Friday, 10 June 2016

مسائل زکوٰۃ

ZAKAAT MASAEL

EDITED AND CHECKED
BY
DARUL IFTAA JAMIA TAHA WALTON LAHORE

Q.1
سوال:   زکوة کے لغوی معنی بتائیے؟
جواب:  پاکی اور بڑھو تری کے ہیں۔
Q2
سوال:   زکوة کی شرعی تعریف کیجئے؟
جواب:    مال مخصوص کا مخصوص شرائط کے ساتھ  کسی مستحقِ زکوۃ کومالک بنانا۔
Q 3
سوال:   کتناسونا ہوتو زکوۃ فرض ہوتی ہے؟
جواب:  ساڑھے سات تولہ یا اس سے زیادہ ہو
Q4
سوال:   کتنی چاندی ہوتو زکوۃ فرض ہوتی ہے؟
جواب:  ساڑھے باون تولہ یا اس سے زیادہ ہو۔
Q5
سوال:   کتنا روپیہ ہوتو زکوۃ فرض ہوتی ہے؟
جواب:  اس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی  کے برابر ہو۔
Q6
سوال:   کتنا مالِ تجارت ہوتو زکوۃ فرض ہوتی ہے؟
جواب:  اس کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو۔
Q7
سوال:   اگر کچھ سونا ہے، کچھ چاندی ہے، یا کچھ سونا ہے، کچھ نقد روپیہ ہے، یا کچھ چاندی ہے، کچھ مالِ تجارت ہے، ان کو ملاکر دیکھا جائےتو ساڑھے باون تولے چاندی کی مالیت بنتی ہےاس صورت میں زکوۃ فرض ہے یا نہیں؟

جواب:  فرض ہے۔
Q8
سوال:   چرنے والے مویشیوں پر بھی زکوٰة فرض ہےیانہیں؟
جواب:  فرض ہے۔
Q9
سوال:   عشری زمین کی پیداوار پر بھی زکوٰة فرض ہےیانہیں؟
جواب:  فرض ہے۔
Q10
سوال:   ایک صاحب نصاب شخص کودرمیان سال میں ۳۵ہزار کی آمدنی ہوئی،تویہ۳۵ ہزار بھی اموالِ زکوۃ میں شامل کئے جائیں گے یا نہیں؟
جواب:  شامل کئے جائیں گے۔
Q 11
سوال:   صنعت کار کے پاس دو قسم کا مال ہوتا ہے، ایک خام مال، جو چیزوں کی تیاری میں کام آتا ہے، اور دُوسرا تیار شدہ مال، ان دونوں قسم کے مالوں پر زکوٰة فرض  ہےیانہیں؟
جواب:  فرض ہے۔
Q12
سوال:   مشینری اور دیگر وہ چیزیں جن کے ذریعہ مال تیار کیا جاتا ہے، ان پر زکوٰة فرض ہے یا نہیں؟
جواب:  فرض نہیں ہے۔
Q13
سوال:   استعمال والے زیورات پر زکوٰة ہے یا نہیں؟
جواب:  زکوٰة ہے۔
Q14
سوال:   زکوٰة انگریزی مہینوں کےحساب سےنکالی جائےگی یاہجری(قمری)مہینوں کےحساب سےنکالی جائےگی؟
جواب:  قمری مہینوں کے حساب سے نکالی جائےگی۔
Q15
سوال:   پلاٹ اگر اس نیت سے لیا گیا تھا کہ اس کو فروخت کریں گے اس پر زکوٰة واجب ہوگی یانہیں؟
جواب:  واجب ہوگی۔
Q16
سوال:   پلاٹ خریدتے وقت تو فروخت کرنے کی نیت نہیں تھی، لیکن بعد میں فروخت کرنے کا ارادہ ہوگیا تو اس پر زکوٰة واجب ہےیا نہیں؟
جواب:  جب فروخت کردیا جاے اور رقم پر ایک سال گزر جاےتب زکوٰة فرض ہے .اگر پہلے سے صاحب نصاب ہےتو یہ رقم نصاب مین مل جاے گی
Q17
سوال:   جو پلاٹ رہائشی مکان کے لئے خریدا گیا ہو اس پر زکوٰة ہےیا نہیں؟
جواب:  نہیں۔
Q18
سوال:   اگر پلاٹوں کی خرید و فروخت کا کاروبار کیا جائے اور فروخت کرنے کی نیت سے پلاٹ خریدا جائے توزکوۃ کس طرح ادا کی جائےگی؟
جواب:  ان کی کل مالیت پر زکوٰة ہر سال واجب ہوگی۔
Q19
سوال:   جو مکان کرایہ پر دیا ہے،اس کی زکوٰة  کا کیا حکم ہے؟
جواب:  اس کے کرایہ پر جبکہ نصاب کو پہنچے تو زکوٰة واجب ہوگی۔
Q20
سوال:   حج کے لئے رکھی ہوئی رقم پر زکوٰة ہے یا نہیں؟
جواب:  زکوٰة واجب ہے۔
Q21
سوال:   کسی کوہم زکوٰة د یں اور اس کو بتائیں نہیں تو زکوٰة  اداہوجائے گی یانہیں؟
جواب:  ادا ہوجائے گی۔
Q22
سوال:   ملازم نے اضافی تنخواہ کا مطالبہ کیاتو مالک نے زکوٰة کی نیت سے اضافہ کردیا کیا اس کی زکوٰة ادا ہوئی یا نہیں؟
جواب:  زکوٰة ادا نہیں ہوئی۔
Q23
سوال:   کیاانکم ٹیکس ادا کرنے سے زکوٰة ادا ہوجاتی ہے؟
جواب:  زکوٰة ادا نہیں ہوتی۔
Q24
سوال:   اپنے ماں باپ، اور اپنی اولاد، اسی طرح شوہر بیوی ایک دُوسرے کو زکوٰة دے سکتےہیں یانہیں؟
جواب:  نہیں۔
Q25
سوال:   جو لوگ خود صاحبِ نصاب ہوں ان کو زکوٰة دینا جائزہےیا نہیں؟
جواب:  نہیں۔
Q26
سوال:آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان (ہاشمی حضرات) کو زکوٰة دے
سکتے ہیں یانہیں؟
جواب:  نہیں۔
Q27
سوال:   اپنے بھائی، بہن، چچا، بھتیجے، ماموں، بھانجے کو زکوٰة دینا جائز ہےیانہیں؟
جواب:  جائز ہے اگر مستحق ہیں ۔
Q28
سوال:   آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان یعنی: آلِ علی، آلِ عقیل، آلِ جعفر، آلِ عباس اور آلِ حارث بن عبدالمطلب، ان پانچ بزرگوں کی نسل سے ہو تواس کو زکوٰة دی جاسکتی ہے یا نہیں؟
جواب:  نہیں۔
Q29
سوال:   اگرسید غریب اور ضرورت مند ہو تو ان کی خدمت کیسے کرنی چاہئے؟
جواب:  زکوۃ وصدقات کےعلاوہ دُوسرے فنڈ سے۔
Q30
سوال:   سادات کو زکوٰة کیوں نہیں دی جاتی؟
جواب:  زکوٰة، لوگوں کے مال کا میل ہے۔
Q31
سوال:   سیّد کی غیرسیّدبیوی  جو زکوۃ کی مستحق ہو زکوٰة دی جاسکتی ہےیا نہیں؟
جواب:  اس کو زکوٰة دے سکتے ہیں۔
Q32
سوال:   مال دار بیوی کا غریب شوہربیوی کے علاوہ دوسروں سےزکوٰة لے سکتا ہے یا نہیں؟
جواب:  لے سکتا ہے۔
Q33
سوال:   غیرمسلم کو نفلی صدقہ دےسکتے ہیں،کیا وہ زکوٰة اور صدقۂ فطر کےبھی مستحق  ہیں؟
جواب:  نہیں۔
Q34
سوال:   مدارسِ عربیہ میں زکوٰة دینا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:  بہتر ہےبوجہ دین کی اشاعت کے

