🌺تین رکعات وتر کا ۔ابتدائے اسلام میں نماز میں سلام کلام کی بھی گنجائش تھی اور وتر نفل تھے اس لئے بعض اوقات آنحضرتؐ تین وتروں میں دو رکعت کے بعد سلام پھیردیتے اور ایک وتر علیحدہ پڑھ لیتے ۔دیکھنے والے اس کو دو طرح روایت کر دیتے صرف آخری رکعت کا خیال کر کے اسے ایک رکعت ہی روایت کر دیتے اور بعض یوں بیان کر دیتے کہ تین وتر دو سلاموں سے ادا فرمائے لیکن جیسے باقی نمازوں میں سلام کلام جائز نہیں رہا ایسے وتر کے درمیان بھی سلام کلام جائز نہیں رہا 1۔۔۔۔۔عن عائشہؓ ان رسول الله ؐ کان یسلم فی کعتی الوتر ( موطا امام محمد ۔ ص ۔ 151 ۔۔۔نسائی ۔۔ج۔ 1 .ص۔ 248 ) حضرت عائشہؓ روایت فرماتی ہیں کہ آنحضرتؐ وتر کی پہلی دو رکعتوں میں سلام نہیں پھیرتے تھے 2۔۔۔۔اور اسی طریقے پر عمل آخر تک جاری رہا ۔چنانچہ حضرت صدیق اکبرؓ کے دفن سے جب فارغ ہوئے تو حضرت عمرؓ نے فرمایا میں نے ابھی وتر نہیں پڑھے پس وہ وتر کی نماز کے لئے کھڑے ہوئے اور حاضرین نے بھی ان کے پیچھے صف باندھ لی تو حضرت مسور بن مخزمہؓ فرماتے ہیں ۔۔۔فصلی بنا ثلاث رکعات لم یسلم الا فی آخر ھن ۔۔۔۔۔یعنی حضرت عمرؓ نے ہمیں تین رکعتیں وتر پڑھائی جن میں صرف تیسری رکعت پر سلام پھیرا (طحاوی ۔۔ج۔ 1 . ص۔ 202 ۔۔۔۔عبدالرزاق ۔ ج۔ 3 ۔ص ۔ 120 ۔۔۔۔ابن ابی شیبہ ۔۔ج۔ 1 . ص۔ 293 ) 3۔۔۔۔۔یہ بات پہلے بھی ذکر ہو چکی ہے دور فاروقیؓ ۔۔دور عثمانیؓ ۔۔دور مرتضوی ؓ ۔۔میں جیسے بیس رکعت تراویح پر اجماع ہوا اسی طرح تین وتر پر بھی اجماع ہوا ۔ حضرت ابی بن کعبؓ ۔۔۔۔ امام التراویح کان یوتر بثلاث لا یسلم الا فی الثلاثہ مثل المغرب (عبدالرزاق ۔ج۔ 3 ۔ ص ۔ 26 ) تین رکعت وتر پڑھا کرتے اور دوسری رکعت پر سلام نہیں پھیرتے تھے ۔بلکہ مغرب کی نماز کی طرح تیسری رکعت پر ہی سلام پھیرتے تھے یعنی اجماع اسی بات پر ہوا کہ وتر تین رکعت دو التحیات اور ایک سلام سے مثل مغرب کے ہیں 4۔۔۔۔۔حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ اور حضرت علیؓ کے (ہزاروں ) اصحاب (تین وتر پڑھتے تھے ) اور دو رکعتوں کے بعد سلام نہیں پھیرتے تھے 5۔۔۔۔حضرت ابو الزناد فرماتے ہیں کہ مدینہ منورہ کے ساتوں فقہاء اس پر متفق تھے کہ وتر تین رکعتیں ہیں اور سلام صرف تیسری رکعت کے بعد ہے اور اس پر حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فیصلہ فرمایا (طحاوی ۔۔ج۔ 1 . ص۔ 203 . 204 ) 6۔۔۔۔حضرت امام حسن بصری رحمہ الله فرماتے ہیں ۔۔۔۔۔اجمع المسلمون ان الوتر ثلاث لا یسلم الا فی آخر ھن (ابن ابی شیبہ ۔۔ج۔ 2 .ص۔ 294 ) سب مسلمانوں کا اجماع ہے کہ وتر کی تین رکعتیں ہیں جن کے صرف آخر میں سلام پھیرا جاتا ہے 👈ان تمام روایات سے یہ ثابت ہوا کہ سب مسلمانوں کا اجماع ہے کہ ان ہی احادیث پر عمل جاری رہا اور دو رکعت کے بعد سلام پھیرنے پر عمل تو کیا جاری رہتا ۔۔