Thursday, 24 September 2015

برائی کا بدلہ اچھائی سے دیں

ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺨﺺ ﺍٓﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮔﺴﺘﺎﺧﯽ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﮯ ﺩﻋﺎ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﺎﮐﮧ ﺩﻝ ﮐﯽ ﮐﺪﻭﺭﺕ ﺩﻭﺭ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ،ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺣﺴﺎﻥ ﺑﮭﯽ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﻮﮞ ﺗﻮ ﺿﺮﻭﺭ ﮐﺮﯾﮟ۔ﺍﯾﮏ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﻦ ﻋﺒﺎﺱ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﺧﻮﺏ ﮔﺎﻟﯽ ﺩﯼ،ﺟﺐ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺍٓﭖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻏﻼﻡ ﻋﮑﺮﻣﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺳﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﻳﺎﻋﻜﺮﻣﺔ ﻫﻞ ﻟﻠﺮﺟﻞ ﺣﺎﺟﺔ ﻓﻨﻘﻀﻴﻬﺎ “ ﺍﮮ ﻋﮑﺮﻣﮧ ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﺍٓﺩﻣﯽ ﮐﻮ ﮐﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﮨﻢ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮ ﺳﮑﯿﮟ؟ ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺍٓﺩﻣﯽ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺷﺮﻣﺴﺎﺭ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭﺳﺮ ﺟﮭﮑﺎﻟﯿﺎ ” ۔
ﺟﺐ ﺑﺮﺍﺋﯽ ﮐﺎ ﺑﺪﻟﮧ ﺍﭼﮭﺎﺋﯽ ﺳﮯ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺩﺷﻤﻦ ﺑﮭﯽ ﺩﻭﺳﺖ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻧﮯ ﺳﻮﺭﮦ ﻓﺼﻠﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﻭَﻟَﺎ ﺗَﺴْﺘَﻮِﻱ ﺍﻟْﺤَﺴَﻨَﺔُ ﻭَﻟَﺎ ﺍﻟﺴَّﻴِّﺌَﺔُۚ ﺍﺩْﻓَﻊْ ﺑِﺎﻟَّﺘِﻲ ﻫِﻲَ ﺃَﺣْﺴَﻦُ ﻓَﺈِﺫَﺍ ﺍﻟَّﺬِﻱ ﺑَﻴْﻨَﻚَ ﻭَﺑَﻴْﻨَﻪُ ﻋَﺪَﺍﻭَﺓٌ ﻛَﺄَﻧَّﻪُ ﻭَﻟِﻲٌّ ﺣَﻤِﻴﻢٌ ‏( ﺳﻮﺭﮦ ﻓﺼﻠﺖ ‏( ﺳﻮﺭﮦ ﻓﺼﻠﺖ 34 ‏)
“ ﻧﯿﮑﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺪﯼ ﯾﮑﺴﺎﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﺗﻢ ﺑﺪﯼ ﮐﻮ ﺍُﺱ ﻧﯿﮑﯽ ﺳﮯ ﺩﻓﻊ ﮐﺮﻭ ﺟﻮ ﺑﮩﺘﺮﯾﻦ ﮨﻮ ﺗﻢ ﺩﯾﮑﮭﻮ ﮔﮯ ﮐﮧ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﺲ ﮐﯽ ﻋﺪﺍﻭﺕ ﭘﮍﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﻭﮦ ﺟﮕﺮﯼ ﺩﻭﺳﺖ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ” ۔

