لمرداس المعلم *إیاک أن تضرب فوق الثلاث؛ فإنک إذا ضربت فوق الثلاث اقتص اللّٰہ منك* وظاہرہ أنہ لایضرب بالعصا في غیر الصلاة أیضا (الشامي ط زکریا: ج ۲ص۵)
واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند



کیا سزا میں زیادتی سے استاذ ظالم شمار ہونگے
🌱

جی ہاں اگر استاذ زیادتی کریگا تو یہ ظلم شمار ہوگا اس لئے استاذ کو چاہئے کہ شفقت اور نرمی سے پڑھائے
حضرت قاری صدیق باندوی رح آداب المعلمین میں فرماتے ہیں
کہ آجکل مارنے کا زمانہ نھیں رہا
نرمی سے پڑھانا چاہئے اور غصہ میں تو ہرگز نہ مارے کہ زیادتی ہونے کا قوی احتمال ہے اور فرماتے ہیں کہ جو ڈاکٹر مریض پہ غصہ کرے وہ کیسے علاج کرسکتا ہے

مستفاد
از آداب المعلمین

نیز بنوریہ کا سوال جواب ملاحظہ ہو

سوال:

کیا فرماتے ہیں اس مسئلہ کے بارے میں علماء دین شرع متین کہ آج کل بعض اسکولوں اور مدارس میں اساتذہ کرام بچوں کو سبق کچا یاد ہونے پر یا بالکل یاد نہ ہونے پر اس قدر مارتے ہیں کہ بچہ کے جسم پر بہت واضح قسم کے لال یا نیلے نیلے نشان پڑتے ہیں اور جسم پر سوجن آجاتی ہے یا زخم آجاتے ہیں اور معصوم بچے اس مار پیٹ کی وجہ سے بہت زیادہ خوفزدہ ہوجاتے ہیں۔ اسکول یا  مدرسہ جانے کے نام سے چڑ جاتے ہیں اور بہت روتے ہیں اور کہتے ہیں کہ استاذ یا ٹیچر بہت مارتے ہیں اور بعض بچے تعلیم چھوڑ دینے کا مطالبہ کرتے ہیں اور لارڈ میکالے کی تعلیم (یعنی اسکول کی تعلیم) کے لیے ضد کرتے ہیں اس بارے میں مندرجہ ذیل سوالوں کے جوابات درکار ہیں:
۱… کیا اساتذہ کرام کو ہماری شریعت مطہرہ نے یہ اجازت دی ہے کہ وہ بچوں کو جو کہ علم دین شوق سے سیکھنے آتے ہیں، ان کو سبق کچا یاد ہونے یا یاد نہ ہونے پر اس قدر ماریں کہ وہ علم سیکھنے کو خیرباد کہہ دیں۔ 
۲… اساتذہ کرام بچوں کے منہ پر بھی تھپڑ مارتے ہیں جو کہ حدیث نبویﷺ کے بھی خلاف ہے اگر بچہ علم دین سیکھنے کو چھوڑ کر انگریز کی تعلیم کی طرف چلا گیا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا، بچہ یا اساتذہ کرام، جن کی مار پٹائی کی وجہ سے بچہ دینی تعلیم سے محروم ہوگیا اور تعلیمی اداروں سے نفرت کرنے لگا۔ 
۳… کیا جو اساتذہ کرام بچوں کو سخت مار مارتے ہوں ان کی اﷲ پاک پکڑ فرمائے گا یا معاف کردے گا، کیونکہ بعض اساتذہ کرام مارنے کے بعد یہ کہتے ہیں کہ گھر پر نہیں بتانا اور بات کو یعنی پٹائی کو بھول جاؤ، انتظامیہ کو پتہ نہ چلے، اس طرح اگر بچہ معاف کردے تو کیا بچے کی اس زبردستی معافی کا اعتبار ہے یا نہیں جبکہ بچہ معصوم ہو۔
۴…اگر انتظامیہ کو شکایت کی جاتی ہے تو بعض مرتبہ انتظامیہ یہ جواب دیتی ہے کہ استاد کا حق مارنے کا اور اگر آپ کو اعتراض ہے تو اپنے بچے کو ادارہ سے اٹھالیں کہیں اور داخل کردیں کیا ایسا جواب دینا درست ہے، جبکہ پاس کوئی دوسرا مدرسہ بھی نہ ہو اس طرح بچے کا علم دین سے دور ہونے کا گناہ انتظامیہ پر ہوگا یا نہیں؟
۵… بعض قاری حضرات یہ بات بھی کہتے ہیں کہ بچہ کے جسم کے جس جگہ علم دین سیکھنے کے لیے پٹائی لگے گی، جہنم جسم کے اس حصے کو نہیں جلائے گی، کیا یہ بات صحیح ہے اور استاد سے اس بارے میں کوئی پوچھ نہیں ہوگی۔ 
۶… والدین کا شوق تھا بچے کو علم دین سکھانے کا مگر بچہ اس طرح مار پٹائی کی وجہ سے علم دین سیکھنے سے محروم ہوگیا تو کیا والدین کو اس شوق اور کوشش پر اجر ملے گا یا نہیں۔  
     آپ سے گزارش ہے کہ ان سوالات کے جوابات شریعت مطہرہ کی روشنی میں دے کر مشکور فرمائیں۔

