Wednesday, 2 March 2016

قرآن کریم کی فضیلت

📚🌱قرآن کریم کی فضیلت 🌱📚

حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ بیشک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے فرماتے ہوئے سنا ہے اے لوگو آگاہ ہو جاؤ عنقریب ایک عظیم ترین فتنہ برپا ہونے والا ہے

تو حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا یا رسول اللہ اس فتنہ سے چھٹکارا اور مفر کیا ہے؟
تو آپ نے ارشاد فرمایا کہ اس سے حفاظت کا ذریعہ قرآن کریم کو مضبوطی کے ساتھ پکڑنا ہے

(1) اسکے اندر تم سے پچھلے اور گزشتہ لوگوں کے حالات کا ذکر ہے

(2)اور تمہارے بعد میں قیامت تک آنے والے امور اور حالات کا ذکر ہے

(3)اور تمہارے آپس کے معاملے کے فیصلے کا حکم اس میں موجود ہے

(4)اور قرآن کریم حق و باطل کے درمیان فیصلہ کی چیز ہے

(5)اس میں کوئی بات مذاق اور لایعنی کی نہیں ہے

(6)جو شخص غرور اور فخر کی وجہ سے قرآن کو ترک کر دیتا ہے اللہ تعالٰی اس کو ہلاک اور برباد کر دیتا ہے اور اس کی گردن توڑ کر رکھ دیتا ہے

(7)اور جو شخص قرآن کے علاوہ کسی اور چیز میں ھدایت ڈھونڈتا ہے اللہ اس کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے

(8)اور قرآن کریم اللہ کی مضبوط ترین رسی ہے

(9)اور وہ حق تعالٰی کی یاد دلانے کی چیز ہے حکمت و دانائی عطا کرنے والی ہے

(10)اور وہی سیدھا راستہ دکھانے والا ہے

(11)اور وہ ایسی کتاب ہے کہ اس کے اتباع کے ساتھ خواہشات نفسانی حق سے ہٹا کر دوسری طرف مائل نہیں کر سکتی

(12)اس کی زبان ایسی ہے کہ اس کے ساتھ دوسری زبان مشابہ نہیں ہو سکتی

(13)اور اس کے علوم سے علماء کی تشنگی نہیں بجھتی

(14)اس کے کثرتِ استعمال اور بار بار تکرار سے پرانا نہیں ہوتا

(15)اور اسکے عجائبات ختم نہیں ہوتے

(16)قرآن ایسا کلام ہے جب جنات اس کو سنتے ہیں تو اس کی آوازوں کے پاس نہیں پہنچتے ہیں تا آنکہ یہ نہ کہیں کہ ہم نے ایک عجیب و غریب قرآن سنا ہے جو ھدایت کا راستہ دکھاتا ہے. لہٰذا ہم اس پر یوں ایمان لے آئے ہیں کہ یہ اللہ تعالٰی کی طرف سے نازل کردہ ہے

(17)جو قرآن کے مطابق بات کرے اس کی تصدیق کی جاتی ہے

(18)اور جو قرآن پر عمل کرے اس کو عمل کا عظیم ترین ثواب دیا جاتا ہے

(19)اور جو قرآن کے مطابق فیصلہ کرے تو وہ انصاف کریگا

(20)اور جو قرآن کی دعوت دے اس کو مزید ھدایت کی توفیق ہوتی ہے اور سیدھی راہ پر قائم رہتا ہے

اللہ رب العزت ہم سب کو قرآن پاک پڑھنے اور سمجھنے اور اس پر عمل کرنے اور اس کی دعوت دینے کی توفیق عطا فرمائے آمین

🌺ماخوذ انوار ھدایت 🌺

🌷منجانب اتحاد و اتفاق گروپ 🌷

گروپ میں شمولیت کے
لئے رابطہ کریں

جناب مجیب العارفین صاحب

00966577384013

نوٹ. احباب اپنا نام اور پتہ
کس پیشہ سے وابستہ ہیں
ضرور تحریر کریں 🌹🌹

زبان کی حفاظت میں اللہ سے شرمانا

🍀زبان کی حفاظت میں🍀

🍃 اللہ سے شرمانا 🌿

زبان اللہ تبارک و تعالٰی کی ایسی بے بدل نعمت ہے کہ تمام انسانی زندگی کا پورا مدار زبان پر ہے.