Wednesday, 23 September 2015

‫#‏یوم_عرفہ_کے_روزہ_کی_تحقیق‬ نو ذی الحجہ کو ’’ یوم عرفۃ ‘‘ کیوں کہتے ہیں ؟ اور انڈیا میں یوم عرفۃ یعنی 9 ذی الحجہ کا روزہ سعودی عرب کے ساتھ رکھنا ہوگا یا انڈیا کی اپنی رؤیت کے اعتبار سے رکھنا ہوگا...؟؟؟ ============================ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب حامدًا ومصلّياً نو(۹)ذی الحجہ کو ’’یومِ عرفہ‘‘کہنے کی فقہاء نے تین وجوہات بیان کی ہیں: . ۱۔ حضرت ابراہیم کو آٹھ(۸) ذی الحجہ کی رات خواب میں نظر آیا کہ وہ اپنے بیٹے کوذبح کر رہے ہیں، تو ان کو اس خواب کے اللہ تعالی کی طرف سے ہونے یا نہ ہونےمیں کچھ تردد ہوا،پھرنو(۹)ذی الحجہ کو دوبارہ یہی خواب نظرآیا تو ان کو یقین ہو گیا کہ یہ خواب اللہ تعالی کی طرف سےہی ہے،چونکہ حضرت ابراہیم کویہ معرفت اور یقین نو(۹)ذی الحجہ کو حاصل ہوا تھا، اسی وجہ سے نو(۹) ذی الحجہ کو ’’یومِ عرفہ‘‘ کہتے ہیں۔ . ۲۔نو ذی الحجہ کو حضرت جبرائیل نےحضرت ابراہیم کوتمام مناسکِ حج سکھلائے تھے، مناسکِ حج کی معرفت کی مناسبت سے نو(۹)ذی الحجہ کو ’’یومِ عرفہ‘‘ کہتے ہیں۔ . ۳۔نو(۹) ذی الحجہ کو حج کرنے والے حضرات چونکہ میدانِ عرفات میں وقوف کیلئے جاتے ہیں،تو اس مناسبت سے نو(۹)ذی الحجہ کو ’’یومِ عرفہ بھی کہہ دیتے ہیں۔ . مذکورہ اقوال سے معلوم ہوا کہ تسمیہ کے اعتبار سے’’یومِ عرفہ‘‘کوصرف وقوفِ عرفہ کے ساتھ خاص کرنا درست نہیں ہے، بلکہ یہ (۹)ذی الحجہ کامختلف وجوہات کی بناپردوسرا نام ہے،لہٰذا یہ ہر ملک میں اپنی تاریخ کے اعتبار سے ہوگا،یعنی انڈیا میں جس دن نو(۹) ذی الحجہ ہوگی وہی دن ’’یومِ عرفہ ‘‘کہلائیگا چاہے چاہےاس دن سعودی عرب میں یومِ عرفہ نہ ہوں۔ . نیز یہ بھی واضح رہے کہ مذکورہ مسئلہ کا دارومدار ا س بات پر ہے کہ سعودی عرب کی رؤیت انڈیا کے حق میں معتبرہے یا نہیں ؟تو اس بارے میں احناف کا راجح قو ل یہ ہے کہ بلاد ِبعیدہ جن کےطلوع وغروب میں کافی فرق پایاجاتا ہے ان کی رؤیت ایک دوسرے کے حق میں معتبر نہیں ہےاور سعودی عرب اور انڈیا کے مطلع میں کا فی فرق ہونا بار بار کے مشاہدہ سے ثابت ہے لہذا جس طرح نماز وں کے اوقات تہجد اور سحر و افطاروغیرہ میں ہر ملک کا اپنا وقت معتبر ہے، سعودی عرب کے نمازوں کے اوقات کو انڈیا میں نمازوں کے لئے معیار قرار نہیں دیا جاسکتا ، اس طرح عید ،روزہ اور قربانی میں بھی ہر ملک کی اپنی رؤیت کا اعتبارہے ،اور عرفہ کے روزہ کے بارے میں بھی ہر ملک کی اپنی رؤیت معتبرہے ،لہذا جس دن انڈیا کے حساب سے ذی الحجہ کی نویں تاریخ ہوگی وہی انڈیا میں ’’یوم عرفہ‘‘کہلائیگااوراسی دن عرفہ کاروزہ رکھنامستحب ہوگا ،اگر چہ اس دن مکہ مکرمہ میں عید کا دن ہو۔( مأخذہ التبویب : 39/360ونظیرہ فی معارف القرآن : ٧٩٤/٨ تحت تفسیر سورة القدر ) . ========================= البناية شرح الهداية - (4 / 211) وإنما سمي يوم عرفة لأن جبريل - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - علم إبراهيم - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - المناسك كلها يوم عرفة، فقال: أعرفت في أي موضع تطوف؟ وفي أي موضع تسعى؟ وفي أي موضع تقف؟ وفي أي موضع تنحر وترمي؟ فقال: عرفت فسمي يوم عرفة ======================== تبيين الحقائق وحاشية الشلبي - (2 / 23) قَوْلُهُ أَيْ تَفَكَّرَ أَنَّ مَا رَآهُ مِنْ اللَّهِ) أَيْ أَمْ مِنْ الشَّيْطَانِ فَمِنْ ذَلِكَ سُمِّيَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ فَلَمَّا رَأَى اللَّيْلَةَ الثَّانِيَةَ عَرَفَ أَنَّهُ مِنْ اللَّهِ فَمِنْ ثَمَّ سُمِّيَ يَوْمَ عَرَفَةَ فَلَمَّا رَأَى اللَّيْلَةَ الثَّالِثَةَ هَمَّ بِنَحْرِهِ فَسُمِّيَ يَوْمَ النَّحْرِ كَذَلِكَ فِي الْكَشَّافِ ========================= العناية شرح الهداية - (3 / 452) فَلَمَّا أَمْسَى رَأَى مِثْلَ ذَلِكَ ، فَعَرَفَ أَنَّهُ مِنْ اللَّهِ تَعَالَى ، فَمِنْ ثَمَّ سُمِّيَ يَوْمَ عَرَفَةَ.... وَإِنَّمَا سُمِّيَ يَوْمُ عَرَفَةَ بِهِ لِأَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَامُ عَلَّمَ إبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ الْمَنَاسِكَ كُلَّهَا يَوْمَ عَرَفَةَ فَقَالَ لَهُ : أَعَرَفْت فِي أَيِّ مَوْضِعٍ تَطُوفُ ؟ وَفِي أَيِّ مَوْضِعٍ تَسْعَى ؟ وَفِي أَيِّ مَوْضِعٍ تَقِفُ ؟ وَفِي أَيِّ مَوْضِعٍ تَنْحَرُ وَتَرْمِي ؟ فَقَالَ عَرَفْت ، فَسُمِّيَ يَوْمَ عَرَفَةَ وَسُمِّيَ يَوْمُ الْأَضْحَى بِهِ لِأَنَّ النَّاسَ يُضَحُّونَ فِيهِ بِقَرَابِينِهِمْ . =========================== تفسير البغوي - (7 / 48) أمر في المنام أن يذبحه، وذلك أنه رأى ليلة التروية كأن قائلا يقول له: إن الله يأمرك بذبح ابنك هذا، فلما أصبح روي في نفسه أي: فكر من الصباح إلى الرواح، أمن الله هذا الحلم أم من الشيطان؟ فمن ثم سمي يوم التروية فلما أمسى رأى في المنام ثانيًا، فلما أصبح عرف أن ذلك من الله عز وجل، فمن ثم سمي يوم عرفة. ========================= الإنصاف - (3 / 244) سمي يوم عرفة للوقوف بعرفة فيه وقيل لأن جبريل حج بإبراهيم عليه الصلاة والسلام فلما أتى عرفة قال عرفت قال عرفت وقيل لتعارف حواء وآدم بها. ========================== المغني - ابن قدامة - (3 / 112) فأما يوم عرفة فهو اليوم التاسع من ذي الحجة سمي بذلك لأن الوقوف بعرفة فيه وقيل سمي يوم عرفة لأن إبراهيم عليه السلام أري في المنام ليلة التروية أنه يؤمر بذبح ابنه فأصبح يومه يتروى هل هذا من الله أو حلم فسمي يوم التروية فلما كانت الليلة الثانية رآه أيضا فأصبح يوم عرفة فعرف أنه من الله فسمي يوم عرفة وهو يوم شريف عظيم وعيد كريم وفضلة كبير وقد صح عن النبي صلى الله عليه و سلم أن صيامه يكفر سنتين ======================= تبيين الحقائق وحاشية الشلبي - (1 / 321) قال - رحمه الله - (ولا عبرةباختلاف المطالع) وقيل يعتبر ومعناه أنه إذا رأى الهلال أهل بلد ولم يره أهل بلدة أخرى يجب أن يصوموا برؤية أولئك كيفما كان على قول من قال لا عبرة باختلاف المطالع وعلى قول من اعتبره ينظر فإن كان بينهما تقارب بحيث لا تختلف المطالع يجب وإن كان بحيث تختلف لا يجب وأكثر المشايخ على أنه لا يعتبر حتى إذا صام أهل بلدة ثلاثين يوما وأهل بلدة أخرى تسعة وعشرين يوما يجب عليهم قضاء يوم والأشبه أن يعتبر لأن كل قوم مخاطبون بما عندهم وانفصال الهلال عن شعاع الشمس يختلف باختلاف الأقطار كما أن دخول الوقت وخروجه يختلف باختلاف الأقطار حتى إذا زالت الشمس في المشرق لا يلزم منه أن تزول في المغرب  ========================= بدائع الصنائع - (2 / 83) هذا إذا كانت المسافة بين البلدين قريبة لا تختلف فيها المطالع فأما إذا كانت بعيدة فلا يلزم أحد البلدين حكم الآخر لأن مطالع البلاد عند المسافة الفاحشة تختلف فيعتبر في أهل كل بلد مطالع بلدهم دون البلد الآخر ======================== العرف الشذي للعلامةالكشميري (2/ 217) وقال الزيلعي شارح الكنز : إن عدم عبرة اختلاف المطالع إنما هو في البلاد المتقاربة لا البلاد النائية ، وقال كذلك في تجريد القدوري ، وقال به الجرجاني ، أقول : لا بد من تسليم قول الزيلعي وإلا فيلزم وقوع العيد يوم السابع والعشرين أو الثامن والعشرين أو يوم الحادي والثلاثين أو الثاني والثلاثين فإن هلال بلاد قسطنطنية ربما يتقدم على هلالنا بيومين ، فإذا صمنا على هلالنا ثم بلغنا رؤية هلال بلاد قسطنطنية يلزم تقديم العيد ، أو يلزم تأخير العيد إذا صام رجل من بلاد قسطنطنية ثمجاءنا قبل العيد ومسألة هذا الرجل لم أجدها في كتبنا ، وظني أنه يمشي على رؤية من يتعيد ذلك الرجل فيهم ، وقست هذه المسألة على ما في كتب الشافعية : من صلى الظهر ثم بلغ في الفور بموضع لم يدخل فيه وقت الظهر إلى الآن أنه يصلي معهم أيضاً والله أعلم وعلمه أتم ، وكنت قطعت بما قال الزيلعي ثم رأيت في قواعد ابن رشد إجماعاً على اعتبار اختلاف المطالع في البلدان النائية ، وأما تحديد القرب والنائي فمحمول إلى المبتلى به ليس له حد معين وذكر الشافعية في التحديد شيئاً . ======================== والله تعالي اعلم بالصواب

