Wednesday, 12 October 2016

تبلیغی جماعت

🌺  تحریر: غوث سیوانی، نئی دہلی🌺

آج جب کہ مسلمانوں کی صف میں انتشارہے اور ہر سطح پر پست دکھائی دیتے ہیں ان کے اندر اجتماعیت کی ایک بڑی دلیل کے طور پر تبلیغی جماعت نظر آتی ہے۔ یہ مسلمانوں کی سب سے بڑی دینی تحریک ہے جو ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے۔اس کے ممبران کی تعداد لاکھوں میں نہیں بلکہ کروڑوں میں ہے۔ اس کے چاہنے والوں اور عقیدت مندوں کی جماعت بھارت ، پاکستان اور بنگلہ دیش کے گاؤوں سے لے کر لندن اور نیو یارک تک پھیلی ہوئی ہے۔

اس کے اجتماعات میں جس طرح بنگلہ دیش میں لاکھوں افراد شریک ہوتے ہیں اسی طرح لندن میں بھی جمع ہوتے ہیں۔ جس طرح انڈونیشیا اور ملیشیا میں اس کے لئے مسلمانوں کی بھیڑ دیکھی جاتی ہے اسی طرح افریقی ملکوں میں بھی دیکھی جاتی ہے۔ ہریانہ کے ایک چھوٹے سے علاقے سے جو تحریک شروع ہوئی تھی آج اس کا پھیلاؤ دنیا کے بیشتر ملکوں میں ہو چکا ہے۔ انڈیا، پاکستان، امریکہ،انگلینڈ،کناڈا، سری لنکا،یمن، سابق سویت یونین،یوروپ اور افریقی ملکوں میں اس نے اپنا دائرہ پھیلالیا ہے۔ حیرت انگیز طور پر اس جماعت نے اصلاحی کام بھی کئے ہیں۔بہت سے دین سے دور مسلمانوں کو اس نے دینی مزاج عطا کیاہے اور ان کی اصلاح کی ہے۔

اس کے مخالفین تنقیدیں بھی کرتے رہے ہیں مگر اس سے اس جماعت کا کچھ نہیں بگڑا اور روز بروز اس کا دائرۂ اثر بڑھتا رہا۔ اس جماعت کی کوئی باقاعدہ ممبر شپ نہیں دی جاتی
اور نہ ہی رجسٹریشن ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ ممبران کا کوئی باقاعدہ حساب و کتاب بھی نہیں رکھا جاتاباوجود اس کے یہ ایک انتہائی منظم جماعت ہے۔اس جماعت کے کل کتنے ممبران ہیں

اس کا علم خود اس کے امیر کو بھی نہیں ہوتا۔ اس کے اجتماعات میں لاکھوں کی بھیڑ ہوتی ہے مگر کبھی بدامنی اور بے انتظامی نہیں ہوتی۔ حاضرین ایک دوسرے کی مدد کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

جماعت کی تاریخ

تبلیغی جماعت نے ۱۹۲۶ء میں اپنا پہلا مرکز راجدھانی دہلی کے حضرت نظام الدین بستی میں واقع بنگلہ والی مسجد میں کھولا۔ تب تک اس نے ایک بنیادی شکل ہی لی تھی اور اس کے کام کی ابتدا ہریانہ کے میوات سے ہوچکی تھی۔ اس کے بانی مولانا محمد الیاس کاندھلوی مرحوم ہیں جنھوں نے ایک مخلصانہ مقصد سے اسے قائم کیا۔ میوات کے علاقے میں میو مسلمانوں کی بڑی تعداد رہتی ہے جو راجپوت مسلمان ہیں۔ انھوں نے عہد وسطیٰ کے اخیر میں اسلام قبول کیا تھا اور ابھی اصلاح نہیں ہوپائی تھی۔ وہ نیم مسلم اور نیم ہندو تہذیب کے زیر سایہ جی رہے تھے۔ اسی دوران اس علاقے میں شدھی تحریک شروع ہوئی جس کا مقصد مسلمانوں کو ہندو بنانا تھا۔ ایک زمانے میں اس تحریک نے زور پکڑا تھا۔ اسی بیچ انگریز بھی مسلمانوں کو عیسائی بنانے کی کوشش میں لگے ہوئے تھے۔ بعض مسلمانوں نے اس کے اثر میں آکر اسلام سے ارتداد کا راستہ بھی اپنا لیا تھا۔ اسلام کے خلاف خطرات کے بادل گھرے ہوئے تھے جسے مولانا الیاس صاحب نے دل سے محسوس کیا اور انھوں نے مدرسہ مظاہر علوم سہارنپور سے اپنا درس و تدریس کا کام چھوڑ کر مسلمانوں کی اصلاح کا کام شروع کیا۔ انھیں لگا کہ مسلمانوں کو اسلام سے جوڑے رکھنے کا طریقہ صرف یہی ہے کہ ان کی دینی تربیت کی جائے اور انھیں تقویٰ سے آراستہ کیا جائے۔ چنانچہ وہ میوات کے مسلمانوں کی اصلاح کے کام میں مصروف ہوگئے۔تبلیغی جماعت کو انھوں نھے قائم کیا اور منظم شکل دی۔ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہونے لگے تھے کیونکہ مسلمانوں کی اصلاح ہونے لگی تھی انھوں نے کفر کے بجائے اسلام کے سائے میں جینا پسند کیااور بہت سے مرتد دوبارہ اسلام میں داخل ہوگئے۔

