Friday, 7 October 2016

نماز آخری سہارا ثابت ہوئی

🔵 ایسی تحریر جو آپ کو سوچنے پر مجبور کر دے 🔵

میں جلدی جلدی آفس سے گھر آیا۔۔ اور اماں کو کھانے کا کہہ کر وضو کرنے چلا گیا۔۔۔  مغرب کا وقت ختم ہونے والا تھا۔۔

جیسے تیسے وضو کیا اور نیت باندھ لی۔۔۔ دوران نماز بار بار اپنے گیلے چہرے کو اپنی کھلی آستینوں سے صاف کرتا رہتا۔۔۔

رکوع میں جاتے خیال آیا:
" اماں کی دوائی تو لانا بھول ہی گیا۔۔۔  اوہ واپسی پر بچوں کی فیس کیلئے پیسے بھی اے ٹی ایم سے نکالنے تھے.۔۔

پھر سجدہ کیا تو وہاں بھی گھریلو ذمہ داریاں ایک ایک کر کے یاد آنے لگیں۔۔۔۔ تھکاوٹ کی وجہ سے نماز میں نیند کی جھٹکے آنے لگے.۔۔ بس پھر کیا تھا سجدے میں جاتے ہی نیند (غنودگی) کا جھونکا آ گیا۔۔۔۔

نیند میں عجیب منظر دیکھا۔۔۔
لوگوں کا ہجوم۔۔۔ ہر کوئی یہاں وہاں بھاگ رہا تھا۔۔۔ کچھ لوگ کاغذ تقسیم کر رہے تھے۔۔ میرے پاس آکر بھی کاغذ تھما دیا۔۔ جس پر میرا نام لکھا تھا۔۔

پوچھنے پر بتایا گیا یہ تمہارا اعمال نامہ ہے۔۔ اب جا کر وہاں سامنے جمع کروا دو جہاں باقی سب جمع کروا رہے ہیں۔۔ 
پھر نام پکارا جائیگا فیصلے کیلئے...
میں نے بھی جا کر کاغذ جمع کروا دئیے اور لائن میں واپس آگیا اور اپنے نام پکارے جانے کا انتظار کرنے لگا۔۔۔۔
نام پکارا جانے لگا.۔۔
" فلاں بن فلاں : جنت "
" فلاں بن فلاں : جنت "
اب تیسرے نمبر پر میرا نام پکارا گیا۔۔ میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔۔ یا اللہ اب کیا بنے گا۔۔۔
ساتھ ہی فیصلہ بھی سنا دیا گیا " جہنم "

مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔۔  دو  قد آور لوگ آئے اور مجھے گھسیٹنے لگے۔۔  میں پکارنے لگا رکو رکو.....
۔۔۔ شاید یہ کسی اور کا نام ہوگا۔۔ میرا تو  " جنت " والوں میں  آنا تھا۔۔۔
مگر مجھے غصے سے خاموش کروا دیا گیا.
" ہمارے ہاں فیصلے میں غلطی کا امکان ہی نہیں "

مجھے جہنم کیطرف گھسیٹا جا رہا تھا اور میں مدد کی بھیک مانگتا جاتا۔۔۔
نہ میں جھوٹ بولتا تھا۔۔۔ نہ دھوکہ فریب دیتا۔۔۔ نہ شراب اور زنا جیسے کام میں ملوث تھا۔۔ پھر جہنم کیوں.!!! مگر کوئی سننے کو تیار نہیں تھا۔۔۔

جہنم کی  گرمی مجھے محسوس ہونے لگی۔۔ اندھیرے گڑھے میں مجھے پھینکنے کو تیار کھڑے تھے۔۔۔  مجھے اچانک اپنی نماز کا خیال آیا۔۔۔ نماز ۔۔۔۔ نماز ۔۔۔۔ کہاں ہو تم....؟؟؟
نماز بھی خاموش۔۔۔

جہنم کی آگ کے شعلے مجھ سے لپٹنے کو بے چین ہو رہے تھے۔۔۔ اور مجھے جہنم میں دھکّا دے دیا گیا. مجھے جیسے ہی دھکا دیا ایک سفید بزرگ نے فورا میرا ہاتھ تھام لیا اور مجھے جہنم سے باہر کھینچتے ہوئے باہر نکالا۔۔۔
میں ڈر سے کانپ رہا تھا۔۔۔ پوچھنے لگا۔۔ آپ کون ہیں اور مجھے کیوں بچایا.!!!
کہنے لگے میں تمہاری نماز ہوں۔۔ میں غصے سے چلایا ۔۔ اب آرہے ہو جب میں جہنم میں ڈالنے جا رہا تھا؟؟؟ اگر عین وقت پر تم نہ آتے تو میں تو چلا گیا تھا جہنم میں۔۔۔۔ پہلے نہیں آسکتے تھے تم؟؟؟
بزرگ کہنے لگے۔۔۔  جیسے تم مجھے تاخیر سے پڑھتے تھے کبھی وقت پر نہیں پڑھا ویسے ہی میں بھی  تاخیر سے آیا ہوں۔۔۔۔ کبھی تم نے مجھے وقت پر پڑھا ہی نہیں تو میں وقت پر کیسے آتا۔۔۔۔
میری  اکھڑی اکھڑی سانس اب قدرے بحال ہونے لگی۔۔۔

میری ماں نے آکر مجھے سجدے میں ہلایا تو میری آنکھ کھلی۔۔۔
بیٹا خیر ہے؟؟ تم " نماز، نماز پکار رہے تھے سجدے میں۔۔۔ میں حیرت سے خود کو ٹٹولنے لگا کہ میں زندہ ہوں۔۔!!
پسینے سے شرابور۔۔
ماں کے ہاتھوں کو چومنے لگا۔۔۔۔۔ اللہ کا شکر ادا کرنے لگا جیسے دوبارہ نئی زندگی ملی ہو مجھے۔۔.
اور
میں نے پختہ ارادہ کیا کہ آئندہ نماز میں کبھی سستی نہیں کروں گا.