جواب:

اس کا اصولی جواب یہ ہے کہ استاد کو چاہیے کہ وہ بچوں کو شفقت و نرمی سے پڑھائے۔ بے جا سختی، ڈانٹ ڈپٹ اور مارپیٹ سے کام نہ لے، بلکہ اپنے رعب سے کام چلائے، اس کے باوجود اگر کوئی طالب علم سبق یاد نہیں کرتا اور وقت ضائع کرتا ہے تو اس طالب علم کی اصلاح کی غرض سے اس کی مصلحت کو مدنظر رکھتے ہوئے استاد اس کی صرف کھلے ہاتھ سے ہلکی پٹائی کرسکتا ہے، استاد کا طالب علم کو ڈنڈے سے مارنا جائز نہیں، بلکہ ہاتھ سے بھی زیادہ سے زیادہ تین دفعہ اس کو ہلکی مار لگا سکتا ہے، جس سے بدن پر نشان نہ پڑے، نیز چہرہ پر اس کو ہرگز نہ مارے اور جسم کے دیگر نازک حصوں پر نہ مارے۔ 
اب سوالات کا اختصار کے ساتھ جوابات ملاحظہ ہوں:
۱… اس قدر مارنا ہرگز جائز نہیں۔
۲… منہ پر مارنا جائز نہیں اور اگر استاد کی بہیمانہ پٹائی سے کوئی بچہ بھاگ گیا اور قرآن کریم کی تعلیم ترک کردی تو اس کا گناہ استاد پر ہوگا۔ 
۳… استاد کا بچہ کو سخت مار مارنا جائز نہیں، اس پر استاد کی پکڑ ہوگی، ایسی مار پر استاد کا اپنی مار کو انتظامیہ یا بچہ کے گھر والوں سے چھپانا اس گناہ سے بچنے کے لیے ہرگز کافی نہیں، اگر بچہ بالغ ہے، تو اسی سے معافی مانگے اور اگر نا بالغ ہے، تو فی الحال اس کی معافی معتبر نہیں، ہاں بالغ ہونے کے بعد معاف کرسکتا ہے اور اﷲ تعالیٰ سے توبہ بھی کرے، تب معافی ہوگی۔
۴… انتظامیہ کا اس طرح کہنا جائز نہیں، بلکہ انتظامیہ پر واجب ہے کہ وہ اساتذہ کو خلاف شرع بچوں کو مارنے سے منع کرے اور اگر وہ منع نہیں کرتی، بلکہ اساتذہ کے اس فعل کی تائید کرتی ہے تو اس صورت میں اساتذہ کے خلاف شرع مار لگانے کے گناہ میں انتظامیہ بھی شامل ہوگی۔ 
۵۔… یہ محض غلط ہے۔ 
۔ … ان شاء اﷲ تعالیٰ ان کو اپنی محنت و کوشش کرنے کا ثواب ملے گا۔