جماعت کا پھیلاؤ
تبلیغی جماعت نے جب ۱۹۲۶ء میں بستی حضرت نظام الدین کی بنگلے والی مسجد کو مرکز بنایا اس کے بعد اس کا تیزی سے پھیلاؤ ہوا۔ بانی جماعت ہی پہلے امیر قرار پائے اور انھوں نے نعرہ دیا’’اے مسلمانو! مسلمان بنو۔‘‘یہ گویا قرآن کی اس آیت کا ترجمہ تھا جس میں فرمایا یا ہے کہ ’’اے لوگو جو ایمان لائے ،اسلام میں پوری طرح داخل ہوجاؤ۔‘‘جماعت کا مقصد تھا کہ مسلمان قرآن اور سنت کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھال دیں۔۱۹۴۱ء میں اس کا پہلا اجتماع ہوا جس میں ۲۵ ہزار مسلمانوں نے شرکت کی۔ اس سے ظاہر ہے کہ ابتدائی دنوں میں ہی اسے مقبولیت ملنے لگی تھی۔ اس نے بیرون ملک اپنی پہلی جماعت۱۹۴۶ء میں بھیجی جو حجاز اور انگلینڈ کے دورے پر گئی تھی۔ ۱۹۸۰۔۱۹۷۰ء کی دہائی میں یہ پورے یوروپ و امریکہ میں پھیل چکی تھی۔ اس دوران اس کا ایشیا اور افریقہ کے ملکوں میں بھی پھیلنا جاری تھا۔بھارت ، پاکستان، بنگلہ دیش، اندونیشیا، ملیشیا اور سری لنکا میں تو جماعت نے بڑے پیمانے پر اپنا دائرہ بڑھادیا تھا۔ ۱۹۷۸ء میں انگلینڈ کی مرکزی مسجد،دیوس بری میں اس نے اپنا مرکزقائم کرنے میں کامیابی پائی۔ بعد میں یہاں مدرسہ بھی قائم ہوا جسے انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک ایجوکیشن کہا جانے لگا اور تبلیغی اجتماعات بھی ہونے لگے

۱۹۶۰ء میں تبلیغی جماعت فرانس میں پہنچی اور اگلے دس سال کے اندر اس نے یہاں اپنی جگہ بنا لی۔ ۱۹۸۹ء میں اس نے یہاں کی مذہبی کونسل میں اپنے ممبران کو اسلام کی نمائندگی کے لئے بھیجا۔ ۲۰۰۶ء میں فرانس کے اندر اس کے ممبران کی تعداد ایک لاکھ سے اوپر جاچکی تھی۔یونہی ۲۰۰۷ء تک انگلینڈ کی ۱۳۵۰ مسجدوں میں یہ پھیل چکی تھی۔

۱۹۹۱ء میں سویت یونین کے بکھراؤ کے بعد یہاں کے مسلمانوں میں دینی اصلاح کی شدید ضرورت تھی جو کمیونزم کے اثر کے تحت اپنے مذہب سے بیگانہ ہوچکے تھے،ایسے میں سنٹرل ایشیا کے ملکوں میں اس نے زبردست کردار ادا کیا اور مسلمانوں کو دین سے قریب کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ اس پورے خطے میں اس کا کام جاری ہے۔ ۲۰۰۷ء تک اس نے صرف کرغیزستان میں اپنے دس ہزار ممبر تیار کر لئے تھے جو اصلاحی کام میں لگے ہوئے تھے۔

امریکہ کی ایف بی آئی کا خیال ہے کہ اس کے پچاس ہزار ممبران صرف امریکہ میں سرگرم عمل ہیں اور ۲۰۰۸ء تک یہ دنیا کے ۲۱۳ ملکوں میں پھیل چکی تھی۔ قیاس ہے کہ اس کے کل ممبران کی تعداد ۱۵۰ ملین کے قریب قریب ہے۔ ان میں سب سے زیادہ جنوب ایشیا میں ہیں۔

خواتین کے بیچ کام
تبلیغی جماعت ابتدائی ایام سے مردوں کے بیچ کام کرتی رہی ہے اور انھیں کی اصلاح کا کام کرتی رہی ہے ،مگر ظاہر ہے کہ جس قدر مردوں کی اصلاح کی ضرورت ہے اسی قدر خواتین کی اصلاح کی بھی ضرورت ہے۔ اسی کے پیش نظر جماعت نے خواتین کے بیچ کام شروع کیا۔ پہلے تو خواتین کو جمع کرکے کوئی خاتون ہی ’’فضائل اعمال‘‘ پڑھاکرتی تھی مگر اب باقاعدہ طور پر خواتین کی بھی جماعت نکلتی ہے جو ایک شہر سے دوسرے شہر اور ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں گھومتی رہتی ہے۔مردوں کا قیام تو مسجدوں میں ہوتا ہے مگر خواتین کو کسی محفوظ مکان میں ٹھہرایا جاتا ہے لیکن انھیں خواتین کو اس سفر کی اجازت ملتی ہے جن کے ساتھ ان کے قریبی رشتہ دار ہوتے ہیں۔

