Monday, 15 August 2016

تبلیغی جماعت اصلاحی طریقوں کی جامع ہے قسط نمبر 7

🌿تبلیغی جماعت اصلاحی🌿

🌴طریقوں کی جامع ہے 🌴

📝قسط نمبر (7)📚

خود چل کر اس کام کے
فائدے کو دیکھنا چاہئے

بہرحال اصلاح نفس کے چار جزو چار طریقے ہیں اور تبلیغ کے اندر حسن اتفاق سے چاروں طریقے جمع ہو گئے ہیں. صحبت صالح بھی ہے. ذکر و فکر بھی ہے. مؤاخاۃ فی اللہ بھی ہے. دشمن سے عبرت و موعظت بھی اور محاسبہ نفس بھی ہے اور انہیں چاروں کے مجموعہ کا نام تبلیغی جماعت ہے.
عام لوگوں کے لئے اصلاح نفس کا اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں ہو سکتا. اس طریقہ کار سے دین عام ہوتا جا رہا ہے اور ہر ملک کے اندر یہ صدا پہنچتی چلی جا رہی ہے. اس کے ذریعہ لوگوں کے عقائد درست ہو رہے ہیں. لوگ تیزی سے اعمال کی جانب بڑھ رہے ہیں. اور اپنے آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی زندگی کے سانچے میں ڈھالنے کی پوری کوشش کر رہے ہیں.
کم از کم ان تجربات کو سامنے رکھ کر اعتراض کرنے والوں کو ٹھنڈے دل سے سوچنا اور غور کرنا چاہئے
اس لئے اس میں خود چل کر اس کام کے فائدہ کو دیکھنا چاہئے. آپ خود داخل ہو کر اس بات کا فائدہ محسوس کریں گے کہ اس کام سے آپ کو کیا فائدہ پہنچا؟
آپ اسے تجربات کی روشنی میں معلوم کر لی جئے جو شخص بھی حسن نیت سے اس کام میں آئے گا. اس کا اثر اسے ضرور ہوگا. اس کام میں دعوت بھی ہے اور دعوت ہے.. لا الہ الا اللہ کی... نماز کی محنت بھی ہے. ساتھیوں کے ساتھ تعلق بھی ہے. ذکر بھی ہے اور محاسبہ بھی ہے. اور بھی بہت سی چیزیں ہیں.
یہی وجہ ہے کہ اس محنت سے بہت سی خیر اور بھلائی انسان میں آرہی ہے. کتنے برے تھے جو جماعت کی وجہ سے اچھے بن گئے. یہاں تک دیکھا گیا ہے کہ برے عقیدے والے صالح عقیدے والے بن گئے.

🌱ماخوذ خطبات حکیم الاسلام جلد چہارم 🌱

احقر محمد شمیم
مدرسہ دارالعلوم حسینیہ
بوریولی ممبئی 🌺

جاری

تبلیغی جماعت اصلاحی طریقوں کی جامع ہے قسط نمبر 6

☘تبلیغی جماعت اصلاحی☘

🌷طریقوں کی جامع ہے 🌷

📝قسط نمبر 6📚

مقصد تبلیغ

بس تبلیغ والوں کا حاصل یہ ہے کہ لوگوں کے اندر دین کا جذبہ اور دینی امنگ پیدا کر دی جائے. اب اس امنگ سے آدمی دین کی جس لائن میں بھی کام لینا چاہے لے سکتا ہے.
نیز دیکھنے میں یہ آتا ہے کہ جب کسی چیز کی امنگ پیدا ہو جاتی ہے. تو آدمی خود ہی اس امنگ کو صحیح طریقے سے پورا کرنے کی جدوجہد اور سعی کرتا ہے.
اگر آپ کے اندر صحیح امنگ پیدا ہو گئی ہے اور آپ کو مسائل کی طلب ہے تو علماء سے ملیے. مدرسے میں جائیے اور مسائل معلوم کیجئے. باقی کام میں نہ لگنا. اور اعتراضات کا کرنا یہ حیلہ کرنے والوں کا کام ہے.
جیسا کہ میں نے کہا ہر جماعت کا ایک نصب العین اور طریقہ کار ہوتا ہے. آپ کا اس پر دوسری چیزوں کا لادنا کہ فلاں چیز کو بھی اس میں شامل کر لی جئے. کسی طرح مناسب نہ ہوگا. جب اس جماعت نے اپنا ایک موضوع متعین کر لیا تو آپ کو چاہئے کہ آپ اسے اس پر کار بند رہنے دیں.
بہرحال تبلیغ سے نفع.. اظہر من الشمس.. ہے کہ لاکھوں انسانوں کے دلوں میں دین کی امنگ اور طلب پیدا ہوئی اور اسی امنگ اور طلب کی وجہ سے کتنی بدعات ختم ہوئیں.
ورنہ لاکھوں آدمیوں کا محض اللہ اور اللہ کے دین کی خاطر اپنا پیسہ خرچ کر کے سفر کرنا. اپنا کھانا. اپنا پینا. پہلے یہ جذبہ کہاں تھا. تو اس سے جو نفع پہنچا اس کو تو آپ بیان نہ کریں. اور جو ان کا منصوبہ نہیں اس کو آپ اعتراض کی بنیاد بنائیں. یہ تو کوئی مناسب بات نہ ہوگی.