اب میں جہاں کہیں بهی جاتا ہوں تو وہاں بھی نماز کی فکر رہتی ہے۔۔۔ کان ہر وقت آذان سننے کو تیار رہتے ہیں ۔۔ اب میں لیٹ نہیں ہونا چاہتا نماز میں۔۔

دوستو ! چاہے دنیا کے کسی کونے میں کیوں نہ ہوں۔۔۔  کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہوں۔۔۔۔۔ زمین یہاں سے وہاں ہی کیوں نہ کر دی جائے۔۔۔ بس یہ یاد رکھنا۔
"نماز اپنے وقت پر ادا کرنا نہ بھولنا"

●  share ضرور کریں.

صرف 1 منٹ ہی لگے گا، ہو سکتا ہے کوئی توبہ کرکے نماز کا پابند بن جائے اور آپ کے لئے صدقِہ جاريہ بن جائے.
جزاك الله خیرا...

⭕   ⭕

Thursday, 15 September 2016

حاجی امداد اللہ صاحب رحمۃاللہ علیہ کی ولادت و وفات

حاجی امداد اللہ پیدائش : 1818ء

وفات: 1899ء

ولادتترميم

صوفی بزرگ ، عالم دین ، نانوتہ ضلع سہارن پور (اتر پردیش ) بھارت میں‌ پیداہوئے ۔ نسب کے لحاظ سے فاروقی تھے۔ سات برس کی عمر میں یتیم ہوگئے ۔ ذاتی شوق سے فارسی اور عربی کی تعلیم حاصل کی ۔ دہلی جا کر اس وقت کے فضلاء اجل سے تفسیر ، حدیث اور فقہ کا درس لیا۔ بعد ازاں حضرت میاں جی نور محمد جھنجھانوی (میانجو) کی توجہ خاص سے سلوک کی منازل طے کیں اور خرقہ خلافت حاصل کیا۔ 1844ء میں حج بیت اللہ سے مشرف ہوئے۔ وطن واپس آکر رُشد و ہدایت کا سلسلہ شروع کیا۔

آپ کے متبعین میں عوام مولانا رشید احمد گنگوہی مولانا محمد یعقوب نانوتوی ، مولانا اشرف علی تھانوی ، مولانا فیض الحسن سہارن پوری ، شیخ الہند مولانا محمود الحسن اور مولانا حسین احمد مدنی جیسے بلند پایہ علماء دین بھی شامل تھے۔ 1859ء میں‌آپ ہندوستان سے ہجرت کرکے مکہ معظمہ چلے گئے اور بقیہ زندگی وہیں بسر کی۔ اس لیے مہاجر مکی کے لقب سے مشہور ہیں۔ وفات کے بعد جنت اللعلی میں دفن ہوئے۔ علم دین اور تصوف پر تقریباً دس کتب ، جہاد اکبر ، گلزار معرفت، مرقومات امدایہ ، مکتوبات امدادیہ ، درنامہ غضب ناک ، ضیاء القلوب، تصنیف کیں۔ حضرت حاجی صاحب  نسباً فاروقی تھے، آپ کا سلسلہ نسب پچیس واسطوں سے سلسلہ تصوف کے مشہور بزرگ حضرت ابراہیم بن ادہم رحمة الله علیہ سے ملتا ہے۔ آپ کے والدماجد کا اسم گرامی محمد امین تھا۔حضرت حاجی صاحب1233ھ میں تھانہ بھون میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم وتربیت کے بعد حجاز مقدس چلے گئے ۔ حجاز سے واپس تشریف لائے تو ارشادو تلقین سے ہندوستان کو منور کر دیا۔ الله تعالٰیٰ نے انہیں دل ودماغ کی بہت سی خوبیوں سے نوازا تھا، آپ انیسویں صدی کی تین عظیم الشان تحریکوں کا منبع تھے:

مسلمانوں کی دینی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے جو تحریک انیسویں صدی میں شروع ہوئی اور جس نے بالآخر دیوبند کی شکل اختیار کی ، انہی کے خلفا ومریدین کی پُرخلوص جدوجہد کا نتیجہ تھی۔

باطنی اصلاح وتربیت کے لیے انیسویں صدی کے آخر اوربیسویں صدی کے شروع میں حضرت حاجی امداد الله صاحب  کے خلیفہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی او رحضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمة الله علیہ کے مرید حضرت مولانا محمد الیاس رحمة الله علیہ کی کوششیں خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ الله تعالٰیٰ نے انہیں جو دینی بصیرت اور جذبہ عنایت فرمایا تھا ، اس کی مثال اس عہد میں مشکل سے ملے گی۔

انیسویں صدی کی تیسری اہم تحریک آزادیٴ وطن کی تھی ، اس سلسلہ میں خود حضرت صاحب  او ران کے متعلقین نے جوکارہائے نمایاں سر انجام دیے، وہ ہندوستان کی تاریخ میں آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں ۔ حضرت حاجی صاحب  کی والدہ ماجدہ شیخ علی محمد صدیقی نانوتوی کی صاحبزادی اور حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمة الله علیہ بانی چمنستان ( دارالعلوم دیوبند) کے خاندان سے تھیں ۔ آپ جب پیدا ہوئے تو والد ماجد نے امداد حسین نام رکھا، تاریخی نام ” ظفر احمد‘ ‘ ہے۔ حضرت شاہ محمد اسحاق محدث دہلوی نے آپ کا نام بجائے امداد حسین کے امدادالله کر دیا، پہلا نام پسند نہ آیا کہ اس سے شرک کی بو آتی ہے ، چناں چہ اس نام کو حاجی صاحب  نے بھی ترک کر دیا اور کتابوں نیز خطوط میں ہمیشہ امدادلله ہی لکھا کرتے تھے۔