Q35
سوال:   صاحبِ نصاب لوگ بھی خود کو مسکین ظاہر کرکے زکوۃ حاصل کرلیتے ہیں، اس کاکیا حکم ہے؟
جواب:  ان کو زکوٰة لینا حرام ہے۔
Q36
سوال:   چندہ وصول کرنے والے کو زکوٰة سے مقرّرہ حصہ دینا جائزہےیانہیں؟
جواب:  جائز نہیں۔
Q37
سوال:   زمین بارش کے پانی سے سیراب ہوتی ہے، تو پیداوار اُٹھنے کے وقت اس پر کتنا حصہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں دینا واجب ہے؟
جواب:  دسواں حصہ۔
Q38
سوال:   اگر زمین کو خود سیراب کیا جاتا ہے تو اس کی پیداوار کاکتنا حصہ صدقہ کرنا واجب ہے؟
جواب:  بیسواں حصہ۔
Q39
سوال:   ایک ملک کی کرنسی سے زکوۃ ادا کرکے دوسرے ملک بھیجا جائے تو زکوۃ کی ادائیگی کا اعتبار کس ملک کی کرنسی کا ہوگا؟
جواب:  جس ملک کی کرنسی سے زکوۃ ادا کی گئی۔
Q40
سوال:   رہائشی گھر، جسم کے کپڑے ، گھر کے سامان ،سواری میں زکوۃ فرض ہے یانہیں؟
جواب:  نہیں۔
Q41
سوال:   جواہر جیسے موتی ، یاقوت، اور زبر جدپر زکوۃ فرض ہے یانہیں جب کہ وہ تجارت کے لئے نہ ہوں؟
جواب:  نہیں۔
Q42
سوال:   زکوۃ کی ادائیگی کب واجب ہوگی؟
جواب:  نصاب پر قمری سال کا گذرنا شرط ہے۔
Q43
سوال:   اگر سال کے شروع میں نصاب کامل ہو، پھر سال کے درمیان کم ہوجائے ليكن نصاب سے كم نہ ہو پھر سال کے اخیر میں نصاب کامل ہو تو اس میں زکوٰۃ واجب ہوگی یانہیں؟
جواب:  واجب ہوگی۔
Q44
سوال:   ایک شخص شروع سال میں مالک نصاب ہوگیا،درمیان سال میں اس مال میں اوراضافہ ہوگیا،اضافہ تجارت سے ہوا ہویا کسی نے تحفہ یاہدیہ دیاہویا میراث کا مال ملاہو،بہرحال مال میں اضافہ ہوگیا،اب پورے مال پر زکوہ واجب ہوگی یاشروع سال کے مال پر واجب ہوگی؟
جواب:  پورے مال پر واجب ہوگی۔
Q45
سوال:   جو شخص اپنے تمام مال کو صدقہ کردے اور اس میں زکوٰۃ کی نیت نہ کرے تو اس سے زکوٰۃ ساقط ہو جائے گی یانہیں؟
جواب:  ساقط ہوجائےگی۔
Q46۔

سوال:   اگر کسی شخص کا فقیر کے پاس قرض ہو اور وہ زکوٰۃ کی نیت سے اس کے ذمہ کو بری کردے تو زکوٰۃ کی ادائیگی صحیح  ہوگی یانہیں؟
جواب:  ادائیگی صحیح نہیں ہوتی ۔
Q47
سوال:   سونا چاندی کی زکوٰۃ میں سونا اور چاندی کا ٹکڑا وزن سے نکالےیا قیمت ادا کرے؟
جواب:  اختیار ہے۔
Q48
سوال:   مصارفِ زکوٰۃ میں فقیر کسے کہتے ہیں؟
جواب:  وہ شخص ہوتا ہے جو نصاب سے کم كا مالک ہوتا ہے۔
Q49
سوال:   مصارفِ زکوٰۃ میں مسکین کسے کہتے ہیں؟
جواب:  جو بالکل کسی چیز کا مالک نہ ہو
Q50
سوال:   مصارفِ زکوٰۃ میں عامل کسے کہتے ہیں؟
جواب:  وہ شخص ہوتا ہے جو زکوۃ اور عشر کو اکھٹا کرتا ہے۔اور  اسلامی حکومت کی طرف سے مقرر کردہ ہو.
۔
Q51
سوال:   مصارفِ زکوٰۃ میں مقروض کسے کہتے ہیں؟
جواب:  یہ وہ شخص ہے جس کے ذمہ قرض ہو، اپنے قرض کی ادائیگی کے بعد نصاب کامل کا مالک نہ رہ جاتا ہو۔تجارتی قرض کا مسئلہ الگ ہے
Q52
۔
سوال:   مصارفِ زکوٰۃ میں مسافر سے کیامراد ہے؟
جواب:  جس کا اپنے وطن میں مال ہو، لیکن اس کا مال سفر میں ختم ہوچکا ہو اور منگوانے کا کوی ذریعہ بهی نہ ہو
Q53
سوال:   مسافر پر زکوۃ کی کتنی رقم خرچ کرنا درست ہے؟
جواب:  اتنی مقدار صر ف کی جائے گی کہ وہ اپنے وطن پہنچ سکے۔
Q54
سوال:   زکوۃ کی تمام قسموں پر زکوۃ صرف کرنا جائز ہےیاکسی ایک قسم پر صرف کرنا  جائز ہے؟
جواب:  دونوں جائز ہے۔
Q55
سوال:  کافر کو زکوٰۃ دینا جائزہےیا نہیں؟
جواب:  جائزنہیں۔
Q56
سوال:   مالدار کو زکوٰۃ دینا جائزہےیا نہیں؟
جواب:  جائز نہیں۔
Q57
سوال:   مالداربچے پر زکوٰۃ صرف کرنا جائزہےیا نہیں؟
جواب:  جائز نہیں
Q58۔
سوال:   بنی ہاشم اور ان کے غلاموں پر زکوۃ صرف کرنا جائز ہےیانہیں؟
جواب:  جائز نہیں
Q59۔
سوال:   مالک نصاب کا زکوۃ کو اپنے اصول پر جیسے باپ ، دادا ، اوپر تک صرف کرنا جائزہےیا نہیں؟
جواب:  جائز نہیں
Q60۔
سوال:   مالک نصاب کا اپنے فروع پر جیسے ، بیٹا ،پوتا، نیچے تک زکوٰۃ کو صرف کرنا جائز ہےیانہیں؟
جواب:  جائز نہی
Q61۔
سوال:   مالک نصاب بیوی شوہر پراور مالک نصاب شوہر اپنی بیوی پر زکوۃ صرف کرسکتا ہے یا نہیں؟
جواب:  نہیں۔
Q62
سوال:   مسجد یا مدرسہ کی تعمیر یا راستہ یا پل کے درست کرنے میں زکوۃ صرف کرنا جائز ہےیانہیں؟
جواب:  جائز نہیں
Q63۔
سوال:   میت کو کفنانے یا میت کے قرض کو پورا کرنے میں زکوٰۃ صرف کرنا جائزہےیا نہیں؟
جواب:  جائز نہیں۔
Q64
سوال:   زکوٰۃ کی ادائیگی بغیر تملیک(مالک بنانا) کے صحیح ہوتی ہے یا نہیں؟
جواب:  نہیں۔
Q65
سوال:   زکوۃ رشتہ داروں پر اورپھر پڑوسیوں پر صرف کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب:  بہتر ہے۔
Q66
سوال:   مکمل نصاب کےبقدر زکوۃ ایک شخص کو دینا درست ہےیانہیں؟
جواب:  مکروہ تنزیہی  ہے۔
Q67
سوال:   مقروض پر اس کے قرضے کی ادائیگی کیلئے نصاب سے زیادہ صرف کرنا مکروہ ہے یا نہیں؟
جواب:  مکروہ نہیں۔
Q68
سوال:   بغیر ضرورت کے ایک جگہ سے دوسری جگہ زکوٰۃ کو منتقل کرناکیسا ہے؟
جواب:  مکروہ  تنزیہی هے
Q69۔
سوال:   اپنے رشتہ داروں کیلئے زکوۃ کا منتقل کرناکیسا ہے؟
جواب:  مکروہ نہیں ہے۔
Q70
سوال:   مسجد یا مدرسہ کی تعمیر یا راستہ یا پل کے درست کرنے میں زکوۃ صرف کرنا جائز ہےیانہیں؟
جواب:  جائز نہیں۔
Q71