صرف حدیث ہی روایت کی تو شاگرد سن کر کہنے لگا کہ ۔۔۔۔۔انی لا اخاف ان یقول الناس ھی البتیراء ۔۔۔میں ڈرتا ہوں کہ لوگ اس طریقے کو دم کٹی نماز کہیں ( طحاوی ۔۔ج۔ 1 . ص۔ 192 ) ظاہر ہے کہ اس وقت لوگ یا صحابہؓ تھے یا تابعین ۔ان کا اس طریقے کو دم کٹی نماز کہنا اس حدیث کے متروک العمل ہونے کی دلیل ہے ۔جیسا کوئی شخص کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کا ذکر کرتا تو لوگ اعتراض کرتے افسوس کہ غیر مقلدین نے احناف کی ضد میں ان احادیث پر عمل چھوڑ رکھا ہے جن پر بلا نکیر عمل جاری رہا اور شاذ روایات کو اپنانا اپن مشن بنا لیا ہے 🌺🌺🌺🌺🌺🌺✍
Thursday, 12 May 2016
سیکھنے میں شرمانا کیسا
سیکھنے
میں
شرمانا کیسا.......؟
ایک بار شیخ جنید بغدادی رحمۃاللہ علیہ سفر کے ارادے سے بغداد روانہ ہوئے۔
حضرت شیخ رحمۃاللہ علیہ کے کچھ مرید ساتھ تھے۔ شیخ نے مریدوں سے پوچھا،
"تم لوگوں کو بہلول (رحمۃاللہ علیہ) کاحال معلوم ہے؟
"لوگوں نے کہا،
" حضرت، وہ تو ایک دیوانہ ہے۔
آپ اس سے مل کر کیا کریں گے؟"
شیخ رحمۃاللہ علیہ نے جواب دیا:
"ذرا بہلول کو تلاش کرو۔ مجھے اس سے کام ہے۔
"مریدوں نے شیخ کے حکم کی تعمیل اپنے لئے سعادت سمجھی۔
تھوڑی جستجو کے بعد ایک صحرا میں بہلول کوڈھونڈ نکالا اور شیخ کو اپنے ساتھ لے کر وہاں پہنچے۔
شیخ جب بہلول کے سامنے گئے تو دیکھا کہ بہلول سر کے نیچے ایک اینٹ رکھے ہوئے دراز ہیں۔
شیخ رحمۃاللہ علیہ نے سلام کیا تو بہلول نے جواب دے کر پوچھا،
"تم کون ہو؟"
"میں ہوں جنید بغدادی۔"
"تو اے ابوالقاسم، تم ہی وہ شیخ بغدادی ہو جو لوگوں کو بزرگوں کی باتیں سکھاتے ہو؟"
"جی ہاں، کوشش تو کرتاہوں۔"
"اچھا تو تم اپنے کھانے کا طریقہ تو جانتے ہی ہو ں گے؟"
"کیوں نہیں، بسم اللہ پڑھتا ہوں اور اپنے سامنے کی چیز کھاتا ہوں، چھوٹا نوالہ بناتا ہوں، آہستہ آہستہ چباتاہوں، دوسروں کے نوالوں پر نظر نہیں ڈالتا اور کھانا کھاتے وقت اللہ کی یاد سے غافل نہیں ہوتا۔"
پھر دوبارہ کہا،
"جو لقمہ بھی کھاتا ہوں، الحمداللہ کہتا ہوں۔ کھاناشروع کرنے سے پہلے ہاتھ دھوتا ہوں اور فارغ ہونے کے بعد بھی ہاتھ دھوتا ہوں۔"
یہ سن کر بہلول اٹھ کھڑے ہوئے اور اپنا دامن شیخ جنید کی طرف جھٹک دیا۔
پھر ان سے کہا،
"تم انسانوں کے پیر مرشد بننا چاہتے ہو اورحال یہ ہے کہ اب تک کھانے پینے کا طریقہ بھی نہیں جانتے۔"
یہ کہہ کر بہلول نے اپناراستہ لیا۔
شیخ رحمۃاللہ علیہ کے مریدوں نے کہا،
"یا حضرت، یہ شخص تو دیوانہ ہے۔"
"ہاں، دیوانہ تو ہے، مگر اپنے کام کے لئے ہوشیاروں کے بھی کان کاٹتا ہے۔
اس سے سچی بات سننا چاہئے۔