🍃ماخوذ خطبات حکیم الاسلام جلد چہارم 🍃

🌱احقر محمد شمیم
مدرسہ دارالعلوم حسینیہ
بوریولی ممبئی 🌺

جاری

تبلیغی جماعت اصلاحی طریقوں کی جامع ہے قسط نمبر 5

🌺تبلیغی جماعت اصلاحی 🌺

🍇طریقوں کی جامع ہے 🍇

📚قسط نمبر( 5)📝

🌱. تبلیغ اور اصلاح. 🌱
اور مقصود اصلی یہ ہے کہ پہلے خود ہمارا ہی دین درست ہو. یہی وجہ ہے کہ اسلام میں ابتداء خود اپنے ہی سے کرنی پڑتی ہے. ضروری ہے کہ آدمی پہلے خود صالح بنے. پھر دوسرا مقام یہ ہے کہ دوسروں کو صالح بنائے. ایک دوسرے کو دیکھ کر عمل کرے گا تو صالح بنے گا. دوسروں کو عمل کی دعوت دیگا تو مصلح بنے گا..

☘اعتراضات اور ان کا اصولی جواب ☘

رہ گئے تبلیغی جماعت پر اعتراضات تو لوگ کرتے ہی رہتے ہیں. کون سا ایسا کام اور کون سی ایسی جماعت ہے جس پر اعتراضات نہیں ہوتے. آپ اعتراضات کو چھوڑ دیجئے اور کام کرتے جائیے.
مثال کے طور پر لوگ ایک اعتراض یہ کیا کرتے ہیں. کہ تبلیغی جماعت والے صرف فضائل بیان کرتے ہیں. مسائل نہیں بیان کرتے اور دین درست ہوتا ہے مسائل سے. فضائل سننے کے بعد دل میں امنگ تو پیدا ہو جاتی ہے مگر جب آگے مسئلہ نہیں معلوم ہوگا تو ممکن ہے کہ لوگ امنگ اور جذبات کی رہ میں بہہ کر من گھڑت عمل شروع کر دیں اور اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ لوگ بدعت میں مبتلا ہونگے؟
لوگوں کا یہ کہنا کہ اس طرز عمل سے لوگ بدعت کے اندر مبتلا ہوتے چلے جائیں گے. اولا تو محض احتمال اور امکان کی بات ہے. دیکھنا یہ ہے کہ واقعہ کیا ہے. چالیس برس کے اندر کتنے لوگ بدعت میں مبتلا ہوئے؟
رہا مسائل کا نہ چھیڑنا. اس کا اگر یہ جواب دیا جائے کہ ہم پہلے فضائل بیان کرکے جذبہ پیدا کرنا چاہتے ہیں. بعد میں مسائل چلائیں گے. تو یہ بھی غلط ہے. کیونکہ چالیس سال سے تبلیغ چل رہی ہے کیا آج تک جذبہ ہی پیدا نہیں ہوا.؟
اس کا صحیح جواب یہ ہے کہ تبلیغ والے فضائل ہی تو بیان کرتے ہیں. مسائل سے انکار تو نہیں کرتے. کیا وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مسئلہ کسی سے نہ پوچھو. ہرگز وہ ایسا نہیں کہتے.
دوسرے یہ کہ کام کرنے کے مختلف میدان اور مختلف لائنیں ہوتی ہیں. کوئی درس و تدریس کی لائن اختیار کرتا ہے. کوئی وعظ و تبلیغ کی. تو کوئی سیاست و حکمت کی. ان حضرات نے بھی ایک لائن اختیار کر لی ہے. فضائل بیان کرتے ہیں. لوگوں کے اندر دینی جذبہ اور امنگ پیدا کرتے ہیں. اب ساری لائن وہی اختیار کر لیں یہ نہ تو ضروری ہے اور نہ ہی ممکن.
جب آپ کس کام کو شروع کرتے ہیں. تو آپ کام کرنے سے پہلے کچھ مقاصد اور اصول مقرر کرتے ہیں. اور اپنی لائن متعین کرتے ہیں. اس میں آپ سب چیزوں کو داخل نہیں کرتے ہیں. تو اس میں آپ سب چیزوں کو کیوں شامل کرنا چاہتے ہو؟
🌴بہرحال جب کوئی اعتراض کرے تو اسے سن لینا چاہئے اور اپنا کام کرتے رہنا چاہئے عمل ہی سب اعتراضات کا جواب ہے 🌿