سوال:   ایک شخص جو زکاة کا مستحق نہیں ہے، لیکن وہ ڈاکٹر بننا چاہتاہے،کیا اس کو زکاة دی جاسکتی ہے؟
جواب:  صدقات نافلہ سے اس کی مدد کی جاسکتی ہے۔
Q72

سوال:   اگر زکاة کسی غریب غیر مسلم کو دیدی جائے تو اداہوجائے گی یا نہیں؟
جواب:  زکاة ادا نہ ہوگی۔
Q73
سوال:   کیا اپنے مستحق زکاة بھائی کو زکاة کی رقم دی جا سکتی ہے؟
جواب:  دی جا سکتی ہے ۔

Q74
سوال:   کیا مستحق زکاة چچیرے ، ممیرے، خلیرے بھائی کو یااپنے بھتیجے کو زکاة دے سکتے ہیں ؟
جواب:  دے سکتے ہیں
۔
سوال:   کیا مدرسہ کے مہتمم یا ناظم  کو جو طلبہ کی وکیل ہوتے ہیں زکاة دی جاسکتی ہے ؟

جواب:  دی جاسکتی ہے۔بلکہ افضل ہے
Q75
سوال:   زکوۃ کی ادائیگی کے لئےسونےکی قیمت فروخت کا اعتبارہوگا یاقیمت خرید کا ؟
جواب:  قیمت فروخت
Q76
۔
سوال:   سونے پر زکاة موجودہ قیمت کے حساب سے ہوگی یا خریدنے کے وقت کی قیمت کے حساب سے ہوگی ؟
جواب:  موجودہ قیمت کا اعتبار ہوگا۔
Q77
۔
سوال:   کیا زکاة مستحق زکاة اپنے بھانجے کی تعلیم پر خرچ کرسکتے ہیں؟
جواب:  ہاں۔مگر اس کو دے دی جائے تاکہ وہ مالک بن جاے
Q78
سوال:   کیا نابالغ بیٹا یا بیٹی کے مال پر بھی زکوة دینا فرض ہے؟
جواب:  نہیں
Q79

سوال:   مسجد کے امام یامؤذن کی ماہانہ تنخواہ کو زکاۃ میں شامل کرسکتے ہیں یا نہیں؟
جواب:  نہیں۔
Q80
سوال:   کیا لڑکی زکوة کی رقم اپنے والدین کو دے سکتی ہے۔
جواب:  نہیں۔
Q81

سوال:   کیا نفلی صدقہ کا گوشت صدقہ کرنے والا بھی خود استعمال کرسکتا ہے؟
جواب:  کرسکتا ہے۔
Q82
سوال:   صدقات واجبہ جیسے نذر وغیرہ کا گوشت  کیا صدقہ دینے والا خود کھاسکتا ہے۔
جواب:  نہیں۔
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌲🌲🌲🌲🌲🌲🌲🌲🌲🌳🌳

