Thursday, 21 January 2016

کرہی کو صادق رہنما اور ہمدرد قوم و ملت کی تلاش ہے

🍃کرہی کو صادق رہنما🍃
🌹ہمدرد قوم و ملت کی 🌹
🍃تلاش 🍃

جب مومن کے دل میں ایمان کی حرارت تیز ہوتی ہے. ایمانی سطح بلند ہوتی ہے تو اللہ رب العزت اس سے خدمت خلق کا کام لیتے ہیں. اور جس کے دل میں اللہ کے بندوں کی محبت آجائے وہ عاشق رسول بن جاتا ہے اور اس شخص کا تذکرہ آنے والی نسلوں میں بھی باقی رہتا ہے. چہ جائیکہ اس کام میں خار دار کانٹے،دشواریاں، طعن و تشنیع آنکھوں نے دیکھا ہے. لیکن اھل حق نے ہمیشہ حق کا ہی ساتھ دیا ہے. اور ایک وقت گزار کر جب وہ مسیحا دنیا سے روپوش ہو تا ہے تو بیگانے بھی آنسو بہاتے ہیں. جب اس درجے کا رہنما نہیں میسر ہوتا..

کرہی گاؤں کی فلاح و بہبود کے لئے مولانا انظر صاحب قاسمی نے یہ بہت ہی قابل تحسین قدم اٹھایا ہے. یہ سچے عاشق رسول کی پہچان ہے. کیونکہ ہمارے آقا و مولی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ و سلم نے غریبوں سے بہت محبت کی ہے اور سچے عاشق رسول کی یہی پہچان ہے کہ وہ آقا کی پیروی کرنے والا بنے.

کرہی کے معزز و محترم حضرات کی رائے ہے کہ ایک کمیٹی تشکیل دی جائے اور اس کمیٹی کا ایک صدر ہو جو اسے بحسن و خوبی پائے تکمیل تک پہنچائے. کون ایسے پختہ عزائم، حق گو، اور اپنوں اور پرائے کا درد، صاحب بصیرت، دور اندیش، احباب کے دلوں کی دھڑکن، جس کی باتوں پر نوجوان طبقہ، بزرگ، اور ہر کوئی ہمہ تن متوجہ ہو جائیں. ایک شخصیت حقیر کی نگاہوں کے سامنے بار بار گردش کر رہی ہے. جو بہت درد رکھنے والی خیر خواہ شخصیت ہے.

جس نے سیکڑوں علماء حفاظ کو. درس و تدریس، ممبرو محراب سے جوڑ کر رکھ دیا. اس حقیر و فقیر کو بھی اسی شخصیت نے یہ ھدایت والا سچا راستہ دکھایا. ہم وطن،ہم مکتب، ہم رفیق، ہم درد، ہونے کے باوجود اللہ شاہد ہے اس شخصیت نے جو سچ باتیں حق باتیں ہوتی تھیں اسی کو انجام دیتے تھے. اور اگر ہم اپنی بات منوانا چاہتے تھے. تو ان کا ایک ہی جملہ ہوتا. حافظ شمیم صاحب میں اپنے فرض منصبی کو پورا کروں گا چاہے آپ کو کتنا ہی گراں گزرے. جو ہمارا اصول و ضابطہ ہے اس کے بر خلاف ایک بات بھی میں آپ کی تسلیم نہیں کرسکتا. بہرحال اس وقت ہمیں تکلیف ضرور ہوتی تھی. لیکن بعد میں احساس ہوتا کہ ایک سچے مسلمان کو اپنے فرائض اسی طرح انجام دینا چاہئے.

تو کرہی کے معزز و محترم حضرات اس شخصیت کے اندر ایک بات کوٹ کوٹ کر بھری ہے کہ وہ جھوٹ نہیں بولتے اور اصول کے بہت پابند ہیں. اور کمیٹی کے صدر کے اندر یہ بات بہت ضروری ہے.

تیسری خوبی. خیر خواہی کے تعلق سے. کوئی کسی کو معیشت سے جوڑنے کی فکر نہیں کرتا. اور یہ بات تو انسانی فطرت میں داخل ہے کہ میری دوکان کے سامنے کسی اور کی بھی دوکان ہو. اور اگر مارکیٹ بھی ہو تب بھی اگر انسان کے دل میں خیر خواہی نہ ہو تو وہ کبھی نہیں چاہے گا کہ دوسرا گاؤں کا آکر میرے دوکان کے اردگرد دوکان چالو کرے. اور اس کی معیشت اچھی ہو جائے. یہ توبڑے دل گردے والے خیرخواہ شخصیت ہی سے ہو سکتا ہے.

