Thursday, 21 January 2016

اقوام عالم کی اصلاح کا ذمہ دار مسلمان

اقوام عالم کی اصلاح
کا ذمہ دار مسلمان

اس کی اصلاح کی صورت یہ ہے کہ ایک دوسرے سے حسن ظن رکھنا چاہئے بدظنی سے بچنا چاہئے. امر بالمعروف اور نہی عن المنکر بھی ضروری ہے لیکن کسی کو رسوا نہیں کرنا چاہئے. حدیث میں ہے کہ اے اللہ میں اس مکار دوست سے پناہ مانگتا ہوں، جو دوستی کا دعوٰی کرے لیکن جب میری بھلائی دیکھے تو اس کو دفن کردے اور جب میری برائی دیکھے تو اس کو افشاء کردے.

حضرت امام مالک رحمۃاللہ اللہ علیہ فرماتے ہیں اس امت کے آخر میں فتنہ و فساد رونما ہونے کی اصلاح قطعی طور پر اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ امت اس راستہ پر نہ آجائے جس راستہ پر امت کا پہلا طبقہ تھا. اور امت کی اصلاح پہلے اخلاص کامل اور اتباع کامل سے ہوئی تھی.

آج مسلمان یہ شکایت کرتے ہیں کہ مجھے فلاں سکھ نے ایذا پہنچادی، فلاں ہندو یا عیسائی نے مجھے تکلیف دی..

مَیں کہتا ہوں کہ تمام اقوام عالم کی برائیوں کی ذمہ داری مسلمانوں پر ہے. کیونکہ یہ دنیا کے معلم تھے. جب معلم درست ہوں تو دوسرے خود بخود درست ہو جاتے ہیں

حدیث میں ہے.. اسلام غالب ہوتا ہے مغلوب نہیں ہوتا. لیکن جب ہم اسلام کے دائرے میں ہی نہ آئیں تو ہم پست ہونگے. ورنہ اسلام میں پستی نہیں ہے..

یا اللہ ہم سب مسلمانوں کی اصلاح فرما.
اور اسلام کو مسلمانوں کو غلبہ عطاء فرما.
اور ہم سب مسلمانوں کو حسن ظن رکھنے کی توفیق عطاء فرما. آمین

ماخوذ خطبات حکیم الاسلام.

احقر محمد شمیم مدرسہ دارالعلوم حسینیہ بوریولی ممبئی 🌹

ہماری غفلت کے مضر اثرات

🌱ہماری غفلت کے مضر اثرات 🌱

کل جناب نصیرالدین صاحب موضع کرہی ضلع سنت کبیر نگر یوپی. نے ایک والپیپر بھیجا جو نیوز پیپر کی کٹنگ تھا اس میں جو بیان دیا ہے جناب مہتاب احمد عرف لڈو نے جو کہ ضلع پنچایت کے رکن ہیں. خاص ہمارے گاؤں کے ہیں جناب نے بہت قیمتی آب زر سے لکھ کر اس پر عمل کرنے والی بات کہی ہے. نکاح سنت نبوی کے ساتھ ساتھ سماجی تقاضہ بھی ہے اسے آسان بنانے کی ضرورت ہے.

جناب والا جب سے عہدہ سنبھالے ہیں ان کے دل میں واقعی میں ایک تڑپ ہے کہ میں قوم و ملت کے لئے کچھ اچھے کام کرجاؤں. اور الحمدللہ وہ بڑی حسن و خوبی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں اللہ رب العزت ان کی خدمات کو قبول فرمائے آمین.

احباب آج معاشرے میں نکاح کو اتنا مشکل بنادیا گیا ہے کہ زنا کرنا آسان ہو گیا اور نکاح کرنا مشکل ہو گیا. نکاح کرنا حقیقت میں آسان تھا اور ہے. لیکن اس میں جاہلیت کے دو وائرس گھس گئے ہیں جنہوں نے نکاح کو مشکل بنادیا.

