Wednesday, 12 October 2016

کیا یزید بے قصور اور جنتی ہے

🌷مفتی سید محمد ناصر بخاری🌷

کیا یزید بے قصور اور جنتی ہے؟
بہت ہی عمدہ معلومات ضرور ضرور پڑھیں..

موجودہ دور نفسا نفسی اور فتنوں کا دور ہے۔ روز بروز ایک نیا فتنہ اسلام کا نام لے کر کھڑا ہوتا نظر آرہا ہے۔ موجودہ دور میں ماڈرن لوگوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ان ماڈرن لوگوں میں یہ بیماری ہے کہ وہ ماڈرن مذہبی اسکالرز کی بات کو زیادہ ترجیح دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج میڈیا پر خشخشی داڑھی والے غامدی‘ کوٹ پینٹ ٹائی والے ذاکر نائیک اور ہاتھوں میں بینڈ باجے لئے بابر چوہدری اور نجم شیراز جیسے لوگ جو نہ سند یافتہ عالم ہیں اور نہ ہی شکل اور حلیے سے مذہبی معلوم ہوتے ہیں۔ بھولے بھالے لوگوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ وہ روزانہ میڈیا پر ایک نیا شوشہ چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ان لوگوں کو کوئی فسادی اور فرقہ پرست نہیں کہتا۔

آج کل انہی جیسے لوگوں نے یہ بات مشہور کردی ہے کہ یزید بے قصور آدمی تھا۔ یزید کے لئے تو جنت کی بشارت دی گئی ہے وہ قتل حسین پر راضی نہ تھا۔ ان کے اس میٹھے زہر کا مقابلہ ہم آج اس مضمون میں کریں گے اور احادیث‘ جید تابعین اور علمائے امت کے اقوال کی روشنی میں یہ ثابت کریں گے جس یزید کو ناصبی اپنی آنکھ کا تارا تصور کرتے ہیں وہ دین اسلام کی اصل شکل کو مسخ کرنے کے ارادے سے حکمرانی کررہا تھا۔

یزید کا مختصر تعارف

حافظ ابن حجر عسقلانی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ یزید بیٹا معاویہ بن ابی سفیان صخربن حرب بن امیہ بن عبد شمس ہے ‘کنیت اس کی ابو خالد ہے۔ یزید حضرت عثمان غنی رضی اﷲ عنہ کے دور خلافت میں پیدا ہوا (تہذیب التہذیب لابن حجر عسقلانی جلد 11 ص  360)

یزید احادیث کی روشنی میں

حدیث شریف: حضرت ابوعبیدہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میری امت کا امر (حکومت) عدل کے ساتھ قائم رہے گا۔ یہاں تک کہ پہلا شخص جو اسے تباہ کرے گا وہ بنی امیہ میں سے ہوگا جس کو یزید کہا جائے گا (مسند ابو یعلیٰ حدیث نمبر 872ص 199‘ مجمع الزوائد جلد 5ص 241‘ تاریخ الخلفاء ص 159‘ الصواعق المحرقہ ص 221)

حدیث شریف: محدث امام رئویانی نے اپنی مسند میں حضرت ابو درداء رضی اﷲ عنہ سے روایت کیا۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضورﷺکو فرماتے سنا کہ آپﷺ فرماتے ہیں کہ پہلا وہ شخص جو میرے طریقے کو بدلے گا وہ بنی امیہ میں سے ہوگا جس کو یزید کہا جائے گا۔

(جامع الصغیر جلد اول ص 115‘ تاریخ الخلفاء ص 160‘ ماثبت من السنہ ص 12)

حدیث شریف: حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا ‘ سن ساٹھ کے آغاز سے تم لوگ اﷲ تعالیٰ کی پناہ مانگنا اس وقت دنیا (حکومت) احمق اور بدعادت کے لئے ہوگی۔ (بحوالہ: خصائص کبریٰ جلد دوم ص 139)

فائدہ: علامہ قاضی ثناء اﷲ پانی پتی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں کہ چھوکروں اور احمقوں کی حکومت سے مراد یزید کی حکومت کی طرف اشارہ ہے (تفسیر مظہری جلد اول ص 139)

یزید جید تابعین کی نظر میں

1۔ حضرت عبداﷲ بن حنظلہ رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی قسم! ہم یزید کے خلاف اس وقت اٹھ کھڑے ہوئے جبکہ ہمیں یہ خوف لاحق ہوگیا کہ اس کی بدکاریوں کی وجہ سے ہم پر آسمان سے پتھر نہ برس پڑیں کیونکہ یہ شخص (یزید) مائوں‘ بیٹیوں اور بہنوں کے ساتھ نکاح جائز قرار دیتا اور شراب پیتا اور نمازیں چھوڑ دیتا تھا (تاریخ الخلفاء ص 207‘ الصواعق المحرقہ ص 134‘ طبقات ابن سعد جلد 5ص 66)

2۔ حضرت منذر بن زبیر رضی اﷲ عنہ نے علی الاعلان لوگوں کے سامنے کہا ’’بے شک یزید نے مجھے ایک لاکھ درہم انعام دیا مگر اس کا یہ سلوک مجھے اس امر سے باز نہیں رکھ سکتا کہ میں تمہیں اس کا حال نہ سنائوں۔ خدا کی قسم وہ شراب پیتا ہے اور اسے اس قدر نشہ ہوجاتا ہے کہ وہ نماز ترک کردیتا ہے (ابن اثیر جلد چہارم ص 42‘ وفاء الوفاء جلد اول ص 189)