کیونکہ آنکھوں نے دیکھا ہے ایک ہی ماں کا دودھ پینے والے سگے بھائی دودھ کے رشتے کو خون کے رشتے کو فراموش کر کے ایک دوسرے کی معیشت کو برباد کرنے کی فکر میں سرگرداں رہتے ہیں. تو اس شخصیت نے اپنے اردگرد گاؤں کے کم و بیش دس پندرہ لوگوں کو دوکان سے جوڑ دیا اور اچھی رائے دی اور رہبری کی.

تو کمیٹی کے صدر کے اندر خیر خواہی بھی ہونی چاہئے اور یہ بات بھی اس شخصیت کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے.

آپ سبھی حضرات کو میری تحریر ہی بتانے کے لئے کافی ہے کہ میں کس شخصیت کے بارے میں کہنا چاہتا ہوں. تو حضرات اس مقدس و محترم ومکرم شخصیت کا نام نامی اسم گرامی حضرت مولانا تصدق حسین صاحب قاسمی کرہی ہے. میں نے بڑی محبتوں سے آپ کا نام چنا ہے امید ہے کہ احباب بھی تائید فرمائیں گے اور حضور والا بھی قبول فرماکر کرہی کے غریبوں پر رحم کا معاملہ فرمائیں گے اللہ رب العزت آپ کو اس کا جزا دونوں جہان میں عطاء فرمائے گا اور آپ کی ذات پر کوئی حرف شکایت نہ آئے اس کے لئے ہم سب  احباب  ہمہ وقت انشاءاللہ آپ کا ساتھ دیں گے....

لکھنے میں جو کمی کوتاہی ہوگی اس کی معافی چاہتا ہوں

احقر محمد شمیم مدرسہ دارالعلوم حسینیہ بوریولی ممبئی

بیٹیاں ہمیشہ قیمتی ہوتی ہیں

شادی کی پہلی رات میاں بیوی نے فیصلہ کیا کہ جب وہ کمرے میں پہنچ جائیں گے تو پھر دروازہ نہیں کھولیں گے چاہے کوئی بھی آ جائے.
ابھی دروازہ بند ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ دلہے کے والدین کمرے کے باہر پہنچے تاکہ اپنے بیٹے اور بہو کو نیک تمناؤں اور راحت بھری زندگی کی دعا دے سکیں، دستک ہوئی بتایا گیا کہ دلہے کے والدین باہر موجود ہیں.
دلہا دلہن نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا باوجود اس کے کہ دلہا دروازہ کھولنا چاہتا تھا اس نے اپنے فیصلے کو مدنظر رکھا اور دروازہ نہیں کھولا.
والدین ناکام واپس لوٹ گئے.
ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی کہ دلہن کے والدین بھی دلہے کے گھر جا پہنچے تاکہ اپنی بیٹی اور داماد کو اپنی نیک خواہشات پہنچا سکیں اور انہیں سکھی زندگی کی دعا دے سکیں.
ایک بار پھر کمرے کے دروازے پر دستک دی گئی اور بتایا گیا کہ دلہن کے والدین کمرے کے باہر موجود ہیں. دلہا دلہن نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا پھر اپنا فیصلہ ذہن میں تازہ کیا.
باوجود اس کے کہ فیصلہ ہو چکا تھا دلہن کی آنسوؤں بھری سرگوشی سنائی دی
نہیں میں اپنے والدین کے ساتھ ایسا نہیں کر سکتی اور فورا دروازہ کھول دیا.
شوہر نے یہ سب دیکھا مگر دلہن کو کچھ نا کہا خاموش رہا.
اس بات کو برسوں بیت گئے ان کے ہاں چار بیٹے پیدا ہوئے اور پانچویں بار ایک بیٹی پیدا ہوئی.
شوہر نے ننھی گڑیا کے اس دنیا میں آنے کی خوشی میں ایک بہت بڑی پارٹی کا انتظام کیا اور اس پارٹی میں ہر اس شخص کو بلایا جسے وہ جانتا تھا اور خوب خوشیاں منائی گئیں.
اس رات بیوی نے اپنے شوہر سے پوچھا کہ آخر کیا وجہ ہے کہ آپ نے اتنی بڑی پارٹی کا اہتمام کیا جبکہ اس سے پہلے چاروں بچوں کی پیدائش پر ہم نے یہ سب کچھ نہیں کیا.
شوہر مسکرایا اور بولا
یہ وہ ہے جو میرے لئے دروازہ کھولے گی.
بیٹیاں ہمیشہ قیمتی ہوتی ہیں،،