کام کرنے کا طریقہ
تبلیغی جماعت کے کام کرنے کا طریقہ بہت ہی سادہ ہے۔ یہ اپنے لوگوں کو گھر گھر بھیجتے ہیں جو انھیں مسجدوں میں آنے کی دعوت دیتے ہیں۔ مسجد میں جہاں نماز ہوتی ہے، وہیں نماز کے بعد موجود لوگوں کو اسلام کے مطابق زندگی گذارنے اور آخرت کو بہتر کرنے کی تاکید کی جاتی ہے۔

تبلیغی جماعت کے ممبران لوگوں کو جماعت میں نکلنے کی دعوت دیتے ہیں اور اس کے تحت وہ لوگوں کو ایک مسجد سے دوسری مسجد اور ایک شہر سے دوسرے شہر لے کر گھومتے ہیں۔ اس دوران سفر اور مسجدوں میں قیام کے وقت وہ ایک دوسرے کی اصلاح کی کوشش کرتے ہیں اور نماز کی ترکیب و نیک اعمال کے فضائل بتاتے ہیں۔ ان کا قیام مسجدوں میں ہوتا ہے اور کھانا پینا بھی یہیں ہوتا ہے۔ جماعت میں نکلنے والے تین دن، دس دن، ایک مہینہ یا چار مہینے کے لئے چلّے پر نکلتے ہیں جو، ان کی سہولت کے مطابق ہوتا ہے۔ اس دوران یہ کسی ایک شہر یا ایک علاقہ یا ایک ملک کا سفر کرتے ہیں۔ اسے دین کے راستے میں نکلنا کہا جاتا ہے۔ عام طور پر نماز عصر کے بعد جماعت کے لوگ گھوم گھوم کر لوگوں کو نماز کی دعوت دیتے ہیں اور اگر کوئی شخص ان کے ساتھ سختی کرے تو بھی انتہائی حلم و بردباری کے ساتھ اسے برداشت کرتے ہیں۔

تعلیم کا طریقہ
تبلیغی جماعت لوگوں کی اصلاح کے لئے سیدھے طور پر قرآن و حدیث کی مدد لیتی ہے اور علماء اس میں شامل ہوتے ہیں۔ جماعت میں گھومنے والے اسلامی تربیت سے آگاہ ہوجاتے ہیں اور وہی ایک دوسرے کو اسلام کی بنیادی باتوں سے آگاہ کرتے رہتے ہیں۔ اس کا پورا نصاب ہی’ ’فضائل اعمال‘ ‘نامی کتاب ہے ،جسے پہلے’’ تبلیغی نصاب‘‘ کہا جاتا تھا مگر نہ جانے کن وجوہات سے اب اسے فضائل اعمال کا نام دے دیا گیا ہے۔ مولانازکریا رحمۃ اللہ علیہ کے کچھ رسالوں کو اس میں شامل کیا گیا ہے جن میں قرآن اور احادیث کی روایتوں کے مطابق کچھ نیک اعمال کے فضائل بیان کئے گئے ہیں۔ جن میں ایمان،نماز، ذکر، درود اور تبلیغ شامل ہیں۔ یہ کتاب عام طور پر جماعت کے حلقے میں پڑھی جاتی ہے اور سب لوگ بیٹھ کر سنتے ہیں۔ علاوہ ازیں جماعت کے داعیان کی اصلاحی تقریریں ہوتی ہیں ۔

تنظیم جماعت
تبلیغی جماعت کی تنظیم دوسری جماعتوں سے الگ ہے اور ان ضابطوں کو عام طور پر ملحوظ خاطر نہیں رکھا جاتا جن کا لحاظ دوسری تنظیمیں کرتی ہیں۔ اس کا ایک مرکزی امیر ہوتا ہے جس کا انتخاب ایک مجلس شوریٰ کرتی ہے۔ امیر عمر بھر کے لئے ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ علاقائی امیر ہوتے ہیں نیز جب جماعت کہیں باہر نکلتی ہے تو ممبران میں سے ایک شخص کو ان کا امیر بناکر بھیجا جاتا ہے جو ان کے معاملات کا نگراں ہوتا ہے اور سبھی ممبران اس کے احکام کی پیروی کرتے ہیں۔ جماعت کے سابق مرکزی امیروں میں مولانا محمد الیاس کاندھلوی، کے علاوہ مولانا محمد یوسف کاندھلوی، مولانا انعام الحسن کے نام قابل ذکر ہیں۔پاکستانی تبلیغی جماعت کے امیر حاجی عبدالوہاب کو دنیا کی بااثر شخصیات میں گنا جاتا ہے۔