یوم عرفہ کے روزے کی تحقیق

سنگلاخ وادیوں کا مسافر ,اسدالدین اویسی           محمد عامر مظھری جالے جنرل سیکریٹڑی الخیر فاؤنڈیشن جالے       حیدرآباد کا بے باک خوبصورت اور نڈر  نوجوان بیرسٹر اسدا لدین اویسی جو اپنی بے باکی اور مسلم مسائل کو ہرجگہ دلیری کے ساتھ اٹھانے کے لئے جانے جاتے ہیں اور اس وقت حال یہ ہیکہ ملک کا بچہ بچہ اس کو دیکھتے ہی پہچانتا ہے ,ایک دن بہار کے ایک اردو اخبار میں ان کی تصویر چھپی میری بھانجی عائشہ اور بھانجہ تنظیم الھدی نے جسکی عمر صرف 6/سال کی ہے اس نے مجھ سےپوچھا اویسی چچا ہیں میں نے تعجب کیا کہ اتنی چھوٹی بچی اور بچے اس کو اپنے قریبی رشتہ داروں کے نام تک معلوم نہیں وہ ایک ایسے شخص کو جانتی ہے جس سے دور کا بھی رشتہ نہیں اخبار میں ان کی تصویر سے پہچان گئی تو مجھے ایسا لگتا ہے کہ آزادی کے بعد مسلمانوں پر ہورہے ظلم وزیادتی کے خلاف جس دلیری کے ساتھ اسدالدین اویسی نے باطل طاقتوں کو آواز دیا ہے ,شا ید تاریخ میں ایسی بے باکی کی مثال کم ملتی ہو ,گجرات کو جب آگ کے حوالے کیا گیا اور بڑی بے رحمی کے ساتھ مسلمانوں کی زندگی کو موت کے گھاٹ اتارا گیا ,دوکانوں کو بلوائیوں کے ذریعہ لوٹا گیا,ماں کی پیٹوں سے زندہ بچوں کو نکال کر سر راہ قتل کیا گیا ,زندگی کی بھیک مانگنے والوں کو تلواروں اور تیروں سے چھلنی کیا گیا,بیاہی اور بن بیاہی بہنوں اور عورتوں کو بے آبرو کیا گیا ,ایسے موقعہ پر اسمبلی اور پارلیمنٹ میں نہ جانے کتنے نام نہاد مسلمان تھے لیکن کسی نے ٹھیک سے اپنے منھ کو نہیں کھولا اور آقاؤں کے چشم ابرو کی طرف ٹکٹکی باندھتا دیکھتا رہا ,ویسے نام کے مسلمانوں نے اسلام کے نام پر ہمیشہ ووٹ حاصل کرکے اس کا استحصال کرتے ہوئے داد عیش حاصل کیا ہے , مجھے بھاگلپور کا وہ الکشن خوب یاد ہے  جب سید شاہ نواز حسین پارلیا منٹ کے ممبر ہوئے تھے الکشن سے قبل انہوں نے مسلمانوں کے گاؤں محلے اور ٹولے میں آکر یہ بات کہی تھی کہ اگرچہ ہم بی جے پی کے امیدوار ہیں لیکن ہیں تو مسلمان آپ ہمیں ووٹ دیجئے ہم آپ کے مسائل کو سنجیدگی سے اٹھا ئیں گے یہ بھی مقدر ہے کہ نام کے شروع میں سید ہے اور اخیر میں حسین ہے ,بھاگلپور کے مسلمان اہل بیت سے بےانتہا محبت کے ساتھ حسینی بھی ہیں ,یہ ایمان کا حصہ بھی ہے ,حسینی مسلمانوں نے دل کھول کر یہ دیکھے بغیر کہ بی جے پی کے ماتھے پر مظلوم مسلمانوں کے خون کا دھبہ اب تک موجود ہے لیکن اس کے باوجود ایک مسلمان یہ کہتے ہوئے جذباتی ووٹ کیا کہ ہمیں ان یادوں کو ڈھوکر کیا ملے گا چلو ایک مسلمان تو پارلیا منٹ چلا جائیگا ,اور ایسا ہی ہوا وہ جیت کر چلے گئے اور اس پانچ سالہ عرصہ میں کبھی مسلمان یاد نہیں آئے ,ایک موقعہ پر برادران وطن نے بھاگلپور سے تقریبا 25/کیلو میٹر کی دوری پر ایک خوبصورت مندر کی تعمیر کی جس کے افتتاح کے لئے محترم ممبر پارلیمنٹ سید شاہ نواز حسین کو دعوت دیا وہ اس تقریب میں شرکت کے لئے تشریف لا ئے بالکل اسی گاؤ ں سے متصل غریب مسلمانوں کی   بستی جہانگیر پور نام کی بستی ہے ,اس گاؤں کے لوگوں کو جب ان کے پروگرام کی اطلاع موصول ہوئی تو دوچند لوگوں نے ان سے باضابطہ پروگرام لیا اور انہوں نے اس کو منظوری بھی دی اور پورے گاؤں کو اس لئے بھی دلہن کی طرح سے سجایا کہ ایک سید زادہ ایم پی میرے گاؤں تشریف لا رہے ہیں ,پروگرام کے مطابق وہ مندر کی افتتاح کے لئے آئے لیکن جب ان سے کہا گیا کہ یہاں سے صرف 1/کیلو میٹر کی دوری پر جہانگیر پور بیسی گاؤں جانا ہے جس کا پروگرا م آپ نے پہلے سے دے رکھا ہے تو ان گاؤں والوں کو یہ کہتے ہوئے واپس کردیا کہ ہمارے پاس وقت نہیں ہے نہیں جاسکتے ہیں ,            یہ ہیں ہمارے وہ مسلم نمائندے جو اسلام کے نام پر کامیاب ہوکر پارلیمنٹ جاتے ہیں  اور آقاؤں کے تلووں کو چاٹ کر اپنی عزت کی ضمانت لیتے ہیں ,لیکن اس کے باجود وہ مسلمان ہیں ,اسی فکر کے مسلمان مختلف پارٹیوں میں یہ کہتے ہوئے اپنی روٹی سیک رہے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے نمائندہ ہیں ,ایک موقعہ پر ایک کانگریسی لیڈر سے ہم نے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ آپ کی پارٹی کا یکساں سول کورڈ سے متعلق جو موقف ہے آپ اس سے کہاں تک متفق ہیں ,تو انہوں نے جواب دینے کے بجائے مجھے کرتا پائجامہ اور ٹوپی میں دیکھ کر فورا کہا کہ مولوی ملا  کو سیاست سے کیا تعلق ہے ,ہمیں افسوس ہوا کہ جو علما کی تاریخ سے ناواقف ہو مسلمانوں کی کیا نمائندگی کریں گے , انہیں شاید یہ معلوم نہیں ہے کہ پوری دنیا میں جو مثبت سیاسی کا نظریہ ہے وہ اسلام اور علماء ہی کی دین ہے حضرت فاروق اعظم کی سیرت بیان کرتے ہوئے مؤرخوں نے لکھا ہے کہ وہ بیس لاکھ مربع میل رقبے پر حکمراں تھے اور سب سے زیادہ فتوحات بھی حضرت عمر فاروق کے دور میں ہوئی معرکہ کربلامیں حضرت امام حسین یزیدکے درمیان کیا ایمان کفرکی جنگ تھی ؟نہیں بلکہ یزید جس نے ملوکیت کی انتہا پر پہنچ کر اسلامی معاشرے کو کھوکھلاکردیا ،حدود اﷲکی خلاف ورزیاں، شریعت ِمحمدیکی تبدیلی ،حرام وحلال کے امتیازات کو ختم اور عوام کو محکوم بناکر محاصل(ٹیکس )اپنی ذا ت اور امراء پر خر چ کرتاتھا ۔اس ماحول میں عوام کی دعوت واصرار پر امام حسین نے اسلامی تہذیب اور سیاسی قدروکی بحالی کیلئے کربلا کاسفر کرکے یزیدی سیاست کوہمیشہ کیلئے ملیامیٹ کرکے دین نبی کی بالادستی اور اسلامی فلاحی حکومت کی بحالی کیلئے اپنی اوراپنے رفقاء کی قربانیاں دی ۔یہ سیاست نہیں توکیاہے ۔شاید وہ بھول گئے کہ جغرافیائی اعتبارسے دنیا کی سب سے بڑی ریاست (حکومت )خلافت ِعثمانیہ جو کہ دوسوسال پر محیط تھی ۔اس کے روح رواں بھی راسخ العقیدہ مسلمان ہی تھے ۔خلافت عثمانیہ کاخاتمہ عیسائی جنگوں کی کارستانی تھی (موجودہ مغربی وامریکی ونیٹو) خلافت عثمانیہ ترکی سے نکل کریورپ کو متاثرکررہی تھی اور آنے والے وقت میں پورایورپ خلافت عثمانیہ کے ماتحت ہوسکتاتھا۔اور خود ہمارے ہندوستان میں جب انگریز قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئے، یہاں کی دولت و ثروت کوبے دریغ لوٹنے لگے، یہاں کے باشندوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے لگے اور یہاں کی تہذیب سے کھلواڑ کرنے لگے اور اس کا سلسلہ مزید بڑھتا ہی گیا، پانی جب سر سے اوپر ہوگیا، تو ہندوستانیوں کے دلوں میں آزادی وطن کا جذبہ پیدا ہوا اور سب سے پہلے مسلمانوں نے اس خطرے کی سنگینی کو محسوس کیا، سراج الدولہ اور سلطان ٹیپوں شہید اور دیگر مسلم فرماں روا اپنی تمام ترقوتوں کے ساتھ جان ہتھیلی پر رکھ کر میدانِ جنگ میں کود پڑے اور یوں تحریک آزادی کی ابتداء ہوئی پھر یہ تحریک رکی نہیں بلکہ اس نے زور پکڑنا شروع کیا اور اب علماء ہند کفن باندھ کر انگریزوں کو للکار نے لگے اور یہ ایسی جماعت تھی جس کی جفا کشی عزائم و ہمم ، صبر آزمائی ، دور اندیشی اور ایثار و قربانی نے اس دور کی تاریخ کو انقلاب آفریں بنادیا اور مولانا شاہ عبد العزیز دہلوی ، مولانا اسمٰعیل شہید، مولانا عبد الحئی اور آگے چل کر علماء دیوبند ، مولانا قاسم نانوتوی، شیخ الہند، مولانا گنگوہی، حافظ ضامن شہید ، مولانا حسین احمد مدنی اور مفتی کفایت اللہ اور مولانا آزاد مولانا ابو الماحاسن سجاد مولاما منت اللہ رحمانی وغیرہ جیسے پیکر استقلال اور کوہ گراں پیدا ہوئے ، جنھوں نے اپنی تقریروں، تحریروں؛ بلکہ اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرکے آزادی وطن کی بنیاد رکھی۔ اور ہندوستان کو آزاد کرایا، اس لیے .مسلم قیادت واقعی ملک کے مسلمانوں کی ضرورت ھے... اسکے بغیر ھندوستانی مسلمانوں کے مسائل حل نھیں ھوسکتے... ھم اگر ملک میں مسلم قیادت کو ابھرنے نھیں دینگے تو دوسرے کے دروازوں پر کاسہء گدائی لیکر بھٹکتے ھی رھینگے.. کبھی نام نہاد سیکولر کانگریس کے دروازے کھٹکھٹائینگے جہاں سے ھمیں مسلم مسائل کو حل کرنے کے وعدے کے سوا کوئی خوشخبری نھیں ملے گی... کبھی فرقہ پرست ملائم کی جوتیاں سیدھی کرینگے پھر بھی کچھ حاصل نھیں ھوگا.. کبھی نتیش اور شردپوار جیسے فرقہ پرستوں سے ھم آس لگا بیٹھیں گیے اور کبھی لالو پرشاد کے دسترخوان کو سجانے کیے لیے متخلف پکوان سے سجائیں گے اور اس کی جی حوضوری کرتے ہوئے سر پر سرخواب لگانے کی کوشش کریں گے اور کبھی کانگریس کے ٹھیکے داروں کی منت سماجت کرتے ہوے عہدوں کے طلب گار ہوں گے، لیکن ہوگا وھی وعدے پر وعدہ... حاصل کچھ نھیں...