3۔ حضرت عبداﷲ بن زبیر رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں خدا کی قسم! بلاشبہ انہوں نے ایسے شخص کو قتل کیا جو قائم اللیل اور صائم النہار تھے جو ان سے ان امور کے زیادہ حقدار تھے اور اپنے دین و فضیلت و بزرگی میں ان سے بہتر تھے۔ خدا کی قسم! وہ قرآن مجید کے بدلے گمراہی پھیلانے والے نہ تھے۔ اﷲ تعالیٰ کے خوف سے ان کی مجلسوں میں ذکر الٰہی کے بجائے شکاری کتوں کا ذکر ہوتا تھا۔ یہ باتیں انہوں نے یزید کے متعلق کہی تھیں۔ پس عنقریب یہ لوگ جہنم کی وادی غیّ میں جائیں گے (ابن اثیر جلد چہارم ص 40)

4۔ نوفل بن ابو انضرت نے فرمایا میں پہلی صدی کے مجدد حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اﷲ عنہ کے پاس تھا۔ پس ایک شخص نے آکر یزید کا تذکرہ کرتے ہوئے اس کو یوں کہا۔ امیرالمومنین یزید بن معاویہ‘‘ یہ سننا تھا کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اﷲ عنہ غضبناک ہوئے۔ آپ نے فرمایا تو یزید کو امیرالمومنین کہتا ہے۔ پھر آپ کے حکم پر اس کو بیس کوڑے مارے گئے (الکامل جلد سوم ص 277‘ تہذیب التہذیب جلد 11‘ ص 361‘ تاریخ الخلفاء ص 160‘ ماثبت من السنہ ص 13)

یزید علمائے اسلام اور محدثین کی نظر میں

1۔ حضرت امام احمد بن حنبل رضی اﷲ عنہ متوفی 241ھ نے اپنے فرزند کو فرمایا: کیوں لعنت نہ کی جائے اس یزید پر جس پر اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں لعنت کی ہے۔ آپ کے بیٹے نے عرض کیا اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں کہاں یزید پر لعنت کی ہے؟ آپ نے فرمایا سورہ محمد کی ان آیات میں:

ترجمہ: تو کیا تمہارے لچھن (کردار) نظرآتے ہیں اگر تمہیں حکومت ملے تو زمین میں فساد پھیلائو اور ایسے رشتے دار کاٹ دو۔ یہ ہیں وہ لوگ جن پر اﷲ نے لعنت کی اور انہیں حق سے بہرا کردیا اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں (سورہ محمد آیت 23-22)

2۔ اس آیت کی تفسیر میں مشہور مفسر امام سید محمود آلوسی حنفی متوفی 1270ھ فرماتے ہیں۔ یعنی سورہ محمد کی ان آیات سے استدلال کیا گیا ہے کہ یزید پر لعنت جائز ہے اور میں یزید جیسے فاسق‘ فاجر پر لعنت شخص کی طرف جاتا ہوں کیونکہ یزید کی توبہ کا احتمال اس کے ایمان کے احتمال سے بھی زیادہ ضعیف ہے اور یزید کے ساتھ ابن زیاد‘ ابن سعد اور یزید کی ساری جماعت شریک ہے۔ پس اﷲ کی لعنت ہو‘ ان سب پر اور ان کے مددگاروں پر اور ان کے حامیوں پر اور ان کے حامیوں پر اور ان کے گروہ پر اور قیامت تک جو بھی ان کی طرف مائل ہو‘ ان سب پر اﷲ کی لعنت ہو (تفسیر روح المعانی جلد 26ص 72)

3۔ علامہ حافظ ابن کثیر دمشقی متوفی 774ھ نے لکھا ہے۔ یعنی یزید نے ابن زیاد کو حکم دیا تھا کہ جب تو کوفہ پہنچ جائے تو مسلم بن عقیل رضی اﷲ عنہ کو تلاش کرکے قتل کردینا۔ (البدایہ والنہایہ جلد 8ص 152)

ابن زیاد نے (یزید کے حکم کے مطابق) حضرت مسلم بن عقیل رضی اﷲ عنہ کو قتل کرایا‘ ابن زیاد نے حضرت ہانی کو سوق الغنم میں شہید کرایا (البدایہ والنہایہ جلد 8ص 157)

یزید نے ان بزرگوں کو قتل کردینے پر ابن زیاد کا شکریہ ادا کیا (شہید کربلا از مفتی شفیع دیوبندی)

4۔ گیارہویں صدی کے مجدد محقق شاہ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ متوفی 1052ھ فرماتے ہیں۔