کہ معاملات کا تعلق زبان سے ہے

گفتگو کا مدار زبان پر ہے

لین دین کا مدار زبان پر ہے

نظام حکومت کا مدار زبان پر ہے

آپس میں تعلقات کا مدار زبان پر ہے

خدا کی عبادت کا مدار زبان پر ہے

قرآن کی تلاوت زبان سے ہوتی ہے

خدا کا ذکر زبان سے ہوتا ہے

قال اللہ اور قال رسول زبان سے ہوتا ہے

اگر زبان سے قوت گویائی ختم ہو جائے گی تو یہ سارا نظام درہم برہم ہو جائے گا. یہ کتنی بے مثال نعمت ہے. گونگے سے معلوم کرو.

پھر اسی زبان سے انسان گالی بکتا ہے.

غیبت کرتا ہے

تہمت لگاتا ہے

جھوٹ بولتا ہے

خیانت کی باتیں کرتا ہے

افتراق و انتشار کی باتیں کرتا ہے

شر اور فتنہ پھیلاتا ہے

جھوٹی خبریں اڑاتا ہے

تو جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک جملہ میں ان تمام برائیوں سے بچنے کا حکم فرمایا کہ اپنی زبان کے حق میں اللہ سے شرماؤ اور ان تمام خرافات اور برائیوں سے اپنی زبان کی حفاظت کرو

اور اس زبان سے اللہ کی کتاب کی تلاوت کرو. اللہ کا ذکر کرو.

آپس میں خیر خواہی کی بات کرو.

🌴ماخوذ انوار ھدایت 🌴

🌷منجانب اتحاد و اتفاق گروپ 🌷

گروپ میں شمولیت کے
لئے رابطہ کریں

جناب مجیب العارفین صاحب

00966577384013

نوٹ احباب اپنا نام اور پتہ
کس پیشہ سے وابستہ ہیں
ضرور تحریر کریں 🌹🌹

جوانوں کی خودی صورت فولاد

🌺جوانوں کی خودی🌺
🍃 صورت فولاد 🍃

مولانا عبد اللہ ایک نوجوان کو فقیر سے ملانے کے لئے لائے اور بتایا کہ یہ وہ خوش نصیب نوجوان ہے جو روسی انقلاب کے زمانے میں پانچ مرتبہ اذان دیکر کھلے عام نمازیں پڑھتا تھا.

یہ سن کر فقیر کو حیرت ہوئی پوچھا وہ کیسے؟ اس نوجوان نے اپنی پیٹھ پر سے کپڑا ہٹایا تو ایسے معلوم ہوا کہ اس کی پیٹھ کے ایک ایک انچ جگہ پر زخموں کے نشانات موجود ہیں فقیر نے پوچھا یہ کیا ہے؟

اس نے بتایا کہ جب میں نے پہلی مرتبہ اذان دی تو پولیس والے مجھے پکڑ کر لے گئے اور خوب مارا. میں جان بوجھ کر اس طرح بن گیا جس طرح کوئی پاگل ہے. وہ جتنا زیادہ مارتے میں اتنا ہی زیادہ ہنستا. ایک وقت میں کئی کئی پولیس والے مارتے مارتے تھک جاتے. مگر میں اللہ کے نام پر مار کھاتے نہ تھکتا. مجھے بجلی کے جھٹکے بھی لگائے گئے میں نے برداشت کر لئے. مجھے کئی کئی گھنٹے برف پر لٹایا گیا. مجھے پوری پوری رات الٹا لٹکایا گیا.
گرم چیزوں سے مجھے داغا گیا.
میرے ناخن کھینچے گئے.
مگر میں اس طرح محسوس کرواتا جیسے کہ کوئی پاگل انسان ہوتا ہے جان بوجھ کر پاگلوں والی حرکتیں کرتا رہتا. پولیس والوں نے ایک سال میری پٹائی کر نے کے بعد مجھے پاگل کھانے بھجوادیا. وہاں بھی ایک سال میں نے اسی طرح گزارا. حتی کہ ڈاکٹر نے لکھ کر دے دیا کہ یہ شخص پاگل ہے. ذہنی توازن خراب ہے. یہ کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا. اپنے آپ میں مگن رہتا ہے. لہٰذا اب اس کو دوبارہ گرفتار نہ کیا جائے. اس کے بعد مجھے آزاد کر دیا گیا. میں نے ایک جگہ پر چھوٹی سی مسجد نما جگہ بنائی. دن میں پانچ وقت اذانیں دیتا اور پانچ نمازیں کھلے عام پڑھا کرتا تھا.
فقیر نے اس کی پیشانی کو بوسہ دیا اور کہا.