Sunday, 5 June 2016

مدارس اسلامیہ بھی دین کے خادم ہیں صرف تبلیغی جماعت نہیں

🌈مدارسِ اسلامیہ بھی دین کے خادم ہیں، صرف تبلیغی جماعت نہیں🌈ــــــــــــــ ✏فضیل احمد ناصری القاسمی 📝................ مجھے تبلیغی جماعت کچھ لکھنے سے پہلے سوبار سوچنا پڑتا ہے، کیوں کہ بات خواہ کتنی ہی مثبت کیوں نہ ہو، مضمون نگار "منفی ذہن " تسلیم کرلیا جاتا ہے، لیکن کیا کیجیے، نہی عن المنکر کا تقاضا درپیش ہو تو "عشق کو آتشِ نمرود میں بے خطر کودنا ہی پڑتا ہے "....ہوا یوں کہ چند دن پیش تر ایک آڈیو میری سماعت سے ٹکرایا، جس کا خلاصہ یہ تھا کہ مدارس اسلامیہ میں پڑھنا پڑھانا دین کی خدمت نہیں، اسے دینی خدمات کے قبیل سے باور کرنا "نفس کا دھوکہ "ہے، حقیقت اور نفس الامر سے اس کا کوئی تعلق نہیں-تبلیغی مقرر اپنے اس دعوے کو مولانا سعد کاندھلوی دام مجدہم کی طرف منسوب کررہا تھا -دعوے کی دلیل یہ تھی کہ چوں کہ مدارس میں پڑھانے والے تن خواہیں لیتے ہیں، انہی سے اپنے بال بچوں کی پرورش کرتے ہیں،انہی سے اپنی دنیوی ضرورتیں پوری کرتے ہیں، اس لیے تدریس "شریعت "تو کہلا سکتی ہے، مگر دینی کام نہیں-دینی کام تو محض چلوں میں پھرنا، جماعتی اسفار میں سال لگانا اور اپنے بیوی بچوں سے بغیر کسی اجرت کے علاحدگی اختیار کرنا ہے اور بس- ان صاحب نے تعمیرمسجد میں چندہ دینے کو بھی دینی کام نہیں مانا، نماز پڑھنا پڑھانا بھی ان کی نظر میں دینی کام نہیں-.....ان صاحب کا تعارف چاہ کر بھی حاصل نہ کرسکا، لیکن ان کی ہفواتی تقریر سن کر میرے رونگٹے کھڑے ہوگئے کہ یا اللہ!  یہ بےگانۂ دین کیا کیا بک رہا ہے؟ اسے یہ بھی خبر نہیں کہ دین اور شریعت ایک شے ہے یا دونوں میں بون ہے؟  دونوں میں تساوی کی نسبت ہے یا تباین کی؟  وہ صاحب تباینی نسبت کے قائل تھے-یہ ایک افسوس ناک بلکہ شرمناک پہلو ہے-ان کی یہ تقریر اس جانب اشارہ کر رہی ہے کہ اربابِ جماعت تبلیغی اسفار کو ہی دینی خدمت مان رہے ہیں-جب کہ یہ خیال سراسر دھوکہ اور شیطانی وسوسہ ہے-مجھے بے ساختہ ایک حدیث یاد آگئی، یہ حدیث ترمذی جلددوم میں ہے-آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یقبض العلم بقبض العلماء "اللہ تعالیٰ رفتہ رفتہ علما کو اٹھا لیں گے، اس طرح پوری دنیا سے علم کا خاتمہ ہوجاےگا-پھرفرمایا: "حتی اذا لم یترکہ عالماً اتخذ الناس رؤساً جھالاً فافتوا فسئلوا فافتوا بغیر علم فضلوا و اضلوا "جب روے زمین پر کوئی عالمِ دین نہ بچے گا، تو لوگ جاہلوں اور ناواقفانِ شریعت کو اپنا امیر بنالیں گے، وہ ان سے مسائل معلوم کریں گے تو ان کے امیر بغیر علم کے ہی مسائل بتاتے پھریں گے -نتیجتاً امیر صاحب خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے، یعنی: خود تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے........ ابھی ایسی صورتِ حال اگرچہ عام تو نہیں ہوئی، مگر جماعت میں شدہ شدہ یہ رجحان پیدا ہوتا جا رہا ہے-منبروں اور اسٹیجوں پر ایسے بھائی تقریر کرتے نظر آتے ہیں جنہوں نے دین کو سرے سے سمجھا ہی نہیں ہے-تبلیغی دوروں میں وقت لگا کر دوچار باتیں بولنا سیکھ جاتے ہیں اور منبر و محراب پر مسند سجانے لگتے ہیں-کسی بھی مسئلے میں عالم دین سے رجوع کرنا جانتے ہی نہیں-اگر خواہی نخواہی پوچھنا ہی ہو تو ایسے عالم کا انتخاب ہوتا ہے جو "نمک کی کان میں جا کر نمک ہوگیا ہو " جس عالم نے سہ روزہ اور ہفت روزہ وغیرہ میں وقت نہیں لگایا، وہ مستند مولوی اور مفتی نہیں "لایعبؤا بہ "ہے-کس نمی پرسد کہ صاحب کیستی؟ اکثر جماعتی احباب کا یہ خیال بھی ہے اور یہ خیال "عقیدہ کی حد تک "پختہ ہوچکا ہے کہ مدارس میں پڑھنا پڑھانا دین کی خدمت نہیں- اسے وقت کا زیاں تو کہا جاے گا، مگر وقت لگانا نہیں-...چناں چہ جب کسی عالم سے سوال ہوتا ہے کہ آپ نے وقت لگا یا؟ اور وہ کہے کہ "مدرسہ میں آٹھ سالوں کا وقت صرف ہوا "تو وہ گھور کر اسے دیکھےگا کہ مغزخوری کیوں کررہا ہے؟ وقت لگانے کا اطلاق صرف جماعتی اسفار پر پر ہوگا، مدارس اور خانقاہوں میں تربیت و تزکیہ پر نہیں-..... جماعتی احباب کی یہ خامی آج سے نہیں، برسوں سے جاری ہے اور اب تو اس کی پرواز بہت اونچی بھی ہوچلی ہے...... سوال یہ ہے کہ کیا مرکز اس سے واقف نہیں؟ یا واقف تو ہے مگر کسی مناسب وقت کے انتظار میں ہے؟؟ ..... جماعتی احباب اتنے جری ہو چکے ہیں کہ الٹی سیدھی ہربات کو مولانا الیاس کاندھلوی، مولانا سعد کاندھلوی اور دوسرے جماعتی اکابر کی طرف دھڑلے سے منسوب کرڈالتے ہیں- آخر جماعتی علما خاموش کیوں ہیں؟؟ہمارے احباب کا تصور ایسا مخدوش ہوچکا ہے کہ وہ صرف جماعتی علما کی بات مانیں گے، غیرجماعتی کی نہیں-تو پھر جماعتی علما ان کے تصورات کی دنیا کیوں تبدیل نہیں کرتے؟ اگر وقت ابھی نہیں آیا تو کب آےگا؟ جب چڑیا کھیت چگ جاےگی تب؟؟؟ .......جماعتی عوام کو یہی نہیں معلوم کہ دین کی خدمت کسے کہتے ہیں اور اس کا دائرہ کس قدر پھیلا ہوا ہے؟؟؟ ......انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ صرف ایمان کے ستر سے زیادہ شعبے ہیں، پہلا شعبہ کلمۂ توحید ہےاور آخری شعبہ "اماطۃ الاذیٰ عن الطریق "یعنی تکلیف دہ چیزوں کو راستے سے ہٹانا- اندازہ لگائیے کہ جب ایمان کے اتنے شعبے ہیں تو خدمتِ دین کے کتنے شعبے ہوں گے!!! جماعتی احباب کو یہ جاننا چاہیے کہ "اسلام "کی مثال ایک "سلطنت "کی سی ہے-جس طرح عام شہری ملک کا خادم ہوتا ہے، پولیس اور فوج بھی ملک کی خادم ہوتی ہے-سیاست داں اور مئیر وغیرہ بھی ملک کے خادم ہی ہیں-اگر کوئی سرپھرا یہ کہے کہ ملک کی خدمت تو بس پولیس کررہی ہے، یا کوئی احمق یہ دعویٰ کربیٹھے کہ ملک کو عوام ہی چلا رہے ہیں، نہ کہ خواص، تو یہی کہا جاے گا کہ عقل مندوں کی دنیا سے اس کا کوئی رشتہ نہیں-سبھی ملک کے وفادار ہیں اور سبھی اس کے خدمت گزار-اسی طرح "اسلام "ہے -اس کا خادم عام مسلمان بھی ہے اور خاص مسلمان بھی-محدثین بھی خادم اسلام ہیں، مفسرین بھی اسلام کے خدام ہیں، متکلمین اور فقہا بھی اسلام ہی کی خدمت میں مصروف ہیں- مدرسوں اور جامعات میں پڑھانے والے بھی دینی کام انجام دے رہے ہیں-مجاھدین اسلام بھی دین کے ہی خادم ہیں-تبلیغی اسفار میں نکلنے والے بھی دین کے خدمت گزار ہیں-حتی کہ مسجد کا امام بھی خادم دین ہے اور مسجد کا مؤذن بھی-اگر امام یہ کہے کہ میں ہی اسلام کی خدمت کررہا ہوں تو اسے عقل سے پیدل کہا جاےگا، اسی طرح مؤذن یا کسی مدرسے کا استاذ ایسا دعویٰ کرے تو یہی کہا جاے گا کہ اسے اپنے دماغ کا علاج کرانا چاہیے-ہاتھی ندیدہ چند اندھوں کو ہاتھی دیکھنے کا شوق ہوا، پاس پہونچے، چھوا اور سب اپنی اپنی بڑ ہانکنے لگے "جناب! ہاتھی کیا ہے، ستون کا نام ہے!! دوسرا بولا نہیں، ہاتھی تو کوڑے کو کہتے ہیں، تیسرا بولا: میاں! پنکھے کا نام ہاتھی ہے "...کسی نے پاؤں پر ہاتھی کا اطلاق کیا، کسی نے دم پر اور کسی نے کان پر...... دراصل ہاتھی کسی نے نہیں دیکھا .... ہاتھی کسی ایک عضو کانام نہیں تھا، بلکہ چند اعضا کے مجموعہ کا نام ہاتھی تھا-جو لوگ اپنے ہی کام کو دین سمجھ رہے ہیں، وہ درحقیقت ہاتھی ندیدہ ہیں-انصاف کی بات یہ کہ سارےہی دین دار مسلمان دین کے خادم اور مبلغ ہیں-تبلیغ کی یہ خدمت اللہ تعالی نے سب سے زیادہ مدارس اور جامعات سے لی، یقیناً خانقاہوں سے دین کا بڑا کام ہوا، تبلیغی جماعت سے بھی اسلام کو بڑی تقویت ملی، مگر سچ یہی ہے کہ مدارس اسلامیہ نے دین کی سب سے بہتر انداز میں خدمت کی-اگر محدثین نہ ہوتے تو فرامینِ رسالت کا ذخیرہ ہم تک کیسے پہونچتا؟ مفسرین نہ ہوتے تو قرآن کا صحیح مطلب ہمیں کون بتاتا؟؟ فقہا نہ ہوتے تو حلال و حرام کی صحیح رہ نمائی کون کرتا؟؟ خادمانِ دین کی یہ ساری فوجیں مدارس میں ہی تیار ہوئیں-انہیں کی کوششوں سے اسلام اپنے اصلی رنگ وروپ اور مکمل لوازمات کے ساتھ ہمارے سامنے ہے-اگر یہ نہ ہوتے تو دشمنانِ اسلام کب کا اسے صفحۂ ہستی سے مٹا چکے ہوتے-تبلیغی جماعت تو ابھی ابھی آئی ہے-اس پر ابھی تو سو سال بھی نہیں گزرے-جب یہ نہیں تھی تو دین کی خدمات کون انجام دے رہاتھا؟؟ حضرت مولانا الیاس کاندھلوی اور جماعت کا دیگر امرا و رہ نما کسی مدرسے کے ہی پڑھے لکھے تھے-.....ایسا بہت دیکھا گیا گیا ہے کہ جماعتی ساتھی غیرمقلد بن گئے، یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ انہیں بریلویوں، مودودیوں اور قادیانیوں نے اچک لیا-یہ بھی سناگیا کہ دیگر باطل فرقے بھی جماعتی احباب کو "لقمۂ تر "سمجھتے رہے ہیں-ظاہر ہے کہ شوقِ عمل کی فراوانی ہزار سہی؛ اگر علم کی رہ نمائی نہ ہو تو صاحبِ شوق کا استحصال کوئی بھی کرسکتا ہے-خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کے ہاتھوں پر لاکھوں لاکھ آدمی مسلمان ہوے، مگر آج اجمیر کو دیکھیے تو کفر وشرک کا اڈہ بنا ہوا ہے-کیوں؟؟ وجہ صاف ہے کہ دین تو آگیا مگر علم کی شمع چوں کہ ان سے کوسوں دور رہی، اس لیے وہ اکتسابِ نور سے محروم رہے-تبلیغی جماعت میں اگرچہ چھ باتوں پر زور دیا جاتا ہے، مگر حق یہ ہے کہ ان پر عمل ندارد -کلمہ، نماز، اخلاص نیت، علم وذکر، اکرامِ مسلم اور تفریغِ وقت- یہ چھ باتیں جماعت کی جان ہیں، مگر انصاف سے بتائیے کہ اکرامِ مسلم کا پہلو جماعت میں پایا جاتا ہے؟ علما کا اکرام آہستہ آہستہ مفقود ہوتا جا رہا ہے،اکرام تو جانے دیجیے، تنقیص و توہین چل رہی ہے-علم کے نام پر صرف فضائل اعمال ہے-کیا سارے علوم فضائل اعمال میں آگئے؟ ہرگز نہیں، تو پھر دیگر کتابوں کو شجرۂ ممنوعہ کیوں سمجھا جا رہا ہے؟؟............ان کے علاوہ دیگر باتیں بھی جماعتی حلقے میں پائی جاتی ہیں، مگر نقائص گنانا مقصود نہیں، مقصود فقط اصلاح ہے-مدرسے والے بھی دین کی خدمت کررہے ہیں اور تبلیغ والے بھی-بلکہ اگر میں تمثیلاً یہ کہوں تو ہرگز غلط نہ ہوگا کہ "جماعت "اچھے شہری فراہم کررہی ہے اور "مدارس "اچھی فوج اور حکمراں-اجرت لے کر کام کرنا دین کے منافی ہرگز نہیں-"نبوت "کے بعد سب سے بڑا مقام "خلافت "کا ہے، خلفاے اسلام بیت المال سے تنخواہیں پاتے تھے یا نہیں؟ تو کیا معاذااللہ یہ کہہ دیا جاے کہ خلفاے اسلام نے صرف اپنی دنیوی ضروریات کی تکمیل کی، نہ کہ اسلام کی خدمت-.............. یہ خراب ذہنیت ہے-اکابرِ جماعت سے تمام محبانِ جماعت کی مخلصانہ اپیل ہے کہ سرِعام علماے اسلام اور مدارسِ اسلامیہ کی خدمات کو سراہیں، ان کے روشن کارناموں کی عوام کے درمیان تشہیر کریں، جماعتی عوام پر دباؤ ڈالیں کہ وہ اپنا رشتہ علماےکرام و مدارس سے مستحکم کریں-مجھے امید ہے کہ جب مرکز اور جماعت کے اکابر علی الاعلان مدارس و اہلِ علم کی قدر دانی کریں گے تو عوام میں بھی اہلِ علم اور مدارس کی اہمیت جاگزیں ہوگی....... چمن میں تلخ نوائی مری گوارا کر ....کہ زہر بھی کبھی کرتا ہے کارِ تریاقی