ھم مسلمانوں کو غیروں پر تو مکمل بھروسہ ھے لیکن جب اپنوں کی بات آتی ھے... اپنی قیادت پیدا کرنے کی بات کی جاتی ھے تو ھمارے سیکولر مسلم لیڈر ھی اس کی مخالفت میں تگ و دو کرنے لگتے ھیں... ان کو پتہ نھیں مسلم قیادت سے کیا بیر ھے ؟....کسی سے انکو فنڈ ملتا ھے یا یہ کسی پارٹی کا آلہء کار ھوتے جو انکو راجیہ سبھا کے سیٹ کا خواب دکھا کر ان سے کچھ بھی کروالیتی ھے... یہ اپنے ذاتی مفاد کے لئے قوم کے مفاد کو پسِ پشت ڈال دیتے ھیں... ان کو مسلم قائدین کی آواز بی جے پی کی لگنے لگتی ھے.. مسلم قائدین کے اندر انکو تکبر اور تعصب نظر آتا ھے جبکہ یہ خود اپنے گریبان میں جھانک کر کیوں نھیں دیکھتے... اگر یہ کہا جائے تو بیجا نہ ھوگا کہ ان کو کوئی پارٹی مسلم قیادت کے خلاف لکھنے کے لئے فنڈ دیتی ھے.انکے اندر تکبر اور تعصب کوٹ کوٹ کر بھرا ھوا ھے... یہ بخوبی جانتے ھیں کہ اگر کوئی مسلَّم مسلِم قائد پیدا ھوگیا تو ھمارے پیٹ کا کیا ھوگا. اسلئے ان کو اپنے پیٹ کے خاطر یہ مخالفت کرنی پڑ رھی ھے... نھیں تو یہ بخوبی جانتے ھیں کہ مسلم قیادت ھمارے لئے کتنا ضروری ھے.. ابھی ان ہی کو پیسے دیکر مسلم قیادت کی اہمیت و ضرورت پر تقریر کے لئے کہہ دیا جائے تو یہ سب سے پہلے پڑھینگے " ان اللہ لا یغیر مابقوم حتی یغیروا ما بانفسھم " پھر اس آیت کا ترجمہ بھی اپنے الفاظ میں نھیں کرینگے بلکہ شاعرِ مشرق علامہ اقبال کا حوالہ دیکر یہ شعر پڑھینگے: خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نھیں بدلی. نہ ھو جسکو خیال آپ اپنی حالت بدلنے کا. پتہ نھیں ان کو اویسی کہاں سے متکبر نظر آنے لگا... متعصب نظر آنے لگا.. ایسا لگتا ھے کہ انہوں نے اویسی کے ساتھ ایک لمبی مدت گزاری ھے یا انکے ساتھ کاروبار کیا ھے... اویسی جیسا جرالقلب قائد اگر کسی قوم کو ملا ھوتا تو وہ قوم کتنی ترقی کرگئی ھوتی اسکا اندازہ نھیں کیا جاسکتا... یہ اپنی ریا کاری کو نھیں دیکھتے کہ خلوت میں انکا عمل کیا ھے... جلوت میں کیا کرتے ھیں.... اپنے تکبر وریا کاری کو چھپانے کے الزام دوسروں کر سر پہ دھرتے ھیں. علامہ غزالی ر حمہ اللہ نے بھت عمدہ تجزیہ پیش کیا ھے. انما فسدت الرعایا بفساد الملوک, وفساد الملوک بفسادالعلماء, وفساد العلماء بسبب استیلاء حب المال والجاہ. یہ بھی مسلمہ حقیقت ھے کہ عوام کو قائد ایسا ھی ملتا ھے جیسی عوام خود ھوتی ھے... اگر عوام متکبر اور ریاکار ھوگی تو قائد بھی ایسا ھی ھوگا... اس ضابطے کی رو سے اب ان کو اپنا احتساب خود کرنا چاھیئے. اس لیے باوجود اس کے کہ موجودہ بھار اسمبلی الیکشن میں بہت دور سے آئے ہوے اسے مہمان جن کے دل میں اسلام اور مسلمانوں سے بے پناہ محبت ہو ان کی قدر کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہر طور سے ان کا خیال ہمارا فریضہ اور اخلاقی ذمہ داری بھی ویسے بھی گزشتہ اسمبلی الیکشن میں سیمانچل سے بی جے پی ام ایل اے کی ہی اکثریت رہی ہے اس پس منظر میں یہ کہنا کہ اسد الدین اویسی کے آنے سے بی جے پی کو فائدہ ہوگا نہایت ہی غیر ذمہ دارانہ بات ہے، اور یہ کہنا بی جے پی کے آلہ کار ہیں نہایت ہی غلط فکر مندی کی ترجمانی کرتا ہے، ویسے بھی اگر سیاسی ذرائع کی مانے تو سیکولر اتحاد بہت کم مسلمانوں کو ٹکٹ دے رہی ہے اس پس منظر میں مسلمانون کو بہت سخت فیصلہ لیتے ہوئے اسد الدین اویسی کی پارٹی کو کامیاب کرنے کی کوشش کرنی چاھیے اور خاص طور سے اس موقع سے علماء کو قائدانہ کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے اس فکر کے ساتھ کہ اسدالدین اویسی ابھی وقت کی ضرورت ہے،