اس قوم کو شمشیر کی حاجت نہیں رہتی
ہو جس کے جوانوں کی خودی صورت فولاد

کمیونزم کے اس دور میں جب عام لوگ چھپے پھرتے تھے. اللہ کے اس شیدائی کا اس طرح اذان دینا اور نماز پڑھنا کفر کے سینے پر مونگ دلنے کے مترادف تھا عام حالات میں تو انسان یہی سوچتا ہے کہ پھانسی پر لٹکا دیا جائے گا. اور کمیونسٹوں کا طریقہ بھی یہی تھا. مگر جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے. فقیر بار بار اس جوان کے چہرے کو دیکھتا اور اس کی ثابت قدمی اور استقامت پر رشک کرتا

ازل سے رچ گئی ہے سر بلندی اپنی فطرت میں

ہمیں کٹنا تو آتا ہے مگر جھکنا نہیں آتا

ماخوذ حضرت مولانا پیر ذوالفقار صاحب نقشبندی
لاہور سے تا خاک بخارا و سمرقند

منجانب اتحاد و اتفاق گروپ

گروپ میں شمولیت کے لئے رابطہ کریں

جناب مجیب العارفین صاحب

00966577384013

نوٹ احباب اپنا نام اور پتہ

کس پیشہ سے وابستہ ہیں

ضرور تحریر کریں 🌺🌺

مثال ایک کھلی دلیل ہوتی ہے

🌺مثال ایک کھلی🌺

🍀 دلیل ہوتی ہے 🍀

حضرت مولانا محمد قاسم صاحب نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے مریدین میں ایک شخص اللہ دین تھا. میں نے بھی دیکھا ہے. بوڑھا آدمی بالکل ان پڑھ اور جاہل تھا اس کی گوشت کی دوکان تھی. بے پڑھا لکھا بھی تھا اور تجارت بھی ایسی تھی جس میں پڑھنے لکھنے کی ضرورت نہیں. گائے بھینس ذبح کی اس کا گوشت بیچ دیا. وہ حضرت سے بیعت تھا. مگر میں نے اس کو دیکھا ہے کہ اس میں دین کی سمجھ اتنی اعلی تھی کہ آج علماء میں بھی وہ نہیں ملتی. جو اس جاہل میں محض صحبت یافتہ ہونے کی وجہ سے تھی. اس نے خود ہی مجھے یہ واقعہ سنایا تھا کہ حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ ایک مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے میں نے حضرت سے ایک سوال کیا؟

حضرت یہ جو سننے میں آیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ مرنے کے بعد بزرگوں کے قرب و جوار میں دفن ہونے کی کوشش کی جائے اولیاء کی مزارات کے پاس اپنی قبر بنوائیں. اس کی لوگ کوشش کریں تو اس کا کیا فائدہ ہے؟

اس لئے کہ مرنے والا اگر نیک ہے اور اعمال صالحہ اس کے ساتھ ہیں اسے کہیں بھی دفن کر دو. اس کی نیکی اس کے ساتھ ہے. قبر اس کی روشن ہو جائے گی.. اور اگر وہ بد عمل ہے اسے نبی کے قریب بھی دفن کر دیں تب بھی اس کی بدی سامنے آئے گی. تو انبیاء و اولیاء کے قرب و جوار میں دفن کر نے کا کیا فائدہ ہوا؟

یہ اس نے سوال کیا.. اب سوال کرنے والا بالکل ان پڑھ جاہل آدمی اور عالم برزخ کا سوال کر رہا ہے اس کو اگر حقائق سمجھائے جائیں اور علم کی باریک باتیں بتائی جائیں. وہ کچھ بھی نہ سمجھتا. موٹی سمجھ کا آدمی تھا..

حضرت نے اس کو سمجھایا. اور ایک مثال کے ذریعے مسئلے کو واضح کر دیا کہ وہ جاہل بھی سمجھ گیا اور دوسرے بھی سمجھ گئے.. جب وہ سوال کر چکا حضرت نے فرمایا اچھا ہم اس کا جواب دیں گے. ابھی جواب نہیں دیا. موقع پر جواب دیں گے وہ بھی خاموش ہو گیا.