آؤ، اس کے پیچھے چلیں۔
مجھے اس سے کام ہے۔
بہلول رحمۃاللہ علیہ ایک ویرانے میں پہنچ کر ایک جگہ بیٹھ گئے۔
شیخ بغدادی رحمۃاللہ علیہ ان کے پاس پہنچے تو انھوں نے شیخ سے پھر یہ سوال کیا،
"کون ہو تم؟"
"میں ہوں بغدادی شیخ، جو کھانا کھانے کا طریقہ نہیں جانتا۔"
بہلول نے کہا،
"خیر تم کھانا کھانے کے آداب سے ناواقف ہو تو گفتگوکا طریقہ جانتے ہی ہوں گے؟"
شیخ نے جواب دیا،
"جی ہاں جانتا تو ہوں۔"
"تو بتاؤ، کس طرح بات کرتے ہو؟"
"میں ہر بات ایک اندازے کے مطابق کرتا ہوں۔ بےموقع اور بے حساب نہیں بولے جاتا، سننے والوں کی سمجھ کا اندازہ کر کے خلق خدا کو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ یہ خیال رکھتا ہوں کہ اتنی باتیں نہ کہوں کہ لوگ مجھ سے بیزار ہو جائیں۔ باطنی اور ظاہر ی علوم کے نکتے نظر میں رکھتا ہوں۔"
اس کے ساتھ گفتگو کے آداب سےمتعلق کچھ اور باتیں بھی بیان کیں۔
بہلول نے کہا،
"کھانا کھانے کے آداب تو ایک طرف رہے۔
تمھیں تو بات کرنے کا ڈھنگ بھی نہیں آتا۔
بہلول رحمۃاللہ علیہ نے ایک بار پھر شیخ رحمۃاللہ علیہ سے منہ پھیرا اور ایک طرف چل دیے۔
مریدوں سے خاموش نہ رہا گیا۔ انہوں نے کہا،
"یا حضرت، یہ شخص تو دیوانہ ہے۔
آپ دیوانے سے بھلا کیا توقع رکھتے ہیں؟"
"بھئی، مجھے تو اس سے کام ہے۔
تم لوگ نہیں سمجھ سکتے۔"
اس کے بعد شیخ رحمۃاللہ علیہ نے پھر بہلول رحمۃاللہ علیہ کاپیچھا کیا۔
بہلول رحمۃاللہ علیہ نے مڑ کر دیکھا اور کہا،
"تمھیں کھانا کھانے اور بات کرنے کے آداب نہیں معلوم ہیں۔
سونے کا طریقہ تو تمھیں معلوم ہی ہو گا؟
شیخ رحمۃاللہ علیہ نے کہا:
"جی ہاں، معلوم ہے۔"
"اچھا بتاؤ، تم کس طرح سوتے ہو؟"
"جب میں عشا کی نماز اور درود و وظائف سے فارغ ہوتاہوں تو سونے کے کمرے میں چلا جاتا ہوں۔" یہ کہہ کرشیخ رحمۃاللہ علیہ نے سونے کے وہ آداب بیان کئے جو انہیں بزرگان دین کی تعلیم سے حاصل ہوئے تھے۔
بہلول رحمۃاللہ علیہ نے کہا،
"معلوم ہوا کہ تم سونے کے آداب بھی نہیں جانتے۔"
یہ کہہ کر بہلول رحمۃاللہ علیہ نے جانا چاہا تو حضرت جنید بغدادی رحمۃاللہ علیہ نے ان کا دامن پکڑ لیا اور کہا،
"اے حضرت، میں نہیں جانتا ۔
اللہ کے واسطے تم مجھے سکھا دو۔
کچھ دیر بعد بہلول رحمۃاللہ علیہ نے کہا،
"میاں، یہ جتنی باتیں تم نے کہیں، سب بعد کی چیزیں ہیں۔ اصل بات مجھ سے سنو،
۔ کھانے کا اصل طریقہ یہ ہے کہ سب سے پہلے حلال کی روزی ہونی چاہئے۔ اگر غذا میں حرام کی آمیزش( ملاوٹ) ہو جائے تو جو آداب تم نے بیان کئے، ان کے برتنے سے کوئی فائدہ نہ ہو گا اور دل روشن ہونے کی بجائے اور تاریک ہو جائے گا۔
شیخ جنید رحمۃاللہ علیہ نے بےساختہ کہا،
"جزاکم اللہ خیرأً ( اللہ تمہارا بھلا کرے).