فارغین مدارس کی خدمت میں ایک راہنما تحریر

* ﻓﺎﺭﻏﯿﻦ ﻣﺪﺍﺭﺱ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ ﺍﮨﻢ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﮨﻨﻤﺎ ﺗﺤﺮﯾﺮ *
✍ :� ﺷﯿﺦ ﻃﺮﯾﻘﺖ * ﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﻻﻧﺎ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻤﺮﯾﻦ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺭﺣﻤﺎﻧﯽ *
‏( ﺭﮐﻦ ﺁﻝ ﺍﻧﮉﯾﺎ ﻣﺴﻠﻢ ﭘﺮﺳﻨﻞ ﻻﺀ ﺑﻮﺭﮈ ‏)
ﻣﺪﺍﺭﺱ ﺍﺳﻼﻣﯿﮧ ﺳﮯ ﻣﺎﮦ ﺷﻌﺒﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺑﮍﯼ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﻣﯿﮟ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﮐﺮﺍﻡ ﻓﺎﺭﻍ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ،ﯾﮧ ﻭﮦ ﻃﻠﺒﮧ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﺩﮮ ﮐﺮ ﻣﺪﺍﺭﺱ ﻣﯿﮟ ﺍٓﭨﮫ ﺩﺱ ﺳﺎﻝ ﮔﺬﺍﺭﺗﮯ ﮨﯿﮟ،ﻧﺼﺎﺏ ﮐﯽ ﺗﮑﻤﯿﻞ ﭘﺮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺳﻨﺪ ﻓﺮﺍﻏﺖ ﻭ ﻓﻀﯿﻠﺖ ﻋﻄﺎ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﺍﺏ ﻭﮦ ’’ ﻋﻠﻤﺎﺀ ‘‘ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﭽﮫ ﻭﮦ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮ ﺍﺋﻤﮧ ﻣﺴﺎﺟﺪ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺳﮯ ﺧﺪﻣﺖ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ، ﮐﭽﮫ ﻣﺪﺍﺭﺱ ﻣﯿﮟ ﻣﺪﺭﺱ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﮐﭽﮫ ﻣﮑﺎﺗﺐ ﺳﮯ ﺟﮍ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﻮﺗﻼﺵ ﻣﻌﺎﺵ ﻣﯿﮟ ﺗﺪﺭﯾﺲ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎﻣﺖ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﺗﺠﺎﺭﺕ ﺳﮯ ﺟﮍ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﮐﻮﺋﯽ ﺷﺒﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﻣﺪﺍﺭﺱ ﮐﮯ ﺍﻥ ﻗﺎﺋﺪﯾﻦ ﺍﻭﺭ ﻓﻀﻼﺀ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﻋﻈﯿﻢ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﺎ ﻣﻘﺎﻡ ﺑﻠﻨﺪ ﮨﮯ،ﻟﯿﮑﻦ ﯾﮧ ﺑﺎﺕ ﺑﮭﯽ ﺍﺏ ﺑﮍﯼ ﺷﺪﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﻧﮯ ﻟﮕﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﺪﺍﺭﺱ ﮐﮯ ﺍﻥ ﻓﻀﻼﺀ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﯼ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺩﯾﻨﯽ ﺧﺪﻣﺎﺕ ﺳﮯ ﺟﮍﻧﮯ ﮐﮯﺑﺠﺎﺋﮯﺗﺠﺎﺭﺕ ،ﺯﺭﺍﻋﺖ ﺍﻭﺭﺩﻭﺳﺮﮮ ﺫﺭﺍﺋﻊ ﻣﻌﺎﺵ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﻣﺘﻮﺟﮧ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭ ﮐﭽﮫ ﻋﺮﺻﮧ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺩﯾﻨﯽ ﺷﻨﺎﺧﺖ ﺍﻭﺭ ﻣﺬﮨﺒﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺧﺘﻢ ﮨﻮﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﺣﻼﻝ ﺭﻭﺯﯼ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯﻟﺌﮯ ﻣﺤﻨﺖ ﻭ ﮐﺎﻭﺵ ﻧﮧ ﻣﻤﻨﻮﻉ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﻣﮑﺮﻭﮦ ، ﺍﺳﻼﻑ ﺍﻭﺭ ﻗﺪﯾﻢ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﻨﮯ ﺍﯾﺴﮯ ﺑﺰﺭﮒ ﮔﺬﺭﮮ ﮨﯿﮟ ﺟﻨﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﻋﻠﻮﻡ ﺩ ﯾﻨﯿﮧ ﮐﯽ ﻋﻈﯿﻢ ﺧﺪﻣﺎﺕ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﯾﮟ،ﻣﺎﯾﮧ ﻧﺎﺯﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﺗﺼﻨﯿﻒ ﮐﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺣﻼﻝ ﺭﻭﺯﯼ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﭘﯿﺸﻮﮞ ﯾﺎ ﺗﺠﺎﺭﺕ
ﮐﮯ ﺫﺭﯾﻌﮧ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﮯ،
ﺣﻀﺮﺕ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﺑﻮ ﺣﻨﯿﻔﮧ ؒﺳﺮﺍﺝ ﺍﻻﻣﺖ ﺍﻭﺭ ﺍﻣﺎﻡ ﺍﻻﺋﻤﮧ ﺗﻮ ﮨﯿﮟ ﮨﯽ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯽ ﺑﮍﮮ ﺗﺎﺟﺮ ﺍﻭﺭﺻﺎﺣﺐ ﺛﺮﻭﺕ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺑﮭﯽ،ﺩﯾﮕﺮ ﺑﺰﺭﮔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﻠﻮﺍﺋﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﻼﺝ ‏( ﺭﻭﺋﯽ ﺩﮬﻨﻨﮯﻭﺍﻻ ‏) ﮐﻮﺋﯽ ﻧﺴّﺎﻑ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺧﺼﺎﻑ،ﺗﺠﺎﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﺫﺭﺍﺋﻊ ﻣﻌﺎﺵ ﮐﯽ ﻣﺸﻐﻮﻟﯿﺖ ﮐﮯ ﺑﺎﻭﺟﻮﺩﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯﻋﻠﻤﯽ ﺍﻣﺘﯿﺎﺯ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻨﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮐﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﺎﻧﺎﻡ ﺍﻭﺭﮐﺎﻡ ﺍﺏ ﺗﮏ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﺎ ﻗﯿﺎﻡ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﺑﺎﻗﯽ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ، ﺍﻥ ﺷﺎﺀ ﺍﻟﻠﮧ !
ﻣﺪﺍﺭﺱ ﺍﺳﻼﻣﯿﮧ ﮐﮯﻓﺎﺭﻏﯿﻦ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﺳﻼﻑ ﺍﻭﺭ ﺑﺰﺭﮔﺎﻥ ﺩﯾﻦ ﮐﺎ ﻃﺮﺯ ﻋﻤﻞ ﻧﻤﻮﻧﮧ ﮨﮯ، ﺗﻼﺵ ﻣﻌﺎﺵ ﮐﮯﺍﻧﮩﻤﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﻮﻟﻮﯾﺖ ﮐﻮﮐﮭﻮﺩﯾﻨﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﯾﻨﯽ ﻭ ﻣﺬﮨﺒﯽ ﺷﻨﺎﺧﺖ ﮐﺎ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﯾﻨﺎ ﺑﮩﺖ ﮨﯽ
ﻧﺎ ﻣﻨﺎﺳﺐ ﺍﻭﺭ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﺩﮦ ﮨﮯ۔ﺍﻭﭘﺮ ﺟﻮ ﮐﭽﮫ ﻟﮑﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺗﺼﻮﯾﺮ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺭﺥ ﮨﮯ،ﺍﺱ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺗﻮﺟﮧ ﺩﯾﻨﺎ ﺑﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺍﻣﺖ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﮐﺮﺍﻡ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﯾﺎﺕ ﮐﯽ ﺗﮑﻤﯿﻞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺗﻮﺟﮧ ﺩﮮ، ﺍٓﺝ ﮐﻞ ﻋﻠﻤﺎﺋﮯ ﮐﺮﺍﻡ ﮐﻮ ﻣﺪﺍﺭﺱ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﺎﺟﺪ ﻣﯿﮟ ﺟﻮﺗﻨﺨﻮﺍﮨﯿﮟ ﺍ ﻭﺭ ﻣﺸﺎﮨﺮﮮ ﭘﯿﺶ ﮐﺌﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﻭﮦ ﺿﺮﻭﺭﯾﺎﺕ ﮐﯽ ﺗﮑﻤﯿﻞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯﻋﺎﻡ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻧﺎﮐﺎﻓﯽ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ﺍﺱ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﭨﺮﺳﭩﯿﺎﻥ ﮐﮯ ﺯﻭﺭﻭﺟﺒﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺟﺎﻧﺐ ﺳﮯ ﻃﺮﺡ ﻃﺮﺡ ﮐﯽ ﭘﺎ ﺑﻨﺪﯾﺎﮞ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﻮﺩ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻣﺴﺘﺰﺍﺩ ! ﺍﺱ ﺻﻮﺭﺕ ﺣﺎﻝ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺗﺎﺯﮦ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﻭ ﻓﺎﺭﻏﯿﻦ ﻣﺪﺍﺭﺱ ،ﻣﺴﺎﺟﺪ ﮐﯽ ﺧﺪﻣﺖ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺭﺍﮨﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﻟﮓ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﺻﻼﺡ ﺑﮭﯽ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ، ﺍﻭﺭﻣﺪﺍﺭﺱ ﻭ ﻣﺴﺎﺟﺪ ﭘﺮ ﻏﯿﺮ ﻋﻠﻤﺎﺀ ﺍﻭﺭ ﻧﺎ ﺍﮨﻞ ﺣﻀﺮﺍﺕ ﮐﮯ ﺗﺴﻠﻂ ﮐﺎﺧﺎﺗﻤﮧ ﺑﮭﯽ ﻭﻗﺖ ﮐﯽ ﺍﮨﻢ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮨﮯ۔ ﻣﺴﺎﺟﺪ ﮐﮯ ﻣﺘﻮﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺪﺍﺭﺱ ﮐﮯ ﭨﺮﺳﭩﯽ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺑﻨﺎﯾﺎﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺌﮯ،ﺟﻮﺻﺎﻟﺢ،ﺩﯼﻧﺪﺍﺭ ﺍﻭﺭﻋﻠﻤﺎﺀ ﮐﮯ ﻗﺪﺭﺩﺍﻥ ﮨﻮﮞ،
ﺍﻭﺭ ﻣﺪﺍﺭﺱ ﻭ ﻣﺴﺎﺟﺪ ﮐﺎ ﻧﻈﺎﻡ ﺳﻨﺒﮭﺎﻟﻨﮯ ﮐﯽ ﺍﮨﻠﯿﺖ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮﮞ،ﻧﺎ ﺍﮨﻞ ﺍﻓﺮﺍﺩﮐﻮ ﺻﺮﻑ ﺳﺮﻣﺎﯾﮧ ﺩﺍﺭﯼ ﺍﻭﺭﺩﻭﻟﺖ ﮐﯽ ﺑﻨﯿﺎﺩ ﭘﺮ ﻣﺴﺠﺪ ﮐﺎ ﻣﺘﻮﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﺪﺭﺳﮯ ﮐﺎ ﭨﺮﺳﭩﯽ ﺑﻨﺎﻧﺎ * ﻧﺎﺟﺎﺋﺰ ﺍﻭﺭ ﺣﺮﺍﻡ * ﮨﮯ٬
ﺍﻭﺭﺍﻣﺎﻧﺖ ﻣﯿﮟ ﺻﺮﯾﺢ ﺧﯿﺎﻧﺖ ﺑﮭﯽ، ﺟﺲ ﮐﺎﺍﺭﺗﮑﺎﺏ ﺍﺏ ﻋﺎﻡ ﮨﻮﺗﺎﺟﺎﺭﮨﺎ ﮨﮯ۔