ایک طبقہ کی رائے یہ ہے کہ قتل حسین دراصل گناہ کبیرہ ہے کیونکہ ناحق مومن کا قتل کرنا گناہ کبیرہ میں آتا ہے‘ کفر میں نہیں آتا مگر لعنت تو کافروں کے لئے مخصوص ہے ایسی رائے کا اظہار کرنے والوں پر افسوس ہے۔ وہ نبیﷺ کے کلام سے بھی بے خبر ہیں کیونکہ حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہا اور اس کی اولاد سے بغض و عداوت اور انہیں تکلیف دینا توہین کرناباعث ایذا و عداوت نبی ہے۔ اس حدیث کی روشنی میں یہ حضرات‘ یزید کے متعلق کیا فیصلہ کریں گے؟ کیا اہانت رسول اور عداوت رسول کفر اور لعنت کا سبب نہیں ہے؟ اور یہ بات جہنم کی آگ میں پہنچانے کے لئے کافی نہیں؟ (بحوالہ: تکمیل الایمان ص 178)

5۔ امام جلال الدین سیوطی متوفی 911ھ فرماتے ہیں۔ اﷲ تعالیٰ کی لعنت ہو امام حسین رضی اﷲ عنہ کے قاتل ابن زیاد اور یزید پر امام حسین رضی اﷲ عنہ کربلا میںشہید ہوئے اور آپ کی شہادت کا قصہ طویل ہے۔ دل اس ذکر کا متحمل نہیں ہوسکتا (تاریخ الخلفاء ص 80)

6۔ امام ربانی مجدد الف ثانی علیہ الرحمہ متوفی 1043ھ فرماتے ہیں: یزید بے دولت از اصحاب نیست در بد بختی اوکر اسخن کارے کہ آں بدبخت کردہ ہیچ کا فرفرنگ نہ کند… یعنی یزید بے دولت صحابہ کرام میں سے نہیں۔ اس کی بدبختی میں کس کو کلام ہے جو کام اس نے کئے ہیں کوئی کافر فرنگی بھی نہ کرے گا (مکتوبات امام ربانی جلد اول ص 54)

7۔ امام المحدثین حضرت علامہ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ متوفی 1239ھ فرماتے ہیں۔

پس انکار کیا امام حسین رضی اﷲ عنہ نے یزید کی بیعت سے کیونکہ وہ فاسق‘ شرابی اور ظالم تھا اور امام حسین رضی اﷲ عنہ مکہ شریف تشریف لے گئے (بحوالہ : سر الشہادتیں ص 12)

8۔ امام طاہر بن احمد بن عبدالرشید بخاری متوفی 542ھ فرماتے ہیں۔

یزید پر لعنت کرنے کے بارے میں امام علامہ قوام الدین الصنعاری علیہ الرحمہ اپنے والد سے حکایت بیان کرتے ہیں کہ یزید پر لعنت کرناجائز ہے اور فرماتے ہیں یزید پلید پر لعنت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ (بحوالہ : خلاصتہ الفتاویٰ جلد چہارم  390)

9۔ امام حضرت عبدالرحمن جامی علیہ الرحمہ متوفی 898ھ فرماتے ہیں۔ یعنی یزید پر سو لعنتیں ہوں اور بھی (بحوالہ: تذکرہ مولانا عبدالرحمن جامی ص66)

10۔ چودھویں صدی کے مجدد امام احمد رضا خان محدث بریلی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔ یزید کو اگر کوئی کافر کہے تو ہم منع نہیں کریں گے اور خود نہ کہیں گے (بحوالہ : الملفوظ حصہ اول ص114)

دوسرے مقام پر فرماتے ہیں: یزید پلید کے بارے میں ائمہ اہلسنت کے تین اقوال ہیں۔ امام احمد ابن حنبل علیہ الرحمہ وغیرہ اکابر اسے کافر جانتے ہیں تو ہرگز بخشش نہ ہوگی اور امام غزالی علیہ الرحمہ وغیرہ مسلمان کہتے ہیں تو اس پر کتنا ہی عذاب ہو‘ بالاخر بخشش ضرور ہوگی اور ہمارے امام‘ امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ عنہ سکوت (خاموشی) فرماتے ہیں کہ ہم نہ مسلمان کہیں نہ کافر (رحمتہ اﷲ علیہ) بھی نہ کہیں لہذا یہاں بھی سکوت کریں گے (بحوالہ: احکام شریعت ص88)

حضرات محترم! ہم نے آپ کے سامنے احادیث‘ اقوال صحابہ کرام اور علمائے اسلام کے اقوال کی روشنی میں یزید پلید کی شدید مذمت بیان کی۔ اب فیصلہ ہر کلمہ پڑھنے والا مسلمان خود کرے‘ ہم اکابر محدثین کی بات مانیں یا موجودہ دور کے نام نہاد مذہبی اسکالر اور وہ بھی کوٹ پتلون اور ٹائی میں ملبوس فیشن ایبل آدمی کی؟ ہرگز نہیں… ہرگز نہیں… ہم تو اکابرین اورمحدثین کی بات مانیں گے۔

یہ بات میں نے اس لئے کہی کہ 2008ء کے اوائل میں ڈاکٹر ذاکر نائیک نے اپنے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ’’کربلا کی جنگ سیاسی جنگ تھی‘‘ اس کے بعد یزید کو رحمتہ اﷲ علیہ کہا (اس کی ویڈیو سی ڈی مکتبہ فیضان اشرف شہید مسجد کھارادر کراچی پر موجود ہے)

ذاکر نائیک کے ان الفاظ پر پوری دنیا کے علماء کرام اورمفتیان کرام نے ذاکر نائیک کو گمراہ اور بے دین قرار دیا۔

