Thursday, 21 January 2016

بارات میں جانا درست نہیں

[05/01 15:03] shamim ansari: Darul Ifta
26 November 2014 at 08:02 ·
India Question: 56157
(۱) بارات میں جانا سنت ہے یا مباح یا ناجائز؟ جسے تقریب نکاح کا نام دیا جاتا ہے۔ (۲) لڑکی والوں کا ولیمہ کرکے باراتیوں اور رشتہ داروں کو کھانا کھلانا سنت ہے یا مباح یا ناجائز؟
Nov 02,2014 Answer: 56157
Fatwa ID: 1638-1096/L=1/1436-U87
(۱) بارات لیجانے کا شرعاً ثبوت نہیں ہے؛ اس لیے اس میں جانے سے احتراز کرنا چاہیے اور اگر لڑکی والوں پر بار ہو تو ایسی صورت میں جانا ناجائز ہوگا؛ کیونکہ کسی کا مال بغیر اس کی دلی رضامندی کے دوسرے کے لیے حلال نہیں ہے؛ بالعموم لڑکی والے بغیر طیب خاطر کے محض دباوٴ میں آکر یا ریاء ً کھانے وغیرہ کا نظم کرتے ہیں؛ لہٰذا ایسی صورت میں بارات میں جانا ناجائز ہوگا۔
(۲) ولیمہ کی دعوت لڑکے والوں کی طرف سے مسنون ہے، لڑکی والوں کی طرف سے ولیمہ کی دعوت یا کھانے کا نظم کرنا مسنون نہیں ہے؛ البتہ اگر بغیر کسی التزام مالا یلزم اور ریا وغیرہ کی غرض سے کھانے کا نظم ہو تو فی نفسہ مباح ہوگا۔
واللہ تعالیٰ اعلم
دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
[07/01 14:55] shamim ansari: مجھے نکاح کا مسنون طریقہ بتائیں؟ (۲) کیا نکاح کرنے میں بارات لے جانا یا کسی کی بارات میں شریک ہونا جائز ہے؟ (۳) اور کیا نکاح میں گھر کو زیادہ سجانا یا بارات بہت دھوم دھام سے لے جانا اور خوب لائٹ ، میوزک، باجہ، شور اور پٹاخہ ساتھ لے جانا صحیح ہے، او راس کا کیا گناہ ہوگا؟ قرآن اورحدیث کی روشنی میں جواب دیں۔
  Nov 12,2008  Answer: 8029
فتوی: 1251=1074/ل

(۱) نکاح سادگی کے ساتھ کرنا چاہیے جب رشتہ نکاح پختہ ہوجائے تو لڑکے والے وقت مقررہ پر کچھ لوگوں کو لے کر وہاں چلے جائیں اور بہتر یہ ہے کہ وہ جمعہ کا دن ہو اور بعد نماز جمعہ نکاح ہوجائے اور سادگی کے ساتھ لڑکے والے لڑکی کو لے کر واپس آجائیں، اور زوجین کے ملاقات کے اگلے روز یا اس کے بعد سادہ انداز میں کچھ غرباء مساکین احباب واعزاء کو بلاکر حسب استطاعت کھانا تیار کرکے ولیمہ کے نام سے کھلادیاجائے، رسم ورواج کی بالکل پابندی نہ کی جائے اگر ?اسلامی شادی? کتاب مل جائے تو اس کا بار بار مطالعہ کرلیا جائے، اور اسی کے مطابق شادی کی جائے۔
(۲) رسم و رواج کی پابندی اور ریا و تفاخر کے بغیر نیز لڑکی والوں کی اجازت کے بعد اگر کچھ لوگ چلے جائیں تو اس کی گنجائش ہے۔
(۳) یہ سب اسراف بے جا ہے، میوزک باجہ شور اور پٹاخہ کے ساتھ جانا ناجائز ہے، حدیث شریف میں گانے بجانے پر سخت وعید آئی ہے، مسلمانوں کو ان امور سے بالکلیہ احتراز کرنا چاہیے۔
واللہ تعالیٰ اعلم