گرمی شدید پڑ رہی تھی وہ پنکھا لے کر حضرت کو جھلنے کھڑا ہو گیا اسے بھی یاد نہیں رہا کہ میں نے سوال کیا تھا پندرہ بیس منٹ گزر چکے.. حضرت نے اس سے پوچھا. میاں اللہ دین. تم یہ پنکھا کسے جھل رہے ہو؟ کہا حضرت آپ کو جھل رہا ہوں. فرمایا یہ جو لوگ مجلس میں ساتھ بیٹھے ہیں انہیں تو نہیں جھل رہا؟کہا نہیں انہیں تو نہیں جھل رہا. اس واسطے کہ نہ میں ان کا شاگرد نہ ان کا مرید. یہ تو سارے میرے برابر ہیں. مجھے کیا ضرورت تھی کہ ان کو پنکھا جھلوں اور ان کا خادم بنوں. میں تو آپ کو پنکھا جھلنے کھڑا ہو گیا..

فرمایا ہوا ان سب لوگوں کو لگ رہی ہے؟ کہ جی ہاں ہوا تو لگ رہی ہے. فرمایا یہ تمہارے سوال کا جواب ہے

تم نے یہ سوال کیا کہ انبیاء و اولیاء کے قریب دفن کرنے سے کیا فائدہ؟ فرمایا اولیاء اللہ کی قبروں پر رحمت کی ہوائیں چلتی ہیں. رحمت کی ہوائیں اترتی ہیں. مقصود اصلی وہ ہوتے ہیں لیکن آس پاس والوں کو بھی ہوا لگتی ہے رحمت کے اثرات سب کو پہنچتے ہیں. اس واسطے دفن کر نے کے بارے میں فرمایا گیا کہ کوشش کرو اہل اللہ اور صالحین کے پاس دفن ہوں. ان پر رحمت کی ہوائیں چلیں گی. آس پاس والوں کو بھی لگیں گی. چاہے وہ مقصود اصلی نہ ہوں. مقصود فقط وہ نبی یا ولی کامل ہوں.

فرمایا یہ تمہارے سوال کا جواب ہے. تو قبر اور برزخ کے عالم کا باریک مسئلہ اس کے دل میں اتار دیا. سب لوگ سمجھ گئے. تو مثال ایک ایسی کھلی دلیل ہوتی ہے کہ دقیق سے دقیق مسائل جو سمجھ میں نہ آسکیں. وہ مثال کے ذریعے سمجھائے جا سکتے ہیں..

اللہ رب العزت حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی صاحب رحمۃاللہ علیہ کے اعمال صالحہ کی برکتوں سے ہم سب کو عذاب قبر سے حفاظت فرمائے آمین

ماخوذ خطبات حکیم الاسلام جلد سوم

منجانب اتحاد و اتفاق گروپ

گروپ میں شمولیت کے لئے رابطہ کریں

جناب مجیب العارفین صاحب

00966577384013

نوٹ. احباب اپنا نام اور پتہ

کس پیشہ سے وابستہ ہیں

ضرور تحریر کریں 🌹🌹

Saturday, 27 February 2016

مولانا تقی عثمانی صاحب

♧ کامیاب تدریس کے رہنما اصول♧

☆از:مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد  رفیع عثمانی صاحب دامت برکاتہم، صدر جامعہ دارالعلوم کراچی،پاکستان
♡☆♧♧♧♧♧♧♧♧♧♧☆♡
(1) اخلاص و للہیت۔ 
(2) طلبہ سے گہری ہمدردی اور محبت و شفقت۔ 
(3) ان کے علم و کردار کو بنانے کی دھن۔ 
(4) درس کی پورے اہتمام سے تیاری۔ 
(5) رجوع الیٰ اللہ اور دعا کا اہتمام۔ 
(6) طلبہ میں متعلقہ فن کی دلچسپی پیدا کرنا اور ان کے دلوں میں اس کی اہمیت و افادیت کو راسخ کرنا، استاذ کے لیے کلیدِ کامیابی ہے۔ 
(7)ہر طالب علم پر اُس کی ذہنی سطح اور نفسیاتی کمزوریوں اور خوبیوں کو سامنے رکھتے ہوئے انفرادی توجہ دینا ۔