پھر بہلول رحمۃاللہ علیہ نے کہا،
" گفتگو کرتے وقت سب سے پہلے دل کا پاک اور نیت کا صاف ہونا ضروری ہے اور اس کا بھی خیال رہے کہ جو بات کہی جائے ، اللہ کی رضامندی کے لئے ہو۔ اگرکوئی غرض یا دنیاوی مطلب کا لگاؤ یا بات فضول قسم کی ہو گی تو خواہ کتنے ہی اچھے الفاظ میں کہی جائے گی،تمہارے لئے وبال بن جائے گی، اس لئے ایسے کلام سے خاموشی بہتر ہے ۔
پھر سونے کے متعلق بتایا،
"اسی طرح سونے سے متعلق جو کچھ تم نے کہا وہ بھی اصل مقصود نہیں ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ جب تم سونے لگو تو تمہارا دل بغض، کینہ اور حسد سے خالی ہو۔ تمھارے دل میں دنیا اور مالِ دنیا کی محبت نہ ہو اور نیند آنے تک اللہ کے ذکر میں مشغول رہو۔
بہلول کی بات ختم ہوتے ہی حضرت جنید بغدادی رحمۃاللہ علیہ نے ان کے ہاتھوں کو بوسہ دیا اور ان کے لئے دعا کی۔
شیخ جنید رحمۃاللہ علیہ کے مرید یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے۔
انھیں اپنی غلطی کا احساس ہوا اور یہ بات ان کی سمجھ میں آ گئی کہ ہر شخص کو چاہئے کہ وہ جو بات نہ جانتا ہو اسے سیکھنے میں ذرا بھی نہ شرمائے۔
حضرت جنید اور بہلول رحمہم اللہ کے اس واقعے سے سب سے بڑا سبق یہی حاصل ہوتا ہے کہ کچھ نہ جاننے پر بھی دل میں یہ جاننا کہ ہم بہت کچھ جانتے ہیں، بہت نقصان پہنچانے والی بات ہے۔
اس سے اصلاح اور ترقی کے راستے بند ہو جاتے ہیں اور انسان گمراہی میں پھنسا رہ جاتا ہے!
(ماخوذ )
http://saagartimes.blogspot.in/2016/05/blog-post.html?m=1
فرض نماز کے بعد دعا بدعت نہیں
فرض نماز کے بعد دعا کرنا بدعت نہیں ہے
حضرت مولانا محمد شفیع قاسمی بہٹکلی
واٹس آپ کے مختلف گروپوں میں سلفی حضرات اپنے مسلک کی ترجمانی کرتے رہتے ہیں. کچہ دنوں سے شیخ منظور الہی نامی شخص کے مضامین تین طلاق، تقلید مجتہد اور اجتماعی دعا بعد فرض نماز کو شائع کر رہے ہیں اور خوش ہو رہے ہیں کہ ان کے لئے یہ نئی دلیل ہے حالانکہ یہ سب پرانی باتیں اور اس کا جواب مخلتف علماء دیتے رہے ہیں. کچہ دونوں پہلے اجتماعی دعا کے سلسلہ میں ان کا ایک بیان واٹس آپ میں سننے کو ملا. پہر ایک مضمون اجتماعی دعا بعد فرض نماز پڑہنے کو ملا. تعجب ہوا کہ سلفی حضرات کی روایت کے خلاف کسی حدیث کو پیش کرنے کے بجائے علماء کے اقوال کو پیش کئے ہیں. ان کے زعم باطل کی اصلاح کے لئے چند علماء کے اقوال پیش کئے جارہے ہیں اس سے معلوم ہوگا کہ فرض نماز کے بعد دعا کرنا بدعت نہیں ہے.
سلفی عالم شیخ عبد الرحمن مبارکپوری لکہتے ہیں:
جان لو فرض نماز کے بعد اجتماعی دعا کے سلسلہ میں اہل حدیث علماء کی دو رائیں ہیں. (1) بعض علماء جائز کہتے ہیں اور (2) بعض علماء ناجائز اور بدعت کہتے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث صحیح سے ثابت نہیں مانتے. جو لوگ اس کو جائز کہتے ہیں وہ ان پانچ حدیثوں سے استدلال کرتے ہیں....نیز وہ ہاتہ اٹہا کر دعا مانگنے کو بہی جائز کہتے ہیں اسلئے کہ فرض نماز کے بعد دعا مستحب اور پسندہ عمل ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرض نمازوں کے بعد دعا ثابت ہے اور ہاتہ اٹہانا دعا کے آداب میں سے ہے. بہت سے مواقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دعا کے لئے ہاتہ اٹہانا ثابت ہے اور نماز کے بعد ہاتہ اٹہانے کی ممانعت بہی نہیں آئی ہے بلکہ ہاتہ اٹہانے کا ثبوت بعض ضعیف حدیثوں سے بہی معلوم ہوتا ہے. ان تمام امور کے ثابت ہونے کے بعد فرض نمازوں کے بعد ہاتہ اٹہا کر دعا مانگنا کسی طرح بدعت نہیں ہو سکتا بلکہ جائز ہوگا اور کرنے والوں پر کوئی اعتراض بہی نہیں ہوگا. (تحفة الاحوذى)
امام نووی رحمہ اللہ لکہتے ہیں: نماز کے بعد امام، مقتدی، منفرد کا ذکر ودعا کرنا مستحب ہے اور امام لئے مستحب ہے کہ وہ مقتدیوں کی طرف رخ کرکے دعا مانگیں. (المجموع)
علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ لکہتے ہیں: جو لوگ نماز کے بعد ذکر ودعا کا انکار کرتے ہیں ان کا قول مردود ہے اور جو لوگ دبر کل صلاة کا مطلب سلام سے قبل تشہد کی دعا مراد لیتے ہیں ان کی خدمت میں عرض ہے کہ تمام علماء کے نزدیک ذکر دبر کل صلاة كا مطلب سلام کے بعد کا ذکر ہے.(فتح الباری)
علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ کے شاگرد وداماد حضرت مولانا سید احمد رضا بجنوری رحمہ اللہ لکہتے ہیں:
روایات صحیحہ سے آج کل کی مروجہ نماز کے بعد کی اجتماعی دعاوں کا ثبوت یقینی طور سے ہو چکا ہے اسی لئے ہمارے فقہاء نے اس کو ذکر کیا ہے جیسا کہ نور الایضاح اور اس کی شرح مراقی الفلاح میں ہے.(معارف السنن) ہاتہ اٹہاکر اجتماعی دعا کا ثبوت بہی حضور علیہ السلام سے دو بار نوافل کے بعد ثابت ہوا ہے، ایک تو حدیث مسلم شریف سے بیت ام سلیم میں کہ آپ نے سب کے ساتہ نماز کے بعد دعا کی. (فتح الملہم) امام بخاری نے بہی اس واقعہ کا ذکر مختصر پانچ جگہ کیا ہے دوسری نماز استسقاء کے بعد(معارف السنن) یہاں حضرت شاہ صاحب(علامہ انور شاہ کشمیری) کے ارشاد کو پہر تازہ کرلیں کہ حضور علیہ السلام سے کسی فعل کے لئے خواہ قولی ثبوت ہو یا فعلی دونوں برابر ہیں اور کسی ایسے ثابت شدہ عمل کو بدعت ہرگز نہیں کہہ سکتے. یہ ضرور ہے کہ کسی مستحب کو واجب نہ سمجہے اور ہر حکم کو اپنے درجہ تک رکہے اور اگر کوئی بات حضور علیہ السلام کے عمل میں کمی کے ساتہ بہی ثابت ہے تو وہ کافی ہے تاکہ امت اس کو بہی اپنا معمول بنا کر اجر عظیم حاصل کرتی رہے. یہی اجتماعی دعا بعد الصلاة کا مسئلہ ہے اوپر کی ساری تفصیل ہم نے اس لئے کی اس کی اہمیت اور فضیلت واضح ہو جائے جبکہ آج علامہ ابن تیمیہ اور ابن القیم کے تشدد کی وجہ سے حرمین شریفین کی نماز اس بڑی فضیلت سے محروم ہوچکی ہیں اور آپ نے دیکہا کہ ایک اہل حدیث عالم (شیخ عبد الرحمن مبارکپوری) نے ہی کس طرح ان کے تشدد کو رد کردیا ہے اور حق بات بلا خوف لومة لائم کہدی ہے. جزاء اللہ خیرالخیراء.(انوار الباری اردو شرح صحیح البخاری)