دارالافتاء، دارالعلوم دیوبند
[07/01 15:12] shamim ansari: سوال : شادی میں بارات بلانا یا لے جانا درست ہے یا نہیں ؟ اگر ہے تو کتنے آدمی بارات میں جا سکتے ہیں؟
جواب : بارات کا وجود نہ تو خیر القرون میں تھا اور نہ بعد میں ،یہ غیر مسلموں کا طریقہ ہے جس کو ہندوستانی مسلمانوں نے اختیار کرلیا ہے جو مفاسد کثیرہ کی وجہ سے نا جائز ہے (اسلامی شادی واصلاح الرسوم ) البتہ اگر اتنے قلیل تعداد میں لوگ جا ئیں جس کو عرف ورواج میں بارات نہ کہا جا تا ہو مثلاً دو چار آدمی جائیں تو اسکی گنجائش ہے ۔ ( فتاویٰ ریا ض العلوم :۱ .۳۷۶۔۳۹۶)

سوال. : نکاح کے بعد کھڑے ہو کر دولہا کو سلام کرنا کیسا ہے ؟
جواب: شریعت میں سلام کا موقع ملاقات کے وقت ہے نہ کہ نکاح کے بعد، لہذا اس موقع پر سلام کرنا محض رسم اور بے محل ہے ، اس سے بچنا چاہئے۔( فتاویٰ ریاض العلوم :۱ ۔۳۸۴)

مولانا انظر شاہ قاسمی

کڑوڑوں دل اداس ہیں اور آنکھیں اشک بار ہیں تیری مظلومیت پر

ہمارے ایک دوست مجیب العارفین صاحب جو اس وقت سعودی عرب میں ہیں انہوں نے آج میسج کیا کہ مجھے آپ سے ایک بہت ہی اہم موضوع پر بات کرنی ہے آپ جب فرصت میں ہوں تو اطلاع کریں احقر مدرسہ سے گھر پہنچ کر ان سے رابطہ کیا تو سلام و خیریت سے فراغت پر ان صاحب سے میں نے گفتگو کا آغاز کیا فرمائیے عارفین صاحب کیا بات ہے

احقر کے ذہن میں یہی بات آرہی تھی کوئی ان کو پریشانی ہوگی یا کوئی پرسنل معاملہ ہوگا لیکن جب انہوں نے کہا کہ میں جب سے سنا ہوں مولانا انظر شاہ قاسمی کے بارے مجھے سکون نہیں ہے اور کچھ اچھا نہیں لگ رہا ہے الجھن سی ہر وقت رہتی ہے آپ قاری صاحب برابر خبر دیتے رہیں مولانا کے بارے میں بہر حال ہماری آپسی گفتگو ختم ہوئی لیکن ایک بات کا احساس ہوا کہ جس کے اتنے چاہنے والے ہوں خفیہ ایجنسی تم زیادہ دن تک ان کو قید میں نہیں رکھ سکتے کڑوڑوں لوگوں کی آہیں تمہاری گندی سوچ کو گندی سیاست کو تباہ و برباد کر دیں گی. ان شاءاللہ.

میڈیا کی ستم ظریفی دیکھئے ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا اور ہمارے حق پرست عالم دین کو پوری دنیا میں ذلیل و خوار کرکے رکھ دیا اللہ کا قہر و غضب نازل ان کمینوں پر اور جب باعزت بری ہوکر آئیں گے تو ان میڈیا والوں کو سانپ سونگھ جاتا ہے زبانیں گونگ ہوجاتی ہیں ایک آواز نہیں سنائی دیتی