🍃ماخوذ خطبات حکیم الاسلام جلد چہارم 🍃

🌷احقر محمد شمیم
مدرسہ دارالعلوم حسینیہ
بوریولی
ممبئی 💐

جاری

تبلیغی جماعت اصلاحی طریقوں کی جامع ہے قسط نمبر 4

🌱تبلیغی جماعت اصلاحی طریقوں کی                                                   جامع ہے 🌱                                            📝قسط نمبر (4)  📚                                             امام غزالی رحمۃاللہ علیہ نے اپنی کتاب احیاء العلوم میں عملی کمال پیدا کرنے کے چار طریقے لکھے ہیں.                      (1) صحبت اھل اللہ( 2)  مؤاخا ۃ فی اللہ (3) دشمن کے ذریعے اصلاح( 4)  محاسبہء نفس..                              علماء دیوبند کی بہت بڑی شخصیت حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب قاسمی نوراللہ مرقدہ  ان چاروں     جملوں پر روشنی ڈالتے ہوئے  کیا فرماتے ہیں....  اگر آپ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ تبلیغ اصلاح کے ان چاروں طریقوں کا ایک مجموعہ مرکب ہے تو یہ تبلیغی جماعت ایک معجون مرکب ہے گویا یہ نسخہء امرت کا بن گیا جس پراصلاح نفس کے یہ چاروں طریقے جمع ہو گئے.         🌱جماعت میں دشمنوں سے عبرت کا موقع ..          اب جب اچھی بات کہوگے  تو ہر ایک ٹھنڈے دل سے نہیں سنے گا بلکہ اس کے مخالف ہو جائیں گے. یہی وجہ ہے کہ اس جماعت میں رہ کر دشمنوں سے بھی نصیحت حاصل کرنے کا بہترین موقع حاصل ہوتا ہے.اس لئے کہ آپ دس لوگوں کے پاس جائیں گے. دس مونھ ہونگے. دس قسم کی باتیں ہونگی. کوئی بدعتی کہے گا. کوئی وہابی کہے گا. اور بھی طرح طرح کی سخت وسست باتیں آپ کو لوگ کہیں گے. آپ کے عیوب اور خرابیاں نکالنے کی کوشش کریں گے. جب آپ بار بار اس قسم کی باتوں کو سنیں گے تو غور کریں گے کہ آخر میرے اندر کیا کمزوریاں ہیں. کیا کوتاہیاں ہیں. پھر ان کمزوریوں اور کوتاہیوں کو معلوم کرکے آپ ان کو دور کرنے کی فکر کریں گے. حاصل یہ ہے کہ اس میں نیک لوگوں کی صحبت بھی میسر. دوستی بھی میسر. دشمنوں سے عبرت و نصیحت حاصل کرنے کا بھی موقع...                                                                          📝تبلیغ میں محاسبہ 🖋                                                                    اور ان تمام باتوں کے ساتھ جب آپ رات کو پڑ کر سوئیں گے تو یقیناً سوچیں گے کہ آج میں نے کتنی نیکیاں کیں اور کتنی برائیاں کیں. اور پھر جب آپ کے دل میں خیال پیدا ہو گا کہ رات کا وقت ہے حق تعالٰی سے قرب ہے لاؤ نیکیوں پر اس کا شکریہ ادا کروں اور برائیوں سے توبہ کر لوں. تو اس طرح نیکیوں کا سلسلہ بڑھ جائے گا اور برائیاں گھٹتی چلی جائیں گی.                                                                           تو بھائی اس جماعت میں یہ چاروں دوائیں موجود ہیں. جو ھدایت کے لئے ایک ایسا معجون مرکب ہے کہ اس کے بعد پھر کسی اور چیز کی ضرورت نہیں رہتی.. .. 🌱ماخوذ خطبات حکیم الاسلام جلد چہارم 🌱دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہم سب کو نیک بنائے اور نیکوں کی صحبت عطا فرمائے آمین                                                                                  جاری