سوشل میڈیا پر لڑکیاں

ﻣﻌﻠﻮﻣﺎﺕ ★दीनी जानकारी
ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﻣﻌﺬﺭﺕ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ !!
ﻣﻘﺼﺪ ﻛﺴﻰ ﻛﻰ ﺩﻝ ﺍﺫﺍﺭﻯ ﻧﻬﻰ ﺍﺻﻼﺡ ﮨﮯ ___
ﯾﮧ ﭘﻮﺳﭧ ﺧﺎﺹ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﻥ ﻧﺎﺩﺍﻥ ﯾﺎ ﺑﯿﻮﻗﻮﻑ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺧﺒﺮﺩﺍﺭ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﮐﯽ ﺟﺎ ﺭﮨﯽ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮﯾﻠﻮ ﺣﺎﻻﺕ ﺳﮯ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺑﮭﯽ ﭘﯿﺎﺭ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﮮ ﺍﺳﯽ ﮐﻮ ﮨﻤﺪﺭﺩ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﻧﺎﺩﺍﻧﯽ ﻣﯿﮟ ﻏﻠﯿﻆ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﮨﻮﺱ ﮐﺎ ﺷﮑﺎﺭ ﺑﻦ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ! ﻋﺎﻡ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﻋﻼﻭﮦ ﯾﮩﺎﮞ ﻧﯿﭧ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﮐﺌﯽ ﺑﺪ ﮐﺮﺩﺍﺭ ، ﺁﻭﺍﺭﮦ ﺍﻭﺭ ﻋﯿﺎﺵ ﻓﻄﺮﺕ ﻟﻮﮒ ﺻﺮﻑ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﭘﮭﻨﺴﺎﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮑﯽ ﻣﻌﺼﻮﻣﯿﺖ ﺳﮯ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺁﺗﮯ ﮨﯿﮟ ، ﺍﻥ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺧﺎﺹ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮐﺎﺭ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ، ﺟﺲ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻭﮦ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﻮ ﺑﺎ ﺁﺳﺎﻧﯽ ﺷﯿﺸﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﺎﺭ ﻟﯿﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﺬﮬﺐ ﮐﺎ ﻟﺒﺎﺩﮦ ﺍﻭﮌﮪ ﮐﺮ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﭘﺎﺭﺳﺎ ﺛﺎﺑﺖ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮩﺖ ﻣﯿﭩﮭﺎ ، ﺑﺎ ﺍﺧﻼﻕ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺍﻋﺘﻤﺎﺩ ﺟﯿﺘﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ، ﭘﮭﺮ Inbox Messages ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ، ﻓﻮﻥ ﻧﻤﺒﺮ ﻣﺎﻧﮕﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ، ﭘﮭﺮ ﺗﺼﺎﻭﯾﺮ ﻣﺎﻧﮕﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﻮ ﯾﻘﯿﻦ ﺩﻻﻧﮯ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﻟﻠﻪ ﺍﻭﺭ ﺭﺳﻮﻝ ‏( ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ‏) ﮐﯽ ﺟﮭﻮﭨﯽ ﻗﺴﻤﯿﮟ ﺗﮏ ﮐﮭﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺻﺮﻑ ﻣﯿﮟ ﮨﯽ ﺩﯾﮑﮭﻮﮞ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﮐﮭﺎﺅﮞ ﮔﺎ ، ﺍﺏ ﺟﻮ ﻟﮍﮐﯽ ﺑﯿﻮﻗﻮﻑ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﯾﺎ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﮐﯽ ﺳﺘﺎﺋﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺍﻥ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺑﮯ ﻏﯿﺮﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﮨﻤﺪﺭﺩ ﺳﻤﺠﮫ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﺷﺌﯿﺮ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﺒﺎﮨﯽ ﮐﺎ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮﺟﺐ ﻭﮦ ﻟﮍﮐﯽ ﻣﮑﻤﻞ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﺲ ﻣﯿﮟ ﺁ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﺗﻮ ﻣﻼﻗﺎﺕ ﭘﺮ ﺍﺻﺮﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ، ﻣﻠﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭ ﭘﺮ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺩﮬﻤﮑﯿﺎﮞ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺍﺱ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﻮ ﺑﺎﮨﺮ ﺑﻼ ﮐﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﺰﺕ ﮐﺎ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﻧﮑﺎﻝ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﻭﯾﮉﯾﻮ ﺍﻭﺭ ﺗﺼﺎﻭﯾﺮ ﺑﻨﺎ ﻟﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﮐﻮ ﻣﺴﺘﻘﺒﻞ ﮐﯽ ﺑﻠﯿﮏ ﻣﯿﻠﻨﮓ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ، ﯾﻌﻨﯽ ﺍﯾﮏ ﺷﺮﯾﻒ ﻟﮍﮐﯽ ﮐﻮ ﺟﺴﻢ ﻓﺮﻭﺷﯽ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺩﻟﺪﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﮬﮑﯿﻞ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ، ﺟﺲ ﺳﮯ ﻭﮦ ﭼﺎﮦ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﻧﮑﻞ ﺳﮑﺘﯽ ، ﻟﮍﮐﯽ ﺻﺮﻑ ﺍﺱ ﮈﺭ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮐﮧ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﭘﺘﺎ ﻧﮧ ﭼﻞ ﺟﺎﺋﮯ ، ﺑﺲ ﺗﮍﭘﺘﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﻗﺴﻤﺖ ﮐﻮ ﮐﻮﺳﺘﯽ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﺲ ﻟﻤﺤﮯ ﺍﺱ ﺳﮯ ﯾﮧ ﻏﻠﻄﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﻟﻤﺤﮯ ﻣﻮﺕ ﮐﯽ ﺩﻋﺎ ﻣﺎﻧﮕﺘﯽ ﮨﮯ ﻟﮩٰﺬﺍ
ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮩﻨﻮﮞ ﻧﯿﭧ ﭘﺮ ﮐﺴﯽ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﺍﻋﺘﺒﺎﺭ ﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ﺟﻮ ﺁﭖ ﺳﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﭘﺮ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮ ﯾﺎ ﻣﺬﮬﺐ ﮐﺎ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻗﺮﯾﺐ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﮐﻮﺷﺶ ﮐﺮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ، ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﻣﻤﮑﻦ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﯿﻮﻗﻮﻑ ﺑﻨﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ﺍﺳﻠﺌﮯ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﺑﭽﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺑﭽﺎﺋﯿﮟ ! ﺑﺮﺍﮦ ﻣﮩﺮﺑﺎﻧﯽ ﻧﯿﭧ ﭘﺮ ﻟﮍﮐﻮﮞ ﺳﮯ ﺭﺷﺘﮯ ﺩﺍﺭﯾﺎﮞ ﻧﮧ ﺑﻨﺎﺋﯿﮟ ، ﻧﮧ ﮨﯽ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﻓﻮﭨﻮ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺩﮐﮭﺎﺋﯿﮟ ، ﺿﺮﻭﺭﺕ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺁﺧﺮ ، ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﻧﻤﺎﺋﺶ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﭘﯿﺶ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ؟؟؟ ﮐﯿﺎ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮨﻮﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﻥ ﻧﻘﺼﺎﻧﺎﺕ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﮨﮯ ﺟﻮ ﮐﻞ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺗﮏ ﺗﺒﺎﮦ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﮯ ﮨﯿﮟ ؟؟؟ ﺍﭘﻨﯽ ﺗﺼﺎﻭﯾﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﻓﯿﻤﻠﯽ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺭﮐﮭﯿﮟ ، ﻧﯿﭧ ﭘﺮ ﺍﻥ ﺗﺼﺎﻭﯾﺮﮐﺎ ﺑﻨﺎ ﺍﺟﺎﺯﺕ ﮐﺎﭘﯽ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻏﻠﻂ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺧﺒﺮ ﺗﮏ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﭼﯿﺰ ﺁﭖ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻧﻘﺼﺎﻥ ﮐﺎ ﺑﺎﻋﺚ ﺑﮭﯽ ﺑﻦ ﺳﮑﺘﯽ ﮨﮯ !!!