(1)جہیز.. جہیز کی وبا نے ایسا جڑ پکڑ لیا ہے کہ بیس پچیس برس قبل. کچھ سامان. برتن. چارپائی. اناج. سائیکل. دینے سے کام چل جاتا تھا. لیکن پچھلے آٹھ دس سالوں سے سائیکل کی جگہ موٹر سائیکل نے لے لی. اور اس وقت فور ویلر کا زمانہ آگیا ہے. جہیز میں فور ویلر دی جارہی ہے. اور اگر قوم و ملت کے دانشور حضرات نے اس جانب توجہ نہیں فرمائی اور یہ سلسلہ اسی طرح ترقی کرتا رہا تو نسلوں کو. ٹرین. ہیلی کاپٹر. ہوائی جہاز. دینے پڑیں گے کیونکہ پندرہ سے بیس سال بعد ترقی جب ہوگی تو جہیز میں بھی ترقی ہوگی اس وقت فور ویلر بہت پرانی بات ہو جائے گی. اس وقت اگر فکر نہ کی گئی تو نسلوں کو اس کا جو خمیازہ بھگتنا پڑے گا اس کی تلافی ناممکن ہو جائے گی.

نکاح جبھی آسان ہو سکتا ہے جب اس میں سے حرص و ہوس کے جہیز کو نکال دیا جائے. نام ونموو شہرت کو نکال دیا جائے. خصوصًا لڑکے والوں کے لئے یہ کام بہت آسان ہے پہل قدمی لڑکے والوں کی طرف سے ہوجائے تو جہیز کا مسئلہ ختم ہو جائے. کیونکہ ہندوستان میں خصوصاً لڑکے والوں کی ہی سنی جاتی ہے. ہندوستان میں ایسے مقامات بھی ہیں جہاں پر جہیز کے مہلک وائرس نہیں پائے جاتے ہیں وہاں کے حضرات قسمت کے دھنی ہیں.

دوسرا وائرس جس نے نکاح کو مشکل بنا رکھا ہے وہ ہے بارات. یہ ہندوؤں سے ورثہ میں ملی ہے جس پر مسلمان پابندی سے عمل کررہے ہیں. کیونکہ مسئلہ پیٹ کا ہے. زبردستی کا مہمان بننے کا ہے. سنت طریقہ تو ولیمہ ہے جو لڑکے والے کے ذمہ ہے. لڑکی والوں کے یہاں کھانا ہندوؤں کا طریقہ ہے. جسے مسلمانوں نے اپنالیا. پچاس. سو. دوسو. تین سو. توبہ توبہ استغفراللہ. یہ باراتی ہیں.

جب ہم اپنے اسلاف کی تاریخ کو پڑھتے ہیں تو ہمیں سید احمد شہید رحمۃاللہ علیہ کی لشکر میں حضرت مولانا اسماعیل شہید رحمۃاللہ علیہ. دوسو. تین سو. کے مجاہدین کے ساتھ جہاد کرتے ہوئے نظر آتے ہیں. اور جب ہم سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃاللہ علیہ کی داستان کو پڑھتے ہیں تو مجاہدین چھاپہ مارتے ہوئے نظر آتے ہیں. جب ہم صحابہ کرام کی زندگی کو دیکھتے ہیں تو کفار کے ساتھ جنگ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں. آج دیکھنے کو تو ملتا ہے. کہ دوسو. تین سو. کا قافلہ لشکر جاتا ہے. لیکن صرف ناجائز طور پر کھانے کے لئے. لڑکی والوں کا کھانا اتنی بڑی تعداد میں جاکر. یہ ہندووانا رسم و رواج ہے اور اسلام سے اس کا دور دور کا واسطہ نہیں ہے.

اگر ہم ارادہ کر لیں تو یہ رسم و رواج ختم ہو سکتی ہے حقیر و فقیر نے ارادہ کیا تقریبا پندرہ سال کا عرصہ گزر گیا اور بارات نہیں گیا اور ان شاءاللہ پوری زندگی نہیں جانے کا پختہ ارادہ ہے.

احباب ہماری غفلت کے مضر اثرات ہماری آنے والی نسلوں پر مرتب ہوں اس سے پہلے اس بیماری کو اس وائرس کو ختم کرنا ضروری ہے

جب ہم ان دونوں وائرس کو ختم کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے تو نکاح کرنا آسان اور زنا کرنا مشکل ہو جائے گا

جو حضرات نکاح کو آسان بنانے کی جس طرح سے بھی کوشش اور محنت کر رہے ہیں اللہ رب العزت ان کی کوششوں اور محنتوں کو قبول فرما کر ثواب دارین سے مالامال فرمائے اور اپنی شایان شان اجر عظیم عطا فرمائے آمین ثم آمین.