سنگلاخ وادیوں کا مسافر

علامہ اقبال

🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻
                 علامہ اقبال
منفعت ایک ہے اِس قوم کی ، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی ، دین بھی ، ایمان بھی ایک
حرمِ پاک بھی ، اللہ بھی ، قُرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مُسلمان بھی ایک؟
فرقہ بندی ہے کہیں ، اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں ؟
🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻🌻
Darululoomhusainiya.blogspot.com

kaleem2233@gmail.com

Tuesday, 22 September 2015

کیا آپ کی روزی حلال ہے

ﺣﻀﺮﺕ ﺁﺩﻡ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﮐﺎﺷﺖ ﮐﺎﺭﯼ ﮐﯽ، ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﺌﯽ ﺳﺎﻟﻮﮞ ﺗﮏ ﺣﻀﺮﺕ ﺷﻌﯿﺐ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﭼﺮﻭﺍﮨﮯ ﺭﮨﮯ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﺩﺍﺅﺩ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻟﻮﮨﮯ ﮐﺎ ﮐﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ۔ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻧﺒﯽ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﻧﺒﯿﺎﺀ ﮐﺮﺍﻡ ﻋﻠﯿﮩﻢ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﯽ ﺳﯿﺮﺕ ﮐﺎ ﻣﻄﺎﻟﻌﮧ ﮐﺮﻟﯿﺠﯿﮯ ، ﺁﭖ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮔﮯ ﮐﮧ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﯾﮧ ﺑﻨﺪﮮ ﺍﭘﻨﯽ ﺁﺧﺮﺕ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻣﺤﻨﺖ
ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺣﻼﻝ ﮐﻤﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮭﯽ ﻣﺤﻨﺖ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﺎ ﮨﻮ ﯾﺎ ﺁﺧﺮﺕ ﮐﺎ، ﺁﭖ ﻣﺤﻨﺖ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﮐﺴﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺳﮑﺘﮯ۔ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﺑﺤﯿﺜﯿﺖ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻋﻮﮮ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺍﺧﺮﻭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﺳﻨﺠﯿﺪﮦ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﭩﮭﻦ ﺳﻮﺍﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﮮ ﺳﮑﯿﮟ ﺗﻮ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﺑﺎﺕ ﮐﺎ ﺿﺮﻭﺭ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﻤﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ؟ ﻣﺤﻨﺖ ﺳﮯ ﮐﻤﺎ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﮨﻞ ﻭﻋﯿﺎﻝ ﮐﺎ ﭘﯿﭧ ﭘﺎﻟﻨﺎ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺩﯾﻨﯽ ﻓﺮﺍﺋﺾ ﺍﻭﺭ ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﮯ۔ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﷺﮐﺎ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﭘﺎﮎ ﮨﮯ :
ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﭘﺎﮎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺻﺮﻑ ﭘﺎﮐﯿﺰﮦ ﻣﺎﻝ ﮨﯽ ﮐﻮﻗﺒﻮﻝ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﻣﻮﻣﻨﯿﻦ ﮐﻮ ﺍﺳﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺎﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ ﺟﺲ ﮐﺎ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺭﺳﻮﻟﻮﮞ ﮐﻮﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮨﮯ، ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : “ ﺍﮮ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮﻭ ! ﭘﺎﮐﯿﺰﮦ ﺭﻭﺯﯼ ﮐﮭﺎﺅ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﮏ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﻭ ۔ ” ﺍﻭﺭ ﻣﻮﻣﻨﯿﻦ ﮐﻮ ﺧﻄﺎﺏ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ” ﺍﮮ ﺍﮨﻞ ﺍﯾﻤﺎﻥ ! ﺟﻮ ﭘﺎﮎ ﺍﻭﺭ ﺣﻼﻝ ﭼﯿﺰﯾﮟ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺑﺨﺸﯽ ﮨﯿﮟ ﻭﮦ ﮐﮭﺎﺅ۔ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﺎ ﺫﮐﺮ ﮐﯿﺎ ﺟﻮ ﻟﻤﺒﯽ ﻣﺴﺎﻓﺖ ﻃﮯ ﮐﺮﮐﮯ ﻣﻘﺪﺱ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮﺁﺗﺎ ﮨﮯ ، ﻏﺒﺎﺭ ﺳﮯ ﺍﭨﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ، ﮔﺮﺩ ﺁﻟﻮﺩ ﮨﮯﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮨﺎﺗﮫ ﺁﺳﻤﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﭘﮭﯿﻼ ﮐﺮ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ” ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺭﺏ ! ‏( ﺍﻭﺭ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﻣﺎﻧﮕﺘﺎ ﮨﮯ ”( ﺣﺎﻻﻧﮑﮧ ﺍﺱ ﮐﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﮐﺎ ﭘﯿﻨﺎ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ ، ﺍﺱ ﮐﺎ ﻟﺒﺎﺱ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺣﺮﺍﻡ ﭘﺮ ﭘﻼ ﮨﮯ، ﺍﯾﺴﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﺮ ﻗﺒﻮﻝ ﮨﻮﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ؟ ‏( ﺗﺮﻣﺬﯼ، ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺘﻔﺴﯿﺮ

Monday, 21 September 2015

امت کے زوال کا سبب

🌻امت کے زوال کا سبب 🌻

حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسن صاحب مالٹا کی چار سالہ جیل سے رہائی کے بعد دیوبند تشریف لائے تو فرمایا کہ ہم نے مالٹا کی زندگی میں دو سبق سیکھے ہیں، پھر فرمایا کہ میں نے جہاں تک جیل کی تنہائیوں میں اس پر غور کیا کہ پوری دنیا میں مسلمان دینی اور دنیوی ہر حیثیت سے کیوں تباہ ہورہے ہیں تو اس کے دو سبب معلوم ہوئے:
(١) ایک ان کا قرآن کو چھوڑنا،
(٢) دوسرا ان کے آپس کے اختلافات اور خانہ جنگی،
اس لیے میں وہیں سے یہ عزم لے کر آیا ہوں کہ اپنی باقی زندگی اس میں صرف کروں کہ قرآن کریم کو لفظا اور معنا عام کیا جاۓ، بچوں کے لیے لفظی تعلیم کے مکاتب ہر بستی میں قائم کیے جائیں، بڑوں کو عوامی درس قرآن کی صورت میں اس کے معنی سے روشناس کرایا جاۓاور قرآنی تعلیمات پر عمل کیا جاۓ اور مسلمانوں کے باہمی جنگ و جدال کو کسی قیمت پر برداشت نہ کیا جاۓ-
(وحدت امت ص ٠٤)
kaleem2233@gmail.com

Darululoomhusainiya.blogspot.com

حکایات سعدی


____________________________
حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ قسطنطنیہ کے ساحل پر ایک ایسا نوجوان آیا جس کی پیشانی نور سے چمک رہی تھی_لوگوں نے اس نوجوان کو بہترین اخلاق والا پایا اور اسے نہایت عزت و احترام کے ساتھ نذدیکی مسجد میں لے گئے_
امام مسجد بھی اس نوجوان کے اخلاق سے متاثر ہوا اور اس کے کھانے پینے کا انتظام کیا اور ادے رہنے کے لیے مسجد سے ملحقہ ایک حجرہ بھی دیا_
ایک دن امام مسجد نے اس نوجوان سے کہا کہ صاحبزادے ! تم کوئی خاص کام تو کرتے نہیں ہو مسجد کی صفائی کر دیا کرو اور یہاں موجود کوڑا کرکٹ اُٹھا لیا کرو_
امام مسجد کی بات سننے کے بعد وہ نوجوان مسجد سے ایسا غائب ہوا کہ دوبارہ مسجد میں نظر نہیں آیا_
اس واقعہ کے کچھ عرصہ بعد امام مسجد ایک دن بازار میں ضروریاتِ زندگی کے کچھ سامان کی خریداری کے لیے تشریف لے گئے تو انہیں وہی نوجوان بازار میں نظر آیا_امام مسجد نے اس کو ملامت کی اور اس سے کہا کہ تم کام چور ہو تم ایک معمولی کام نہیں کر سکے جبکہ میرا مقصود مسجد کی خدمت تھا_
امام مسجد کی بات سن کر نوجوان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور وہ کہنے لگا کہ امام مسجد صاحب ! مسجد سے چلا جانا میری کاہلی یا کام چوری نہیں بلکہ حقیقت یہ تھی مجھے مسجد میں اپنے سوا کوئی گندگی نظر نہ آئی چنانچہ میں نے خیال کیا کہ اللہ عز وجل کے گھر کو اس گندگی سے پاک کر دوں_بے شک دونوں جہانوں کی سعادتیں حاصل کرنے کے لیے اس سے بہتر کوئی راستہ نہیں ہے_
مقصود بیان:-
____________
حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ اس حکایت میں عجز و انکساری کی بہترین مثال بیان کر رہے ہیں_آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عجز و انکساری سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں اور اللہ عز و جل کو بھی عجز و انکساری بہت پسند ہے_ہمارے آقا , تاجدارِ عرب و عجم حضور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ساری زندگی عاجزی کے ساتھ گزاری اور ہمیں بھی اس کی تعلیم دی_غرور و تکبر صرف اللہ عز و جل کی ذات کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا مالک ، خالق اور رازق ہے_
(حکایاتِ شیخ سعدی سے اقتباس)