Friday, 19 August 2016

موئے زیر ناف

موئے زير ناف كي حد صفائي كے اعتبار سے كهاں سے كهاں تك هے اور اس کی کیا مدت ہے ؟؟؟
الجواب 👇👇👇
# ﻧﺎﻑ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺑﺎﻝ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﺎﭨﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ
ﺳﻮﺍﻝ :
ﺯﯾﺮ ﻧﺎﻑ ﺑﺎﻝ ﮐﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﺎﭨﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺍﻧﮑﯽ ﺣﺪ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ؟
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮒ ﻧﺎﻑ ﺳﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﮐﺮ ﺍﻭﺭ ﺁﺩﮬﯽ ﺁﺩﮬﯽ ﺭﺍﻧﻮﮞ ﺗﮏ ﺑﺎﻝ ﺻﺎﻑ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﻣﮑﻤﻞ ﺭﺍﻧﯿﮟ ﯾﻌﻨﯽ ﮔﮭﭩﻨﻮﮞ ﺗﮏ ﺑﺎﻝ ﺻﺎﻑ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﻟﻮﮒ ﺻﺮﻑ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺳﯽ ﺟﮕﮧ ﺳﮯ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ۔
ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﻟﻮﮒ ﺳﺮﯾﻦ ( ﺩﺑﺮ ) ﮐﮯ ﺑﺎﻝ ﺑﮭﯽ ﺻﺎﻑ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ , ﮐﯿﺎ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺯﯾﺮ ﻧﺎﻑ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﯿﮟ ؟
ﻧﯿﺰ ﮐﺘﻨﮯ ﺩﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﺎﭨﻨﮯ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﯿﮟ؟
ﺍﻭﺭ ﺁﺧﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﮐﮧ ﺍﻥ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺻﺎﻑ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﻠﯿﮉ , ﺳﯿﻔﭩﯽ , ﺍﺳﺘﺮﺍ , ﮨﯿﺌﺮ ﺭﯾﻤﻮﺭ ﮐﺮﯾﻢ / ﺻﺎﺑﻦ / ﭘﺎﺅﮈﺭ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ؟
ﺟﻮﺍﺏ :👇👇👇
ﺍﻭﻻً ﺣﺪﯾﺚ ﻣﻼﺣﻈﮧ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮟ :
" ﻋﻦ ﺍﻧﺲ ﻗﺎﻝ ﻭﻗﺖ ﻟﻨﺎﻓﯽ ﻗﺺ ﺍﻟﺸَّﺎﺭِﺏِ ﻭَﺗَﻘْﻠِﯿْﻢِ ﺍﻻَﻇْﻔَﺎﺭِ ﻭَﻧَﺘْﻒِ ﺍﻻﺑِﻂِ ﻭَﺣَﻠﻖِ ﺍﻟﻌَﺎﻧۃ ﺍَﻥ ﻻَّ ﻧَﺘْﺮﮎَ ﺍَﮐْﺜَﺮ ﻣِﻦْ ﺍَﺭْﺑﻌِﯿﻦَ ﻟﯿﻠَۃً " ( ﻣﺴﻠﻢ ﺑﺎﺏ ﺧﺼﺎﻝ ﺍﻟﻔﻄﺮۃ )
ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻧﺲ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﻮﻧﭽﮭﯿﮟ ﮐﺘﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﺧﻦ ﮐﺎﭨﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﻐﻠﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﻝ ﺻﺎﻑ ﮐﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺯﯾﺮ ﻧﺎﻑ ﺑﺎﻝ ﺻﺎﻑ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ، ﺍﻭﺭ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﻟﯿﮯ ( ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﯾﮧ ) ﻣﺪﺕ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ ﮐﮧ ﮨﻢ ﺍﻥ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺩﻥ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﮌﮮ ﺭﮐﮭﯿﮟ ( ﯾﻌﻨﯽ ﺍﻥ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺪﺕ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺩﻥ ﮨﮯ )
ہر ہفتہ صفائی سنت اور پندرہ دن پر مستحب اور چالس دن مؤخر کرنا گناہ اور مکروہ ہے
اور فتاوی محمودیہ میں ہے کہ چالس دن کے بعد نماز بھی مکروہ ہوتی ہے
ﻟﮩٰﺬﺍ ﻣﻌﻠﻮﻡ ﯾﮧ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺯﯾﺮ ﻧﺎﻑ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮐﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺪﺕ ﭼﺎﻟﯿﺲ ﺩﻥ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﻋﺮﺻﮯ ﻣﯿﮟ ﺿﺮﻭﺭ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﮐﺮﻟﯿﻨﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ،
ﺍﺏ ﺭﮨﯽ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﮐﮧ ﺯﯾﺮ ﻧﺎﻑ ﺑﺎﻝ ﮐﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﺎﭨﻨﮯ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﯾﺎﺩ ﺭﮨﮯ ﮐﮧ :
" ﺯﯾﺮ ﻧﺎﻑ " ﮐﺎ ﻟﻔﻆ ﮐﻨﺎﯾﮧ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﺣﺪﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﺯﯾﺮ ﻧﺎﻑ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻋﺎﻧﮧ " ﮐﺎ ﻟﻔﻆ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ ﺟﺴﮑﺎ ﺍﮨﻞ ﻟﻐﺖ ﻧﮯ ﺗﺮﺟﻤﮧ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ " ﺷﺮﻣﮕﺎﮦ ﮐﮯ ﮔﺮﺩ ﺍﮔﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﺎﻝ "
ﻣﻄﻠﺐ ﯾﮧ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ
ﮐﮧ ﻧﺎﻑ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﺑﺎﺋﯿﮟ ﺟﻮ ﺑﺎﻝ ﮨﻮ ﻧﯿﺰ ﺧﺼﯿﺘﯿﻦ ( ﺍﻧﮉﻭﮞ ) ﺍﻭﺭ ﺫﮐﺮ ﭘﺮ ﺟﻮ ﺑﺎﻝ ﮨﻮﮞ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺭﺩﮔﺮﺩ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻞ ﺭﺍﻧﻮﮞ ﮐﺎ ﻭﮦ ﺣﺼﮧ ﺟﮩﺎﮞ ﻧﺠﺎﺳﺖ ﻟﮕﻨﮯ ﮐﺎ ﺧﻄﺮﮦ ﮨﻮ ﺳﺐ ﮐﻮ ﺻﺎﻑ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ۔
ﻧﯿﺰ ﻣﻘﻌﺪ ﮐﮯ ﺍﺭﺩﮔﺮﺩ ﮐﮯ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺻﺎﻑ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ، ﺑﻠﮑﮧ ﺑﻌﺾ ﻓﻘﮩﺎﺀ ﻧﮯ ﻣﻘﻌﺪ ﮐﮯ ﺍﺭﺩﮔﺮﺩ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺗﺎﮐﯿﺪ ﮐﯽ ﮨﮯ۔
ﺍﻟﻐﺮﺽ ﺳﺒﯿﻠﯿﻦ ﮐﮯ ﺁﺱ ﭘﺎﺱ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﻤﺎﻡ ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﺗﻠﻒ ﮐﺮﻧﺎ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﺗﺎﮐﮧ ﺻﻔﺎﺋﯽ ﺑﺮﻗﺮﺍﺭ ﺭﮐﮫ ﺳﮑﮯ،
ﻓﺘﺎﻭﯼٰ ﻋﺎﻟﻤﮕﯿﺮﯾﮧ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﮐﺘﺐ ﻓﻘﮧ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ :
" ﻭ ﻳﺒﺘﺪﯼ ﻓﯽ ﺣﻠﻖ ﺍﻟﻌﺎﻧﺔ ﻣﻦ ﺗﺤﺖ ﺍﻟﺴﺮﺓ . ( ﻋﺎﻟﻤﮕﻴﺮﯼ، 5 : 358 )
ﮐﮧ ﻧﺎﻑ ﮐﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﺳﮯ ﮐﺎﭨﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮﮮ،
( ٢ ) ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﺳﺘﺮﮦ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺍﮐﮭﺎﮌﻧﺎ ﻣﺴﺘﺤﺐ ﮨﮯ، ﺍﻟﺒﺘﮧ ﮐﺮﯾﻢ ﭘﺎﻭٴﮈﺭ ﮐﺎ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺟﺎﺋﺰﮨﮯ ... ﻭﺍﻟﻠﮧ ﺍﻋﻠﻢ