(8) حوصلہ افزائی: ممتاز طلبہ کی حوصلہ افزائی ضروری ہے، مگر انداز اس طرح اختیار کیا جائے کہ کمزور طلبہ احساس کمتری کا شکار نہ ہوں۔ کمزور طالب علم کو کبھی بے وقوف اور غبی جیسے الفاظ نہ کہے جائیں کہ ان سے اُس کا حوصلہ ٹوٹ جائے گا۔ ایسے طلبہ کا کا حوصلہ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ 
(9) جو طالب علم اچھا سوال کرے، اُسے سراہا جائے اور سب طلبہ کو سنوایا جائے۔ 
(10)ایک ایک بات کو مختلف اسالیب اور مثالوں سے سمجھایا جائے تاکہ ہر طالب علم کو اُس کی ذہنی سطح کے مطابق راہنمائی مل سکے۔ ذی استعداد طلبہ مشکل بات کو اصطلاحی الفاظ سے بآسانی سمجھ جاتے ہیں، جبکہ کمزور طلبہ کو وہی بات سمجھانے کے لیے عام فہم الفاظ اور مثالوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ صرف کتاب میں درج شدہ مثالوں پر اکتفا نہ کیا جائے۔ اپنی طرف سے نئی مثالیں پیش کی جائیں اور پھر طلبہ سے نئی مثالیں پوچھی جائیں۔ 
(11) استاذ کو درس کے لیے مطالعہ اور تحقیق تو اپنی اور طلبہ کی ضرورت کے مطابق کرنی چاہیے، لیکن درس میں صرف اتنا بتانا چاہیے جتنے کی انہیں ضرورت ہے۔ اپنی ساری معلومات اور تحقیقات کو انڈیل دینا، ان کے ساتھ اور اپنے فرائض منصبی کے ساتھ ناانصافی ہے۔ 
(12) مطالعہ کے دوران سبق کا تجزیہ کرلیا جائے تو استاذ کے لیے تفہیم اور طلبہ کے لیے اُس کا فہم آسان ہوجاتا ہے۔ پھر جب تک سبق کا پہلا جز اچھی طرح سب طلبہ نہ سمجھ جائیں، اگلا جز شروع نہ کیا جائے۔ مثلاً جب تک طلبہ کو صورتِ مسئلہ اچھی طرح نہ سمجھادی جائے اُس وقت تک اُس میں علماء کا اختلاف نہ بیان کیا جائے اور جب تک یہ اختلاف ان کے ذہن نشین نہ ہوجائے، دلائل شروع نہ کیے جائیں۔ جب تک پہلی دلیل پوری طرح ان کے سمجھ میں نہ آئے دوسری دلیل شروع نہ کی جائے۔ جب تک کسی دلیل کا ایک جواب واضح طور پر نہ سمجھادیا جائے دوسرا بیان نہ کیا جائے۔ وغیر ذلک۔ 
(13) ابتدائی درجات میں تحریری اور زبانی مشق زیادہ سے زیادہ کرائی جائے۔ خصوصاً نحو، صرف اور ادب میں اس کا خیال رکھا جائے۔ 
(14)یہ اطمینان کرنے کے لیے کہ سب طلبہ سبق میں دلچسپی لے رہے ہیں اور سمجھ رہے ہیں، درس کے دوران اور درس کے اختتام پر استاذ کو چاہیے کہ اُن سے سوالات کرتا رہے، خصوصاً کمزور طلبہ سے کہ وہ کیا سمجھے؟ 
(15)کوشش ہونی چاہیے کہ عبارت پڑھنے کا موقع ہر طالب علم کو ملے، ایسا نہ ہو کہ پورے سال صرف چند طلبہ تو عبارت پڑھیں، باقی محروم رہیں، اس کے لیے یا تو باری مقرر کردی جائے، لیکن اس سے بہتر یہ ہے کہ ہر روز استاذ ہی عبارت پڑھنے والے کا انتخاب کرے۔ 
(16) طلبہ کو درس سے پہلے مطالعہ کا اور درس کے بعد کسی وقت تکرار کا پابند کیا جائے۔ 
(17) درس سے دلچسپی پیدا کرنا: جب کوئی مشکل بحث آئے یا طلبہ کی اکتاہٹ کا اندیشہ ہو تو طبیعتوں میں نشاط پیدا کرنے کے لیے کوئی دلچسپ چٹکلا، لطیفہ، مختصر قصہ یا دلچسپ شعر سنادیا جائے۔ 
(18) طلبہ کے ساتھ نہ حد سے زیادہ بے تکلفی ہو کہ وہ گستاخ بن جائیں، نہ اتنی سنجیدگی یا رعب کہ وہ ضروری سوال کرنے سے بھی جھجکنے لگیں۔ v (19) طلبہ کو صرف کتاب پڑھانا مقصود نہیں ہونا چاہیے، بلکہ متعلقہ فن سے مناسبت اور اس کا ملکہ بیدار کرنے کی بھی ضرور کوشش کرنی چاہیے۔ 
(20) انداز تخاطب میں شائستگی۔ 
(21) اپنا عملی نمونہ فن تدریس بہت نازک اور محنت طلب فن ہے اور اس کی جزئیات بے شمار ہیں۔ اس میں قدم قدم پر اپنی اپج اور اجتہادی صلاحیت سے کام لے کر نت نئی راہیں تلاش کرنی پڑتی ہیں۔ ہر طالب علم کے لیے بسا اوقات الگ طریقہ اختیار کرنا پڑتا ہے، کسی خاص لگے بندھے طریقے کا استاذ کو پابند کرنا، نہ مناسب ہے نہ ممکن۔ ہر موقع کے لیے اُسے خود ہی طریقہ ایجاد کرنا پڑتا ہے۔ 
البتہ مذکورہ بالا جن امور کا ذکر میں نے کیا ہے، وہ اصولی درجے کے ہیں اور ہر کامیابی چاہنے والے استاذ کے لیے ان شاء اللہ مفید ہیں ـ
       www.deeneislam.com