تبلیغی جماعت اصلاحی طریقوں کی جامع ہے قسط نمبر 3

🌱تبلیغی جماعت اصلاحی طریقوں کی                                                   جامع ہے 🌱                                            📝قسط نمبر (3)  📚                                             امام غزالی رحمۃاللہ علیہ نے اپنی کتاب احیاء العلوم میں عملی کمال پیدا کرنے کے چار طریقے لکھے ہیں.                      (1) صحبت اھل اللہ( 2)  مؤاخا ۃ فی اللہ (3) دشمن کے ذریعے اصلاح( 4)  محاسبہء نفس..                              علماء دیوبند کی بہت بڑی شخصیت حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب قاسمی نوراللہ مرقدہ  ان چاروں     جملوں پر روشنی ڈالتے ہوئے  کیا فرماتے ہیں....  اگر آپ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ تبلیغ اصلاح کے ان چاروں طریقوں کا ایک مجموعہ مرکب ہے تو یہ تبلیغی جماعت ایک معجون مرکب ہے گویا یہ نسخہء امرت کا بن گیا جس پراصلاح نفس کے یہ چاروں طریقے جمع ہو گئے.       ... تبلیغی بھائی..                                     پھر جب ایک جذبہ سے جائیں گے تو مواخاۃ بھائی چارگی بھی قائم ہوگی یہی وجہ ہے کہ ان میں باہم دوستی بھی قائم ہو جاتی ہے. اسلئے واپس آنے کے بعد ایک دوسرے کو تبلیغی بھائی کے نام سے یاد کیا کرتے ہیں کہ تبلیغی بھائی آرہے ہیں. گویا ان میں کا ہر ایک دوسرے کا بھائی بن جاتا ہے. اور آپس میں ایک قسم کی اخوت ہو جاتی ہے.                                                                   جماعت کی نماز کی بھی یہی خصوصیت ہے. جب لوگ مسجد میں آتے ہیں تو ایک کی دوسرے سے آنکھیں چار ہوتی ہیں جس کے نتیجے میں باہمی محبت پیدا ہو جاتی ہے. اور جب ان میں کا کوئی کبھی غائب ہوتا ہے تو دوسرے سے معلوم کرتے ہیں کہ فلاں تو روزانہ آیا کرتا تھا آج کیوں نہیں آیا معلوم ہوا کہ بیمار ہے. پھر لوگ اس کی عیادت کے لئے جائیں گے اور اس طرح لوگوں کو عیادت مریض کا ثواب حاصل ہوگا. نیز اللہ تعالٰی سے قرب حاصل ہوگا.                                                                                 حدیث میں ہے کہ مرض کی حالت میں آدمی کو اللہ تعالٰی سے بے حد قرب ہوتا ہے.                                                                                                    نیز حدیث ہی میں ہے کہ اللہ تعالٰی بندے سے فرمائیں گے کہ میں بیمار ہوا تھا تو میری مزاج پرسی کے لئے نہیں گیا. بندہ کہے گا کہ اے باری تعالٰی آپ کی ذات تو ان چیزوں سے پاک ہے. آپ کے بیمار ہونے کا کیا سوال؟ باری تعالٰی فرمائیں گے میرا فلاں بندہ بیمار ہوا تھا. اگر تو اس کی عیادت کے لئے جاتا تو تو مجھے اس کی پٹی پر موجود پاتا. تو پھر تجھے بھی وہ قرب نصیب ہوتا جو میرے اس بندے کو مجھ سے حاصل تھا.                                                                 حاصل یہ ہے کہ ایک مریض کی عیادت کے لئے جانے سے عیادت کے ثواب کے ساتھ اللہ تبارک و تعالٰی کا قرب بھی نصیب ہوگا. اگر خدا نخواستہ اس کا انتقال ہو گیا تو سب کے سب اس کے کفن دفن میں لگیں گے. اس کا بھی ثواب ملے گا. گویا کہ از اول تا آخر ثواب ہی ثواب ہے یہ ہیں برکات مسجد میں حاضری اور بروقت مسلمانوں کے آپس میں ملنے جلنے کے نتائج.                                                                     📝اب آپ دیکھئے کہ تبلیغ والے مرکز ہمیشہ مسجد ہی بناتے ہیں. تو مسجدوں کی وہ برکات جو مسجد میں آنے والوں کے لئے مخصوص ہیں. خود تبلیغ والوں کو ضرور بلکہ کچھ زائد ہی نصیب ہوں گی. اور پھر ایک مشرب ایک مسکن ایک مطعم کی بنا پر جو مواخات بھائی بندی کے جذبات باہم رونما ہوتے ہیں. یہ تبلیغی والے اس سے کبھی محروم نہیں رہ سکتے... تو تبلیغی جماعت میں نکل کر شیخ بھی ملے.. دوست بھی ملے.. نیت بھی اچھی ہوئی اور پھر اچھی بات کہنے کا موقع بھی ملا...                                                                      🍀ماخوذ خطبات حکیم الاسلام جلد چہارم ☘                                                                                        اللہ رب العزت ہم سب کو نیک بنائے اور نیکوں کی صحبت عطا فرمائے آمین                                                           جاری