موسمِ کا رنگ دیکھ کر بدلا ہے اس کا رنگ
قاتل بھی اب لباس میں منصف کے آگئے
حضرت مولانا انظر شاہ قاسمی دامت برکاتہم بے گناہ ہیں اور ان شاءاللہ کڑوڑوں حضرات کی دعائیں رنگ لائیں گی اور آپ جلد از جلد اسی شان و شوکت کے ساتھ ممبرو محراب کی زینت بنیں گے
اللہ رب العزت بارگاہ میں دعا ہے کہ اللہ حضرت کی جلد از جلد رہائی عطاء فرمائے آمین

محبت کی تلخیاں

🌱محبت کی تلخیاں 🌱

اصل چیز محبت ہے پھر محبت سے ایمان بنتا ہے. پھر اس ایمان ہی کی وجہ سے اعمال ہاتھ پیر پر آتے ہیں اور انسان کی زندگی بنتی ہے. محبت سے ہی سارا کام چلتا ہے. آدمی اس محبت میں مصائب بھی جھیلتا ہے. تکلیفیں بھی اٹھاتا ہے. مگر اللہ ورسول صلی اللہ علیہ و سلم کی محبت غالب ہے تو پروا بھی نہیں ہوتی کسی چیز کی. اہل اللہ جیل خانے میں بھی گئے مگر انہیں پروا نہیں ہوئی کیونکہ تعلق مع اللہ قوی ہے. فقر و فاقہ  آیا مگر انہیں پروا تک بھی نہیں اس لئے کہ دل میں تعلق موجود ہے قلب مطمئن ہے. اور اگر دل کا تعلق اللہ سے نہ ہو تو انسان ہمیشہ ڈانواں ڈول رہے گا. ہمیشہ اس پریشانی اور پرا گندی وتشتت میں ہی رہے گا. اس سے معلوم ہوا کہ زندگی کا سکون صرف اللہ تعالٰی کی یاد میں ہے کسی اور چیز میں نہیں.

کروڑوں کا مالک ہو اس کو بھی سکون نہیں ملے گا. بلکہ قلب بے سکون غیر مطمئن، پریشان، پرا گندہ ہی رہے گا. کہ اس کی حفاظت کیسے کروں اسے ڈاکو نہ لے جائیں. کہیں پہرے دار ہیں. کہیں چپراسی ہیں کہ چوروں سے حفاظت کرتے ہیں. مگر قانونی چوری بھی تو ہوتی ہے. اس سے حفاظت کیسے کرے گا.؟ بہت سے لوگ قانون کے دائرے میں رہ کر چوری کرتے ہیں ڈاکہ ڈالتے ہیں. مثلاً کہیں فیس کی شکل میں رقم وکلاء کے پاس جارہی ہے. کہیں بیرسٹروں کے پاس جارہی ہے. کہیں ڈاکٹروں کے پاس جارہی ہے. غرض روپیہ کیا ایک وبال جان بنا ہوا ہے ہر وقت پریشانی ہی پریشانی ہے. نہ اس سے سکون ملتا ہے نہ بلڈنگ سے سکون ملتا ہے 🌱اگر سکون ملتا ہے تو صرف اللہ کے نام میں ملتا ہے 🍃

الا بذکراللہ تطمئن القلوب..

اللہ ہی کے ذکر سے دل چین پاتے ہیں.

دنیا کے ذکر سے چین نہیں ملتا وہ تو استعمال کی چیز ہے اسے کھاؤ پیو، استعمال کرو مگر مقصود مت بناؤ. اس سے محبت مت کرو. اس میں دل مت لگاؤ. اس کو جائز طریق پر استعمال کرو. اچھا کھانا بھی کھاؤ. اچھے مکان میں بھی رہو. مگر مکان کو خدا مت سمجھو. لباس کو کعبہ مت بناؤ. خادم سمجھو، محبت کے لئے اللہ ورسول صلی اللہ علیہ و سلم کی ذات کو اختیار کرو. ہماری زندگی یہ ہے. کہ دل بیار دست بکار.