Thursday, 18 August 2016

موت. مائیکل جیکسن

ﻣﺎﺋﯿﮑﻞ ﺟﯿﮑﺴﻦ ﻧﮯ ﺍﻣﺮﯾﮑﮧ ﺍﻭﺭ ﯾﻮﺭﭖ ﮐﮯ 55 ﭼﻮﭨﯽ ﮐﮯ
ﭘﻼﺳﭩﮏ ﺳﺮﺟﻨﺰ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺎﺕ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﮟ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ
1987ﺀ ﺗﮏ ﻣﺎﺋﯿﮑﻞ ﺟﯿﮑﺴﻦ ﮐﯽ ﺳﺎﺭﯼ ﺷﮑﻞ ﻭﺻﻮﺭﺕ‘
ﺟﻠﺪ‘ ﻧﻘﻮﺵ ﺍﻭﺭ ﺣﺮﮐﺎﺕ ﻭ ﺳﮑﻨﺎﺕ ﺑﺪﻝ ﮔﺌﯿﮟ۔ ﺳﯿﺎﮦ ﻓﺎﻡ
ﻣﺎﺋﯿﮑﻞ ﺟﯿﮑﺴﻦ ﮐﯽ ﺟﮕﮧ ﮔﻮﺭﺍ ﭼﭩﺎ ﺍﻭﺭﻧﺴﻮﺍﻧﯽ ﻧﻘﻮﺵ ﮐﺎ
ﻣﺎﻟﮏ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﻣﺎﺋﯿﮑﻞ ﺟﯿﮑﺴﻦ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁ
ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ 1987ﺀ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﮉ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﯿﺴﺮﯼ ﺍﻟﺒﻢ
ﺟﺎﺭﯼ ﮐﯽ‘ ﯾﮧ ﮔﻮﺭﮮ ﻣﺎﺋﯿﮑﻞ ﺟﯿﮑﺴﻦ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺍﻟﺒﻢ ﺗﮭﯽ‘
ﯾﮧ ﺍﻟﺒﻢ ﺑﮭﯽ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺗﯿﻦ ﮐﺮﻭﮌ ﮐﺎﭘﯿﺎﮞ
ﻓﺮﻭﺧﺖ ﮨﻮﺋﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﺍﻟﺒﻢ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﭘﮩﻼ ﺳﻮﻟﻮ
ﭨﻮﺭ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ۔ ﻭﮦ ﻣﻠﮑﻮﮞ ﻣﻠﮑﻮﮞ ‘ ﺷﮩﺮ ﺷﮩﺮﮔﯿﺎ ‘
ﻣﻮﺳﯿﻘﯽ ﮐﮯ ﺷﻮ ﮐﺌﮯ ﺍﻭﺭﺍﻥ ﺷﻮﺯ ﺳﮯ ﮐﺮﻭﮌﻭﮞ ﮈﺍﻟﺮ
ﮐﻤﺎﺋﮯ۔ ﯾﻮﮞ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﯿﺎﮦ ﺭﻧﮕﺖ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺷﮑﺴﺖ ﺩﮮ
ﺩﯼ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻣﺎﺿﯽ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﺁﺋﯽ ‘ ﻣﺎﺋﯿﮑﻞ ﺟﯿﮑﺴﻦ
ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﺿﯽ ﺳﮯ ﺑﮭﺎﮔﻨﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ‘ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ
ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺳﮯ ﻗﻄﻊ ﺗﻌﻠﻖ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﯾﮉﺭﯾﺴﺰ ﺗﺒﺪﯾﻞ
ﮐﺮ ﻟﺌﮯ‘ ﺍﺱ ﻧﮯ ﮐﺮﺍﺋﮯ ﭘﺮ ﮔﻮﺭﮮ ﻣﺎﮞﺒﺎﭖ ﺑﮭﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮ
ﻟﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﭘﺮﺍﻧﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﻥ
ﭼﮭﮍﺍ ﻟﯽ۔ ﺍﻥ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﻗﺪﺍﻣﺎﺕ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺟﮩﺎﮞ ﻭﮦ ﺍﮐﯿﻼ ﮨﻮﺗﺎ
ﭼﻼ ﮔﯿﺎ ﻭﮨﺎﮞ ﻭﮦ ﻣﺼﻨﻮﻋﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﮔﺮﺩﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ
ﭘﮭﻨﺲ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﯾﻠﻮﺱ
ﭘﺮﯾﺴﻠﮯ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﻟﯿﺰﺍ ﻣﯿﺮﯼ ﭘﺮﯾﺴﻠﮯ ﺳﮯ ﺷﺎﺩﯼ ﺑﮭﯽ ﮐﺮ
ﻟﯽ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﻮﺭﭖ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﻣﺠﺴﻤﮯ ﺑﮭﯽ ﻟﮕﻮﺍ
ﺩﺋﯿﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺼﻨﻮﻋﯽ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﺗﻮﻟﯿﺪ ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮯ ﺍﯾﮏ
ﻧﺮﺱ ﮈﯾﺒﯽ ﺭﻭ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﭘﮩﻼ ﺑﯿﭩﺎ ﭘﺮﻧﺲ ﻣﺎﺋﯿﮑﻞ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺪﺍ
ﮐﺮﺍ ﻟﯿﺎ۔ ﮈﯾﺒﯽ ﺭﻭ ﮐﮯ ﺑﻄﻦ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﭘﯿﺮﺱ ﻣﺎﺋﯿﮑﻞ
ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﯽ۔ﺍﺱ ﮐﯽ ﯾﮧ ﮐﻮﺷﺶ ﺑﮭﯽ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﮨﻮﮔﺌﯽ‘
ﺍﺱ ﻧﮯ ﺑﮍﯼ ﺣﺪ ﺗﮏ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﺿﯽ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺟﺎﻥ ﭼﮭﮍﺍ ﻟﯽ