Wednesday, 3 August 2016

تبلیغی جماعت اصلاحی طریقوں کی جامع ہے. قسط نمبر( 2)

🌱تبلیغی جماعت اصلاحی طریقوں کی                                                   جامع ہے 🌱                                   📝قسط نمبر( 2)  📚                                             امام غزالی رحمۃاللہ علیہ نے اپنی کتاب احیاء العلوم میں عملی کمال پیدا کرنے کے چار طریقے لکھے ہیں.                      (1) صحبت اھل اللہ( 2)  مؤاخا ۃ فی اللہ (3) دشمن کے ذریعے اصلاح( 4)  محاسبہء نفس..                              علماء دیوبند کی بہت بڑی شخصیت حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب قاسمی نوراللہ مرقدہ  ان چاروں     جملوں پر روشنی ڈالتے ہوئے  کیا فرماتے ہیں....  اگر آپ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ تبلیغ اصلاح کے ان چاروں طریقوں کا ایک مجموعہ مرکب ہے تو یہ تبلیغی جماعت ایک معجون مرکب ہے گویا یہ نسخہء امرت کا بن گیا جس پراصلاح نفس کے یہ چاروں طریقے جمع ہو گئے.       ... جماعت کی برکات...                                                  بہت ممکن ہے کہ اس مجموعہ مرکب میں بعض کمزور ارادہ. بعض نحیف عمل. بعض خام علم والے. جمع ہو جائیں اور شبہہ یہ ہو کہ تبلیغ سے حاصل ہونے والا فائدہ یقینی ہونے کے بجائے موہوم ہوکر رہ جائے گا.         تو بھائی اس شبہہ کا جواب یہ ہے کہ کمزوروں سے مرکب اجتماع. جمیعت اور اتحاد کی بنا پر یہ ایک قوت حاصل کرلے گا. جیسا کہ اس کی نظیر خود ہی ہمارے فن حدیث میں بھی موجود ہے.                                                   چنانچہ مشہور ہے کہ اگر کسی حدیث کے سلسلے میں چند ضعیف سندیں جمع ہو جائیں تو وہ حدیث بھی محدثین کے نزدیک قوی سمجھی جانے لگتی ہے. آپ دیکھتے ہیں کہ اگر چند بھیک مانگنے والے دو دو چار چار پیسے جمع کر لیتے ہیں تو سب کے کھانے کا انتظام ہوجاتا ہے اور اگر علیحدہ علیحدہ چاہیں تو کسی کا بھی پیٹ نہیں بھر سکتا. ایسے ہی اگر چند ضعیف العمل اور ضعیف روحانیت والے نیک نیتی سے جمع ہو جائیں گے تو ایک کا دوسرے پر اثر پڑے گا اور سبھی کے اندر قوت پیدا ہو جائے گی..                                                   اور بھائی ان حضرات کی نیک نیتی میں کیا شبہہ ہے ظاہر ہےکہ یہ حضرات نہ تو تجارت کے لئے جمع ہوتے ہیں نہ کھیتی باڑی اور نہ کسی دوسرے کاروبار کے لئے.       پھر یہ بھی تو سوچئے کہ دس پندرہ آدمیوں کی جماعت میں کوئی نہ کوئی تو مقبول خداوندی ضرور ہی ہوگا. اور ساتھ رہنے کی وجہ سے اس کی مقبولیت کا اثر دوسروں پر یقیناً پڑے گا.                                                  یہی وجہ ہے کہ مومن کو نماز با جماعت پڑھنے کا حکم ہے. اسلئے کی وہ کتنا ہی کمزور کیوں نہ ہو اور ساتھ ہی ساتھ سارے جماعت کے نمازی بھی کمزور کیوں نہ ہوں. پھر بھی مجموعہ میں خدا کا کوئی مقبول بندہ ایسا ضرور ہوتا ہے جس کی وجہ سے پوری جماعت کی نماز قبول ہوجاتی ہے .                                                   معلوم ہوا کہ جماعت میں خواہ کتنے ہی ضعیف کیوں نہ ہوں. لیکن خدا کا کوئی مقبول بندہ ضرور ہوگا جس کی وجہ سے اس کی مقبولیت ضرور ہو گی.                                                  ... نیک نیتی کا اثر...                                                                           اور پھر وہ اپنی ذاتی غرض سے نہیں نکلے ہیں. بلکہ اللہ کی رضا کے لئے نکلے ہیں. اس نیک نیتی کا اثر بھی پڑتا ہے . کیونکہ یہ اللہ کا نام سیکھنے جا رہے ہیں. خدا کو  یاد کر نے کے لئے جا رہے ہیں تو جب اس نیت سے اللہ کے راستے میں نکلیں گے تو اس کا اثر بھی ضرور آئے گا.                                                                                    گویا اس طرح فی الجملہ صحبت شیخ و صحبت صلحاء میسر آجائے گی. بہر حال یہ سب سے پہلی چیز صحبت اہل اللہ ہے.                    🌿ماخوذ خطبات حکیم الاسلام جلد چہارم..                                                           حقیر و فقیر دعا گو ہوں کہ اللہ رب العزت ہم سب کو نیک بنائے اور نیکوں کی صحبت عطا فرمائے آمین