احباب لکھنے میں جو غلطی ہو گی اس کی معافی چاہتا ہوں

احقر محمد شمیم مدرسہ دارالعلوم حسینیہ بوریولی ممبئی 🌹

جہانگیر کے دربار میں حاضری

🌳جہانگیر کے دربار میں حاضری 🌳

جب جہانگیر کی طلب پر حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ اپنے حاضر الوقت پانچ مریدوں کو ہمراہ لیکر شاہی دربار میں پہنچے اور خلاف شرع شاہی آداب بجا نہ لائے. تو ایک نا خدا ترس درباری نے بادشاہ کو متوجہ کیا اور کہا کہ جہاں پناہ شیخ نے آداب سلطنت کی رعایت نہیں کی اور تعظیمی سجدہ سے انکار کر دیا ہے.

بادشاہ نے وجہ دریافت کی تو آپ نے فرمایا کہ میں نے آج تک خدا اور رسول کے بتائے ہوئے آداب و احکام کی پابندی کی ہے اس کے علاوہ مجھے کوئی اور آداب نہیں آتے.

بادشاہ اشتعال میں آیا اور ناراض ہو کر کہا کہ مجھے سجدہ کرلو. آپ نے فرمایا میں نے سوائے خدا کے نہ کسی کو سجدہ کیا ہے اور نہ کروں گا. بادشاہ اس پر ناراض ہوا اور گوالیار کے قلعہ میں نظر بند کر نے کا حکم دے دیا.

جبکہ اس واقعہ سے قبل شاہ جہاں( جو حضرت سے عقیدت اور خلوص رکھتا تھا )نے علامہ افضل خان اور خواجہ عبدالرحمن مفتی کو کتب فقہ اور اس پیغام کے ساتھ حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ کے پاس بھیجا تھا

کہ سجدہ تحیہ کی سلاطین کے لئے گنجائش ہے اگر آپ سجدہ کرلیں تو میں اس بات کا ضامن اور ذمہ دار ہوں کہ آپ کو کوئی گزند نہیں پہنچے گا. آپ نے فرمایا یہ محض رخصت ہے اور عزیمت یہی ہے کہ غیر اللہ کا سجدہ نہ کیا جائے

مجھ سے بجز خدا کے کسی حضور میں

اپنا سر نیاز جھکایا      نہ  جائے گا 🌱

🌱ماخوذ بیس بڑے اولیاء 🌱

احقر محمد شمیم مدرسہ دارالعلوم حسینیہ بوریولی ممبئی 🌹

Monday, 21 December 2015

اصول و ضوابط اتحاد و اتفاق گروپ

�� بسم الله الرحمن الرحيم ��

السلام عليكم و رحمةالله و بركاتہ

محترم احباب کرام " دنیا میں ہر چیز کو چلانے اور اس کو پائے تکمیل تک پہنچانے اور اسے خوبصورت سے خوبصورت بنانے کے لئے کچهہ نہ کچهہ اس کے لئے اصول و ضوابط درکار ہوتے ہیں چاہے وہ گهر کے نظام کو ہی چلانے کے لئے ہی کیوں نہ ہو کیونکہ اگر بے اصولی ہوگی تو گهر کے  شیرازے کو بهی بکهرنے کا پورا امکان ہوتا ہے ایسے ہی اگر ملک چلانا ہو تو اس کے لئے بهی ایک قانون اور اصول مرتب کرنے پڑتے ہیں ایسے ہی اگر کسی تنظیم یا انجمن یا گروپ چلانا ہو تو اس کے لئے بهی  اس گروپ کے مناسبت سے اس کے لئے  اصول و ضوابط مرتب کرنے ہوتے ہیں ورنہ اس گروپ کا چل پانا بڑا مشکل ہوجاتا ہے اور گروپ کا اصل مقصد فوت ہوجاتا ہے لوگ اپنی مرضی مطابق پوسٹ بهیجتے رہتے ہیں جس کا رشتہ گروپ سے دور دور تک بهی نہیں ہوتا اور باقی  ممبران کے دل پر وہ پوسٹ گراں گزرتا ہے اس لئے ان سب کو مد نظر رکهکراور گروپ کی خوبصورتی میں اور چار چاند لگانے کے لئے یہ درج ذیل اصول و ضوابط پیش کئے جاتے ہیں امید ہیکہ آپ تمام ممبران کو بهی یہ اس اصول و ضوابط پسند آئیں گے اور آپ ممبران بهی اس کا احترام کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے  اور اس کے مطابق ہی آپ سب اپنا پوسٹ بهیجنے کی زحمت فرمائیں گے ..