Friday, 27 November 2015

ایک چڑیا تھی وہ بھی اڑ گئی

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
محترم أحباب :  دوستو کی بیحد فرمائش پر مجھے اپنا مضمون " ایک چڑیا تھی وە بھی اڑ گئی "  دوبارہ ارسال کرنا پڑرہا ہے جسے میں نے مئی 2015 میں اپنی لاڈلی اور سب سے چھوٹی بہن کی رخصتی پر اپنے خون دل کی  روشنائی سے لکھا تھا جس کو پڑهکر پتھر سے پتھر دل بھی آنسو بہانے پر مجبور ہوگیا تھا تو لیججئے پھر ایکبار  حاضر خدمت ہے وہ مضمون  تاکہ اسی مضمون کے بہانے ہمیں  اپنی بہنوں کو  یاد کرنے کا سنہرہ موقعہ مل جائے
اللہ تعالٰی ہم سبکی بہنوں کو ہمیشہ اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین

🌱🐝  ایک چڑیا تھی وہ بھی اڑ گئی ...........................🐝🌱

محبت ایسی بھی ہوتی ہے . مجھے اس کا احساس آج ہوا ، کیونکہ میں اپنی ہزار کوششوں کے باوجود رات سے اتنی ہمت نہ جٹا پایا کہ گھر فون کرکے والدین کی طبیعت کی خیریت معلوم کرسکوں شادی کے انتظامات کی کیفیت جانوں مہمانوں کی خاطر داری اور ان  کے آمد و رفت  کی روداد سنوں ، لیکن ؟ واللہ سچ کہتا ہوں میری ہمت جواب دے جاتی ہے کہ کہاں سے لاؤں وہ زبان جو ماں سے بات کرسکے اور کہاں سے لاؤں وە ضبط ایوبی کہ جس سے میں ماں کے حالات جان سکوں ، اس کے لئے میں بیحد پریشان ہوں ، کہ کروں تو کیا کروں پوری رات میں بہت رویا بہن کی جدائی نے مجھے بہت رلایا پوری رات کروٹ پر کروٹیں بدلتا رہا ، لیکن نیند نے مجھے بہت ستایا اسے نہ آنا تھا نہ آئی، ہر لمحہ مجھے بہن کی ہر بات اس کا ہر ایک انداز چڑیوں جیسا چہچہانا گھر کے ہر کونے میں آزاد پھرنا ، ماں کی بانہوں میں سمٹنا ، والد کے ہر حکم پر لبیک کہنا ، بهابهیوں کے ساتھ اٹهلانا ، بڑوں چھوٹوں سے پیار سے ملنا ، بچوں کے ساتهہ کھیلنا سب کچھ مجھے  بہت یاد آرہا تھا ،
لیکن کیا کروں مجبور ہوں دنیاوی ریت و رواج اور اپنے سماجی معاشرے سے اور  شریعت کے حکم  سے ورنہ میری بہن مجھ سے جدا نہ ہوتی ، بہن اسمیں میرا کوئی قصور نہیں ہے ، بہن تو مجھے مجرم مت سمجھنا یہ سب جو میں نے کیا یہ سب تیری بھلائی کے لئے کیا تیرے سکهہ چین اور تیری زندگی کے بہتری کے لئے کیا .
میری بہن مجھے اچھی طرح سے معلوم ہے کہ تیرے جانے سے میرے گھر کی رونق چلی گئی میرے گھر کے در و دیوار سب سونے ہوگئے گھر کے ہر فرد کا چہرہ مرجھا گیا . میری بہن جب  سے تیری ڈولی میرے گھر سے اٹھی ہے اس وقت سے میرا سکون بھی اٹهہ گیا ہے کھانا مجهہ سے روٹھ گیا ہے، لیکن بہن ایک بات ضرور ہوئی ہے میری آنکھیں دلیر ہوگئی ہیں اور آنسو سخی ہوگئے ہیں . یہ دونوں نہ سوئی ہیں اور نہ تھمی ہیں .
لیکن بہن تو میری تنہائی میں آج بھی موجود ہے میں تخیلات میں تمہیں سے باتیں کرتا ہوں اور سوچتا ہوں ، کہ اب ٹیلیفون کرونگا تو کون کہیگی کہ بھیا ماں گھر کے باہر ہے تهوڑی دیر بعد فون کرو ویسے بھیا آپ خیریت سے ہو نہ ، اور یہ بھی سوچتا ہوں کہ اب میری ہلکی سی کھانسی پر اپنے کمرے سے دوڑکر میرے کمرے میں کون آئیگی کہ بھیا کیا ہوا آپ تو ٹھیک ہو نہ . بہن اب مجھے کون بھیا کہکر پکارے گا بہن آج وہ گملے بھی پوچھ رہے ہیں کہ ہمیں اب پانی کون دیگا ، بہن تتلیاں بھی پریشان ہیں کہ اب وہ کس کے ساتھ کھیلیں گی ، اور چمن کے پھول بھی پوچھ رہے ہیں کہ اب اس میں رنگ کیسے بهریگا ،