جماعت کا اپنا کوئی باقاعدہ فنڈ نہیں ہوتا جب ضرورت پڑتی ہے تو اس کے خیر خواہ آپس میں چندہ جمع کرلیتے ہیں۔ بڑے بڑے اجتماعات کا اسی طرح انتظام ہوجاتا ہے۔
جن لوگوں کو تبلیغی جماعت نے متاثر کیا ان میں کئی بڑے بڑے نام شامل ہیں۔بھارت کے سابق صد جمہوریہ ڈاکٹر ذاکر حسین اور بنگلہ دیش کے اولین صدر شیخ مجیب الرحمٰن اس کے اجتماعات میں شامل ہوچکے ہیں۔ پاکستانی پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ پرویز الٰہی بھی جماعت کے مداحوں میں شامل رہے ہیں جنھوں نے اسے ایک بڑا قطعہ ارضی دیا تھا۔ پاکستانی کرکٹرس میں شاہد آفریدی، محمد یوسف، ثقلین مشتاق، انضمام الحق، سعید انور، وقار یونس، مشتاق احمدسمیت کئی سیلبیریٹیز نے اس سے وابستگی اختیار کی۔
بشکریہ فکروخبر

حافظ یعقوب صاحب کرہی

🔵 آہ حافظ محمد یعقوب صاحب اب نہیں رہے اناللہ و اناالیہ راجعون 🔵

محترم احباب کرام ، ہم تمام مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ یہ دنیا  فانی ہے  اور ہر ذی نفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے لیکن احباب کچھ انسان ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے کردار اور گفتار اور حسن  مزاج سے دنیا میں امر ہوجاتے ہیں انکے چلے جانے کے بعد بھی دنیا انہیں اچھے کلمات سے یاد کرتی ہے ۔ ایسے ہی  کرھی کی ایک فرشتہ صفت  شخصیت حافظ محمد یعقوب صاحب کی بھی تھی۔ جنہیں ہم اپنے لاشعوری کے زمانے سے ہی جانتے تھے۔   اور بچپن سے ہی انہیں ایسی حالت میں دیکھتے چلے آئے تھے انکے جسم کی ساخت کچھ اس طرح سے تھی قد لمبا اور چھریرا تھا نہ زیادہ موٹے تھے اور نہ زیادہ دبلے یعنی کہ متوسط الجسم تھے  چہرہ نورانی مشرع سفید داڑھی کے بال انکے چہرے پر نہایت ہی خوبصورت دکھتے تھے سفید کرتا اور لنگی انکا من پسند لباس تھا اور  دو پلی سفید ٹوپی ہمیشہ انکے سر کی زینت بنی رہتی تھی اپنی  پوری زندگی تجارت سے منسلک رہے  انہوں نے کبھی اپنے زندگی کے لمحات کو آزاد نہیں چھوڑا نہ وہ کبھی کسی کے  پاس بے مقصد لغو باتوں کے لیے بیٹھے اور نہ کسی کی غیبت کرکے اپنے اجر کو کم ہونے دیا وہ اعلی اخلاق کے مالک تھے جس سے ملتے اسکو اپنا بنا لیتے  ملنسار اور شگفتہ مزاج تھے نماز کے بیحد پابند اول وقت پر مسجد پہنچ جاتے تھے انصاری محلہ مسجد کے وہ روح و رواں تھے   ہر دینی کام میں وہ پیش پیش رہا کرتے تھے اپنے محلہ کی مسجد میں امام صاحب کی غیر موجودگی میں پیش امام کا کام بھی انجام دے دیا کرتے تھے  پورا گاؤں انہیں بڑی عزت اور قدر کی نگاہ سے دیکھتا تھا  ہر ایک کے جنازے  میں بلا امتیاز شریک ہوتے تھے میت کی تجہیز و تکفین میں بھی حصہ لیتے تھے میت کو غسل وغیرہ کے لئے بھی حافظ جی مدعو کئے جاتے تھے حافظ جی مکمل انسان تھے جنکی جتنی بھی تعریف کیجائے  کم ہے حافظ جی انسانیت کے علمبردار تھے انکی زندگی ہم لوگوں کے لئے ایک نمونہ تھی  آج کے اس دور میں جب کہ  انسان مسابقت کے حرص میں سب کچھ بھول جاتا ہے حرام و حلال کی تمیز نہیں کر پاتا رشتے اور ناطے کا لحاظ نہیں رکھ پاتا  اپنے مزاج  اور اپنی انا کو  اپنے تابع نہیں رکھ پاتا لیکن حافظ جی نے تاعمر اپنے زور بازو پر اعتماد کیا اپنے بچوں کو حرام کے مال سے ہمیشہ دور رکھا  اسی کا نتیجہ ہے کہ انکے بچے سب با مشرع اور دینی تعلیم سے آراستہ ہیں  حافظ جی سادہ لوح تھے کسی بھی شخص سے اونچی آواز میں بات نہیں کرتے تھے  اور نہ ہی پوری زندگی کسی سے دست گریباں ہوئے  اور  نہ انکی کٹورے جیسی آنکھ کبھی غصہ سے سرخ ہوئ اور نہ انکے ہونٹ کبھی غصہ میں لرزاں ہوئے اور نہ جسم کبھی بے قابو ہوا اور نہ انکے قدم کبھی غصہ سے لڑکھڑائے  اور نہ ہی دل میں کسی کی بدی  کو محفوظ کرکے رکھا اسی لئے پورا گاؤں آج انکی موت پر آبدیدہ ہے شاید آج میرے گاؤں کی فضا بھی سوگوار ہو۔  کیونکہ یہ انسان ہی ایسے تھے جو ہر دلعزیز تھے اور ہر شخص کے دل میں بستے تھے چاہے بندو ہو یا مسلم یا ذات بھی کوئی ہو وہ سبکے نور نظر تھے  حافظ جی کا جانا ہم سبکو کے لئے تکلیف دہ ہے ایسے انسان بہت کم ہی ہوتے ہیں جو اشرف المخلوقات کے مصداق پر مکمل کھرے اترے ہوں اور جنہوں نے اپنے  دنیا میں آنے کا مقصد سمجھ لیا ہو اور تا زندگی اس پر عمل کیا ہو اور جنہوں نے دنیا کی چمک کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھا ہو  اور دنیا کی زندگی کو ایک مسافرت کی زندگی سمجھکر پوری زندگی اسکی تیاری میں صرف کردیا ہو واقعی میں وہ ولی صفت تھے  جنہوں نے اپنے دامن کو ہمیشہ صاف و شفاف رکھا  کبھی بھی دنیا کی گندگی سے اسے ناپاک نہیں ہونے دیا  اللہ تعالی انہیں غریق رحمت کرے اور انکی قبر کو نور سے بھر دے اور موت کے بعد کے تمام مراحل کو اللہ تعالی اپنے فضل و کرم سے آسان فرمادے  اور انکے لواحقین  کو صبر جمیل کی توفیق  عطا فرما کر اجر عظیم  سے مستفیض فرمادے اور ہم سبکو انکا نعم البدل عطا فرمائے ۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین

✒طالب دعا : انظر حسین کرھی

ہمارے خاندان کا ایک ستارہ جو ٹوٹ گیا

🍃ہمارے خاندان کا 🍃
🌿ایک ستارہ جو ٹوٹ گیا 🌿

محترم جناب حافظ یعقوب صاحب میرے حقیقی خالو تھے. آج وہ اس دار فانی سے کوچ کر گئے
انّا للہ و انا الیہ راجعون. میرے خالو ہمارے خاندان کے وہ معزز شخصیت تھے کہ وہ ہمارے سارے معاملات طے کر تے تھے ان کی بات حرف آخر ہوتی تھی.

آج ہمارے خاندان پر غموں کا پہاڑ ٹوٹا ہے ان کی جدائی میں خاندان کے سبھی افراد زارو زار رو رہے ہیں. میں ممبئی میں ہوں فجر کی نماز سے قبل جب والد محترم کا فون آیا تب ہی دل ڈھڑک گیا. کہ بے موقع فون کوئی خطرے کی علامت ہو سکتا ہے. آخر وہی ہوا جب والد محترم نے روتے ہوئے یہ خبر سنائی کہ آج ہم تیرے خالو کے سائے سے محروم ہو گئے. اور کیوں نہ روئیں کیوں نہ آنسو بہائیں. میرے خالو تھے ہی ایسے ایک حقیقی باپ اپنی اولاد سے کیا محبت کریگا جتنا میرے خالو خاندان کے ہر فرد سے محبت کرتے تھے.

آہ میرے خالو آپ کے کون کون سے اوصاف جمیلہ پر قلم چلاؤں کن کن خوبیوں کا تذکرہ کروں آپ تو حسنات کے پیکر تھے. جب سے میں باشعور ہوا کبھی بھی آپ کو لایعنی باتوں کا مرتکب نہیں پایا. سیآت سے آپ کوسوں دور رہتے تھے.

قرآن کی تلاوت سے بڑا شغف تھا آپ کو. اللہ نے بڑی پیاری آواز عطا فرمائی تھی. قرآن کی تلاوت گھر پر بآواز بلند فرمایا کرتے تھے. ایک سماع بندھ جاتا تھا. بہت ڈوب کر قرآن پاک کی تلاوت فرمایا کرتے تھے. ایک مرتبہ میں گھر پر موجود تھا مجھے طلب کئے اور کہا کہ میرا قرآن سنو اللہ اللہ میرے کانوں میں آج بھی وہ سورہ مریم کی تلاوت گونج رہی ہے. ترتیل اور تجوید کے ساتھ اور میرے خالو کی لحن داؤدی نے بہت مسحور کیا دل باغ باغ ہو گیا. یقین نہیں آرہا ہے کہ وہ میرے خالو آج ہم سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے رخصت ہو گئے. اور کیوں نہ ایسا قرآن پڑھتے اتنے عظیم استاد الا ساتذہ حافظ و قاری بنیاد علی صاحب نوراللہ مرقدہ بہاری کے شاگرد تھے.