حضرت مولانا یوسف لدہیانوی رحمہ اللہ لکہتے ہیں
فرض نمازوں کے بعد اجتماعی دعا کا معمول خلاف سنت نہیں، خلاف سنت وہ عمل کہلاتا ہے جو شارع علیہ السلام نے خود نہ کیا ہو، اور نہ اس کی ترغیب دی ہو. (آپ کے مسائل اور اس کا حل)
احناف کا شجرہ نسب
🌹وارث الانبیاء کرام ؑعلماء ِحق اہلسنت والجماعت (احناف) کا شجرہ نسب 🌹
امام الانبیاءوخاتم المرسلین حضرت محمد مصطفیٰﷺ
حضرت عبدالله بن مسعود رضہ اﷲ عنہ(متوفی: ۳۲ھ)
حضرت علقمہ بن قیس الکوفی رحمہ اﷲ (متوفی:۶۲ھ) حضرت الاسودبن عبد الرحمٰن رحمہ اﷲ(متوفی:۷۰ھ)
قاضی شریح رحمہ اللہ (متوفی:۷۷ھ) ابراہیم نخعی رحمہ اللہ (متوفی:۹۶ھ)
ابو عمرو علامہ شعبی رحمہ اللہ (متوفی:۱۰۳ھ) حمادبن ابی سلیمان الکوفی(متوفی:۱۲۰ھ)
امام اعظم فی الفقہاء سیدنا امام ابو حنیفہ تا بعی نعمان بن ثابت رحمہ اللہ(متوفی: ۱۵۰ھ)
۱- امام ابویوسف رحمہ اللہ (متوفی:۱۸۲ھ)
۲- امام محمد بن حسن شیبانی رحمہ اللہ (متوفی:۱۸۹ھ)
۳- زفر بن ہذیل رحمہ اللہ (متوفی:۱۵۸ھ)
۴- مالک بن مغول رحمہ اللہ (متوفی:۱۵۹ھ)
۵- داؤد طائی رحمہ اللہ (متوفی:۱۶۰ھ)
۶- مندل بن علی رحمہ اللہ (متوفی:۱۶۸ھ)
۷- نصر بن عبدالکریم رحمہ اللہ (متوفی:۱۶۹ھ)
۸- عمرو بن میمون رحمہ اللہ (متوفی:۱۷۱ھ)
۹- حبان بن علی رحمہ اللہ (متوفی:۱۷۲ھ)
۱۰- ابو عصمہ رحمہ اللہ (متوفی:۱۷۳ھ)
۱۱- زہیر بن معاویہ رحمہ اللہ (متوفی:۱۷۳ھ)
۱۲- قاسم بن معن رحمہ اللہ (متوفی:۱۷۵ھ)
۱۳- حماد بن ابی حنیفہ رحمہ اللہ (متوفی:۱۷۶ھ)
۱۴- ہیاج بن بطام رحمہ اللہ (متوفی:۱۷۷ھ)
۱۵- شریک بن عبداللہ رحمہ اللہ (متوفی:۱۷۸ھ)
۱۶- عافیہ بن یزید رحمہ اللہ (متوفی:۱۸۱ھ)
۱۷ -عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ (متوفی:۱۸۱ھ)
۱۸- نوح بن دراج رحمہ اللہ (متوفی:۱۸۲ھ)
۱۹- ہشیم بن بشیر سلمی رحمہ اللہ (متوفی:۱۸۳ھ)
۲۰- ابوسعید یحییٰ بن زکریا رحمہ اللہ (متوفی:۱۸۴ھ)
۲۱- فضیل بن عیاض رحمہ اللہ (متوفی:۱۸۷ھ)
۲۲- اسد بن عمرو رحمہ اللہ (متوفی:۱۸۸ھ)
۲۳- علی بن مسہر رحمہ اللہ (متوفی:۱۸۹ھ)
۲۴- یوسف بن خالد رحمہ اللہ (متوفی:۱۸۹ھ)
۲۵- عبداللہ بن ادریس رحمہ اللہ (متوفی:۱۹۲ھ)
۲۶- فضل بن موسیٰ رحمہ اللہ (متوفی:۱۹۲ھ)
۲۷- حفص بن غیاث رحمہ اللہ (متوفی:۱۹۴ھ)
۲۸- ہشام بن یوسف رحمہ اللہ (متوفی:۱۹۷ھ)
۲۹- وکیع بن جراح رحمہ اللہ (متوفی:۱۹۷ھ)
۳۰- یحییٰ بن سعید القطان رحمہ اللہ (متوفی:۱۹۸ھ)
۳۱- شعیب بن اسحاق رحمہ اللہ (متوفی:۱۹۸ھ)
۳۲- ابوحفص بن عبدالرحمن رحمہ اللہ (متوفی:۱۹۹ھ)
۳۳- ابومطیع بلخی رحمہ اللہ (متوفی:۱۹۹ھ)
۳۴- خالد بن سلیمان رحمہ اللہ (متوفی:۱۹۹ھ)
۳۵- عبدالحمید رحمہ اللہ (متوفی:۲۰۳ھ)
۳۶- حسن بن زیاد رحمہ اللہ (متوفی:۲۰۴ھ)
۳۷- ابوعاصم النبیل رحمہ اللہ (متوفی:۲۱۲ھ)
۳۸- مکی بن ابراہیم رحمہ اللہ (متوفی:۲۱۵ھ)
۳۹- حماد بن دلیل رحمہ اللہ (متوفی:۲۱۵ھ)
۴۰- بکر بن علاقشیری رحمہ اللہ (متوفی:۳۱۴ھ)
۴۱- امام ابوالحسن عبداللہ بن حسن کرخی رحمہ اللہ(متوفی:۲۶۰۔۳۴۰ھ)