    �� اصول و ضوابط  ��

اصول نمبر 1⃣  .. جو بهی پوسٹ کئے جائیں اس گروپ کے نام کو ذہن میں ملحوظ رکهکر کئے جائیں ؟
.
اصول نمبر 2⃣ آپسی بحث و مباحثہ سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کی جائے اگر کسی کو کسی سے کوئی شکایت ہے تو ایڈمن کو خبر کرنے کی کوشش کیجائے خود سے کوئی فیصلہ نہ کیا جائے  ؟

اصول نمبر 3⃣ کسی بهی مذهب یا مسلک یا غیر قانونی پوسٹ یا امیج یا دیگر اختلافی مسائل اس گروپ میں قطعی نہ بهیجے جائیں ؟ 

اصوال نمبر 4⃣ ہر ممبر کا احترام کیا جائے اپنے مقابل کو اچهے القاب سے مخاطب کیا جائے ؟

اصول نمبر 5⃣ گروپ میں لایعنی یا فحش یا دیگر فضول کی ویڈیو ، یا اوڈیو ، یا امیج ، یا پوسٹ باالکل نہ بهیجے جائیں اور اگر کوئی صاحب کوئی اصلاحی ویڈیو یا اوڈیو ارسال فرماتے ہیں تو برائے کرم اس کی مختصر تفصیل ضرور تحریر فرما دیا کریں ؟

اصول نمبر 5⃣ اصلاحی تربیتی اور ادبی اور حالات حاضرہ کے پوسٹ ہی  اس گروپ میں بهیجنے کی کوشش کیجائے اختلافی مراسلات باالکل نہ بهیجے جائیں  ؟

اصول نمبر  6⃣ اور گروپ کے ہر ممبر کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے زندہ دلی کا ثبوت دیتا رہے خاموشی کی  چادر نہ تانے  رہے کوئی نہ کوئی پوسٹ ضرور بهیجتا رہے نہیں تو جن صاحب کے پوسٹ اچهے لگیں تو انکی ہمت افزائی کردیا کریں ؟

محترم احباب یہ گروپ کے اصول ہیں جو میں نے اپنے ناقص العقل سے مرتب کئے ہیں اس لئے ہمہ وقت اس میں رد و بدل کی گنجائش رکهی گئی ہے لهذا آپ حضرات بهی اپنی گراں قدر آراء سے ہمیں آگاہ کریں جس کے لئے ہم آپ کے مشکور ہونگے .

طالب دعا ...
   احقر " محمد شمیم
خادم تدریس مدرسہ حسینیہ بوریولی ممبئی

Friday, 11 December 2015

حمد و مناجات نمبر 10

رحمت اللہ راشد احمدآبادی (ناگپور)