پہلے تو ذاکر نائیک نے اس فتوے کو کوئی اہمیت نہ دی مگر جب پوری دنیا سے اس کے جواب کی مذمت کی گئی تو فورا اس نے یہ کہا کہ جو فتویٰ مجھ پر لگاتے ہو‘ وہی فتویٰ حضرت امام غزالی علیہ الرحمہ پر بھی لگائو۔

یوں محسوس ہوتا ہے کہ ذاکر نائیک نے حضرت امام غزالی علیہ الرحمہ کا فتویٰ یزید کے متعلق صحیح پڑھا اور سمجھا ہی نہیں ہے لہذا امام غزالی علیہ الرحمہ کا یزید کے متعلق فتویٰ ملاحظہ ہو۔

حجتہ الاسلام امام غزالی علیہ الرحمہ کا فتویٰ

اگر کوئی پوچھے کہ امام حسین رضی اﷲ عنہ کے قاتل اور آپ کے قتل کا حکم دینے والے پر اﷲ تعالیٰ کی لعنت ہو‘ کہنا جائز ہے؟ ہم کہتے ہیں کہ حق بات یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ آپ رضی اﷲ عنہ کا قاتل اگر توبہ کرکے مرا ہے تو اس پر خدا کی لعنت نہ ہو کیونکہ یہ ایک احتمال ہے کہ شاید اس نے توبہ کرلی ہو (بحوالہ: احیاء العلوم جلد 3 ص 122 مطبوعہ مصر)

امام غزالی علیہ الرحمہ کے فتوے سے مندرجہ ذیل باتیں ثابت ہوئیں۔

1۔ پہلی بات یہ ثابت ہوئی کہ حضرت امام حسین رضی اﷲ عنہ کا قتل ناحق تھا (لہذا ثابت ہوا کہ ناحق قتل کرنے والے یزید اور یزیدی ظالم اور قاتل تھے ورنہ قاتل پر خدا کی لعنت جائز نہ ہوتی۔

2۔ دوسری بات یہ ثابت ہوئی کہ توبہ کی قید لگانا امام غزالی علیہ الرحمہ کے کمال تقویٰ کی دلیل ہے۔

3۔ تیسری بات یہ ہے کہ آپ نے پورے فتوے میں ذاکر نائیک کی طرح معرکہ کربلا کو سیاسی جنگ قرار نہیں دیا۔

4۔ چوتھی بات یہ ہے کہ آپ نے پورے فتوے میں ذاکر نائیک کی طرح یزید کو ’’رحمتہ اﷲ علیہ‘‘ نہیں کہا۔

5۔ پانچویں بات یہ ہے کہ یزید اور قاتلانِ حسین رضی اﷲ عنہ کی توبہ کہیں سے بھی ثابت نہیں لہذا امام غزالی کے فتوے کے مطابق امام حسین رضی اﷲ عنہ کے قاتل اور آپ کے قتل کا حکم دینے والے پر اﷲ تعالیٰ کی لعنت ہو۔

یزید کو نادم اور بے قصور کہنے والوں سے ہمارے سوالات

سوال: یزید اگر ظالم نہ تھا تو اس نے صحابی رسول حضرت نعمان بن بشیر رضی اﷲ عنہ کو معزول کرکے ابن زیاد کو کوفے کا گورنر کیوں بنایا؟

سوال: اگر اس کے کہنے پر سب کچھ نہیں ہوا تو اس نے معرکہ کربلا کے بعد ابن زیاد‘ ابن سعد اور شمر کو سزائے موت کیوں نہیں دی؟

سوال: معرکہ کربلا کے بعد اہلبیت کی خواتین کو قیدیوں کی طرح کیوں رکھا گیا؟

سوال: حضرت سیدہ زینب رضی اﷲ عنہا کے سامنے اپنی فتح کا خطبہ کیوں پڑھا؟

سوال: جب اس کے دربار میں امام حسین رضی اﷲ عنہ کا سر انور لایا گیا تو اس پر اس نے چھڑی کیوں ماری؟

سوال: اگر یزید بے قصور تھا تو اس نے گھرانہ اہلبیت سے معافی کیوں نہیں مانگی؟

سوال: معرکہ کربلا کے بعد مسجد نبوی کی بے حرمتی کیوں کی گئی؟ اور امام جلال الدین سیوطی  علیہ الرحمہ نے تاریخ الخلفاء میں لکھا کہ مسجد نبوی میں گھوڑے باندھے گئے۔

سوال: بیت اﷲ پر یزید نے سنگ باری کیوں کروائی؟ امام سیوطی علیہ الرحمہ کے مطابق بیت اﷲ میں آگ لگی اور غلاف کعبہ جل گیا۔

کیا یزید کے لئے جنت کی بشارت دی گئی تھی؟

بعض لوگ کہتے ہیں کہ حضورﷺ نے فاتح قسطنطنیہ کو جنت کی بشارت دی تھی اور یزید بھی اس لشکر میں شامل تھا لہذا وہ جنتی ہوا۔

حدیث قسطنطنیہ ملاحظہ ہو:

حدیث شریف: حضورﷺ نے ارشاد فرمایا۔ میری امت کا وہ لشکر بخش دیا جائے گا جو قیصر کے شہر پر سب سے پہلے حملہ کرے گا (صحیح بخاری‘ جلد اول‘ کتاب الجہاد‘ باب ماقیل فی قاتل الروم ص 410)