۴۲- علی بن ابی جعفر احمد بن محمد بن سلامہ ابوالحسن الطحاوی رحمہ اللہ (متوفی:۳۵۱ ھ)
۴۳- ابوجعفر محمدبن عبداللہ بلخی ھندوانی رحمہ اللہ (متوفی:۳۶۲ھ)
۴۴- ابوبکر بن عبداللہ المعیطی رحمہ اللہ (متوفی:۳۶۷ھ)
۴۵- ابوبکر رازی جصاص رحمہ اللہ (متوفی: ۳۷۰ھ)
۴۶- امام الھدیٰ نصر بن محمدابواللیث،سمرقندی رحمہ اللہ (متوفی:۳۷۳ھ)
۴۷- یوسف بن عمر بن عبدالبر رحمہ اللہ (متوفی:۳۸۰ھ)
۴۸- ابو محمد عبداللہ بن اُبی زید قیروانی رحمہ اللہ (متوفی:۳۸۶ھ)
۴۹- ابوبکر محمد بن عبداللہ أبھری رحمہ اللہ (متوفی:۳۹۵ھ)
۵۰- ابوعبداللہ یوسف بن محمد جرجانی رحمہ اللہ (متوفی: ۳۹۸ھ)
۵۱- ابو زید عبداللہ دبوسی،سمرقندی رحمہ اللہ (متوفی:۴۰۰ھ)
۵۲- شمس الائمہ عبدالعزیز حلوانی رحمہ اللہ(متوفی:۴۱۸ھ)
۵۳- قاضی عبدالوھاب بغدادی رحمہ اللہ (متوفی:۴۲۲ھ)
۵۴- ابوالحسن احمد قدوری رحمہ اللہ (متوفی: ۴۲۷ھ)
۵۵- ابوبکر خواہر زادہ بخاری رحمہ اللہ (متوفی:۴۳۳ھ)
۵۶- ابوعبداللہ حسین صیمری رحمہ اللہ (متوفی:۴۳۶ھ)
(متوفی:۴۴۰ھ)۵۷- ابوالقاسم عبدالرحمن حضرمی رحمہ اللہ
۵۸- ابوعبداللہ محمد بن علی دامغانی رحمہ اللہ (متوفی:۴۰۰ھ۔۴۷۸ھ)
۵۹- صاحب المبسوط سرخسی شمس الائمہ محمد بن احمد رحمہ اللہ (متوفی:۴۸۳ھ)
(متوفی:۴۸۳ھ) ۶۰- بزدوی علی بن محمد رحمہ اللہ
۶۱- ابوالولید سلیمان باجی رحمہ اللہ(متوفی:۴۹۴ھ)
۶۲- زربخری شمس الائمہ بکر بن محمد رحمہ اللہ
(متوفی:۴۲۷۔ ۵۱۲ھ)
۶۳- ابوالولید محمدبن رشد قرطبی رحمہ اللہ (متوفی:۵۲۵ھ)
۶۴- ابو عبداللہ محمد تمیمی رحمہ اللہ (متوفی:۵۲۶ھ)
۶۵- ظہیر الدین عبدالرشید والوالجی رحمہ اللہ
(متوفی:۵۴۰ھ)
۶۶- ابوالفضل قاضی عیاضی رحمہ اللہ (متوفی:۵۴۱ھ)
۶۷- طاہر بن احمد بخاری رحمہ اللہ (متوفی:۵۴۲ھ)
۶۸- ابو اسحاق ابراہیم بن اسماعیل صفار رحمہ اللہ (متوفی:۵۷۴ھ)
۶۹- کاسانی ملک العلماء ابوبکر ابن مسعود رحمہ اللہ(متوفی:۵۸۷ھ)
(متوفی:۵۹۲ھ)۷۰- فخرالدین حسن اوز جندی قاضی خان رحمہ اللہ
۷۱- علی ابن ابی بکر مرغینانی رحمہ اللہ صاحب ہدایہ (متوفی:۵۹۳ھ) ۷۲- صاحب ہدایۃ المجتہد ’ دبیز متن ‘ ابن ارشدالحفید محمد بن احمد بن محمد رحمہ اللہ (متوفی:۵۹۵ھ)
۷۳- عبداللہ بن نجم سعدی رحمہ اللہ (متوفی:۶۱۰ھ)
۷۴- ابو البرکات عبداللہ بن احمدنسفی رحمہ اللہ (متوفی:۷۱۰ھ)
۷۵- ابومحمدعثمان فخرالدین زیلعی رحمہ اللہ (متوفی:۷۴۳ھ)
۷۶- محمدبن عبد الواحد کمال الدین ابن ھمام رحمہ اللہ (متوفی:۷۶۱ھ)
۷۷- محمدبن احمد بدرالدین عینی رحمہ اللہ (متوفی: ۸۵۵ھ)
۷۸- حضرت خواجہ سالار انصاری رحمہ اللہ (متوفی: ۸۶۶ھ)
۷۹- شمس الدین محمدبن امیرالحاج حلبی رحمہ اللہ (متوفی:۸۷۹ھ)
۸۰- حافظ سیف الدین قطلوبغا رحمہ اللہ (متوفی:۷۹۸۔۸۸۱ھ)
۸۱-حضرت مولانا عبد الکریم قدسی رحمہ اللہ (متوفی:۹۰۹ھ)
۸۲- حضرت مولانا عبد العزیزصاحب رحمہ اللہ (متوفی:۹۱۶ھ)
۸۳- حضرت مولانا عبد الرزاق رحمہ اللہ (متوفی :۹۲۴ھ)
۸۴- زین العابدین ابن نجیم مصری رحمہ اللہ (متوفی:۹۶۹ھ)