ہاتھ اور پاؤں کاروبار میں لگے ہوئے ہیں اور دل لگا ہوا ہے خالق و مالک کے اندر کہ دنیا میں رہو تجارت بھی کرو. زراعت بھی کرو. جب تک انسان دنیا میں رہے گا سب ہی کام کرے گا اور کرنے بھی چاہئیں مگر دل کی توجہ اللہ کی طرف رہنی چاہئے اس سے تجارت بھی با برکت بنے گی. سب چیزیں عبادت بنتی چلی جاویں گی.

تو اصل چیز ہے قانون کی پیروی اور وہ ہو ہی نہیں سکتی جب تک محبت نہ ہو تو محبت اصل ایمان و اصل اسلام ہے

اور. در محبت تلخہا شیریں بود

یعنی محبت میں تلخیاں بھی شیریں بن جاتی ہیں کیونکہ آدمی کا دھیان محبوب کی طرف رہتا ہے. تلخیوں کی طرف نہیں رہتا اس لئے وہ شیریں ہو جاتی ہیں. اور محبوب کی ہر ادا محبوب بن جاتی ہے..

اللہ رب العزت ہم سب کو اللہ ورسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے سچی پکی محبت کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین

🌱ماخوذ خطبات حکیم الاسلام جلد سوم🍀

احقر محمد شمیم مدرسہ
دارالعلوم حسینیہ
بوریولی
ممبئی 🌺

میں کا نکلنا

🌿میں.. کا نکلنا 🌿

ارشاد فرمایا. انسان کے اندر سے میں بہت دیر سے نکلتی ہے. اسلئے مشائخ کرام اپنے لئے.. میں.. کا لفظ استعمال نہیں کرتے بلکہ فقیر اور عاجز کا لفظ استعمال کرتے ہیں. یہ فقیر بھی اپنے لئے انہیں لفظوں کو پسند کرتا ہے. اللہ تعالٰی کے سامنے انسان کی کوئی حیثیت نہیں ہے اس لئے انسان کو کسی طرح بھی زیب نہیں دیتا کہ رب تعالٰی شانہ کے سامنے بے ادبی کرے. یاد رکھیں انسان میں ذکر کے ساتھ ساتھ.. میں.. بھی بڑھتی رہتی ہے. آخری چیز جو انسان کے دل سے نکلتی ہے وہ تکبر ہے بڑا بننے کی خاطر انسان ذلت بھی گوارا کر لیتے ہیں. یہ اسمبلی کے ممبران ووٹ لینے کی خاطر لوگوں کی وقتی ذلت بھی اٹھا لیتے ہیں اس کی پروا نہیں کرتے اور بعد میں کوئی خبر نہیں لیتے.

انسان کا نفس.. میں.. کا بڑا دلدادہ ہوتا ہے. جس کام میں انسان کی عزت بنتی ہو وہ کام کرنا اسے آسان لگتا ہے. اپنے آپ کو مٹاکر کام کرنا انسان کے لئے بہت مشکل ہوتا ہے. لیکن کام میں برکت تبھی آتی ہے جب اپنے آپ کو مٹاکر کام کیا جائے. اپنے آپ کو مٹانے سے ہی اخلاص پیدا ہوتا ہے.

مٹادے اپنی ہستی کو اگر کچھ مرتبہ چاہے

کہ دانہ خاک میں مل کر گل گلزار ہوتا ہے

ارشاد فرمایا.. جب.. میں.. کو مٹایا جائے گا تو اپنی کوئی حیثیت نظر نہیں آئے گی. پھر اپنی  عبادت بھی کچھ نظر نہیں آئے گی اور پھر انسان دو نفل پڑھ کر اللہ تعالٰی پر احسان نہیں جتلائے گا. شیطان کو تکبر نے ہی گمراہ کیا تھا وہ اللہ تعالٰی کے سامنے دلیل دینے لگا کہ میں آدم سے اچھا ہوں. شیطان سینکڑوں سال تک اللہ تعالٰی کی عبادت کرتا رہا . عالم اتنا تھا کہ استاد الملائکہ بن گیا.