میری بہن تیرے جانے سے میرے گھر کی روپ ریکھا ہی بدل گئی ، مجھے گھر کے ہر ذرے پرائے لگنے لگے تو تھی تو میرے گھر میں بہار تھی ہر ایک کے لبوں پر مسکان تھی تیرے نام سے گھر میں شہنائی گونجتی تھی،  میری بہن میں جانتا ہوں تجھے میری کمی بہت کھلی ہوگی تیری نگاہیں بار بار مجھے ڈھونڈھ رہی ہونگی تیرا دل اندر سے مجھے صدائیں دے رہا ہوگا تو مجھے یاد کرکے روتی رہی ہوگی ، لیکن میری پیاری بہن مجھے معاف کردینا میں تم سب کی خوشی کے خاطر اتنی دور آیا ہوں ، اپنی غربت کی وجہ سے اتنی دور آیا ہوں ورنہ بہن میری بھی خواہش تھی کہ میں بھی اس خوشی کے موقعہ پر موجود رہوں تیرے قدموں میں محبت کے پھول نچھاور کروں تیری مانگ کو موتیوں سے بھروں تیرے ماتھے کو چاند ستاروں سے سجاؤں تیری پیشانی کو  چوم کر تجھے الوداع کہوں ، لیکن افسوس میری بہن ایسا میں نہ کرسکا اسمیں بھی غریب الوطنی میرے راستے میں دیوار بنکر کهڑی ہوگئی ، لیکن جا میری بہن جا میری دعائیں ہمیشہ تیرے ساتھ ہونگی ، کیا کریں بہن تمہارا اور ہمارا ساتھ شاید اتنے ہی دنوں کا تھا . کاتب تقدیر نے اتنے ہی دنوں کا رزق ہمارے گھر پر لکھا تھا ، تو ہمارے مقدر میں کل تک کے لئے ہی تھی ،   لیکن جا میری بہن جا تجھے تیری سسرال مبارک تیرا اپنا  نیا گھر مبارک اللہ تعالٰی تیرے سہاگ کو سدا قائم و دائم رکھے تو اپنے گھر کی ملکہ بنے تیرے گھر والے تجھے ٹوٹ کر چاہیں ، جا میری بہن جا تجھے تیرے سسر ساس مبارک تجھے تیرے نئے والدین مبارک ، تیرے دیور . تیری نندیں مبارک ، گھر کے صحن و دالان مبارک ، جا میری بہن جا تو بھول جا اپنے میکے کو میری بہن اب تیرا نیا گھر ہی تیرا اصل مسکن ہے ، اب تو اسی گھر کو بنا سنوار اور اپنے دم سے تو اسے رونق بخش ، میری بہن جا اب بھول جا اپنے بھائی انظر کو وہ اب تو اسے پرایا سمجھ اب تو اپنا سارا پیار اور ساری محبتیں اپنے شوہر اور اپنے گهر والوں پر نچھاور کر میری بہن اب تیرے غمخوار اور تیرے سکهہ دکهہ کے ساتھی وہی لوگ ہیں ، لیکن میری بہن ایک بات یاد رکھ کہ جب بھی زندگی میں میری ضرورت پڑے تو تم مجھے ضرور آواز دینا یہ تیرا بھائی تیرے پاس ملیگا ، لیکن میری بہن اسوقت تو مجھے بھول جا اگر مجھ سے کوئی غلطی ہوئی ہو تو اسے معاف کردے میری بہن تیری ہر خوشی میں میری خوشی شامل ہے میری بہن جا تجھے تیری خوشی مبارک ہمیں ہمارے غم مبارک ، ہم رو رو کر اپنا غم ہلکا کرلیں گے . اور ہم تیرے لئے ہمیشہ دعاکریں گے کہ اللہ رب العالمین تجھے ہمیشہ خوش رکھے تیرے خوشیوں کا باغ کبھی بھی نہ مرجھانے پائے اور اللہ تعالٰی تجھے نیک بیوی اور نیک و صالح ماں بنائے اور تجھے اللہ تعالٰی مصلح انسانیت کا علمبردار بنائے .. آمین