قیصر کے شہر سے مراد کون سا شہرہے؟

قیصر کے شہر سے مراد وہ شہر ہے جو حضرت نبی کریمﷺ کے ارشاد کے وقت قیصر کا دارالمملکت تھا اور وہ حمص تھا (بحوالہ: فتح الباری جلد ششم ص 128)

قسطنطنیہ پر حملہ کرنے والے پہلے لشکر میں کیا یزید شامل تھا؟

البدایہ والنہایہ جلد 8 ص 31پرہے کہ قسطنطنیہ پر پہلا حملہ 43ھ میں حضرت بسر بن ارطاہ رضی اﷲ عنہ کی قیادت میں ہوا تھا (البدایہ والنہایہ جلد 8ص 31)

قسطنطنیہ پر دوسرا حملہ 46ھ میں کیا گیا تھا۔ علامہ ابن اثیر متوفی 630ھ لکھتے ہیں یعنی 49ھ اور کہا گیا 50ھ میں حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ نے ایک بڑا بلاد روم کی جانب جنگ کے لئے بھیجا۔ اس کا سپہ سالار سفیان بن عوف رضی اﷲ عنہ کو بنایا۔ اپنے بیٹے یزید کو حکم دیا کہ ان کے ساتھ جائے تو وہ بیمار بن گیا اور عذر کردیا۔ اس پر اس کے باپ رہ گئے۔ لوگوں کو بھوک اور سخت بیماری لاحق ہوگئی۔ یہ سن کر یزید نے یہ اشعار پڑھے۔ مقام فرقدونہ میں لشکر پر کیا بلا نازل ہوئی‘ بخار آیا کہ سرسام میں مبتلا ہوئے۔ مجھے کچھ پرواہ نہیں جبکہ میں اونچی قالین پر دیر سران میں بیٹھا ہوں اور ام کلثوم میرے بغل میں ہے۔

ام کلثوم یزید کی بیوی تھی۔ جب حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ نے یہ اشعار سنے تو یزید کو قسم دی کہ ارض روم جاکر سفیان کے ساتھ ہوجاتاکہ تو بھی ان مصائب سے دوچار ہو‘ جن سے غازیان اسلام ہوئے۔ اب مجبور ہوکر یزید گیا۔ حضرت امیر معاویہ رضی اﷲ عنہ نے اس کے ساتھ ایک بڑی جماعت کردی (بحوالہ: الکامل فی التاریخ جلد سوم ص 131)

نتیجہ: اب یہ بات بھی ثابت ہوگئی کہ یزید پہلے جیش میں نہیں بلکہ اس کے بعد والے جیش میں بطور ایک معمولی سپاہی اور بادل نخواستہ شریک ہوا۔

اگر بالفرض یہ بھی مان لیں کہ یزید اول جیش میں بھی شریک تھا تو اس حدیث کی وجہ سے کیا وہ جنتی ہے؟

اصول فقہ کی کتابوں میں یہ مسئلہ موجود ہے کہ ’’مامن عام الاخص منہ البعض‘‘ یعنی عموم ایسا نہیں جس میں سے بعض افراد مخصوص نہ ہوں۔ معلوم ہوا کہ ہر عموم سے بعض افراد مخصوص ضرور ہوتے ہیں۔ اس اصول کی بناء پر حفاظ حدیث قسطنطنیہ والی حدیث کے ماتحت فرماتے ہیں۔

یزید کا اس عموم میں داخل ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ کسی دلیل خاص سے اس عموم سے خارج نہیں ہوسکتا کیونکہ اہل علم میں سے کسی نے اختلاف نہیں کیا کہ حضورﷺ کا قول مغفور لہم مشروط ہے مطلق نہیں۔ وہ یہ کہ مغفور لہم وہ ہے جو بخشش کے اہل ہوں ۔ اگر    فرد لشکر کا مرتد (بے ایمان) ہوجائے وہ اس بشارت مغفرت میں داخل نہیں ہوگا۔ اس بات پر تمام علماء امت کا اتفاق ہے۔ پس یہ اتفاق اس بات کی دلیل ہے کہ لشکر قسطنطنیہ کا وہ شخص مغفرت یافتہ ہے جس میں مغفرت کی شرائط مرتے وقت تک پائی جائیں (فتح الباری جلد 11ص 92 مطبوعہ نولکشور ہندوستان)

محدثین اور حفاظ کے فیصلے کی مزید توفیق

حضورﷺ کا یہ بھی فرمان ہے کہ انسان زبان سے ’’لاالہ الا اﷲ‘‘ کہہ دے وہ جنتی ہے۔ مرزا قادیانی کے ماننے والے بھی کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں وہ کافر کیوں؟

حضورﷺ کا یہ فرمانا کہ میری امت کے تہتر فرقے ہوں گے۔ یہ فرمان اس بات کی دلیل ہے کہ وہ تمام فرقے ’’لاالہ الا اﷲ‘‘ کہنے والے ہوں گے لیکن پھر بہتر (72) جہنمی کیوں؟

بات دراصل یہ ہے کہ جو شخص کلمہ طیبہ پڑھے اور مرتے دم تک مرتد (بے ایمان) نہ ہو‘ وہ جنتی ہے۔

ہم نے آپ کے سامنے تابعین اور علمائے امت کے یزید کے متعلق تاثرات پیش کردیئے ہیں۔ اگر اب بھی کوئی زبردستی یزید کو رحمتہ اﷲ علیہ‘ امیر المومنین اور جنتی کہے تو اسے چاہئے کہ وہ یہ دعا کرے کہ :

’’اے اﷲ تعالیٰ! میرا حشر قیامت کے دن یزید کے ساتھ فرما‘‘    
                                        ....... ماخوذ...