میرے خالو جب فجر کی نماز میں سورہ رحمان کی تلاوت کرتے تھے تو دل خوش ہو جاتا ایک عرصہ تک آپ فجر کی نماز پڑھایا کرتے تھے اور طوال مفصّل ہی اختیار کر تے تھے. آپ جہاں پر حددرجہ شفیق و مہربان تھے وہیں پر منکرات پر بہت نکیر فرمایا کرتے تھے. کیا کسی خاندان کی عورت یا بچے کی ہمت ہوتی کہ آپ کی موجودگی میں زبان سے کوئی بد الفاظ ادا کر دیتے. اللہ نے آواز میں اور آپ کی شخصیت میں ایک رعب و دبدبہ عطا کیا تھا. کہ ایک آواز نکالتے تو سب سہم جاتے اور خاموشی اختیار کر لیتے. آہ آج میرا وہ خالو دنیا سے کوچ کر گیا. جس کی وجہ سے ہم بچپن میں زبان سے کوئی بد جملہ ادا نہیں کرتے تھے. خالو آپ کے احسانوں کا بدلہ ہم نہیں چکا پائیں گے. کیونکہ آپ نے وہ علمی شمع روشن کی ہے کہ آپ کے خاندان کا بچہ بچہ حافظ عالم نہیں تو کم از کم باشرع ضرور نظر آئے گا.

میرے بابا جو کہ دعوت و تبلیغ سے جڑے ہوئے تھے اور بزرگوں کے صحبت یافتہ تھے
میرے خالو کو بچپن میں اپنے پاس لے آئے تھے اور تعلیم و تربیت اپنے پاس رکھ کئے اس کا احسان کا بدلہ میرے پیارے خالو نے بہترین طریقہ پر ادا کیا ہمیشہ میرے بابا کے حق میں قرآن پاک کا ھدیہ بھیجتے تھے. ایک مرتبہ ایک جنازے میں شرکت کیلئے میرا خالو کے ساتھ گاؤں کی قبرستان میں جانا ہوا. میں نے ایسے ہی خالو سے کہا کہ خالو بابا کی مغفرت ہو گئی ہوگی خالو نے برجستہ کہا مغفرت کی سوچ رہے ہو میں اب ان کے درجات کے بلندی کی دعا کر رہا ہوں اور وہ میرے کئی بار خوابوں میں آ چکے ہیں. اللہ ہر مسلمان کو ایسے محبین عطا فرمائے

میرے خالو جب شام ہوگی سورج غروب ہو گا ہر طرف اندھیرا چھا جائے گا اب وہ آپ کی پیاری پیاری قرآن کی تلاوت کون سنائے گا خالو جب خاندان کے لوگوں میں آپ کی آواز نہیں آئے گی تو سب کیسے برداشت کریں گے ہرشام آپ کو یاد کر کے آنسو بہائیں گے وہ آپ کی اذان کی آواز نہیں سنیں گے تو چین کیسے نصیب ہو گا. خالو آپ کی یاد ہم سب کو بہت ستائے گی اور ہمیشہ ستائے گی. خالو آپ کے جانے کے بعد اب ہمارا خاندان یتیم ہوگیا. آپ سایہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اٹھ گیا. خالو ایک نومبر کو میرا ٹکٹ ہے آپ ملے بغیر چلے گئے. خالو گھر پہنچنے کے بعد آپ کو نہ دیکھ کر کیسے برداشت ہوگا. خالو ہم آپ کو کبھی نہیں بھولیں گے ہمیشہ جتنا ممکن ہو سکے گا آپ کے لئے نیکی کا ھدیہ ارسال کرتے رہیں گے. لیکن پھر بھی آپ کے احسان کا بدلہ نہیں ہو سگے گا.

دعا ہے
اے رب کائنات تیرے دربار عالی میں حقیر و فقیر سراپا گناہوں میں ڈوبا ہوا تیرا عاجز بندہ دعا گو ہوں کہ میرے خالو حافظ یعقوب صاحب کی بال بال مغفرت فرما اور ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرما اور ان کے درجات کو بلند فرما آمین ثم آمین یا رب العالمین

Friday, 7 October 2016

نماز آخری سہارا ثابت ہوئی

🔵 ایسی تحریر جو آپ کو سوچنے پر مجبور کر دے 🔵

میں جلدی جلدی آفس سے گھر آیا۔۔ اور اماں کو کھانے کا کہہ کر وضو کرنے چلا گیا۔۔۔  مغرب کا وقت ختم ہونے والا تھا۔۔

جیسے تیسے وضو کیا اور نیت باندھ لی۔۔۔ دوران نماز بار بار اپنے گیلے چہرے کو اپنی کھلی آستینوں سے صاف کرتا رہتا۔۔۔

رکوع میں جاتے خیال آیا:
" اماں کی دوائی تو لانا بھول ہی گیا۔۔۔  اوہ واپسی پر بچوں کی فیس کیلئے پیسے بھی اے ٹی ایم سے نکالنے تھے.۔۔

پھر سجدہ کیا تو وہاں بھی گھریلو ذمہ داریاں ایک ایک کر کے یاد آنے لگیں۔۔۔۔ تھکاوٹ کی وجہ سے نماز میں نیند کی جھٹکے آنے لگے.۔۔ بس پھر کیا تھا سجدے میں جاتے ہی نیند (غنودگی) کا جھونکا آ گیا۔۔۔۔