ﻟﮩٰﺬﺍ ﺍﺏ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﺧﺮﯼ ﻧﻔﺮﺕ ﯾﺎ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﮭﯽ۔
ﻭﮦ ﮈﯾﮍﮪ ﺳﻮ ﺳﺎﻝ ﺗﮏ ﺯﻧﺪﮦ ﺭﮨﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻣﺎﺋﯿﮑﻞ
ﺟﯿﮑﺴﻦ ﻃﻮﯾﻞ ﻋﻤﺮ ﭘﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺩﻟﭽﺴﭗ ﺣﺮﮐﺘﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎﺗﮭﺎ‘
ﻣﺜﻼً ﻭﮦ ﺭﺍﺕ ﮐﻮ ﺁﮐﺴﯿﺠﻦ ﭨﯿﻨﭧ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ‘ ﻭﮦ ﺟﺮﺍﺛﯿﻢ‘
ﻭﺍﺋﺮﺱ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻤﺎﺭﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﺍﺛﺮﺍﺕ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺩﺳﺘﺎﻧﮯ
ﭘﮩﻦ ﮐﺮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﻼﺗﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﻧﮯ
ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﻣﻨﮧ ﭘﺮ ﻣﺎﺳﮏ ﭼﮍﮬﺎ ﻟﯿﺘﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﻣﺨﺼﻮﺹ
ﺧﻮﺭﺍﮎ ﮐﮭﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺴﺘﻘﻞ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺑﺎﺭﮦ ﮈﺍﮐﭩﺮ
ﻣﻼﺯﻡ ﺭﮐﮭﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﯾﮧ ﮈﺍﮐﭩﺮ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﮯ
ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﺣﺼﮯ ﮐﺎ ﻣﻌﺎﺋﻨﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ‘ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﮐﺎ
ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﻟﯿﺒﺎﺭﭨﺮﯼ ﭨﯿﺴﭧ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﭩﺎﻑ
ﺍﺳﮯ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﻭﺭﺯﺵ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﺍﺗﺎ ﺗﮭﺎ‘ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﺌﮯ ﻓﺎﻟﺘﻮ
ﭘﮭﯿﭙﮭﮍﻭﮞ‘ ﮔﺮﺩﻭﮞ‘ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ‘ ﺩﻝ ﺍﻭﺭ ﺟﮕﺮ ﮐﺎ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖ
ﺑﮭﯽ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ‘ ﯾﮧ ﮈﻭﻧﺮ ﺗﮭﮯ ﺟﻦ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﺍﺧﺮﺍﺟﺎﺕ
ﻭﮦ ﺍﭨﮭﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮈﻭﻧﺮﺯ ﻧﮯ ﺑﻮﻗﺖ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺍﭘﻨﮯ
ﺍﻋﻀﺎﺀ ﺍﺳﮯ ﻋﻄﯿﮧ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﺎ ﺗﮭﮯ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺍﺳﮯ ﯾﻘﯿﻦ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ
ﮈﯾﮍﮪ ﺳﻮ ﺳﺎﻝ ﺗﮏ ﺯﻧﺪﮦ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮭﺮ 25ﺟﻮﻥ ﮐﯽ
ﺭﺍﺕ ﺁﺋﯽ ‘ ﺍﺳﮯ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺩﺷﻮﺍﺭﯼ ﭘﯿﺶ ﺁﺋﯽ‘ ﺍﺱ
ﮐﮯ ﮈﺍﮐﭩﺮﺯ ﻧﮯ ﻣﻠﮏ ﺑﮭﺮ ﮐﮯ ﺳﯿﻨﺌﺮﮈﺍﮐﭩﺮﺯ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﮨﺎﺋﺶ
ﮔﺎﮦ ﭘﺮﺟﻤﻊ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ‘ﯾﮧ ﮈﺍﮐﭩﺮﺯ ﺍﺳﮯ ﻣﻮﺕ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ
ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﻧﺎﮐﺎﻡ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺍﺳﮯ ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﻟﮯ
ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ ﺟﺲ ﻧﮯ ﮈﯾﮍﮪ ﺳﻮ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻣﻨﺼﻮﺑﮧ
ﺑﻨﺪﯼ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﯽ ﺗﮭﯽ‘ ﺟﻮ ﻧﻨﮕﮯﭘﺎﺅﮞ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻠﺘﺎ
ﺗﮭﺎ‘ ﺟﻮ ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﻣﻼﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﺳﺘﺎﻧﮯ ﭼﮍﮬﺎ
ﻟﯿﺘﺎ ﺗﮭﺎ‘ ﺟﺲ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ ﺟﺮﺍﺛﯿﻢ ﮐﺶ ﺍﺩﻭﯾﺎﺕ
ﭼﮭﮍﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﻧﮯ 25ﺑﺮﺱ ﺗﮏ ﮐﻮﺋﯽ
ﺍﯾﺴﯽ ﭼﯿﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎﺋﯽ ﺗﮭﯽ ﺟﺲ ﺳﮯ ﮈﺍﮐﭩﺮﻭﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ
ﻣﻨﻊ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﮦ ﺷﺨﺺ 50ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﻑ
ﺗﯿﺲ ﻣﻨﭧ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮐﺮ ﮔﯿﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﻭﺡ ﭼﭩﮑﯽ ﮐﮯ
ﺩﻭﺭﺍﻧﯿﮯ ﻣﯿﮟ ﺟﺴﻢ ﺳﮯ ﭘﺮﻭﺍﺯ ﮐﺮ ﮔﺌﯽ۔ ﻣﺎﺋﯿﮑﻞ ﺟﯿﮑﺴﻦ ﮐﮯ
ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﮔﻮﮔﻞ ﭘﺮ ﺩﺱ ﻣﻨﭧ ﻣﯿﮟ ﺁﭨﮫ ﻻﮐﮫ ﻟﻮﮔﻮﮞ
ﻧﮯ ﭘﮍﮬﯽ‘ ﯾﮧ ﮔﻮﮔﻞ ﮐﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺎ ﺭﯾﮑﺎﺭﮈ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮨﯿﻮﯼ
ﭨﺮﯾﻔﮏ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮔﻮﮔﻞ ﮐﺎ ﺳﺴﭩﻢ ﺑﯿﭩﮫ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﻤﭙﻨﯽ
ﮐﻮ 25ﻣﻨﭧ ﺗﮏ ﺍﭘﻨﮯ ﺻﺎﺭﻓﯿﻦ ﺳﮯ ﻣﻌﺬﺭﺕ ﮐﺮﻧﺎ ﭘﮍﯼ۔
ﻣﺎﺋﯿﮑﻞ ﺟﯿﮑﺴﻦ ﮐﺎ ﭘﻮﺳﭧ ﻣﺎﺭﭨﻢ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﭘﺘﮧ ﭼﻼ ﺍﺣﺘﯿﺎﻁ ﮐﯽ
ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺟﺴﻢ ﮈﮬﺎﻧﭽﮧ ﺑﻦ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ‘ ﻭﮦ ﺳﺮ ﺳﮯ
ﮔﻨﺠﺎ ﺗﮭﺎ‘ ﺍﺱ ﮐﯽ ﭘﺴﻠﯿﺎﮞ ﭨﻮﭨﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﮭﯿﮟ‘ ﺍﺱ ﮐﮯ
ﮐﻮﻟﮩﮯ‘ ﮐﻨﺪﮬﮯ‘ ﭘﺴﻠﯿﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﭨﺎﻧﮕﻮﮞ ﭘﺮ ﺳﻮﺋﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺑﮯ
ﺗﺤﺎﺷﺎ ﻧﺸﺎﻥ ﺗﮭﮯ۔ ﻭﮦ ﭘﻼﺳﭩﮏ ﺳﺮﺟﺮﯼ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ
’’ﭘﯿﻦ ﮐﻠﺮﺯ‘‘ ﮐﺎ ﻣﺤﺘﺎﺝ ﮨﻮ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﻭﮦ ﺭﻭﺯﺍﻧﮧ
ﺩﺭﺟﻨﻮﮞ ﺍﻧﺠﯿﮑﺸﻦ ﻟﮕﻮﺍﺗﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺍﻧﺠﯿﮑﺸﻨﺰ‘ ﯾﮧ
ﺍﺣﺘﯿﺎﻁ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﮈﺍﮐﭩﺮﺯ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﮯ ﻣﻮﺕ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﭽﺎ ﺳﮑﮯ
ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﭼﭗ ﭼﺎﭖ ﺍُﺱ ﺟﮩﺎﻥ ﺷﻔﭧ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ ﺟﺲ
ﻣﯿﮟ ﮨﺮ ﺯﻧﺪﮦ ﺷﺨﺺ ﻧﮯ ﭘﮩﻨﭽﻨﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﻮﮞ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﺧﺮﯼ
ﺧﻮﺍﮨﺶ ﭘﻮﺭﯼ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺳﮑﯽ۔ ﻣﺎﺋﯿﮑﻞ ﺟﯿﮑﺴﻦ ﮐﯽ ﻣﻮﺕ
ﺍﯾﮏ ﺍﻋﻼﻥ ﮨﮯ‘ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﭘﻮﺭﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﻓﺘﺢ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ
ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﻘﺪﺭ ﮐﻮ ﺷﮑﺴﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﺎ۔ ﻭﮦ ﻣﻮﺕ ﺍﻭﺭ
ﺍﺱ ﻣﻮﺕ ﮐﻮ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ
ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﺍﮎ ﺳﭩﺎﺭ ﮨﻮ ﯾﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻋﻮﻥ ﻭﮦ ﺩﻭ ﭨﻦ
ﻣﭩﯽ ﮐﮯ ﺑﻮﺟﮫ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﭻ ﺳﮑﺘﺎ۔ ﻭﮦ ﻗﺒﺮ ﮐﻮ ﺷﮑﺴﺖ
ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮮ ﺳﮑﺘﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺣﯿﺮﺕ ﮨﮯ ﮨﻢ ﻣﺎﺋﯿﮑﻞ ﺟﯿﮑﺴﻦ ﮐﮯ
ﺍﻧﺠﺎﻡ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﻓﻮﻻﺩ ﮐﺎ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﻤﺠﮫ ﺭﮨﮯ
ﮨﯿﮟ۔ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺧﯿﺎﻝ ﮨﮯ ﮨﻢ ﻣﻮﺕ ﮐﻮ ﺩﮬﻮﮐﮧ ﺩﮮ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ‘ ﮨﻢ
ﮈﯾﮍﮪ ﺳﻮ ﺳﺎﻝ ﺗﮏ ﺿﺮﻭﺭ ﺯﻧﺪﮦ ﺭﮨﯿﮟ