۸۵- حضرت شاہ عبد القدوس گنگوہی رحمہ اللہ
(متوفی :۹۴۴ ھ یا ۹۴۵ھ)
۸۶- حضرت شیخ رکن الدین گنگوہی رحمہ اللہ (متوفی :۹۸۳ھ)
۸۷- حضرت شیخ مصطفیٰ رحمہ اللہ (متوفی :۱۰۰۰ھ)
۸۸- عمر بن ابراہیم ابن نجیم، صاحب النہرالفائق رحمہ اللہ (متوفی:۱۰۰۵ھ)
۸۹- مفتی وجیہ الدین گوپامؤی رحمہ اللہ (متوفی:۱۰۰۵ھ)
۹۰- سراج الہند حضرت مولانا شاہ بدیع الدین رحمہ اللہ
(متوفی :۱۰۴۲ھ)
۹۱- مولانا محمد جمیل جونپوری رحمہ اللہ (متوفی:۱۰۵۵ھ)
۹۲- حضرت صادق گنگوہی رحمہ اللہ (متوفی :۱۰۳۶ھ یا ۱۰۵۸ھ) ۹۳- حضرت شاہ عبدالسبحان صبحی رحمہ اللہ (متوفی :۱۰۸۹ھ)
۹۴- امام الہند، رئیس المحدثین شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ (متوفی :۱۱۷۵ھ)
۹۵- شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی رحمہ اللہ (متوفی :۱۲۳۹ھ)
۹۶- حضرت شاہ اسماعیل شہید رحمہ اللہ (متوفی :۱۲۴۶ھ)
۹۷-محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ (متوفی :۱۲۹۷ھ)
۹۸- حضرت مولانا فیض الحسن صاحب رحمہ اللہ
(متوفی :۱۳۰۴ھ)
۹۹- مولا رشید احمد گنگوھی رحمہ اللہ (متوفی :۱۳۲۲ھ)
۱۰۰- شيخ الہند مولانا محمود الحسن الدّيوبندی رحمہ اللہ
(متوفی :۱۳۳۹ھ)
۱۰۱- حضرت علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ
(متوفی :۱۳۵۲ھ)
۱۰۲- مولانا اشرف علی تھانوی رحمہ اللہ (متوفی :۱۳۶۱ھ)
🍃🍃🍃
چار راتوں کی اہمیت
🌺شعبان کی پندرہویں رات کی فضیلت 🌺 1۔۔۔۔۔حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص چار راتوں میں عبادت کریگا الله تعالیٰ اس کو (بہتر ) زندگی عطا کریگا جیسے الله چاہے (وہ راتیں ) عیدین کی دو رات عاشورہ (دس محرم ) کی رات اور پندرہویں شعبان کی رات (مشیخة ابی طاہر ابی الصفر ۔۔ص۔ 127 ) 2۔۔۔۔۔حضرت ابن کردوس اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص عید اور پندرہویں شعبان کی رات کو جاگے تو اسکا دل اس دن نہیں مریگا جس دن سب کے دل مرجاتے ہیں (مجمع ابن العربی ۔۔ص۔ 1047 . ح۔ 2252 ) 3۔۔۔۔ حضرت ابو امامہ باہلیؓ فرماتے ہیں کہ رسول الله ؐ نے فرمایا ان راتوں میں دعاء رد نہیں کی جاتی ہے ۔رجب کی پہلی رات ۔نصف شعبان کی رات ۔جمعہ کی رات ۔اور عیدین کی رات ( تاریخ ابن عساکر ۔۔ج۔ 10 . ص۔ 408 ) 4۔۔۔۔۔حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ ۔۔( ۔المتوفی ۔ 74 ھجری ) سے روایت ہے کہ آپ نے فرمایا پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں دعاء رد نہیں ہوتی ۔۔۔اور وہ جمعہ کی رات ۔رجب کی پہلی رات ۔شعبان کی پندرہویں رات ۔اور عیدین کی دونوں راتیں ہیں (مصنف عبدالرزاق ۔حدیث۔۔ 7927 ) 5۔۔۔۔۔حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ (المتوفی ۔ 100 ھجری ) فرماتے ہیں کہ تجھ پر چار راتوں میں عبادت کرنا لازم ہے کیونکہ الله تعالیٰ فراغت کے ساتھ ان رحمت نازل فرماتے ہیں ۔۔۔رجب کی پہلی رات ۔۔شعبان کی پندرہویں رات ۔۔عیدالفطر کی رات ۔۔عیدالضحیٰ کی رات ۔۔۔۔۔👈