عارف بھی تھا کہ عین اللہ تعالٰی کے جلال اور غضب کی حالت میں مہلت کی دعا مانگتا ہے اور قبول ہو جاتی ہے. گمراہی کی اصل وجہ یہ نکلی کہ وہ عاشق نہیں تھا جس کی وجہ سے اس کا بیڑا غرق ہو گیا. اسے اللہ تعالٰی سے محبت نہیں تھی اگر محبت ہوتی تو اپنے تکبر کے لئے دلیلیں نہ دیتا عاشق دلیلیں نہیں دیا کرتے بلکہ سر تسلیم خم کیا کرتے ہیں.

عشق فرمودہ قاصد سے سبک گام عمل

عقل سمجھی ہی نہیں معنئ پیغام ابھی

🌳ماخوذ مجالس فقیر 🌳

احقر محمد شمیم مدرسہ
دارالعلوم حسینیہ
بوریولی
ممبئی 🌺

اقوام عالم کی اصلاح کا ذمہ دار مسلمان

اقوام عالم کی اصلاح
کا ذمہ دار مسلمان

اس کی اصلاح کی صورت یہ ہے کہ ایک دوسرے سے حسن ظن رکھنا چاہئے بدظنی سے بچنا چاہئے. امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بھی ضروری ہے لیکن کسی کو رسوا نہیں کرنا چاہئے. حدیث میں ہے کہ اے اللہ میں اس مکار دوست سے پناہ مانگتا ہوں، جو دوستی کا دعوٰی کرے لیکن جب میری بھلائی دیکھے تو اس کو دفن کردے اور جب میری برائی دیکھے تو اس کو افشاء کردے.

حضرت امام مالک رحمۃاللہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس امت کے آخر میں فتنہ و فساد رونما ہونے کی اصلاح قطعی طور پر اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ امت اس راستہ پر نہ آجائے جس راستہ پر امت کا پہلا طبقہ تھا. اور امت کی اصلاح پہلے اخلاص کامل اور اتباع کامل سے ہوئی تھی.

آج مسلمان یہ شکایت کرتے ہیں کہ مجھے فلاں سکھ نے ایذا پہنچادی، فلاں ہندو یا عیسائی نے مجھے تکلیف دی..

مَیں کہتا ہوں کہ تمام اقوام عالم کی برائیوں کی ذمہ داری مسلمانوں پر ہے. کیونکہ یہ دنیا کے معلم تھے. جب معلم درست ہوں تو دوسرے خود بخود درست ہو جاتے ہیں

حدیث میں ہے.. اسلام غالب ہوتا ہے مغلوب نہیں ہوتا. لیکن جب ہم اسلام کے دائرے میں ہی نہ آئیں تو ہم پست ہونگے. ورنہ اسلام میں پستی نہیں ہے..

یا اللہ ہم سب مسلمانوں کی اصلاح فرما.
اور اسلام کو مسلمانوں کو غلبہ عطاء فرما.
اور ہم سب مسلمانوں کو حسن ظن رکھنے کی توفیق عطاء فرما. آمین

ماخوذ خطبات حکیم الاسلام.

احقر محمد شمیم مدرسہ دارالعلوم حسینیہ بوریولی ممبئی 🌹

ہماری غفلت کے مضر اثرات

🌱ہماری غفلت کے مضر اثرات 🌱

کل جناب نصیرالدین صاحب موضع کرہی ضلع سنت کبیر نگر یوپی. نے ایک والپیپر بھیجا جو نیوز پیپر کی کٹنگ تھا اس میں جو بیان دیا ہے جناب مہتاب احمد عرف لڈو نے جو کہ ضلع پنچایت کے رکن ہیں. خاص ہمارے گاؤں کے ہیں جناب نے بہت قیمتی آب زر سے لکھ کر اس پر عمل کرنے والی بات کہی ہے. نکاح سنت نبوی کے ساتھ ساتھ سماجی تقاضہ بھی ہے اسے آسان بنانے کی ضرورت ہے.