جاری

تبلیغی جماعت اصلاحی طریقوں کی جامع ہے قسط نمبر( 1)

🍀تبلیغی جماعت اصلاحی طریقوں کی جامع ہے   🍀                               📝قسط نمبر( 1)  📚                         علمائے دیوبند کی بہت بڑی شخصیت   حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب قاسمی نوراللہ مرقدہ کیا فرماتے ہیں.                                  امام غزالی رحمۃاللہ علیہ اپنی کتاب احیاء العلوم میں عملی کمال پیدا کرنے کے چار طریقے لکھے ہیں.                    (1)صحبت اھل اللہ.                         اول یہ کہ اہل اللہ کی صحبت میں رہا جائے ان حضرات کی جتنی ہی زیادہ صحبت نصیب ہوگی اتنا ہی ان کا رنگ قلب کے اندر اترتا چلا جائے گا.                (2) مؤاخا ۃ فی اللہ..                         لیکن اگر کسی شخص کو اتفاق سے شیخ میسر نہ آئے اور وہ کہے کہ میری بستی میں نہ تو کوئی شیخ ہے نہ کوئی عالم میرے نفس کی اصلاح کی صورت کیا ہوگی ایسے شخص کے متعلق امام غزالی رحمۃاللہ علیہ نے لکھا ہے کہ اسے مایوس نہیں ہونا چاہئے دوسرا طریقہ یہ ہے کہ بستی میں اس کا کوئی دوست تو ہوگا ہی . اور اگر نہ ہو تو ایک دو آدمیوں سے دوستی کرکے آپس میں سمجھوتہ کر لینا چاہئے کہ اگر میں کوئی برائی کروں تو تم میرا ہاتھ پکڑ کر روک دو. تم کروگے تو میں روک دونگا.         شریعت کی اصطلاح میں اسے مؤاخا ت فی اللہ کہتے ہیں.                                 )3)دشمن کے ذریعے اصلاح.                    لیکن اگر کوئی کہے میرا کوئی دوست ہی نہیں تو پھر اس کے لئے تیسرا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کے ذریعہ اپنی اصلاح کرے. ایسا تو شاید ہی کوئی ہوگا کہ آج کے دور میں جس کا کوئی دشمن نہ ہو آپ کے دشمن چھانٹ چھانٹ کر آپ کے عیوب اور برائیاں نکالتے اور پھیلاتے رہیں گے اب آپ کا کام یہ ہوگا کہ آپ کے اندر جو برائیاں ہیں انہیں چھوڑتے چلے جائیں. اگر آپ اس طرح ایک چلے دو چلے بھی گزار لیں گے تو بڑی حد تک آپ کی برائیاں ختم ہو جائیں گی اور آپ صالح بن جائیں گے.            ( 4) محاسبہ نفس..                                اور اگر کوئی کہے کہ میں تو پہاڑ کی کھوہ میں رہتا ہوں. مجھے نہ کسی شیخ کی صحبت میسر ہے اور نہ میرا کوئی دوست ہے اور نہ کوئی دشمن. پھر میرے لئے اصلاح کا کیا طریقہ ہوگا. امام غزالی رحمۃاللہ علیہ لکھتے ہیں کہ اس کو بھی مایوس نہ ہونا چاہئے اس لئے چوتھا طریقہ محاسبہ نفس کا ہے. روز انہ سوتے وقت کم از کم پندرہ منٹ مراقبہ کرے اور سوچے کہ آج میں نے کتنی بھلائیاں کیں اور کتنے گناہ مجھ سے سرزد ہوئے. جو بھلائیاں کی ہوں ان پر شکر ادا کرے.        