امام و مؤذن کی تنخواہ

امام و مؤذن کی تنخواہ

اللہ اکبر اللہ اکبر !! مغرب کی اذان ہورہی تھی
اذان دینے والے کی آواز بہت دلنشین تھی نہ چاہتے ہو ئے بھی میرے قدم مسجد کی جانب بڑھنے لگے مسجد میں داخل ہوا تو حیران رہ گیا مسجد  جمعہ کی نماز کا منظر پیش کررہی تھی ۔۔۔۔
نماز ادا کی تو امام صاحب کی قراءت نے سماں باندھ دیا  خود میں بھی رو دیا ۔
کچھ ہی دیر میں، میں نے فیصلہ کر لیا امام صاحب کو میں اپنی مسجد میں لے کر جاؤں گا  کیونکہ جب امام اچھا ہو ، اس کی قراءت بھی اچھی ہوتو مسجدیں آباد ہوتی ہیں

نماز کے بعد امام صاحب سے مصافحہ کیا نمبر لیا، اسی دوران میری ملاقات مسجد کے صدر  فہیم صاحب سے ہوئی میری پرانی شناسائی تھی  میں نے اپنے ارادے سے انہیں آگاہ کیا تو وہ مسکرا دئیے

کہنے لگے آپ امام صاحب سے بات کر لیجیے
مجھے کچھ حیرت ہوئی انہوں نے میری بات  پر کسی قسم کا  ردعمل ظاہر نہیں کیا ۔

میں نے  وقت ضائع کرنا مناسب نہیں سمجھا اور اسی وقت امام صاحب کے پاس پہنچ گیا اور ان سے اپنے مقصد کی بات کی کہ میری بات سُن کر وہ  بھی مسکرا دئیے
میں ابھی تک اس مسکرانے کی وجہ نہیں جان پا رہا تھا
میں نے  امام صاحب سے کہا : امام صاحب ! ہم آپ کو یہاں سے اچھی تنخواہ دیں گےیہاں سے بہتر سہولیات فراہم کریں گے ۔
آپ کو معلوم ہے یہاں میری تنخواہ کیا ہے اور سہولیات کیا میسر ہیں ؟  امام صاحب نے میری جانب دیکھتے ہوئے کہا
معلوم تو نہیں لیکن یہاں سے بہتر ہو گی
اچھا ! امام صاحب نے کہا
میری تنخواہ اس وقت یہاں ۳۵ ہزار روپے ہے  اور مسجد انتظامیہ نے مجھے جورہائش دی ہوئی ہے وہ شاندار لگژری اپارٹمنٹ ہے ۔امام صاحب نے مسجد سے متصل اپنے گھر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا
بالکونی سے ہی اندازہ ہو رہا تھا کہ گھر کس قدر شاندار ہو گا
میں حیران رہ گیا ، امام صاحب بھی مسکرا دئیے
واپس جاتے ہوئے  میں مسجد کے صدر فہیم صاحب سے ملا اور ان سے پوچھا کیا آپ امام صاحب کو ۳۵ ہزار تنخواہ دیتے ہیں ؟
فہیم صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا
جی بالکل ہم امام صاحب کو ۳۵ ہزار تنخواہ دیتے ہیں ۔
اتنی زیادہ تنخواہ جب کہ امام تو ۷ حد ہے ۱۰ ہزار روپے میں بہت اچھا ملا جاتا ہے  پھر اتنی بھاری تنخواہ اور اتنی شاندار رہائش؟
آپ عادتیں بگاڑ رہے ہیں ان مولویوں  کی ۔میں نے کچھ زچ ہوتے ہوئے کہا
فہیم صاحب اب باقاعدہ ہنس دئیے ۔۔۔۔۔۔یعنی انگور کھٹے ہیں
فاروقی صاحب ! یہ اس لیے کہ آپ جیسی انتظامیہ کے لوگ انہیں اپنی مساجد میں نہ لے  جا سکیں ۔

ایک لمحے کے لیے تو میں جھینپ گیا  ۔
فاروقی صاحب ! امام جتنا زیادہ اچھا ہو گا مسجد اتنی آباد رہے گی ۔۔۔۔جتنا قابل خطیب ہو گا علاقے کے لوگ اتنے زیادہ  با شعور ہوں گے ۔۔۔۔ہم اپنے با صلاحیت لوگوں کو سپورٹ نہیں کرتے ۔۔۔۔۔بلکہ استیصال کی کوشش کرتے ہیں ۔۔۔۔ہم ایک مووی میکر ، فلم میکر ،  ڈیزائنر کو تو اچھا معاوضہ دینے کو تیا رہیں لیکن ایک مذہبی رائیٹر سے فی سبیل اللہ کام کرانا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ایک  ٹھیکدار کو تو مسجد و مدرسے کی تعمیر کے لیے لاکھوں دینے کو تیار ہیں لیکن قوم کی  تعمیر کرنے والے امام ،معلم کو  ۷ ہزار دیتے ہوئے دل دکھتا ہے ۔۔۔۔۔