سوچ

سوچ

انساں کی ایک سوچ ہوتی ہے جو اسے خیر کی طرف لے جاتی ہے اور ایک سوچ ایسی ہوتی ہے جو اسے شر کی طرف لے جاتی ہے. جس کی سوچ اچھی ہوتی ہے اللہ رب العزت اس سے کام لے لیتے ہیں. کبھی کبھی انسان ایک دوسرے کے بارے میں اچھی سوچ نہیں رکھتا. لیکن جس کے بارے میں اچھی سوچ نہیں تھی شاید یہ اس کی غلط فہمی تھی کیونکہ اللہ دلوں کے بھید کو جاننے والا ہے اور رب العالمین جس سے دنیا میں خدمت خلق کا کام لے لیں. وہ غلط سوچ والا ہو ہی نہیں سکتا. چہ جائیکہ بشری نگاہ سے دیکھنے میں غلطی ہمیں نظر آرہی ہو. یہ بھی ہو سکتا ہے یہ ہماری غلط سوچ ہو. کیونکہ انسان جب کسی کے بارے میں غلط سوچ رکھتا ہے تو اس کی اچھائیاں کو بھی غلط نگاہ سے دیکھتا ہے اور یہی اس کی غلط سوچ کا نتیجہ ہے

جب کہ ہمیں یہ تعلیم دی گئی ہے کہ.. اچھا گمان رکھنا بہترین عبادت ہے.
آج معاشرے میں جو بگاڑ پیدا ہو رہا ہے لوگ ایک دوسرے سے کینہ. حسد. جلن رکھتے یہ ہماری گندی سوچ کا نتیجہ ہے
اور جس کی سوچ اچھی ہوتی ہے اس کے دل میں محبتیں ہی محبتیں بھری ہوئی رہتی ہیں اس شخص کی وجہ سے معاشرے کا ماحول اچھا ہوتا ہے. اور جب اچھی سوچ دھیرے دھیرے سبھی لوگوں کے اندر سرایت کر جاتی تو لوگ جہاں ایسے لوگ ہوتے ہیں اس کی مثال دیتے ہیں. دیکھو فلاں جگہ کے لوگ کتنے اچھے ہیں ان کی سوچ کتنی اچھی ہے ان کا کام کتنا اچھا ہے

حقیر و فقیر نے چند دنوں پہلے ایک تحریر ارسال کی تھی جو گاؤں کے    تعلق سے تھی وہاں دیکھ کر حیرانی اس بات کی ہوئی کہ ایک صاحب جنہوں نے اپنی بے جا سوچ کا غلط استعمال کر کے سورج کو چراغ دکھانے کی کوشش کر ڈالے بہر حال ہر انسان کی اپنی سوچ ہوتی ہے ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی سوچ کو ایسا بنائیں کہ جس سے کسی کی دل آزاری نہ ہو اگر ہماری سوچ اچھی ہو گئی تو ہم جہاں بھی رہیں گے وہاں خوشبو کے مانند ہونگے اور اگر ہماری سوچ غلط ہو رہی ہے تو ناکامیوں کے سوا کچھ بھی ہاتھ نہیں لگنے والا ہے
کچھ احباب ایسے بھی ہوتے ہیں جو غلطیوں کی اصلاح بھی کر دیتے ہیں اور کسی کو معلوم بھی نہیں ہوتا پرسنل پر.. جیسا کہ حقیر کے ساتھ بھی ایسا موقع پیش آیا حضرت مولانا منصور صاحب نے ایک وقت میں حقیر کی پرسنل پر اصلاح فرمائی.. ووٹ.. یہ لفظ احقر نے غلط لکھا تھا یہ مولانا کا بڑکپن تھا اور اچھی سوچ تھی اور اور وطنی محبت تھی کہ پرسنل پر اصلاح کر رہے ہیں