Wednesday, 17 February 2016

عربی

من طرائف اللغة العربية
یہ عربی کا ایک ایسا شعر ہے جس کو پڑھتے وقت زبان کو حرکت نہیں دینی پڑتی:
آب همي وهم بي أحبابي
همهم ما بهم وهمي مابي
------ ------ ------
اور اس شعر کو پڑھتے وقت ہونٹوں کو بالکل حرکت نہیں ہوتی:
قطعنا على قطع القطا قطع ليلة
سراعا على الخيل العتاق اللاحقي
-------------
ایک عجیب و غریب شعر:
اس شعر کو آپ دائیں سے بائیں پڑھیں یا اوپر سے نیچے، شعر ایک سا ہی رہتا ہے.
ألوم صديقي وهذا محال
صديقي أحب كلام يقال
و هذا كلام بليغ الجمال
محال يقال الجمال خيال
------------
بعض لوگوں نے کہا کہ عربی زبان میں الف بہت زیادہ استعمال ہوتا ہے، تو کسی نے ایسا خطبہ کہا جس میں الف بالکل نہیں ہے.
حمدت من عظمت منته وسبغت نعمته وسبقت رحمته غضبه، وتمت كلمته، ونفذت مشيئته، وبلغت قضيته، حمدته حمد مُقرٍ بربوبيته، متخضع لعبوديته، متنصل من خطيئته، متفرد بتوحده، مؤمل منه مغفرة تنجيه يوم يشغل عن فصيلته وبنيه، ونستعينه ونسترشده ونستهديه، ونؤمن به ونتوكل عليه وشهدت له شهود مخلص موقن، وفردته تفريد مؤمن متيقن، ووحدته توحيد عبد مذعن، ليس له شريك في ملكه ولم يكن له ولي في صنعه، جلَّ عن مشير ووزير، وعن عون ومعين ونصير ونظير علم ولن يزول كمثله شيءٌ وهو بعد كل شيءٍ .
رب معتز بعزته، متمكن بقوته، متقدس بعلوّه متكبر بسموّه ليس يدركه بصر، ولم يحط به نظر قوي منيع، بصير سميع، رؤوف رحيم، عجز عن وصفه من يصفه، وضل عن نعته من يعرفه، قرب فبعد وبَعُد فقرب، يجيب دعوة من يدعوه، ويرزقه ويحبوه، ذو لطف خفي، وبطش قوي، ورحمة موسعة، وعقوبة موجعة، رحمته جنة عريضة مونقة، وعقوبته جحيم ممدودة موبقة، وشهدت ببعث محمد رسوله وعبده وصفيه ونبيه ونجيه وحبيبه وخليله .
-----------
ایک ایسا خطبہ جس میں کوئی نقطہ نہیں ہے:
الحمد لله الملك المحمود ، المالك الودود مصور كل مولود ، مآل كل مطرود ساطع المهاد وموطد الأوطاد ومرسل الأمطار، ومسهل الأوطار وعالم الأسرار ومدركها ومدمر الأملاك ومهلكها ومكور الدهور ومكررها ومورد الأمور ومصدرها عم سماحه وكمل ركامه وهمل وطاوع السؤال والأمل أوسع الرمل وأرمل أحمده حمدا ممدودا وأوحده كما وحد الأواه وهو الله لا إله للأمم سواه ولا صادع لما عدله وسواه، أرسل محمدا علما للإسلام ، وإماما للحكام ،
بشکریہ ڈاکٹر شفاعت ربانی صاحب.