دنیا بھر میں پروفیشنل لوگوں کی قدر کی جاتی ہے ۔۔۔۔ہم اپنے لوگوں کو ذلیل کرتے ہیں ۔
کیا ایک امام کی ضروریات ایک مزدور سے بھی کم ہے ؟

مزدور کی ماہانہ انکم بھی ۲۴ ہزار ہوتی ہے  آج کے دور میں اور اور ایک مستری  آج بھی ۴۰ سے ۵۰ ہزار ماہانہ کماتا ہے
کیا ایک امام ، یا مدرسے کا استاد اچھے گھر کی خواہش نہیں کر سکتا ؟

آپ کی مسجد کی ماہانہ آمدنی ۷۰ ہزار روپے ہےایک امام و خطیب اچھا رکھ لیں چندہ ڈبل ہو جائے گا کیا آپ کو امام و خطیب کی تنخواہ نکالنے میں کوئی دقت ہو گی ؟

نہیں نا ! لیکن نا جانے ہم خود تو جہاں نوکریا ں کرتے ہیں  وہاں سے ستر ہزار سے زائد تنخواہ لیتے ہیں لیکن امام کو اور مدرسے کے استاد کو ۷ ہزار تنخواہ میں اپنا غلام بنا کر رکھنا چاہتے ہیں ۔

فاروقی صاحب ! آپ ایک ملٹی نیشنل کمپنی سے وابستہ ہیں  خود بتائیے آپ کے یہاں فن کے ماہرین کیسے قدر کی جاتی ہے ان کو کیسے سپورٹ کیا جاتا ہے۔

او ر سنیے دنیا بھر میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی این جی اوز کو   اسلام کے منافی پروپیگنڈہ کرنے کے عوض کروڑوں ڈالر فراہم کیے جاتے ہیں ۔۔۔۔اور اس فنڈ کے لیے وہ دنیا بھر میں میوزک کنسرٹ کرتے ہیں اور اس کے جو  پیسے آتے ہیں وہ  ان اسلامی ممالک  میں موجود این جی اوز کو دے دئیے جاتے ہیں وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ان این جی اوز کو  مرنے نہیں دیتے بلکہ زندہ رکھتے ہیں ۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم  اپنے با صلاحیت لوگوں کو جینے نہیں دیتے

آپ اپنی مسجد کے لیے ایک اچھے خطیب اور امام کو تلاش کیجیے یقین جانیے آپ اتنااچھا پیکج دیں گے تو امام صاحب آپ کے پاس سے کہیں نہیں جائیں گے اپنے اہل علم اور با صلاحیت لوگوں کی قدر کیجیے انہیں ضائع مت کیجیے ۔

فہیم صا حب کی بات میں وزن تھا ۔۔۔۔۔۔میں ایک نئے عزم کے ساتھ اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگیا اور پھر کچھ کوششوں اور کاوشوں سے ہمیں ایک ایسی ہی شخصیت میسر آگئی ۔