ﺍﯾﺴﮯ ﮐﺌﯽ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﺋﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﮩﺎﮞ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺗﺼﺎﻭﯾﺮ ﯾﺎ ﻭﮈﯾﻮ ﺑﻨﺎﺋﯽ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﺑﻠﯿﮏ ﻣﯿﻞ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻏﻠﻂ ﮐﺎﻡ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻧﺘﯿﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﺌﯽ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﻧﮯﺧﻮﺩﮐﺸﯽ ﮐﺮ ﻟﯽ ! ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮩﻨﻮ ﻓﺮﺽ ﮐﺮﯾﮟ ﮐﮧ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﺍﯾﺴﯽ ﮨﯽ ﺍﯾﮏ ﻟﮍﮐﯽ ﮨﻮ ﺟﻮ ﺍﯾﺴﮯ ﮐﺴﯽ ﺑﮯ ﻏﯿﺮﺕ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﮨﺘﮭﮯ ﭼﮍﮪ ﮔﺌﯽ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﮈﺭ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﯽ ﮐﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﺍﻥ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﯾﺎ ﺣﺎﻻﺕ ﺳﮯ ﭼﮭﭩﮑﺎﺭﺍ ﭘﺎﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ، ﺗﻮ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﮩﻨﻮ ﺍﯾﮏ ﻏﻠﻄﯽ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺳﮯ ﮨﻮ ﭼﮑﯽ ، ﺟﯿﺴﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﮕﺮ ﺍﺏ ﺍﺱ ﮈﺭ ﺳﮯ ﮐﮧ ﮔﮭﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﯿﮟ ﮔﮯ ، ﺁﭖ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﻧﮧ ﺭﮨﯿﮟ ﭘﻠﯿﺰ ،ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﮐﮧ ﺑﮩﺖ ﺩﯾﺮ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻣﯽ ، ﺑﮩﻦ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﻮ ﺑﺘﺎ ﮐﺮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻣﺪﺩ ﻣﺎﻧﮕﯿﮟ ، ﺍﻥ ﮐﺎ ﻏﺼﮧ ﻭﻗﺘﯽ ﮨﻮ ﮔﺎ ﻣﮕﺮ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺁﭖ ﮨﯽ ﮐﯽ ﺑﮭﻼﺋﯽ ﻣﯿﮟ ، ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻏﻼﻇﺖ ﺳﮯ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻣﺪﺩ ﺩﮮ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺁﺋﻨﺪﮦ ﮐﯿﻠﺌﮯ ﺍﯾﮏ ﺳﺒﻖ ﺑﮭﯽ . ﺑﺎﻗﯽ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺫﺍﺕ ﺍﻟﻠﻪ ﭘﺎﮎ ﮐﯽ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺑﮩﺖ ﻣﮩﺮﺑﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺎﻑ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ ! ﺍﺏ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ !!!
ﻟﮍﮐﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﯾﮏ ﭘﯿﻐﺎﻡ !!! ﻋﻮﺭﺕ ﻣﻘﺪّﺱ ﮨﮯ ﺍﺳﮑﮯ ﺗﻘﺪّﺱ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻋﻤﺎﻝ ﺳﮯ ﭘﺎﻣﺎﻝ ﻣﺖ ﮐﯿﺠﺌﮯ ! ﯾﺎﺩ ﺭﮐﮭﯿﮟ !!! ﮐﮧ ﺁﭖ ﺁﺝ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﯽ ﺑﮩﻦ ، ﺑﯿﭩﯽ ﮐﻮ ﻭﺭﻏﻼ ﺭﮨﮯ ﮨﻮ، ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺯﻧﺎ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮬﺘﮯ ﮨﻮ ﮐﻞ ﮐﻮ ﯾﮩﯽ ﺳﺐ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ Repeat ﮨﻮ ﮔﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﮑﺎﻓﺎﺕ ﻋﻤﻞ ﮨﮯ ، ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﮯ ﺗﻦ ﺳﮯ ﭼﺎﺩﺭ ﮨﭩﺎ ﻧﮯ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﻮﭼﻨﺎ ﮐﮧ ﮐﻞ ﯾﮩﯽ ﮐﭽﮫ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﮩﻦ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧ ﻻﺯﻣﯽ ﮨﻮ ﮔﺎ ! ﺁﺝ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﺑﭽﯽ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺧﺮﺍﺏ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ﺗﻮ ﮐﻞ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﯽ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﮐﮭﮍﯼ ﮨﻮ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺳﻮﺍﺋﮯ ﺳﺮ ﭘﯿﭩﻨﮯ ﮐﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﺎﺭﮦ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮔﺎ ! ﻣﺎﮞ ﺑﺎﭖ ﮐﮯ ﮐﯿﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻌﺾ ﮔﻨﺎﮦ ﺻﺮﻑ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺑﺮﺑﺎﺩ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﻭﮦ ﻭﺭﺍﺛﺖ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﭼﻠﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﻭﻻﺩ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﭘﺎﺗﺎﻝ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺁ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﮐﮧ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﺒﮭﯽ ﺗﺼﻮﺭ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮ ﺳﮑﺘﺎ۔
! ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﺌﮯ ﺍﯾﮏ ﻧﯿﮏ ﺑﯿﻮﯼ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﮏ ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﮐﯽ ﺁﺭﺯﻭ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺩﻭﺳﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﻣﺎﺅﮞ ، ﺑﮩﻨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﭩﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﻋﺰﺕ ﺩﯾﻨﺎ ﺳﯿﮑﮭﻮ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻗﺮﺍﻥ ﭘﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺍﻟﺨَﺒﻴﺜٰﺖُ ﻟِﻠﺨَﺒﻴﺜﻴﻦَ ﻭَﺍﻟﺨَﺒﻴﺜﻮﻥَ ﻟِﻠﺨَﺒﻴﺜٰﺖِ ۖ ﻭَﺍﻟﻄَّﻴِّﺒٰﺖُ ﻟِﻠﻄَّﻴِّﺒﻴﻦَ ﻭَﺍﻟﻄَّﻴِّﺒﻮﻥَ ﻟِﻠﻄَّﻴِّﺒٰﺖِ ۚ ﴿٢٦﴾ ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻨﻮﺭ ‏( ﺗﺮﺟﻤﮧ ‏) ﻧﺎﭘﺎﮎ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﻧﺎﭘﺎﮎ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﭘﺎﮎ ﻣﺮﺩ ﻧﺎﭘﺎﮎ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮐﯿﺰﮦ ﻋﻮﺭﺗﯿﮟ ﭘﺎﮐﯿﺰﮦ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮐﯿﺰﮦ ﻣﺮﺩ ﭘﺎﮐﯿﺰﮦ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﮨﯿﮟ۔ —
ﺳﻮﺭﺓ ﺑﻨﯽٓ ﺍﺳﺮﺁﺋﯿﻞ / ﺍﻻٕﺳﺮَﺍ
ﺷﺮﻭﻉ ﺍﻟﻠﻪ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﺟﻮ ﺑﮍﺍ ﻣﮩﺮﺑﺎﻥ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺭﺣﻢ ﻭﺍﻻ ﮨﮯ
﴿۳۱﴾ ﺍﻭﺭ ﺯﻧﺎ ﮐﮯ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﺱ ﻧﮧ ﺟﺎﻧﺎ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺑﮯﺣﯿﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﺮﯼ ﺭﺍﮦہے