Monday, 15 August 2016

ضبط.. ضرب کلیم

🌺ضبط 🌺

🌱طریق اہل دنیا ہے
گلہ شکوہ زمانے کا 🌱

🌱 نہیں ہے زخم کھا کر
آہ کرنا شان درویشی 🌱

🍃یہ نکتہ پیر دانا نے
مجھے خلوت میں سمجھایا 🍃

🍃کی ہے ضبط فغاں شیری
روباہی و میشی 🍃

💐مطلب 💐جو لوگ دنیا دار ہیں ان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ زمانے کا شکوہ شکایت کرتے رہتے ہیں.
لیکن جو درویش لوگ ہیں. وہ زمانے کے زخم کھا کر بھی آہ نہیں کرتے. اور اسے خدا کی رضا سمجھتے ہوئے اسے برداشت کرتے ہیں.
مجھے ایک دانشمند بزرگ نے تنہائی میں یہ باریک بات سمجھائی کہ مصیبت کے وقت فریاد کو ضبط کر لینا اور مصیبت پر آہ و فریاد نہ کرنا شیروں کی خصلت ہے.
اور ایسے موقع پر آہ و فریاد کرنا اور مصیبت کو برداشت نہ کرنا. لومڑی اور بھیڑ کی طرح کی مکاری اور بزدلی ہے..

🌴ماخوذ ضرب کلیم 🌴

احقر محمد شمیم

کرہی کی تہذیب

📝کرہی کی تہذیب 📚

جہاں پر بہت سارے احباب ایک ساتھ مل جل کر رہتے ہیں وہاں کچھ بھی بولنے سے پہلے یا تحریر ارسال کرنے سے پہلے ایک بار ضرور سوچنا چاہئے

ہمارے گاؤں کے احباب مہذب گفتگو کرتے ہوئے ہی اچھے لگتے ہیں اور بداخلاقی کا مظاہرہ کرتے ہوئے بالکل اچھے نہیں لگتے وجہ یہ ہے کہ ہمارا تعلق علمی گاؤں سے ہے جہاں سے علم کا دریا بہا ہے اور کرہی مدرسہ سے ہماری پہچان اور شان میں اضافہ ہو جاتا ہے.

ہمارے گاؤں کے علماء کرام آج بھی الحمد للہ دین کے مختلف شعبوں سے جڑ کر پیاسی امت کو اپنے علم سے سیراب کر رہے ہیں اور ہمیں فخر ہے کہ ہم ایک علمی گاؤں سے تعلق رکھتے ہیں

لیکن اس تہذیب کو آج کچھ احباب نے جانے انجانے میں بہت نقصان پہنچایا ہے اپنا نہیں تو کم از کم کرہی گاؤں کا کچھ خیال کرلیا کریں ہمیں آنے والی نسلوں کو کچھ اچھا پیغام دینا ہے اور ہمارا یہ طریقہ کہ باتوں باتوں میں کسی کی ذات پر عزت و آبرو پر کیچڑ اچھالنا ذلیل و رسوا کرنا وہ بھی گروپ پر یہ کرہی کے تہذیب یافتہ احباب کی شایان شان نہیں ہے

اس سے پہلے بھی ایسی کوشش کی گئی تھی لوگوں کے درمیان نا اتفاقی پیدا کرنے کی لیکن کرہی کے احباب نے اسے نظر انداز کر دیا اور کسی قسم کی کوئی بات نہیں ہوئی. مجھے بہت عجیب لگ رہا ہے کہ ہم میں اکثر احباب پردیس میں رہ رہے ہیں ہمارے اندر تو محبت میں اضافہ ہونا چاہئے یہ نفرت کہاں سے پیدا ہو رہی ہے اس کی وجہ صرف ایک ہی ہے کہ کوئی بھی احباب کسی کی ذات پر لب کشائی نہ کرے انشاءاللہ ایسے واقعات رونما نہیں ہونگے

حدیث کا مفہوم ہے ہمارے آقا صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا بیت اللہ کو اشارہ کرکے کہ اے کعبہ تیری عزت و عظمت بہت بڑی ہے لیکن اگر کسی نے ایک مسلمان کی عزت و آبرو پر کیچڑ اچھالا تو گویا کہ اس نے کعبہ کو ڈھا دیا.

ایک مسلمان کی عزت و احترام کعبۃ اللہ سے بھی  بڑھ کر ہے اور ہم چند سکنڈ کے اندر بھرے مجمع میں ایک مسلمان ایمان ولا کلمہ گو کو ذلیل و رسوا ہی نہیں کرتے بلکہ اس کے باپ دادا کا شجرہ نسب انتے بھونڈے اور جہالت میں بیان کر دیتے ہیں جس سے انسانیت کا سر شرم سے جھک جائے.