جناب والا جب سے عہدہ سنبھالے ہیں ان کے دل میں واقعی میں ایک تڑپ ہے کہ میں قوم و ملت کے لئے کچھ اچھے کام کرجاؤں. اور الحمدللہ وہ بڑی حسن و خوبی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں اللہ رب العزت ان کی خدمات کو قبول فرمائے آمین.

احباب آج معاشرے میں نکاح کو اتنا مشکل بنادیا گیا ہے کہ زنا کرنا آسان ہو گیا اور نکاح کرنا مشکل ہو گیا. نکاح کرنا حقیقت میں آسان تھا اور ہے. لیکن اس میں جاہلیت کے دو وائرس گھس گئے ہیں جنہوں نے نکاح کو مشکل بنادیا.

(1)جہیز.. جہیز کی وبا نے ایسا جڑ پکڑ لیا ہے کہ بیس پچیس برس قبل. کچھ سامان. برتن. چارپائی. اناج. سائیکل. دینے سے کام چل جاتا تھا. لیکن پچھلے آٹھ دس سالوں سے سائیکل کی جگہ موٹر سائیکل نے لے لی. اور اس وقت فور ویلر کا زمانہ آگیا ہے. جہیز میں فور ویلر دی جارہی ہے. اور اگر قوم و ملت کے دانشور حضرات نے اس جانب توجہ نہیں فرمائی اور یہ سلسلہ اسی طرح ترقی کرتا رہا تو نسلوں کو. ٹرین. ہیلی کاپٹر. ہوائی جہاز. دینے پڑیں گے کیونکہ پندرہ سے بیس سال بعد ترقی جب ہوگی تو جہیز میں بھی ترقی ہوگی اس وقت فور ویلر بہت پرانی بات ہو جائے گی. اس وقت اگر فکر نہ کی گئی تو نسلوں کو اس کا جو خمیازہ بھگتنا پڑے گا اس کی تلافی ناممکن ہو جائے گی.

نکاح جبھی آسان ہو سکتا ہے جب اس میں سے حرص و ہوس کے جہیز کو نکال دیا جائے. نام ونموو شہرت کو نکال دیا جائے. خصوصًا لڑکے والوں کے لئے یہ کام بہت آسان ہے پہل قدمی لڑکے والوں کی طرف سے ہوجائے تو جہیز کا مسئلہ ختم ہو جائے. کیونکہ ہندوستان میں خصوصاً لڑکے والوں کی ہی سنی جاتی ہے. ہندوستان میں ایسے مقامات بھی ہیں جہاں پر جہیز کے مہلک وائرس نہیں پائے جاتے ہیں وہاں کے حضرات قسمت کے دھنی ہیں.

دوسرا وائرس جس نے نکاح کو مشکل بنا رکھا ہے وہ ہے بارات. یہ ہندوؤں سے ورثہ میں ملی ہے جس پر مسلمان پابندی سے عمل کررہے ہیں. کیونکہ مسئلہ پیٹ کا ہے. زبردستی کا مہمان بننے کا ہے. سنت طریقہ تو ولیمہ ہے جو لڑکے والے کے ذمہ ہے. لڑکی والوں کے یہاں کھانا ہندوؤں کا طریقہ ہے. جسے مسلمانوں نے اپنالیا. پچاس. سو. دوسو. تین سو. توبہ توبہ استغفراللہ. یہ باراتی ہیں.

جب ہم اپنے اسلاف کی تاریخ کو پڑھتے ہیں تو ہمیں سید احمد شہید رحمۃاللہ علیہ کی لشکر میں حضرت مولانا اسماعیل شہید رحمۃاللہ علیہ. دوسو. تین سو. کے مجاہدین کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے نظر آتے ہیں. اور جب ہم سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃاللہ علیہ کی داستان کو پڑھتے ہیں تو مجاہدین چھاپہ مارتے ہوئے نظر آتے ہیں. جب ہم صحابہ کرام کی زندگی کو دیکھتے ہیں تو کفار کے ساتھ جنگ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں. آج دیکھنے کو تو ملتا ہے. کہ دوسو. تین سو. کا قافلہ لشکر جاتا ہے. لیکن صرف ناجائز طور پر کھانے کے لئے. لڑکی والوں کا کھانا اتنی بڑی تعداد میں جاکر. یہ ہندووانا رسم و رواج ہے اور اسلام سے اس کا دور دور کا واسطہ نہیں ہے.