غلطیاں احقر نے اچھے اچھے لوگوں سے املا کی دیکھی ہیں لیکن جس کی سوچ اچھی ہوتی ہے وہ دکھاوا نہیں کرتا مقصد اصلاح ہے اور وہ کچھ اس طرح سے کرتا ہے کہ اصلاح بھی ہو جائے اور سامنے والے کو ذلت نہ اٹھانی پڑے. کسی عالم نے احقر سے یہ بات کہی تھی کہ اگر کوئی شخص تنہائی میں تمہاری اصلاح کر رہا ہے تو خیر خواہ ہے اور اگر مجمع میں کہ رہا ہے تو یہ تمہیں ذلیل و خوار کرنے کی کوشش کر رہا ہے. انسان کی جیسی سوچ ہوتی ہے ویسے ہی اس کے افعال سے کر دار سے اچھائیاں برائیاں خود بخود ظاہر ہو جاتی. احباب میں محفل گروپ پر دیکھ رہا تھا ایک لفظ.. سوچ کا آگیا. جس کو لیکر چند الفاظ احقر نے تحریر کر دئیے ہیں. لکھنے میں جو کمی کوتاہی ہوگی اس کی معافی چاہتا ہوں

دعا ہے کہ اللہ رب العزت ہماری سوچ کو اچھا بنادے
اور ہمیں مل جل کر رہنے کی توفیق عطا فرمائے

احقر محمد شمیم مدرسہ دارالعلوم حسینیہ بوریولی ممبئی

بارات میں جانا درست نہیں

[05/01 15:03] shamim ansari: Darul Ifta
26 November 2014 at 08:02 ·
India Question: 56157
(۱) بارات میں جانا سنت ہے یا مباح یا ناجائز؟ جسے تقریب نکاح کا نام دیا جاتا ہے۔ (۲) لڑکی والوں کا ولیمہ کرکے باراتیوں اور رشتہ داروں کو کھانا کھلانا سنت ہے یا مباح یا ناجائز؟
Nov 02,2014 Answer: 56157
Fatwa ID: 1638-1096/L=1/1436-U87
(۱) بارات لیجانے کا شرعاً ثبوت نہیں ہے؛ اس لیے اس میں جانے سے احتراز کرنا چاہیے اور اگر لڑکی والوں پر بار ہو تو ایسی صورت میں جانا ناجائز ہوگا؛ کیونکہ کسی کا مال بغیر اس کی دلی رضامندی کے دوسرے کے لیے حلال نہیں ہے؛ بالعموم لڑکی والے بغیر طیب خاطر کے محض دباوٴ میں آکر یا ریاء ً کھانے وغیرہ کا نظم کرتے ہیں؛ لہٰذا ایسی صورت میں بارات میں جانا ناجائز ہوگا۔
(۲) ولیمہ کی دعوت لڑکے والوں کی طرف سے مسنون ہے، لڑکی والوں کی طرف سے ولیمہ کی دعوت یا کھانے کا نظم کرنا مسنون نہیں ہے؛ البتہ اگر بغیر کسی التزام مالا یلزم اور ریا وغیرہ کی غرض سے کھانے کا نظم ہو تو فی نفسہ مباح ہوگا۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
[07/01 14:55] shamim ansari: مجھے نکاح کا مسنون طریقہ بتائیں؟ (۲) کیا نکاح کرنے میں بارات لے جانا یا کسی کی بارات میں شریک ہونا جائز ہے؟ (۳) اور کیا نکاح میں گھر کو زیادہ سجانا یا بارات بہت دھوم دھام سے لے جانا اور خوب لائٹ ، میوزک، باجہ، شور اور پٹاخہ ساتھ لے جانا صحیح ہے، او راس کا کیا گناہ ہوگا؟ قرآن اورحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔
  Nov 12,2008  Answer: 8029
فتوی: 1251=1074/ل