بہت دنوں پہلے کی بات ہے گروپ پر احقر کی ذات پر ایک صاحب نے لفظوں کا تیر مارا لیکن ہم نے ایسا کوئی جواب نہیں دیا جس سے ہمارے گاؤں کی تہذیب پر گندا اثر پڑے حالانکہ تکلیف ہوئی تھی لیکن صبر کیا
کیونکہ پیالے میں جو بھرا ہوگا وہی چھلکے گا
اگر کسی نے ہمارے ساتھ بداخلاقی کی ہے جو ہمارے ٹھوڑا صبر کرنے سے معاملہ رفع دفع ہو سکتا ہے تو یقیناً صبر کرنا چاہئے. نہیں تو آپ میں اور اس میں کیا فرق رہ جائے گا.

وہ میرے علمی گاؤں کے تہذیب یافتہ غیور مسلمانوں آؤ سارے اختلاف اور رنجش کو بھول کر ایک دوسرے سے معافی مانگ لیں اور اور آئندہ اس طرح کی کوئی بات نہ ہو اس کی کوشش کریں.

پردیسیوں کے پاس ویسے بھی بہت کم وقت ہوتا ہے اگر فرصت کے لمحات میسر ہو جائیں تو انہیں ایک دوسرے سے پیار و محبت مزاح دل لگی میں گزار نا چاہئے اور گروپ کا مقصد بھی یہی ہے کہ ہم تمامی گاؤں کے احباب ایک ساتھ جمع ہو کر کچھ ہی وقت کے لئے اپنے گاؤں میں پہنچ کر سکون محسوس کریں.

احباب میں نے تو سب گروپ ڈلیٹ کر دیئے تھے لیکن گاؤں کی کچھ خبریں نہیں مل رہی تھی اسی لئے واپس شامل ہوا اور الحمد للہ بہت اچھا سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا اور گروپ پر بہت اچھا لگ رہا تھا لیکن آج اچانک بھونچال آگیا اور ہمارے اوسان خطا ہو گئے جب اس طرح کی فحش بدکلامی سننے میں آئی.

بہرحال آئندہ اس قسم کی کوئی بات نہ ہو اس کا تمامی احباب خیال رکھیں

لکھنے میں جو کمی کوتاہی ہو گی اس کی معافی چاہتا ہوں

اللہ رب العزت ہم سب کی لغزشوں کو معاف فرمائے

اور ہم سب کو نیک بنائے
اور آپس میں مل جل کر رہنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

احقر محمد شمیم
مدرسہ دارالعلوم حسینیہ
بوریولی ممبئی 💐

تبلیغی جماعت اصلاحی طریقوں کی جامع ہے قسط نمبر 8

🍃تبلیغی جماعت اصلاحی🍃

🌱طریقوں کی جامع ہے 🌱

📝قسط نمبر (8)📚

بے جا اعتراض

اور پھر اعتراضات تو وہ قابل قبول ہیں. جو کام میں گھس کر کئے جاویں. اور جو باہر بیٹھ کر اعتراضات کرے وہ قابل قبول نہیں ہوا کرتے. اگر اندر گھس کر کوئی اعتراض کرے تب تو ٹھیک ہے. لیکن اندر گھسنے والا کوئی اعتراض کرتا نہیں. کیونکہ داخل ہونے کے بعد اسے اس کام کا فائدہ معلوم ہو جاتا ہے. اس سے معلوم ہو گیا کہ یہ سب باہر کے اعتراضات ہیں جو قابل قبول نہیں.

یوں تو اعتراضات سے مدرسے والے بھی خالی نہیں
اللہ و رسول بھی اعتراضات سے خالی نہیں جیسے کہ اللہ تعالٰی کی نسبت کہا گیا کہ اللہ کے بیٹے اور بیٹیاں ہیں. حالانکہ اللہ تعالٰی کے بارے میں اس طرح کی باتیں کہنا کسی طرح بھی گالی سے کم نہیں.
بخاری شریف کی ایک حدیث  ہے. اللہ تبارک و تعالٰی نے فرمایا کہ انسان نے مجھ کو جھٹلایا. حالانکہ اس کے لئے مناسب نہ تھا کہ میری تکذیب کرے. اس نے مجھے برا بھلا کہا. حالانکہ یہ اسے زیبا نہ تھا.
تکذیب مثلاً یہ کہنا کہ اللہ مجھ کو مرنے کے بعد دوبارہ پیدا نہ کریں گے. حالانکہ پہلی مرتبہ کے مقابلے میں دوبارہ پیدا کرنا زیادہ آسان ہے.
اور اس کا مجھے برا بھلا کہنا یہ ہے کہ یوں کہتا ہے کہ اللہ صاحب اولاد ہے حالانکہ میں ایک ہوں. بے نیاز ہوں اور نہ کوئی میرا باپ ہے نہ بیٹا اور نہ ہی کوئی میرا شریک و ساجھی ہے.

آپ خود سوچئے کہ اس سے زیادہ گالی کیا ہوگی کہ کسی آدمی کے متعلق یہ کہا جائے کہ فلاں کے سانپ پیدا ہوا ہے اور اس شخص کے لئے کتنی شرم کی بات ہوگی. حالانکہ سانپ بھی جاندار ہے اور اس معنی کرکے دونوں میں ایک گونہ مماثلت و مشابہت ہے.
اور بھائی اللہ تعالٰی تو نور ہیں. پھر ان کے لئے بیٹا اور بیٹی کا ہونا کیا معنی رکھتا ہے؟
اسی طرح رسولوں کو بھی مورد طعن و تشنیع بنایا گیا. کسی نے کہا یہ تو کاہن ہیں کسی نے کہا جادو گر ہیں وغیرہ وغیرہ.
تو اللہ و رسول بھی اعتراض سے نہیں بچ سکے تو ہماری اور آپ کی کیا حیثیت باقی رہ جاتی ہے. بہرحال اعتراض کرنے والے تو سب پر اعتراض کرتے ہیں. ان سے گھبرانا نہ چاہئے.

☘ماخوذ خطبات حکیم الاسلام جلد چہارم ☘

احقر محمد شمیم
مدرسہ دارالعلوم حسینیہ
بوریولی ممبئی 💐

جاری