ایک  غمخوار بھائی ......
  
انظر حسین کرهی
ضلع سنت کبیر نگر یوپی انڈیا
   مقیم حال ،،، سعودیہ عربیہ

ماں کی عزت کرو مرنے سے پہلے

[23/11 20:16] مولانا منیب الرحمن صاحب: اس پوسٹ کو ضرور پڑھیں
       
   👈🏾👈🏾 ماں 👉🏾👉🏾

کسی گاؤں میں ایک عورت اپنے پانچ سال کے چھوٹے بچے کے ساتھ رہتی تھی۔ کچھ ماہ قبل اُس کے شوہر کا انتقال ہو گیا تھا۔ لہٰذا یہ عورت اپنے اکلوتے بیٹے کی تعلیم و تربیت کیلئے خود ہی لوگوں کے گھروں میں کام کرتی، اُنکے برتن مانجھتی، کپڑے دھوتی اور اُنکے بڑے بڑے گھروں کو یہ اکیلی عورت تن تنہا صاف کرتی۔ صرف اِس لیے کہ اُسکے بیٹے کی کسی چیز میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔
وقت گزرتا گیا، اور کئی سال بیت گئے۔ اب اِس کا بیٹا جوان ہو گیا تھا اور کسی اچھی کمپنی میں نوکری کر رہا تھا۔ اُسکی شادی ہو گئی تھی، اور ایک پیارا سا بیٹا بھی تھا۔ اور یہ عورت اب بڑھاپے کی دہلیز پر دستک دے رہی تھی۔
بیٹا شادی کے بعد اور نوکری ملنے کے بعد ماں کا احترام کرنا تو دور کی بات اُسکے ساتھ ڈھنگ سے بات بھی نہ کرتا تھا۔ اِس بوڑھی عورت کی زندگی میں صرف اتنا فرق آیا تھا کہ پہلے یہ غیروں کے برتن اور کپڑے دھوتی تھی، اب اپنے بہو بیٹے کے برتن دھو رہی تھی، پہلے یہ دوسروں کے گھروں کی صفائی کرتی تھی، اب یہ بہو کے ہوتے ہوئے بھی اپنے گھر کی صفائی کرنے پر مجبور تھی۔
خیر جو بھی تھا، لیکن تھی تو یہ ایک ماں، اپنے بیٹے کی خوشی کی خاطر وہ ہر دُکھ جھیلنے کو تیار تھی۔ بیٹے کے پاس دولت کی کمی نہ تھی، اللہ کی دی ہوئی ہر چیز اب اُسکے پاس تھی۔ لیکن ماں کو اُس نے گھر کے ایک الگ کمرے میں چھوڑ رکھا تھا جہاں موسم کی شدت کو روکنے کیلئے کوئی بندوبست نہ تھا۔ اور کئی کئی دِنوں کے بعد جب کبھی وہ اُس کمرے میں جاتا تو صرف ماں کو گزرے وقت کی محرومیاں یاد کروا کر طعنے دینے اور لڑنے جھگڑنے کیلئے۔
ایک دِن سردیوں کی یخ بستہ شام میں اُسکی ماں ایک پھٹے پُرانے کمبل میں سُکڑ کر بیٹھی یہ سوچ رہی تھی کہ، "آج اُسکا بیٹا کام سے واپس آئے گا تو وہ اسے نئے کمبل کا کہے گی، کیونکہ اِس کمبل میں اُسے بہت سردی لگ رہی تھی، اور اب اُسکی کمزور ہڈیوں میں اِس سردی کو برداشت کرنے کی ہمت نہیں تھی۔ اور اُسے سو فیصد یقین تھا کہ اُسکا بیٹا بڑے پیار سے اُسکی یہ ضرورت پوری کرے گا۔