(۱) نکاح سادگی کے ساتھ کرنا چاہیے جب رشتہ نکاح پختہ ہوجائے تو لڑکے والے وقت مقررہ پر کچھ لوگوں کو لے کر وہاں چلے جائیں اور بہتر یہ ہے کہ وہ جمعہ کا دن ہو اور بعد نماز جمعہ نکاح ہوجائے اور سادگی کے ساتھ لڑکے والے لڑکی کو لے کر واپس آجائیں، اور زوجین کے ملاقات کے اگلے روز یا اس کے بعد سادہ انداز میں کچھ غرباء مساکین احباب واعزاء کو بلاکر حسب استطاعت کھانا تیار کرکے ولیمہ کے نام سے کھلادیاجائے، رسم ورواج کی بالکل پابندی نہ کی جائے اگر ?اسلامی شادی? کتاب مل جائے تو اس کا بار بار مطالعہ کرلیا جائے، اور اسی کے مطابق شادی کی جائے۔
(۲) رسم و رواج کی پابندی اور ریا و تفاخر کے بغیر نیز لڑکی والوں کی اجازت کے بعد اگر کچھ لوگ چلے جائیں تو اس کی گنجائش ہے۔
(۳) یہ سب اسراف بے جا ہے، میوزک باجہ شور اور پٹاخہ کے ساتھ جانا ناجائز ہے، حدیث شریف میں گانے بجانے پر سخت وعید آئی ہے، مسلمانوں کو ان امور سے بالکلیہ احتراز کرنا چاہیے۔
واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
[07/01 15:12] shamim ansari: سوال : شادی میں بارات بلانا یا لے جانا درست ہے یا نہیں ؟ اگر ہے تو کتنے آدمی بارات میں جا سکتے ہیں؟
جواب : بارات کا وجود نہ تو خیر القرون میں تھا اور نہ بعد میں ،یہ غیر مسلموں کا طریقہ ہے جس کو ہندوستانی مسلمانوں نے اختیار کرلیا ہے جو مفاسد کثیرہ کی وجہ سے نا جائز ہے (اسلامی شادی واصلاح الرسوم ) البتہ اگر اتنے قلیل تعداد میں لوگ جا ئیں جس کو عرف ورواج میں بارات نہ کہا جا تا ہو مثلاً دو چار آدمی جائیں تو اسکی گنجائش ہے ۔ ( فتاویٰ ریا ض العلوم :۱ .۳۷۶۔۳۹۶)

سوال. : نکاح کے بعد کھڑے ہو کر دولہا کو سلام کرنا کیسا ہے ؟
جواب: شریعت میں سلام کا موقع ملاقات کے وقت ہے نہ کہ نکاح کے بعد، لہذا اس موقع پر سلام کرنا محض رسم اور بے محل ہے ، اس سے بچنا چاہئے۔( فتاویٰ ریاض العلوم :۱ ۔۳۸۴)

مولانا انظر شاہ قاسمی

کڑوڑوں دل اداس ہیں اور آنکھیں اشک بار ہیں تیری مظلومیت پر

ہمارے ایک دوست مجیب العارفین صاحب جو اس وقت سعودی عرب میں ہیں انہوں نے آج میسج کیا کہ مجھے آپ سے ایک بہت ہی اہم موضوع پر بات کرنی ہے آپ جب فرصت میں ہوں تو اطلاع کریں احقر مدرسہ سے گھر پہنچ کر ان سے رابطہ کیا تو سلام و خیریت سے فراغت پر ان صاحب سے میں نے گفتگو کا آغاز کیا فرمائیے عارفین صاحب کیا بات ہے

احقر کے ذہن میں یہی بات آرہی تھی کوئی ان کو پریشانی ہوگی یا کوئی پرسنل معاملہ ہوگا لیکن جب انہوں نے کہا کہ میں جب سے سنا ہوں مولانا انظر شاہ قاسمی کے بارے مجھے سکون نہیں ہے اور کچھ اچھا نہیں لگ رہا ہے الجھن سی ہر وقت رہتی ہے آپ قاری صاحب برابر خبر دیتے رہیں مولانا کے بارے میں بہر حال ہماری آپسی گفتگو ختم ہوئی لیکن ایک بات کا احساس ہوا کہ جس کے اتنے چاہنے والے ہوں خفیہ ایجنسی تم زیادہ دن تک ان کو قید میں نہیں رکھ سکتے کڑوڑوں لوگوں کی آہیں تمہاری گندی سوچ کو گندی سیاست کو تباہ و برباد کر دیں گی. ان شاءاللہ.