Thursday, 4 February 2016

موافقت مخالفت ہر دور میں ہوئی ہے

موافقت مخالف ہر دور میں ہوئی ہے

میرا روڈ ایک دعائیہ تقریب میں احقر کا جانا ہوا اور ساتھ میں ہمارے مدرسے کے قاری کلیم الدین صاحب گونڈوی بھی تھے اس تقریب میں شرکت کے لئے کلیان سے ایک بریلوی مکتب فکر کے عالم اور نائب امام بھی تشریف لائے ہوئے تھے سلام و کلام کے بعد دعا کے لئے وہ ہاتھ اٹھائے تو بہت لمبی دعا کئی سارے درود اور بزرگوں کے نام جس سے وہ اپنی دعا کو مزین کررہے تھے

احباب حیرت جب ہوئی جب ان سے دعا کے بعد کچھ تبصرہ شروع ہوا وہاں پر موجود اکثر حضرات پولیس سے وابستہ تھے یا ریٹائرڈ تھے بہر حال بڑے بھائی نے اپنی دعاؤں سے تو لوگوں کو مسحور کرلیا تھا اب گفتگو سے بھی مسحور کرنے لگے تھے ان کا ایک ایک جملہ نفرت ہی نفرت کے کانٹوں سے بھرا ہوا تھا

کہنے لگے اہل حدیث اور وہابی یہی دہشت گرد ہیں اور میں تو حکومت وقت سے گزارش کرتا ہوں کہ ان کو جیلوں میں بند کیا جائے ان پر مقدمہ درج کیا جائے ہمارا ایک بھی سنی بریلوی مسلک کا فرد کسی بم دھماکے میں ملوث نہیں ہے جتنے جرائم ہوتے ہیں سب یہی اہل حدیث وہابی دہشت گرد ہی انجام دیتے ہیں

ان کا تعلق ہمیشہ دہشت گرد تنظیموں سے رہتا ہے داعش کو دیکھو ان سے جتنے لوگ منسلک ہیں سب یہی ہیں احقر اور قاری کلیم ہم دونوں اس کے منہ کو دیکھ رہے ہیں کیا بک رہا ہے مجھ سے برداشت نہیں ہوا میں نے کہا کہ جناب فلسطین میں کون وہابی اہل حدیث دہشت گردی کر رہے ہیں وہ تعجب سے میرا منھ دیکھنے لگا

میں نے کہا کہ جناب ہم ہندوستان میں کس دور سے گزر رہے ہیں اور آپ کے خیالات ایسے ہیں آپ کہہ کیا رہے ہیں اس پر غور کریں اور اپنے خیالات کو اپنی سوچ کو بدلیں آپ ہمارے یہاں بوریولی میں تشریف لائیں ہم آپ کو بتائیں گے نہیں بلکہ دکھائیں گے کہ اتفاق و اتحاد کسے کہتے ہیں لیکن وہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہے ہیں بولتے ہی جارہے ہیں اور جناب کا تیور اور چڑھ گیا شاید انہیں یہ پہلے سے ہی محسوس ہوگیا تھا کہ جن کو وہ وہابی کہہ رہے ہیں انکی نظر میں وہ ہم بھی ہیں

بہر حال علیک سلیک کے بعد سلسلہ منقطع ہوا اور ہماری روانگی ہوئی تو ہمارے قاری صاحب کہہ رہے ہیں اس کے دل میں اتنی نفرت کی آگ بھری ہوئی ہے میں تو اس جیسا انسان دیکھا نہیں محفل میں روشن خیال عصری تعلیم یافتہ افراد ہی تھے ہم تینوں کے علاوہ دل میں میں بار بار یہی خیال آرہا تھا کہ وہ کیا سبق حاصل کریں گے بڑے بھائی کی گفتگو سے اور جبتک ایسی سوچ کے افراد موجود رہیں گے تو مسلمانوں کو فلاح کہاں سے میسر ہوگی اتحاد و اتفاق کہاں سے آئے گا