یہی ہے  التجا یا رب، ہدایت بھیک میں  دے دے

اطاعت بھیک میں  دے دے، عقیدت بھیک میں  دے دے

تری شان کریمی کا، تجھے  ہے  واسطہ یا رب

رسول پاک کی مجھ کو محبت بھیک میں  دے دے

ترے  محبوب کے  در کے  گداؤں  کا گدا ہوں  میں

حکومت وقت پر کرنے  کی طاقت بھیک میں  دے دے

رگوں  میں  خون کی گردش ہمیشہ ورد کرتی ہے

مجھے  شبیر کا طرز عبادت بھیک میں  دے دے

ترے  محبوب سے  بھی اب مخاطب ہو کے  کہنا ہے

مرے  آقا شفاعت کی ضمانت بھیک میں  دے دے

تجھے  ہے  حیدر کرار کا بھی واسطہ یا رب؟

شجاعت بھیک میں دے دے  کرامت بھیک میں  دے دے

سزا وار ثنا و حمد، اے  اللہ راشدؔ کو

تو اپنی مدح کرنے  کی اجازت بھیک میں  دے دے

Tuesday, 8 December 2015

ہند ؤں پر مسلمانوں کے احسانات

هندوؤں پر مسلمانوں کے احسانات
.
تاريخ گواه هے کہ هندوؤں پرمسلمانوں کے بيشمار احسانات هيں.مثلا هندو قوم ميں مجرم كي شناخت كے لئے جلتى هوئی آگ پر سے گزارنے کا رواج تها. اگرجل گیا تو مجرم اور بچ گیا تو بے گناه سمجها جةتاتها. مسلمانوں نے اس رسم كو ختم كيا مجرم كے لئے مختلف سزائیں تجويز كيں اور اصلاحي ادارے قائم کئے.هندو قوم ميں محرمات ابديه يعني ماں بهن بيٹی سے شادي رچانے کا عام رواج پایا جاتا تها يهي وجه تهي كه راجه داهر نے اپنى سگی بهن سے شادي كرلي تهي.اسلام نے اس رسم كو ختم كركے هندو عورتوں کو آزادي دلائی. ھندو معاشرے ميں چھوت چھات بھید بھاؤ عروج پر تها.هندو قوم كي نچلى ذات شودر كي حيثيت جانور سے زياده نهي تهي. مسلمانوں نے شودر كو گلے لگاكر اپنے برابركھڑا كرکے ايك مقام عطاء كيا.شوهر كے مرجانے پر بيواه كو زنده رهنے کا كوئی حق نهيں تهاستي كے نام پر هزاروں عورتوں کو زنده جلاديا جاتاتها. مسلمانوں نے اس رسم كو ختم كركے بيواه کو جينے کی آزادي عطاء كي. جب كبهي هندو قوم پر کوئی آفت اور مصيبت آئی مسلمانوں نے آگے بڑھ کرانكي هرقسم كي مدد كی.چنئی کے حاليه سيلاب نے يه ثابت كرديا كه اسلام امن امان اور انسانيت كا مذهب هے.ديكهنے والے اس بات كے گواه هيں کے مسلم نوجوانوں نے اپني جانوں پر كهيل كرهندو مسلم كي تميز سے بالا تر هوكر انسانيت كا ثبوت ديا. هندؤ عورتيں چيخ چيخ كر كهه رهي تهيں هم نے مسلمانوں کے لئے گھروں کے دروازے بندكرلئے تھے ليكن مسلمانوں نے هماري پريشاني ميں ميں اپنے گھروں کے دروازے کھول دئے. هم نے مسلمانوں کو اپنے محلے ميں رهنے نهيں ديا ليكن مسلمانوں نے ھمارے لئے اپني مسجدوں ميں جگہ ديا. هم نے مسلمانوں کا بائکاٹ کيا ليكن مسلمانوں نے همارے لئے كهانے پينے اوڑھنے بچھونے كا اعلى انتظام كيا. هم نے مسلمانوں کو سمجھنے ميں بڑي غلطي كي. همارے ليڈروں اور متعصب ميڈيا نے مسلمانوں کے تعلق سے دھوكے ميں ركها. آج هم نےمسلمانوں کو بڑے قريب سے ديكها هم نے ان كي عبادات كو ديكها هم نے ان كا جذبه وايثار ديكها هم نے ديكها كه يونس نامي نوجوان نے دردزه ميں تڑپتي هوئی چترا نامي هندو عورت اور موهن نام كے شوهر كو خطرناك علاقے سے محفوظ مقام پرپھنچايا تهوڑي هي دير بعد چترا نے ايك بچے کو جنم ديا اور مياں بيوي نے اس بچے کانام يونس ركه ديا.اس سيلاب نے هماري آنكهيں کھول دي هيں .آج هميں پته چل گيا هے کہ هندوستان كي بقاء اور سالميت مسلمانوں هي سے ھے.هم كبهي مسلمانوں کے احسانات بهلا نهيں پائیں گے.

Saturday, 5 December 2015

ہم آقا کے ماننے والے ہیں

ہم آقا کے ماننے والے ہیں،ہم فرقہ پرستی کیا جانیں
ہم لوگ مدارس والے ہیں،ہم دہشت گردی کیا جانیں

الزام لگاتی ہے دنیا ہم لوگوں پہ دہشت گردی کا
ہم لوگ مدارس والے ہیں،بم خنجر،گولی کیا جانیں

ہم لوگ وطن کے رکھوالے،ہم دینِ نبی کے متوالے
نادان ہیں یہ دنیا والے،علماء کی بزرگی کیا جانیں

جو چاند پہ جاکر لوٹ آیا،اتنی سی ادا پر اِترایا
وہ عرشِ معلّی قُربِ خدا،سدرا کی بلندی کیا جانیں