محبت کا نسخہ

ہمارے گھر کے قریب ایک بیکری ہے..اکثرشام کے وقت کام سے واپسی پر میں وہاں سے صبح ناشتے کے لئے کچھ سامان لے کے گھر جاتا ہوں..آج جب سامان لے کے بیکری سے باہر نکل رہا تھا کہ ہمارے پڑوسی عرفان بھائی مل گئے...وہ بھی بیکری سے باہر آرہے تھے...میں نے سلام دعا کی اور پوچھا. "کیا لے لیا عرفان بھائی؟" کہنے لگے.
"کچھ نہیں حنیف بھائی! وہ چکن پیٹس تھے..اور جلیبیاں تھیں بیگم اور بچوں کے لئے". میں نے ہنستے ہوئے کہا..."کیوں..آج کیا بھابھی نے کھانا نہیں پکایا". کہنے لگے.."نہیں نہیں حنیف بھائی! یہ بات نہیں ہے...دراصل آج دفتر میں شام کے وقت کچھ بھوک لگی تھی تو ساتھیوں نے چکن پیٹس اور جلیبیاں منگوائیں ...میں نے وہاں کھائے تھے تو سوچا بیچاری گھر میں جو بیٹھی ہے وہ کہاں کھانے جائے گی..اس کے لئے بھی لے لوں... یہ تو مناسب نہ ہوا نہ کہ میں خود تو آفس میں جس چیز کا دل چاہے وہ کھالوں..اور بیوی بچوں سے کہوں کہ وہ جو گھر میں پکے صرف وہی کھائیں..."
میں حیرت سے ان کا منہ تکنے لگا ..کیوں کہ میں نے آج تک اس انداز سے نہ سوچا تھا. میں نے کہا..."اس میں حرج ہی کیا ہے عرفان بھائی! آپ اگر دفتر میں کچھ کھاتے ہیں تو...بھئی بھابھی اور بچوں کو گھر میں جس چیز کا دل ہوگا کھاتے ہوں گے". وہ کہنے لگے.."نہیں نہیں حنیف بھائی! وہ بیچاری تو اتنی سی چیز بھی ہوتی ہے میرے لئے الگ رکھتی ہے...یہاں تک کہ اڑوس پڑوس سے بھی اگر کسی کے گھر سے کوئی چیز آتی ہے تو اس میں سے پہلے میرا حصّہ رکھتی ہے..بعد میں بچوں کو دیتی ہے...اب یہ تو خود غرضی ہوئی نہ کہ میں وہاں دوستوں میں گل چھڑے اڑاؤں..."
میں نے حیرت سے کہا.."گل چھڑے اڑاؤں....یہ چکن پیٹس...یہ جلیبیاں...یہ گل چھڑے اڑآنا ہے عرفان بھائی؟ اتنی معمولی سی چیزیں.." وہ کہنے لگے..." کچھ بھی ہے حنیف بھائی! مجھے تو ڈر لگتا ہے کہ آخرت میں کہیں میری اسی بات پر پکڑ نہ ہو کہ کسی کی بہن بیٹی بیاہ کے لائے تھے...خود دوستوں میں مزے کر رہے تھے اور وہ بیچاری گھر میں بیٹھی دال کھارہی تھی..."
میں حیرت سے انہیں دیکھتا رہا..اور وہ بولے جارہے تھے.."دیکھئے...ہم جو کسی کی بہن بیٹی بیاہ کے لاتے ہیں نا...وہ بھی ہماری طرح انسان ہوتی ہے..اسے بھی بھوک لگتی ہے...اس کی بھی خواہشات ہوتی ہیں...اس کا بھی دل کرتا ہے طرح طرح کی چیزیں کھانے کا.....پہنے اوڑھنے کا...گھومنے پھرنے کا...اسے گھر میں پرندوں کی طرح بند کردینا...اور دو وقت کی روٹی دے کے اترانا ...کہ بڑا تیر مارا...یہ انسانیت نہیں...یہ خود غرضی ہے...اور پھر ہم جیسا دوسرے کی بہن اور بیٹی کے ساتھ کرتے ہیں...وہی ہماری بہن اور بیٹی کے ساتھ ہوتا ہے"
ان کے آخری جملے نے مجھے ہلا کے رکھ دیا...میں نے تو آج تک اس انداز سے سوچا ہی نہیں تھا.. میں نے کہا..."آفرین ہے عرفان بھائی! آپ نے مجھے سوچنے کا ایک نیا زاویہ دیا..." میں واپس پلٹا تو وہ بولے .."آپ کہاں جارہے ہیں؟"
میں نے کہا" آئسکریم لینے..........وہ آج دوپہر میں آفس میں آئسکریم کھائی تھی"

غصہ کا برا نتیجہ

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ
ایک ترکهان اپنی دکان بند کر کے گهر واپس گیا
تو کہیں سے گهومتا پهرتا ایک سیاہ کوبرا ناگ اس کی ورکشاپ میں گهس آیا۔
یہاں بظاہر تو ناگ کی دلچسپی کی کوئی چیز نہیں تهی پهر بهی ادهر سے ادهر اور اوپر سے نیچے جائزہ لیتا پهر رہا تها کہ اس کا دهڑ وہاں پڑی ایک آری سے ٹکرا کر بہت معمولی سا زخمی ہو گیا۔
گهبراہٹ میں ناگ نے پلٹ کر آری پر پوری قوت سے ڈنگ مارا۔
فولادی آری پر زور سے لگے ڈنگ نے آری کا آخر کیا بگاڑ دینا تها اُلٹا ناگ کے منہ سے خون بہنا شروع ہو گیا۔
اس بار خشونت اور تکبر میں ناگ نے اپنی سوچ اور خصلت کے عین مطابق آری کے گرد لپٹ کر، اسے جکڑ کر اور دم گهونٹ کر مارنے کی پوری کوشش کر ڈالی۔
.
دوسرے دن جب ترکهان نے ورکشاپ کهولی تو ایک ناگ کو آری کے گرد لپٹے ہوئے مردہ حالت میں پایا جو کسی اور وجہ سے نہیں محض اپنے طیش اور غصے کی بهینٹ چڑھ گیا تها۔
کہانی بهلے جاندار نہ ہو، عبرت اور سبق کیلئے چند اچهی باتیں اس سے اخذ ہوتی ہیں کہ:
بعض اوقات غصے میں ہم دوسروں کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں،
مگر وقت گزرنے کے بعد ہمیں یہ اندازہ ہوتا ہے
کہ ہم نے دوسروں کا نقصان کرنے کی کوشش میں اپنا زیادہ نقصان کر لیا ہے۔
اچهی زندگی گزارنے کے لئے بعض اوقات ہمیں
کچھ چیزوں کو
کچھ لوگوں کو
کچھ کاموں کو
کچھ باتوں کو
نظر انداز کرنا چاہیئے۔
.
اپنے آپ کو ذہانت کے ساتھ نظر انداز کرنے کا عادی بنائیے۔
ضروری نہیں کہ ہم ہر عمل کا ایک ردعمل دکهائیں۔
ہمارے کچھ ردعمل ہمیں محض نقصان ہی نہیں پہنچاتے
بلکہ ہو سکتا ہے کہ ہماری جان بهی لے لیں.....