نیند میں عجیب منظر دیکھا۔۔۔
لوگوں کا ہجوم۔۔۔ ہر کوئی یہاں وہاں بھاگ رہا تھا۔۔۔ کچھ لوگ کاغذ تقسیم کر رہے تھے۔۔ میرے پاس آکر بھی کاغذ تھما دیا۔۔ جس پر میرا نام لکھا تھا۔۔

پوچھنے پر بتایا گیا یہ تمہارا اعمال نامہ ہے۔۔ اب جا کر وہاں سامنے جمع کروا دو جہاں باقی سب جمع کروا رہے ہیں۔۔ 
پھر نام پکارا جائیگا فیصلے کیلئے...
میں نے بھی جا کر کاغذ جمع کروا دئیے اور لائن میں واپس آگیا اور اپنے نام پکارے جانے کا انتظار کرنے لگا۔۔۔۔
نام پکارا جانے لگا.۔۔
" فلاں بن فلاں : جنت "
" فلاں بن فلاں : جنت "
اب تیسرے نمبر پر میرا نام پکارا گیا۔۔ میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔۔ یا اللہ اب کیا بنے گا۔۔۔
ساتھ ہی فیصلہ بھی سنا دیا گیا " جہنم "

مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔۔  دو  قد آور لوگ آئے اور مجھے گھسیٹنے لگے۔۔  میں پکارنے لگا رکو رکو.....
۔۔۔ شاید یہ کسی اور کا نام ہوگا۔۔ میرا تو  " جنت " والوں میں  آنا تھا۔۔۔
مگر مجھے غصے سے خاموش کروا دیا گیا.
" ہمارے ہاں فیصلے میں غلطی کا امکان ہی نہیں "

مجھے جہنم کیطرف گھسیٹا جا رہا تھا اور میں مدد کی بھیک مانگتا جاتا۔۔۔
نہ میں جھوٹ بولتا تھا۔۔۔ نہ دھوکہ فریب دیتا۔۔۔ نہ شراب اور زنا جیسے کام میں ملوث تھا۔۔ پھر جہنم کیوں.!!! مگر کوئی سننے کو تیار نہیں تھا۔۔۔

جہنم کی  گرمی مجھے محسوس ہونے لگی۔۔ اندھیرے گڑھے میں مجھے پھینکنے کو تیار کھڑے تھے۔۔۔  مجھے اچانک اپنی نماز کا خیال آیا۔۔۔ نماز ۔۔۔۔ نماز ۔۔۔۔ کہاں ہو تم....؟؟؟
نماز بھی خاموش۔۔۔

جہنم کی آگ کے شعلے مجھ سے لپٹنے کو بے چین ہو رہے تھے۔۔۔ اور مجھے جہنم میں دھکّا دے دیا گیا. مجھے جیسے ہی دھکا دیا ایک سفید بزرگ نے فورا میرا ہاتھ تھام لیا اور مجھے جہنم سے باہر کھینچتے ہوئے باہر نکالا۔۔۔
میں ڈر سے کانپ رہا تھا۔۔۔ پوچھنے لگا۔۔ آپ کون ہیں اور مجھے کیوں بچایا.!!!
کہنے لگے میں تمہاری نماز ہوں۔۔ میں غصے سے چلایا ۔۔ اب آرہے ہو جب میں جہنم میں ڈالنے جا رہا تھا؟؟؟ اگر عین وقت پر تم نہ آتے تو میں تو چلا گیا تھا جہنم میں۔۔۔۔ پہلے نہیں آسکتے تھے تم؟؟؟
بزرگ کہنے لگے۔۔۔  جیسے تم مجھے تاخیر سے پڑھتے تھے کبھی وقت پر نہیں پڑھا ویسے ہی میں بھی  تاخیر سے آیا ہوں۔۔۔۔ کبھی تم نے مجھے وقت پر پڑھا ہی نہیں تو میں وقت پر کیسے آتا۔۔۔۔
میری  اکھڑی اکھڑی سانس اب قدرے بحال ہونے لگی۔۔۔

میری ماں نے آکر مجھے سجدے میں ہلایا تو میری آنکھ کھلی۔۔۔
بیٹا خیر ہے؟؟ تم " نماز، نماز پکار رہے تھے سجدے میں۔۔۔ میں حیرت سے خود کو ٹٹولنے لگا کہ میں زندہ ہوں۔۔!!
پسینے سے شرابور۔۔
ماں کے ہاتھوں کو چومنے لگا۔۔۔۔۔ اللہ کا شکر ادا کرنے لگا جیسے دوبارہ نئی زندگی ملی ہو مجھے۔۔.
اور
میں نے پختہ ارادہ کیا کہ آئندہ نماز میں کبھی سستی نہیں کروں گا.

اب میں جہاں کہیں بهی جاتا ہوں تو وہاں بھی نماز کی فکر رہتی ہے۔۔۔ کان ہر وقت آذان سننے کو تیار رہتے ہیں ۔۔ اب میں لیٹ نہیں ہونا چاہتا نماز میں۔۔

دوستو ! چاہے دنیا کے کسی کونے میں کیوں نہ ہوں۔۔۔  کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہوں۔۔۔۔۔ زمین یہاں سے وہاں ہی کیوں نہ کر دی جائے۔۔۔ بس یہ یاد رکھنا۔
"نماز اپنے وقت پر ادا کرنا نہ بھولنا"

●  share ضرور کریں.