رات کو بیٹا گھر آیا تو ماں نے بڑے پیار سے اُسے نئے کمبل کا کہا تو، بیٹا غصے سے بولا، "ماں! ابھی ابھی میں کام سے آیا ہوں، اور آتے ہی تم اپنا مطالبہ لے کر آ گئی ہو۔ اور تمہیں پتہ ہے کتنی مہنگائی ہو گئی ہے۔ ابھی تمہارے پوتے کو اسکول داخل کروانا ہے، اُسکا یونیفارم اور کتابیں لینی ہیں، گاڑی کی قسط ادا کرنی ہے۔ میں نے ابھی اپنے لیے جیکٹ خریدنی ہے، تمہاری بہو کیلئے شال لانی ہے۔
تم تو سارا دِن گھر میں ہی رہتی ہو، تمہیں کمبل کی اتنی کیا اشد ضرورت آن پڑی ہے؟ ہم لوگوں نے تو باہر گھومنے جانا ہوتا ہے، تم کسی طرح یہ سردیاں گزار لو، اگلے سال سردیوں سے پہلے پہلے تمہارے کمبل کا کچھ بندوبست کر دونگا۔۔۔!"
بوڑھی ماں خون کے آنسو پی کر چُپ چاپ اپنے بوسیدہ حال کمرے میں واپس آ گئی اور پھٹے ہوئے کمبل کو اوڑھ کر ٹوٹی ہوئی چارپارئی کے کونے میں سُکڑ کر لیٹ گئی۔
صبح جب بیٹے کی آنکھ کھلی تو پتہ چلا، پچھلی رات ماں اللہ کو پیاری ہو گئی۔ بیٹے نے اپنے تمام رشتے داروں کو ماں کے جنازے پر بلایا۔ اور ماں کے کفن دفن اور مہمانوں کی خاطر مدارت پر لاکھوں روپے خرچ کیے۔ جو بھی جنازے میں شریک ہوا، یہی کہتا کہ، "کاش! اللہ ہر کسی کو ایسا بیٹا دے، مرنے کے بعد بھی ماں سے کتنی محبت ہے۔!"
لیکن انہیں یہ نہیں پتہ تھا کہ، دنیا والوں کو دِکھانے کی خاطر جو بیٹا اپنی مری ہوئی ماں کے جنازے پر لاکھوں روپے خرچ کر رہا ہے، پچھلی رات چند سو روپے کے کمبل کے نہ ہونے کی وجہ سے وہی ماں سردی میں سسک سسک کر جان دے گئی۔

میرے عزیز دوستو! ایسی سینکڑوں سچی کہانیاں ہمارے ارد گرد بیتتی ہیں، اپنے ماں، باپ کی قدر اُنکے جیتے جی کرو، اِسی میں ہم سب کی بھلائی ہے۔ مرنے کے بعد قدر کی بھی تو کیا فائدہ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو یہ بات سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔۔۔
آمین!

ہمارے آس پاس بھی تو کہیں کچھ ایسا نہیں ہو رہا ہے ہمیں اس کا دھیان رکھنا ہوگا۔
چاہے وہ ماں کے ساتھ بہن کے ساتھ بہو کے ساتھ کسی کی بیٹی کے ساتھ پڑوسی کے ساتھ وغیرہ وغیرہ۔۔۔
[23/11 20:33] مولانا منیب الرحمن صاحب: اوڑھ کر مٹی کی چادر بے نشاں ہو جائیں گے..

ایک دن آئیگا ہم بھی داستاں ہو جائیں گے.