اور جو گناہ سرزد ہوئے ہوں ان پر سچے دل سے توبہ کرے.                                         حاصل یہ کہ اولاً تو شیخ کے ذریعہ نفس کی اصلاح کیجئے. شیخ نہ ملے تو پھر دوست کے ذریعے خوبیاں پیدا کیجئے. اور اگر دوست نہ ہو تو پھر دشمن کو آلہء کار بنائیے. اور اگر دشمن بھی نہیں ہے تو اپنا شیخ اپنے ہی کو بنا لیجئے.       عرفی طور پر اصلاح کے یہی چار طریقے ہیں ان میں سے اگر ایک بھی میسر آجائے تو نجات کے لئے کافی ہے اور اگر اتفاق سے یہ چارو چیزیں میسر آجاویں تب وہ شخص کیمیا بن جائے گا.      🍀تبلیغی جماعت اصلاحی طریقوں کی جامع ہے ☘                                              اگر آپ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ تبلیغ اصلاح کے ان چاروں طریقوں کا ایک مجموعہ مرکب ہے. تو یہ تبلیغی جماعت ایک... معجون مرکب...  ہے گویا یہ نسخہ ء امرت کا بن گیا جس پر اصلاح نفس کے  یہ چاروں طریقے جمع ہوگئے . الغرض اس میں محنت کرنے سے بہت ہی بڑا فائدہ ہوگا. آپ کہیں گے کہ تبلیغ میں نکالا کیوں جاتا ہے؟ تو تبلیغ میں اس لئے نکالا جاتا ہے کہ اس میں بزرگوں کی صحبت میسر ہوتی ہے. پھر ساتھی اچھے ملتے ہیں. ایک دوسرے کو برائی سے روکتے ہیں. اور پھر جب وہ اپنا خرچ کر کے باہر نکلا ہے تو دینی جذبات بھی ابھریں گے. اسے اپنی اصلاح کا خیال پیدا ہو گا. اسلئے کہ جب وہ اپنا گھر چھوڑ کر گیا ہے اور ہر قسم کی مشقت برداشت کر رہا ہے تو وہ کچھ نہ کچھ اثر لے کر ضرور ہی آئے گا. اس کے بعد بھی اگر یہ اثر لے کر نہ لوٹے تو وہ انسان نہیں بلکہ پتھر ہے. اگر انسان ہے تو ضرور وہ اثر لے کر آئے گا کیونکہ وہ نیک لوگوں کی صحبت میں رہا ہے..               احباب حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحب رحمۃاللہ علیہ ان چاروں کے تعلق سے مفصل روشنی ڈالے ہوئے ہیں باقی انشاءاللہ میں کل ارسال کروں گا.              ☘ماخوذ. خطبات حکیم الاسلام  جلد 4☘                                           حقیر و فقیر کی دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہم سب کو نیک بنائے اور نیکوں کی صحبت عطا فرمائے آمین