احباب موافقت و مخالفت حق کی ہوتی رہی ہے اور ہوتی رہے گی ہمیں سوچنا ہے کہ ہم کون سا طریقہ اختیار کریں کہ مسلمانوں میں اتحاد و اتفاق ہوجائے اگر برخوردار کی طرح سے جن کا میں نے ذکر کیا ہے ہم بھی اپنا نظریہ بنالیں تو اس میں اور ہم میں فرق کیا رہ جائے گا

اسی طرح سے جب سیاست کی بات ہوتی ہے اور فسادات میں مسلمانوں کی املاک اور عزتوں کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور وہ فسادات ہفتوں مہینوں تک جاری رہتے ہیں اور کوئی سیاسی جماعت مسلمانوں کی مدد کو نہیں آتی تو مسلمانوں کو احساس ہوتا ہے یہ کوئی ہمارے ہمدرد نہیں سب صرف زبانی دلاسہ دیتے ہیں موقع پر کوئی بھی ہمارے کام نہیں آتا ہے

ہماری مسلمانوں کی کوئی سیاسی جماعت ہونی چاہئے جو الیکشن میں حصہ لے اور ہم ان کا ساتھ دیں لیکن خوش قسمتی سے جب کوئی مسلمان مرد مجاہد آگے بڑھتا ہے تو ہم اسی میں کیٹے نکالنا شروع کر دیتے ہیں میں مثال دیتا ہوں اویسی برادران کی کہ وہ کون سی ایسی جگہ ہے جہاں ان کا کنٹرول ہو ان کا رقبہ وہاں تک ہو اور وہاں گجرات کی طرح مظفر نگر کی طرح ہفتوں مہینوں مسلمانوں کا قتل عام یا مسلمان عورتوں کی عصمت دری کی گئی ہو

ایک شرابی جواری مسلمان بھی ایک مسلمان عورت کی جب کفار عصمت دری کی کوشش کریں تو جان کی بازی لگا دیتا ہے وہ تو سالار ملت کے خانوادے ہیں. نمازی ہیں اغیار کے نرغوں میں حق کی صدا بلند کرنے والے ہیں. ظالموں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر مسلمانوں کے حقوق کی لڑائی لڑ رہے ہیں. اللہ رب العزت نے انہیں عصری تعلیم و دینی تعلیم کی سوجھ بوجھ عطا فرمائی ہے. بے باک ہیں فصیح اللسان ہیں. حق گو ہیں. مرد مجاہد ہیں.

اللہ رب العزت نے ان حضرات کو بڑی خوبیوں سے نوازا ہے احباب اب ایک کہاوت ہے جس درخت پر پھل زیادہ ہوتے ہیں پتھر بھی انہیں پر زیادہ پڑتے ہیں تو اویسی برادران پر بھی مخالف حضرات پتھر برسارہے ہوں تو یہ ان کی مقبولیت کی وجہ سے ہے اور الحمد للہ اکثریت مسلمانوں کے دلوں میں ان کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے

احباب ہمیشہ ایسی مائیں بچہ نہیں جنتیں ہیں جو سر پر کفن باندھ کر اغیار سے مسلمانوں کے حقوق کے لئے سچے دل سے لڑائی لڑے میری تمام دوستوں سے مودبانہ درخواست ہے کہ اویسی برادران کا تہہ دل سے ساتھ دیں اور اگر کچھ نہیں کر سکتے ہیں تو ان کے لئے دعا کریں اگر دل اس کی بھی گنجائش نہ ہو تو کم از کم مخالفت نہ کریں.

لکھنے میں جو کمی کوتاہی ہوگی اس کی معافی چاہتا ہوں.

اللہ رب العزت اویسی برادران کی حفاظت فرمائے آمین

اور امت مسلمہ پر ان کا سایہ تادیر قائم فرمائے آمین

اور ان کو مزید کامیابی عطا فرمائے آمین

احقر محمد شمیم مدرسہ دارالعلوم حسینیہ بوریولی ممبئی