اگر ہم ارادہ کر لیں تو یہ رسم و رواج ختم ہو سکتی ہے حقیر و فقیر نے ارادہ کیا تقریبا پندرہ سال کا عرصہ گزر گیا اور بارات نہیں گیا اور ان شاءاللہ پوری زندگی نہیں جانے کا پختہ ارادہ ہے.

احباب ہماری غفلت کے مضر اثرات ہماری آنے والی نسلوں پر مرتب ہوں اس سے پہلے اس بیماری کو اس وائرس کو ختم کرنا ضروری ہے

جب ہم ان دونوں وائرس کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے تو نکاح کرنا آسان اور زنا کرنا مشکل ہو جائے گا

جو حضرات نکاح کو آسان بنانے کی جس طرح سے بھی کوشش اور محنت کر رہے ہیں اللہ رب العزت ان کی کوششوں اور محنتوں کو قبول فرما کر ثواب دارین سے مالامال فرمائے اور اپنی شایان شان اجر عظیم عطا فرمائے آمین ثم آمین.

احباب لکھنے میں جو غلطی ہو گی اس کی معافی چاہتا ہوں

احقر محمد شمیم مدرسہ دارالعلوم حسینیہ بوریولی ممبئی 🌹

جہانگیر کے دربار میں حاضری

🌳جہانگیر کے دربار میں حاضری 🌳

جب جہانگیر کی طلب پر حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ اپنے حاضر الوقت پانچ مریدوں کو ہمراہ لیکر شاہی دربار میں پہنچے اور خلاف شرع شاہی آداب بجا نہ لائے. تو ایک نا خدا ترس درباری نے بادشاہ کو متوجہ کیا اور کہا کہ جہاں پناہ شیخ نے آداب سلطنت کی رعایت نہیں کی اور تعظیمی سجدہ سے انکار کر دیا ہے.

بادشاہ نے وجہ دریافت کی تو آپ نے فرمایا کہ میں نے آج تک خدا اور رسول کے بتائے ہوئے آداب و احکام کی پابندی کی ہے اس کے علاوہ مجھے کوئی اور آداب نہیں آتے.

بادشاہ اشتعال میں آیا اور ناراض ہو کر کہا کہ مجھے سجدہ کرلو. آپ نے فرمایا میں نے سوائے خدا کے نہ کسی کو سجدہ کیا ہے اور نہ کروں گا. بادشاہ اس پر ناراض ہوا اور گوالیار کے قلعہ میں نظر بند کر نے کا حکم دے دیا.

جبکہ اس واقعہ سے قبل شاہ جہاں( جو حضرت سے عقیدت اور خلوص رکھتا تھا )نے علامہ افضل خان اور خواجہ عبدالرحمن مفتی کو کتب فقہ اور اس پیغام کے ساتھ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس بھیجا تھا

کہ سجدہ تحیہ کی سلاطین کے لئے گنجائش ہے اگر آپ سجدہ کرلیں تو میں اس بات کا ضامن اور ذمہ دار ہوں کہ آپ کو کوئی گزند نہیں پہنچے گا. آپ نے فرمایا یہ محض رخصت ہے اور عزیمت یہی ہے کہ غیر اللہ کا سجدہ نہ کیا جائے

مجھ سے بجز خدا کے کسی حضور میں

اپنا سر نیاز جھکایا      نہ  جائے گا 🌱

🌱ماخوذ بیس بڑے اولیاء 🌱

احقر محمد شمیم مدرسہ دارالعلوم حسینیہ بوریولی ممبئی 🌹