میڈیا کی ستم ظریفی دیکھئے ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور ہمارے حق پرست عالم دین کو پوری دنیا میں ذلیل و خوار کرکے رکھ دیا اللہ کا قہر و غضب نازل ان کمینوں پر اور جب باعزت بری ہوکر آئیں گے تو ان میڈیا والوں کو سانپ سونگھ جاتا ہے زبانیں گونگ ہوجاتی ہیں ایک آواز نہیں سنائی دیتی

موسمِ کا رنگ دیکھ کر بدلا ہے اس کا رنگ
قاتل بھی اب لباس میں منصف کے آگئے
حضرت مولانا انظر شاہ قاسمی دامت برکاتہم بے گناہ ہیں اور ان شاءاللہ کڑوڑوں حضرات کی دعائیں رنگ لائیں گی اور آپ جلد از جلد اسی شان و شوکت کے ساتھ ممبرو محراب کی زینت بنیں گے
اللہ رب العزت بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ حضرت کی جلد از جلد رہائی عطاء فرمائے آمین

محبت کی تلخیاں

🌱محبت کی تلخیاں 🌱

اصل چیز محبت ہے پھر محبت سے ایمان بنتا ہے. پھر اس ایمان ہی کی وجہ سے اعمال ہاتھ پیر پر آتے ہیں اور انسان کی زندگی بنتی ہے. محبت سے ہی سارا کام چلتا ہے. آدمی اس محبت میں مصائب بھی جھیلتا ہے. تکلیفیں بھی اٹھاتا ہے. مگر اللہ ورسول صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت غالب ہے تو پروا بھی نہیں ہوتی کسی چیز کی. اہل اللہ جیل خانے میں بھی گئے مگر انہیں پروا نہیں ہوئی کیونکہ تعلق مع اللہ قوی ہے. فقر و فاقہ  آیا مگر انہیں پروا تک بھی نہیں اس لئے کہ دل میں تعلق موجود ہے قلب مطمئن ہے. اور اگر دل کا تعلق اللہ سے نہ ہو تو انسان ہمیشہ ڈانواں ڈول رہے گا. ہمیشہ اس پریشانی اور پرا گندی وتشتت میں ہی رہے گا. اس سے معلوم ہوا کہ زندگی کا سکون صرف اللہ تعالٰی کی یاد میں ہے کسی اور چیز میں نہیں.

کروڑوں کا مالک ہو اس کو بھی سکون نہیں ملے گا. بلکہ قلب بے سکون غیر مطمئن، پریشان، پرا گندہ ہی رہے گا. کہ اس کی حفاظت کیسے کروں اسے ڈاکو نہ لے جائیں. کہیں پہرے دار ہیں. کہیں چپراسی ہیں کہ چوروں سے حفاظت کرتے ہیں. مگر قانونی چوری بھی تو ہوتی ہے. اس سے حفاظت کیسے کرے گا.؟ بہت سے لوگ قانون کے دائرے میں رہ کر چوری کرتے ہیں ڈاکہ ڈالتے ہیں. مثلاً کہیں فیس کی شکل میں رقم وکلاء کے پاس جارہی ہے. کہیں بیرسٹروں کے پاس جارہی ہے. کہیں ڈاکٹروں کے پاس جارہی ہے. غرض روپیہ کیا ایک وبال جان بنا ہوا ہے ہر وقت پریشانی ہی پریشانی ہے. نہ اس سے سکون ملتا ہے نہ بلڈنگ سے سکون ملتا ہے 🌱اگر سکون ملتا ہے تو صرف اللہ کے نام میں ملتا ہے 🍃

الا بذکراللہ تطمئن القلوب..

اللہ ہی کے ذکر سے دل چین پاتے ہیں.

دنیا کے ذکر سے چین نہیں ملتا وہ تو استعمال کی چیز ہے اسے کھاؤ پیو، استعمال کرو مگر مقصود مت بناؤ. اس سے محبت مت کرو. اس میں دل مت لگاؤ. اس کو جائز طریق پر استعمال کرو. اچھا کھانا بھی کھاؤ. اچھے مکان میں بھی رہو. مگر مکان کو خدا مت سمجھو. لباس کو کعبہ مت بناؤ. خادم سمجھو، محبت کے لئے اللہ ورسول صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات کو اختیار کرو. ہماری زندگی یہ ہے. کہ دل بیار دست بکار.

ہاتھ اور پاؤں کاروبار میں لگے ہوئے ہیں اور دل لگا ہوا ہے خالق و مالک کے اندر کہ دنیا میں رہو تجارت بھی کرو. زراعت بھی کرو. جب تک انسان دنیا میں رہے گا سب ہی کام کرے گا اور کرنے بھی چاہئیں مگر دل کی توجہ اللہ کی طرف رہنی چاہئے اس سے تجارت بھی با برکت بنے گی. سب چیزیں عبادت بنتی چلی جاویں گی.