صرف 1 منٹ ہی لگے گا، ہو سکتا ہے کوئی توبہ کرکے نماز کا پابند بن جائے اور آپ کے لئے صدقِہ جاريہ بن جائے.
جزاك الله خیرا...

⭕   ⭕

Thursday, 15 September 2016

حاجی امداد اللہ صاحب رحمۃاللہ علیہ کی ولادت و وفات

حاجی امداد اللہ پیدائش : 1818ء

وفات: 1899ء

ولادتترميم

صوفی بزرگ ، عالم دین ، نانوتہ ضلع سہارن پور (اتر پردیش ) بھارت میں‌ پیداہوئے ۔ نسب کے لحاظ سے فاروقی تھے۔ سات برس کی عمر میں یتیم ہوگئے ۔ ذاتی شوق سے فارسی اور عربی کی تعلیم حاصل کی ۔ دہلی جا کر اس وقت کے فضلاء اجل سے تفسیر ، حدیث اور فقہ کا درس لیا۔ بعد ازاں حضرت میاں جی نور محمد جھنجھانوی (میانجو) کی توجہ خاص سے سلوک کی منازل طے کیں اور خرقہ خلافت حاصل کیا۔ 1844ء میں حج بیت اللہ سے مشرف ہوئے۔ وطن واپس آکر رُشد و ہدایت کا سلسلہ شروع کیا۔

آپ کے متبعین میں عوام مولانا رشید احمد گنگوہی مولانا محمد یعقوب نانوتوی ، مولانا اشرف علی تھانوی ، مولانا فیض الحسن سہارن پوری ، شیخ الہند مولانا محمود الحسن اور مولانا حسین احمد مدنی جیسے بلند پایہ علماء دین بھی شامل تھے۔ 1859ء میں‌آپ ہندوستان سے ہجرت کرکے مکہ معظمہ چلے گئے اور بقیہ زندگی وہیں بسر کی۔ اس لیے مہاجر مکی کے لقب سے مشہور ہیں۔ وفات کے بعد جنت اللعلی میں دفن ہوئے۔ علم دین اور تصوف پر تقریباً دس کتب ، جہاد اکبر ، گلزار معرفت، مرقومات امدایہ ، مکتوبات امدادیہ ، درنامہ غضب ناک ، ضیاء القلوب، تصنیف کیں۔ حضرت حاجی صاحب  نسباً فاروقی تھے، آپ کا سلسلہ نسب پچیس واسطوں سے سلسلہ تصوف کے مشہور بزرگ حضرت ابراہیم بن ادہم رحمة الله علیہ سے ملتا ہے۔ آپ کے والدماجد کا اسم گرامی محمد امین تھا۔حضرت حاجی صاحب1233ھ میں تھانہ بھون میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم وتربیت کے بعد حجاز مقدس چلے گئے ۔ حجاز سے واپس تشریف لائے تو ارشادو تلقین سے ہندوستان کو منور کر دیا۔ الله تعالٰیٰ نے انہیں دل ودماغ کی بہت سی خوبیوں سے نوازا تھا، آپ انیسویں صدی کی تین عظیم الشان تحریکوں کا منبع تھے:

مسلمانوں کی دینی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے جو تحریک انیسویں صدی میں شروع ہوئی اور جس نے بالآخر دیوبند کی شکل اختیار کی ، انہی کے خلفا ومریدین کی پُرخلوص جدوجہد کا نتیجہ تھی۔

باطنی اصلاح وتربیت کے لیے انیسویں صدی کے آخر اوربیسویں صدی کے شروع میں حضرت حاجی امداد الله صاحب  کے خلیفہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی او رحضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمة الله علیہ کے مرید حضرت مولانا محمد الیاس رحمة الله علیہ کی کوششیں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ الله تعالٰیٰ نے انہیں جو دینی بصیرت اور جذبہ عنایت فرمایا تھا ، اس کی مثال اس عہد میں مشکل سے ملے گی۔

انیسویں صدی کی تیسری اہم تحریک آزادیٴ وطن کی تھی ، اس سلسلہ میں خود حضرت صاحب  او ران کے متعلقین نے جوکارہائے نمایاں سر انجام دیے، وہ ہندوستان کی تاریخ میں آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں ۔ حضرت حاجی صاحب  کی والدہ ماجدہ شیخ علی محمد صدیقی نانوتوی کی صاحبزادی اور حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمة الله علیہ بانی چمنستان ( دارالعلوم دیوبند) کے خاندان سے تھیں ۔ آپ جب پیدا ہوئے تو والد ماجد نے امداد حسین نام رکھا، تاریخی نام ” ظفر احمد‘ ‘ ہے۔ حضرت شاہ محمد اسحاق محدث دہلوی نے آپ کا نام بجائے امداد حسین کے امدادالله کر دیا، پہلا نام پسند نہ آیا کہ اس سے شرک کی بو آتی ہے ، چناں چہ اس نام کو حاجی صاحب  نے بھی ترک کر دیا اور کتابوں نیز خطوط میں ہمیشہ امدادلله ہی لکھا کرتے تھے۔