تو اصل چیز ہے قانون کی پیروی اور وہ ہو ہی نہیں سکتی جب تک محبت نہ ہو تو محبت اصل ایمان و اصل اسلام ہے

اور. در محبت تلخہا شیریں بود

یعنی محبت میں تلخیاں بھی شیریں بن جاتی ہیں کیونکہ آدمی کا دھیان محبوب کی طرف رہتا ہے. تلخیوں کی طرف نہیں رہتا اس لئے وہ شیریں ہو جاتی ہیں. اور محبوب کی ہر ادا محبوب بن جاتی ہے..

اللہ رب العزت ہم سب کو اللہ ورسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سچی پکی محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

🌱ماخوذ خطبات حکیم الاسلام جلد سوم🍀

احقر محمد شمیم مدرسہ
دارالعلوم حسینیہ
بوریولی
ممبئی 🌺

میں کا نکلنا

🌿میں.. کا نکلنا 🌿

ارشاد فرمایا. انسان کے اندر سے میں بہت دیر سے نکلتی ہے. اسلئے مشائخ کرام اپنے لئے.. میں.. کا لفظ استعمال نہیں کرتے بلکہ فقیر اور عاجز کا لفظ استعمال کرتے ہیں. یہ فقیر بھی اپنے لئے انہیں لفظوں کو پسند کرتا ہے. اللہ تعالٰی کے سامنے انسان کی کوئی حیثیت نہیں ہے اس لئے انسان کو کسی طرح بھی زیب نہیں دیتا کہ رب تعالٰی شانہ کے سامنے بے ادبی کرے. یاد رکھیں انسان میں ذکر کے ساتھ ساتھ.. میں.. بھی بڑھتی رہتی ہے. آخری چیز جو انسان کے دل سے نکلتی ہے وہ تکبر ہے بڑا بننے کی خاطر انسان ذلت بھی گوارا کر لیتے ہیں. یہ اسمبلی کے ممبران ووٹ لینے کی خاطر لوگوں کی وقتی ذلت بھی اٹھا لیتے ہیں اس کی پروا نہیں کرتے اور بعد میں کوئی خبر نہیں لیتے.

انسان کا نفس.. میں.. کا بڑا دلدادہ ہوتا ہے. جس کام میں انسان کی عزت بنتی ہو وہ کام کرنا اسے آسان لگتا ہے. اپنے آپ کو مٹاکر کام کرنا انسان کے لئے بہت مشکل ہوتا ہے. لیکن کام میں برکت تبھی آتی ہے جب اپنے آپ کو مٹاکر کام کیا جائے. اپنے آپ کو مٹانے سے ہی اخلاص پیدا ہوتا ہے.

مٹادے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے

کہ دانہ خاک میں مل کر گل گلزار ہوتا ہے

ارشاد فرمایا.. جب.. میں.. کو مٹایا جائے گا تو اپنی کوئی حیثیت نظر نہیں آئے گی. پھر اپنی  عبادت بھی کچھ نظر نہیں آئے گی اور پھر انسان دو نفل پڑھ کر اللہ تعالٰی پر احسان نہیں جتلائے گا. شیطان کو تکبر نے ہی گمراہ کیا تھا وہ اللہ تعالٰی کے سامنے دلیل دینے لگا کہ میں آدم سے اچھا ہوں. شیطان سینکڑوں سال تک اللہ تعالٰی کی عبادت کرتا رہا . عالم اتنا تھا کہ استاد الملائکہ بن گیا.

عارف بھی تھا کہ عین اللہ تعالٰی کے جلال اور غضب کی حالت میں مہلت کی دعا مانگتا ہے اور قبول ہو جاتی ہے. گمراہی کی اصل وجہ یہ نکلی کہ وہ عاشق نہیں تھا جس کی وجہ سے اس کا بیڑا غرق ہو گیا. اسے اللہ تعالٰی سے محبت نہیں تھی اگر محبت ہوتی تو اپنے تکبر کے لئے دلیلیں نہ دیتا عاشق دلیلیں نہیں دیا کرتے بلکہ سر تسلیم خم کیا کرتے ہیں.

عشق فرمودہ قاصد سے سبک گام عمل

عقل سمجھی ہی نہیں معنئ پیغام ابھی

🌳ماخوذ مجالس فقیر 🌳

احقر محمد شمیم مدرسہ
دارالعلوم حسینیہ
بوریولی
ممبئی 🌺